Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔ اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں: * اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔ * صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔ * بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔ * اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔ * عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول…

Read more

فرعون کے غرق ہونے اور سمندر کی لہروں کے تھم جانے کے بعد بنی اسرائیل ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے تھے جسے ان کی کئی نسلوں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔ یہ صرف ایک ہجرت نہ تھی… یہ ایک غلام قوم کی نفسیاتی، فکری اور روحانی تعمیرِ نو کا آغاز تھا۔ مگر آزادی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ آزادی اپنے ساتھ ذمہ داریاں، آزمائشیں اور صبر بھی لاتی ہے۔ جیسے ہی بنی اسرائیل نے صحرائے سینا کی تپتی زمین پر قدم رکھا، انہیں پہلی بڑی آزمائش نے گھیر لیا۔ پانی ختم ہو چکا تھا۔ پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔ وہ تین دن تک پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ یہ علاقہ اپنی شدید گرمی، خشک پہاڑوں اور سخت ماحول کے لیے مشہور تھا، جہاں زندہ رہنا بھی ایک معرکہ تھا۔ جب پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو قوم نے پھر احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرت…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک بادشاہ کے دربار میں دوسرے ملک کے سفیر نے تین خوبصورت گڑیا تحفے میں بھیجیں۔ وہ تینوں گڑیا دیکھنے میں بالکل ایک جیسی تھیں؛ ان کا سائز، رنگ، بناوٹ اور وزن بالکل یکساں تھا۔سفیر نے بادشاہ کو ایک چیلنج دیا: “عالی جاہ! یہ تینوں گڑیا بظاہر ایک جیسی ہیں، لیکن ان کی قیمت اور اخلاقی قدر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیا آپ کا کوئی درباری ان تینوں میں فرق بتا سکتا ہے؟”بادشاہ نے اپنے تمام دانشوروں اور وزیروں کو بلایا۔ سب نے گڑیا کو غور سے دیکھا، چھو کر دیکھا، لیکن کوئی بھی ان میں کوئی فرق نہ ڈھونڈ سکا۔ بادشاہ پریشان ہو گیا کہ اگر جواب نہ دیا تو سلطنت کی بدنامی ہوگی۔ آخر کار، بادشاہ کے سب سے عاقل اور دانا وزیر نے اس چیلنج کو قبول کیا۔وزیر نے ایک باریک تار منگوایا۔    1. پہلی گڑیا: وزیر نے…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے پیچھے اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے تیزی سے ہرن کا پیچھا کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ بادشاہ نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کہاں جائے۔ گھوڑا بھی گرمی سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کوئی بستی نظر نہ آئی، البتہ دور کچھ جانور چرتے دکھائی دیے اور بانسری کی آواز بھی تیز ہوا کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کا رخ کیا۔ چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی…

Read more

سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو…

Read more

ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ایک چھوٹے غیر آباد جزیرے پر بہہ کر پہنچ گیا۔ اس نے خدا سے دعا کی کہ اسے بچا لے، لیکن کئی دن گزر گئے، نہ کوئی مدد آئی اور نہ ہی کوئی اسے بچانے آیا۔ تھک ہار کر، ایک دن اس نے ادھر ادھر سے چیزیں ڈھونڈیں اور ٹوٹے ہوئے جہاز کے بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں اور اسے اس جزیرے پر اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔ اس نے آس پاس سے زندہ رہنے کے لیے چیزیں اکٹھی کیں اور وہ سب کچھ جھونپڑی میں رکھ دیا، جب تک کہ اسے کوئی مدد نہ مل جائے۔ دن گزرتے رہے، لیکن ایک دن جب وہ کھانے کی تلاش میں نکلا…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔ ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔ اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا: “کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!” مرغے نے سر جھکا کر کہا:“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔” اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ مالک غصے سے بولا:“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!” مرغا خاموش ہوگیا۔ اگلے دن صبح ہوئی۔اس بار اس نے نہ اذان دی،…

Read more

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔ نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ… لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا: “سایہ چور!” یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!” بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ…

Read more

ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!” استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔” استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے…

Read more

ایک بار دو بلیوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ روٹی کس کی ہے۔ “میں نے پہلے دیکھی تھی” ایک بولی۔ “نہیں، میں نے اٹھائی تھی” دوسری چیخی۔ اتنے میں وہاں سے ایک بندر گزرا۔ بلیوں نے بندر سے کہا: “چچا بندر، آپ ہی انصاف کر دیں۔ روٹی کے دو برابر حصے کر دیں۔” بندر مان گیا۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے، مگر جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا رکھا۔ ترازو لے کر بولا: “ارے یہ والا تو بڑا ہے، اسے برابر کرنا پڑے گا۔” یہ کہہ کر بڑے ٹکڑے سے تھوڑا سا کاٹ کر کھا گیا۔ اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہو گیا۔ بندر پھر بولا: “اب یہ بڑا ہے، اسے بھی برابر کرنا ہوگا۔” اور اس میں سے بھی نوالہ توڑ کر کھا گیا۔ ایسے کرتے کرتے بندر ساری روٹی کھا گیا اور آخر میں بولا: “چونکہ اب کچھ بچا ہی…

Read more

ایک سرسبز درخت پر، دریا کے کنارے، ایک ذہین بندر رہتا تھا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر روزانہ درخت کے میٹھے پھل توڑ کر اپنے دوست مگرمچھ کو کھلاتا، اور یوں دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ایک دن مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بھی پھل لے گیا۔ پھل کھا کر اس نے کہا: “جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اس کا دل بھی یقیناً بہت میٹھا ہوگا۔ میں اس کا دل کھانا چاہتی ہوں۔” مگرمچھ اپنی بیوی کی ضد کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس نے بندر کو دعوت کا بہانہ بنایا اور اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا کے درمیان لے گیا۔ وہاں اس نے حقیقت بتائی کہ اس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔ بندر لمحہ بھر کو گھبرایا، مگر فوراً عقل سے کام لیا اور بولا: “دوست! ہم بندر اپنا دل درخت پر رکھتے ہیں۔ اگر پہلے…

Read more

Había un vasto bosque donde reinaban los animales más poderosos. Los grandes animales tomaban sus propias decisiones, mientras que a nadie le importaban las criaturas más pequeñas. Los elefantes construían los caminos, los leones imponían la ley y los búfalos custodiaban los almacenes. Por otro lado, los ratones, las ardillas y, sobre todo, los guepardos vivían tranquilamente. Los guepardos eran las criaturas más laboriosas del bosque. Recolectaban granos, semillas y hojas desde la mañana hasta la noche y construían túneles subterráneos de kilómetros de longitud. Aparentemente, su existencia era muy pequeña, pero su arduo trabajo desempeñaba un papel importante en el mantenimiento de la vida del bosque. Un año, el consejo de animales poderosos anunció que se construiría una gran represa en el río para que ningún animal pasara sed durante los días de sequía. El elefante dijo con orgullo: “Construiremos una represa que será fuente de vida para todo…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا اور پرانا درخت تھا۔لوگ گرمی میں اس کے سائے میں بیٹھتے، مسافر آرام کرتے اور بچے اس کے نیچے کھیلتے تھے۔ 😊 وقت گزرتا گیا، درخت بوڑھا ہو گیا۔اس کی شاخیں سوکھنے لگیں اور پھل بھی کم آنے لگے۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگ کہنے لگے:“اب یہ درخت کسی کام کا نہیں، اسے کاٹ دیتے ہیں!” 😒 یہ سن کر ایک بوڑھا شخص آگے آیا اور بولا:“جب یہ جوان تھا تو تم سب کو سایہ دیتا تھا، پھل دیتا تھا، کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔آج جب یہ بوڑھا ہو گیا ہے تو تم اسے بوجھ سمجھ رہے ہو؟” 💔 لوگ خاموش ہو گئے۔ بوڑھے شخص نے پھر کہا:“یاد رکھو!جو لوگ اپنے بڑوں اور بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے، وقت ایک دن انہیں بھی اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔” ⏳ یہ بات سب کے دل میں اتر گئی۔لوگوں نے درخت کو…

Read more

ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس…

Read more

ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگااتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟چور مسکرایا اور بولاارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتاباغبان نے چور سے کہاجناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں ۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ھے جو کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ: “جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!” یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں” دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔ گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے” اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا: “بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!” چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟” بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا: “بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…” بادشاہ حیران…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نہایت طاقتور بادشاہ اپنے جاہ و جلال، خزانے اور شان و شوکت پر ناز کیا کرتا تھا۔ اس کے محل کی دیواریں سونے سے مزین تھیں، دربار ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے، اور اس کے ایک اشارے پر ہزاروں خادم حاضر ہو جاتے تھے۔ مگر اس بے پناہ دولت اور طاقت کے باوجود اس کے دل میں ایک انجانی بے چینی بسی رہتی تھی۔ ایک صبح وہ اپنے شاہی لشکر کے ساتھ محل سے باہر نکلا۔ راستے میں ایک بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس فقیر درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو بڑے بڑے تاجداروں کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ بادشاہ اس کے قریب رکا اور غرور بھرے لہجے میں بولا: “اے فقیر! مانگ، کیا چاہتا ہے؟” فقیر نے آہستہ سے سر اٹھایا، مسکرایا، اور بولا: “کیا واقعی تم میری…

Read more

دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔ دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔ اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔ ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟ ملکہ نے کہا! سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے…. !! بادشاہ کو بیوی سے بڑی # محبت تھی۔ بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔ بادشاہ باہر دربار میں آیا توبادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو  خوش دیکھا تو۔۔۔ واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بادشاہ مزید خوش ہونے۔ بادشاہ نے کہا سبکو…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت رحم دل اور عقلمند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی؛وہ ہر سال اپنے وزیروں اور مشیروں کا امتحان لیتا تھا تاکہ یہ جان سکے کہ کون سب سے زیادہ دانا ہے۔ایک دن بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بڑا اور خوبصورت پیاسہ کوا (کرافٹڈ) لٹکایا اور اپنے تین سب سے خاص وزیروں کو بلایا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا:”مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟”بادشاہ نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔پہلے وزیر کا جواب: تین دن بعد پہلا وزیر آیا اور بولا، “عالی جاہ! دنیا کا سب سے بڑا سچ ‘موت’ ہے جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا، اور سب سے بڑا جھوٹ ‘دنیا کی زندگی’ ہے جو ایک…

Read more

100/584
NZ's Corner