ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔
پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔
دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:
“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔”
تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:
“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔”
ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا رہا تھا کہ اچانک چند مچھیرے وہاں آ پہنچے۔ انہوں نے تالاب میں بے شمار مچھلیاں دیکھیں تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
ایک مچھیرے نے خوش ہو کر کہا:
“ارے! یہ تالاب تو خزانہ ہے۔ کل صبح سویرے یہاں جال ڈالیں گے اور ڈھیروں مچھلیاں پکڑ کر بازار لے جائیں گے!”
یہ بات تالاب کے پانی میں گونج گئی۔ تینوں مچھلیوں نے یہ گفتگو سن لی۔
عقلمند مچھلی فوراً گھبرا گئی۔ اس نے دونوں سہیلیوں سے کہا:
“یہ جگہ اب محفوظ نہیں رہی۔ ہمیں آج رات ہی اس تالاب کو چھوڑ دینا چاہیے۔ قریب ہی ایک بڑی جھیل ہے، ہم نالی کے راستے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔”
دوسری مچھلی نے ہنستے ہوئے کہا:
“اتنی جلدی ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر خطرہ آیا تو کوئی نہ کوئی ترکیب نکال لیں گے۔”
تیسری مچھلی نے بے پروائی سے دم ہلائی اور بولی:
“میں کہیں نہیں جا رہی۔ جو ہوگا، دیکھا جائے گا۔”
عقلمند مچھلی نے وقت ضائع نہ کیا۔ رات کے اندھیرے میں وہ خاموشی سے نالی کے راستے تالاب چھوڑ کر محفوظ جھیل میں پہنچ گئی۔
اگلی صبح سورج نکلتے ہی مچھیرے بڑے بڑے جال لے کر تالاب پر آ گئے۔ پانی میں کھلبلی مچ گئی۔ مچھلیاں خوف سے اِدھر اُدھر بھاگنے لگیں۔
دوسری حاضر دماغ مچھلی بھی جال میں پھنس گئی۔ اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے فوراً ایک ترکیب سوچی۔ وہ اپنے جسم کو بالکل ساکت کر کے مردہ بن گئی۔
ایک مچھیرے نے اسے دیکھ کر کہا:
“یہ تو پہلے ہی مری ہوئی لگتی ہے، اسے باہر پھینک دو!”
جیسے ہی اسے زمین پر پھینکا گیا، اس نے اچانک زور سے چھلانگ لگائی اور سیدھی تالاب کے گہرے پانی میں جا گری۔ یوں وہ اپنی حاضر دماغی سے بچ نکلی۔
لیکن تیسری مچھلی اب بھی قسمت کے سہارے اِدھر اُدھر تیر رہی تھی۔ نہ اس نے پہلے کوئی فیصلہ کیا اور نہ ہی وقت آنے پر کوئی کوشش کی۔ مچھیرے نے آسانی سے اسے پکڑ لیا، ٹوکری میں ڈالا اور بازار لے گیا۔
اس دن تالاب خاموش تھا… مگر پانی کی لہریں جیسے ایک سبق سنا رہی تھیں کہ وقت پر لیا گیا فیصلہ ہی زندگی بچاتا ہے۔
💡 اخلاقی سبق
✨ عقل مند وہی ہے جو آنے والے خطرے کو پہلے ہی پہچان لے۔
✨ صرف قسمت کے بھروسے بیٹھنے والے اکثر پچھتاتے ہیں۔
✨ وقت پر فیصلہ اور ہمت انسان کو بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہے۔
