ایک شہر میں ایک نہایت امیر شخص رہتا تھا۔
اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ عالی شان محل، قیمتی گاڑیاں، نوکر چاکر، فیکٹریاں… دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں تھی۔ مگر اتنی دولت کے باوجود وہ ایک ایسی تکلیف میں مبتلا تھا جس نے اس کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔
اس کی آنکھوں میں ہر وقت شدید درد رہتا تھا۔
دن رات جلنے اور چبھنے کا احساس اسے سکون سے جینے نہیں دیتا تھا۔ اس نے ملک کے بڑے بڑے ڈاکٹرز کو دکھایا، مہنگی دوائیں کھائیں، سینکڑوں انجکشن لگوائے، مگر درد تھا کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
آخرکار سب ڈاکٹر ہار مان گئے۔
تب کسی نے مشورہ دیا کہ ایک بزرگ حکیم ہیں جو ناممکن بیماریوں کا علاج بھی کر دیتے ہیں۔
بزرگ کو بلایا گیا۔
انہوں نے خاموشی سے اس امیر آدمی کو دیکھا، اس کی باتیں سنیں، پھر مسکرا کر بولے:
“چند دنوں تک تم صرف گلابی رنگ دیکھو۔ کوشش کرو کہ تمہاری نظر کے سامنے گلابی رنگ کے علاوہ کچھ نہ آئے۔”
امیر آدمی نے فوراً حکم جاری کر دیا۔
پورے شہر کے پینٹر بلا لیے گئے۔ دروازے، دیواریں، پردے، فرنیچر، گاڑیاں، کپڑے، حتیٰ کہ برتن اور کھانے پینے کی چیزیں بھی گلابی رنگ میں رنگ دی گئیں۔
کچھ ہی دنوں میں اس کا محل کسی خوابوں کی دنیا جیسا لگنے لگا۔
جہاں نظر جاتی صرف گلابی رنگ دکھائی دیتا۔
واقعی… اس کی آنکھوں کا درد کم ہونے لگا۔
مگر اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔
وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔
کھڑکی سے جھانکنا بھی مشکل تھا کیونکہ باہر کی دنیا گلابی نہیں تھی۔
وہ اپنے ہی محل میں قیدی بن کر رہ گیا۔
چند دن بعد اس نے دوبارہ بزرگ کو بلایا۔
جب بزرگ آئے تو ملازموں نے انہیں بھی گلابی رنگ سے بھگو دیا، کیونکہ انہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔
بزرگ یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے اور بولے:
“ارے بھئی! اگر تم صرف گلابی شیشوں والا ایک چشمہ خرید لیتے تو نہ اتنا خرچہ ہوتا، نہ یہ تکلیف اٹھانی پڑتی!” 👓
امیر آدمی حیران رہ گیا۔
بزرگ نے پھر نہایت گہری بات کہی:
“تم پوری دنیا کو اپنے مطابق نہیں بدل سکتے…
لیکن اپنی سوچ، اپنی نظر اور اپنا رویہ ضرور بدل سکتے ہو۔”
“دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا سیکھو، کیونکہ اصل سکون باہر نہیں… انسان کے اندر ہوتا ہے۔”
سبق
اکثر ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا ہمارے مطابق ہو جائے، لوگ بدل جائیں، حالات بدل جائیں…
مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان اپنی سوچ بدل لے تو دنیا خود بخود خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
