ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔
لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔
اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔
ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا:
“جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔”
یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے کے سکوں کی ایک بھاری تھیلی منگوائی اور گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل کی طرف روانہ ہوگیا۔
کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ ایک چھوٹی سی کچی کٹیا کے سامنے پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک درویش مٹی کے فرش پر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔ ان کے کپڑے سادہ تھے، مگر چہرے پر ایسا نور اور سکون تھا جو کسی بادشاہ کے پاس بھی نہ تھا۔
تاجر نے ادب سے سلام کیا اور بولا:
“بابا جی! میرے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے، مگر میرے دل کو سکون نہیں ملتا۔ میں رات بھر جاگتا رہتا ہوں۔ یہ سونے کی تھیلی قبول کریں اور مجھے کوئی ایسی دعا، دوا یا وظیفہ دیں جس سے میرے دل کو آرام مل جائے۔”
درویش نے خاموشی سے اس کی بات سنی، پھر ہلکا سا مسکرائے اور بولے:
“بیٹا! دل کا سکون دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔
تم آج رات یہیں ٹھہرو، تمہارا علاج کل صبح ہوگا۔”
رات ہوئی تو درویش نے تاجر کے لیے زمین پر ایک پرانی سی چٹائی بچھا دی۔
تاجر ساری رات بے چین رہا۔ کبھی مٹی کی خوشبو اسے عجیب لگتی، کبھی سخت زمین۔ دوسری طرف درویش سکون سے گہری نیند سو رہے تھے، جیسے دنیا کی کوئی فکر انہیں چھو بھی نہ سکتی ہو۔
صبح سورج نکلا تو درویش نے کہا:
“چلو، میرے ساتھ آؤ۔”
وہ دونوں ایک قریبی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی دکھائی دی۔ اندر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ایک غریب بیوہ اپنے بھوکے بچوں کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر گھر میں کھانے کا ایک دانہ بھی موجود نہ تھا۔
یہ منظر دیکھ کر درویش نے تاجر کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا:
“جاؤ… اپنی سونے کی تھیلی اس عورت کو دے دو۔”
تاجر ایک لمحے کے لیے رکا۔ وہ تھیلی اس کی برسوں کی کمائی تھی۔
مگر نہ جانے کیوں، اس نے فوراً تھیلی اٹھائی اور غریب عورت کے ہاتھ میں دے دی۔
جیسے ہی عورت نے تھیلی کھولی، اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ وہ بار بار دعائیں دینے لگی۔
بھوک سے مرجھائے بچوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ ان کی آنکھوں میں امید کی روشنی جگمگا رہی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر تاجر کے دل میں عجیب سا سکون اترنے لگا۔
اسے محسوس ہوا جیسے برسوں سے سینے پر رکھا ہوا بوجھ اچانک ہلکا ہوگیا ہو۔ پہلی بار اس کے چہرے پر دل سے نکلی ہوئی مسکراہٹ آئی۔
وہ واپس درویش کے پاس آیا۔
درویش نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے:
“بیٹا! اب تم نے سکون کا راز جان لیا ہے۔
انسان صرف اپنے لیے جیتا رہے تو اس کا دل کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
اصل خوشی دوسروں کے آنسو پونچھنے، بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں ہے۔
جب تم نے ایک مجبور خاندان کے چہرے پر خوشی لائی، تو اللہ نے تمہارے دل کو سکون سے بھر دیا۔”
یہ سن کر تاجر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اسے اپنی بیماری کا علاج مل چکا تھا۔
وہ درویش کا شکر ادا کرکے واپس شہر لوٹ آیا۔
اس دن کے بعد اس نے اپنی دولت کا بڑا حصہ غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد میں خرچ کرنا شروع کر دیا۔
اور پھر پہلی بار… اسے راتوں کو سکون کی نیند آنے لگی۔
سبق
سچی خوشی دولت جمع کرنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔
جو انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے دل کو سکون اور اطمینان سے بھر دیتا ہے۔
