سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو ظاہر کرتا ہے جو اٹھارہ سو چھ میں شروع ہوئے اور پھر تین دہائی چلتے رہے ۔جس کی وجہ سے رنجیت اور سید احمد شہید صاحب کے مابین کوشش کے باوجود انگریز کے خلاف مشترکہ محاذ جنم نہیں لے سکا ۔رنجیت کو اسلام قبول کرنے پہ سید صاحب نے سارے علاقے کی حکمرانی کی پیشکش بھی کی تھی اور خود رنجیت کا مشیر بننا قبول کر لیا تھا مگر رنجیت نے انگریز وفاداری میں انکار کر دیا۔۔رنجیت کی اس عدم تعاون کی پالیسی کو ان دو معاہدوں باآسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔
رنجیت میسور کی شکست اور مرہٹوں کی پسپائی کو قریب سے دیکھنے کے باوجود بھی گروہی مفاد سے آگے نہیں دیکھ پایا جو ایک بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوئی ۔وہ مشرقی سرحد پہ وقتی امن اور مغربی سرحد کے پھیلاؤ پہ متوجہ ہوگیا اور انگریز جیسے شاطر پہ اعتبار کر بیٹھا۔یاد رہے کہ سید صاحب سے پہلے بھی افغان اور سکھوں کا جھگڑا تاریخی طور پہ موجود تھا اور سید صاحب نے سکھوں کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ رنجیت کے رویہ کی وجہ سے افغانوں کے اپنے علاقے کی حفاظت کے عمل کو ہی آگے بڑھایا تھا۔
اگر ان حالات میں بھی کوئی فرد یا گروہ اس مخصوص دور میں سکھوں کو کمپنی کا مخالف اور سید صاحب کو حامی سمجھتا ہے تو اسے اپنے مغالطے کو تعصب سے پاک کرکے دوبارہ سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔۔
