ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس کی نظر کمزور ہو جاتی ہے۔ پھر بچوں کو چہرے پہچاننے میں مشکل ہونے لگی۔ اور آہستہ آہستہ پوری بستی خوف میں مبتلا ہونے لگی۔ یہ کوئی عام بیماری نہیں تھی۔ پہلے انسان کی بینائی دھندلانے لگتی، پھر روشنی مدھم محسوس ہوتی اور پھر ایک دن مکمل اندھیرا چھا جاتا۔ کئی لوگ چند ہفتوں میں نابینا ہو چکے تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو روتے ہوئے سینے سے لگاتیں، بوڑھے مسجد جاتے ہوئے دیواروں کا سہارا لیتے، اور کئی لوگ راتوں کو جاگ جاگ کر اللہ سے دعا کرتے کہ یہ مصیبت ٹل جائے۔ بستی میں خوف پھیلتا جا رہا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرنے لگے تھے، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اگلا نمبر کس کا ہے۔ انہی دنوں لوگوں کو معلوم ہوا کہ پوری ریاستِ خراسان میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو اس بیماری کا علاج جانتا ہے۔ ایک ایسا طبیب جس کا نام سن کر لوگ امید باندھ لیتے تھے۔ اُس کا نام تھا: “حکیم رستم الدین”۔ اُس کی مہارت کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ لوگ کہتے تھے: “اگر رستم الدین کسی مریض کی نبض پکڑ لے، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیماری خود راستہ بدل لیتی ہے” بعض لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ اُس کے ہاتھوں میں شفا ہے۔ اُس کی شہرت عام طبیبوں جیسی نہیں تھی۔ بادشاہوں کے دربار اُس کے مشوروں سے چلتے تھے، امیر لوگ اُس کے دروازے پر قطاریں لگاتے تھے، اور خراسان کا بادشاہ خود اُس پر اعتماد کرتا تھا۔ کہتے ہیں محل میں کوئی بیمار ہوتا تو سب سے پہلے رستم الدین کو بلایا جاتا۔ نور آباد کے لوگوں کیلئے اب وہی اللہ تعالی کی ذات اقدس کے بعد آخری امید تھا یا پھر یہ کہیں غلط نہ ہوگا کہ خدا تعالی کی ذات نے اسی کی صورت میں انہیں امید دیکھائی۔
چنانچہ بستی کے چند بزرگ، ایک امام مسجد، اور دو نوجوان کئی دن کا طویل سفر طے کر کے اُس کے شہر پہنچے۔ صحرا عبور کیے، پہاڑی راستے گزرے، بھوک برداشت کی، اور آخرکار اُس عظیم حکیم کے دروازے پر پہنچ گئے۔ وہ لوگ تھکے ہوئے تھے، کپڑوں پر سفر کی گرد جمی تھی، اور چہروں پر بےبسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ کئی گھنٹے انتظار کے بعد جب انہیں حکیم رستم الدین کے سامنے پیش ہونے کی اجازت ملی تو وہ نہایت عاجزی سے اُس کے سامنے جھک گئے۔ امام مسجد کی آنکھیں نم تھیں۔ اُس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا: “حضور، ہماری بستی میں ایک عجیب بیماری پھیل گئی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ اپنی بینائی کھو رہے ہیں، بچے اندھے ہو رہے ہیں، مائیں روتی ہیں، بوڑھے دیواروں سے ٹکرا رہے ہیں، اللہ کے لیے چند دن ہمارے ساتھ چلیں” ایک نوجوان نے روتے ہوئے کہا: “ہم نے سنا ہے کہ اللہ نے اس مرض کا علاج صرف آپ کے ہاتھ میں رکھا ہے” کمرے میں کچھ لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی۔ حکیم رستم الدین اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اُس کے سامنے قیمتی قالین بچھے تھے، خوشبو جل رہی تھی، اور دربار کے خاص لوگ اُس کے اردگرد کھڑے تھے۔ پھر اُس نے آہستہ سے گہری سانس لی اور سرد لہجے میں کہا: “میرے پاس وقت نہیں” لوگ سہم گئے۔ حکیم نے بےنیازی سے کہا: “بادشاہِ خراسان خود مجھ پر انحصار کرتا ہے۔ میں کسی چھوٹی بستی کیلئے دربار چھوڑ کر نہیں جا سکتا” یہ الفاظ سنتے ہی اُن لوگوں کے چہروں سے امید جیسے گر گئی۔ امام مسجد نے پھر التجا کی: “حضور، وہاں غریب لوگ ہیں، ان کے پاس آپ تک آنے کی طاقت بھی نہیں” مگر حکیم رستم الدین نے نظریں دوسری طرف موڑ لیں۔ “میں مجبور ہوں” لوگوں نے بار بار منت کی۔ کسی نے اُس کے قدم چھونے کی کوشش کی، کسی نے اللہ کا واسطہ دیا، مگر اُس کا دل نہ پسیجا۔ شاید شہرت کبھی کبھی انسان کے دل پر غرور کی ایسی تہہ جما دیتی ہے جہاں دوسروں کا درد پہنچنا بند ہو جاتا ہے۔ آخرکار وہ سب مایوس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ واپسی کا سفر پہلے سے کہیں زیادہ بھاری تھا۔ جاتے وقت ان کے دلوں میں امید تھی، اب صرف خاموشی تھی۔ جب وہ نور آباد پہنچے اور لوگوں نے بےچینی سے پوچھا: “کیا حکیم ہمارے ساتھ آ رہا ہے؟” تو اُن کی خاموشی ہی جواب بن گئی۔ بستی پر جیسے اداسی اتر آئی۔ کئی عورتیں وہیں بیٹھ کر رونے لگیں۔ ایک بوڑھی ماں نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: “یا اللہ، اب ہمارے بچوں کا کیا ہوگا” اور اُس رات نور آباد میں شاید ہی کوئی ایسا گھر تھا جہاں چراغ کے ساتھ آنکھیں بھی نہ جل رہی ہوں۔
اسی دوران مسجد کے ایک خاموش کونے میں بیٹھا ایک درویش آہستہ آہستہ تسبیح گھما رہا تھا۔ وہ زیادہ بولتا نہیں تھا۔ اکثر لوگ اُسے فجر کے بعد ذکر کرتے، یا رات کے آخری پہر سجدے میں روتے دیکھتے تھے۔ اُس کے کپڑے سادہ تھے، چہرہ دھوپ سے جھلسا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سکون تھا۔ جب نور آباد کے لوگ مایوسی کے عالم میں واپس آئے اور مسجد میں بیٹھ کر اپنے دکھ سنا رہے تھے، تو وہ درویش کافی دیر خاموش سنتا رہا۔ پھر اُس نے آہستہ سے سر اٹھایا اور نہایت پُرسکون لہجے میں کہا: “میں اُسے لے آؤں گا مگر ایک شرط پر” یہ سنتے ہی سب لوگ چونک گئے۔ امید جیسے اچانک پھر زندہ ہو گئی۔ لوگ فوراً اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ کسی نے بےچینی سے پوچھا: “کون سی شرط؟” درویش نے مسجد کے صحن کی طرف دیکھا۔ وہاں ایک کم عمر بچہ سفید لباس پہنے دوسرے بچوں کے ساتھ خاموشی سے کھیل رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر عجیب نور تھا۔ آنکھوں میں شرم و حیا، گفتگو میں نرمی، اور انداز میں ایسی معصومیت تھی کہ اُسے دیکھ کر دل بےاختیار محبت محسوس کرتا تھا۔ درویش نے اُس بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “یہ بچہ میرے ساتھ جائے گا” لوگ حیران رہ گئے۔ مسجد میں خاموشی چھا گئی۔ ایک بوڑھے شخص نے فوراً کہا: “یہ تو سید گھرانے کا آخری چراغ ہے” دوسرے نے بےچینی سے کہا: “اتنا چھوٹا بچہ اتنا لمبا سفر کیسے کرے گا؟” کسی نے کہا: “راستہ خطرناک ہے، صحرا ہے، گرمی ہے” مگر درویش خاموش رہا۔ اُس کی نگاہیں صرف اُس بچے پر تھیں۔ آخرکار مجبوری کے آگے سب جھک گئے۔ کیونکہ بستی میں لوگ روز اندھے ہو رہے تھے، اور اب امید کا آخری دروازہ یہی تھا۔ بچے کے والد فوت ہو چکے تھے جبکہ والدہ کی آنکھیں نم تھیں، مگر انہوں نے ادب سے اپنے بچے کو تیار کیا۔ اگلی صبح سورج نکلنے سے پہلے درویش اور وہ بچہ سفر پر روانہ ہو گئے۔ بچہ سفید لباس میں ملبوس تھا، کندھے پر چھوٹا سا کپڑے کا تھیلا تھا، اور چہرے پر عجیب سکون۔ اُس کا نام تھا: “سید محمد زین العابدین”۔ راستہ طویل تھا۔ کبھی وہ دونوں خاموشی سے چلتے، کبھی درویش بچے کو دعائیں سکھاتا، کبھی بچہ معصومیت سے سوال کرتا کہ “کیا واقعی لوگ دوبارہ دیکھ سکیں گے؟” اور درویش مسکرا کر کہتا: “اللہ چاہے تو اندھیرے بھی روشنی بن جاتے ہیں” کئی دن کے سفر کے بعد وہ دونوں آخرکار اُس عظیم شہر میں پہنچ گئے جہاں حکیم رستم الدین رہتا تھا۔ شہر کی رونق نور آباد سے بالکل مختلف تھی۔ بلند عمارتیں، شاہی بازار، محلوں کے دروازے، اور ہر طرف امیروں کی چہل پہل۔ لوگوں نے بتایا کہ حکیم اس وقت بادشاہِ خراسان کے دربار میں موجود ہے۔ درویش بچے کو ساتھ لے کر محل کے قریب پہنچ گیا۔ کچھ دیر بعد محل کے دروازے کھلے، اور حکیم رستم الدین اپنے خادموں اور درباریوں کے ساتھ باہر نکلا۔ اُس کے کپڑے قیمتی تھے، چہرے پر رعب تھا، اور لوگ راستہ چھوڑ چھوڑ کر اُس کیلئے جگہ بنا رہے تھے۔ درویش آگے بڑھا اور نہایت ادب سے کہا: “حکیم صاحب، نور آباد کو آپ کی ضرورت ہے” رستم الدین نے بغیر دیکھے سرد لہجے میں جواب دیا: “میں پہلے بھی انکار کر چکا ہوں۔ میرے پاس وقت نہیں” اُس کے قدم رکے بھی نہیں۔ مگر درویش مسکرایا۔ پھر اُس نے نہایت آہستہ مگر گہرے لہجے میں کہا: “ایک بار اس بچے سے پوچھ لیجیے، یہ کون ہے” حکیم نے بےدلی سے پہلی بار اُس بچے کی طرف دیکھا۔ شاید اُس نے سوچا ہوگا کہ یہ بھی کسی غریب کا بچہ ہے۔ اُس نے رسمی انداز میں پوچھا: “بیٹا، تم کون ہو؟” بچے نے نہایت ادب سے سر جھکایا، پھر نرم آواز میں جواب دیا: “محمد زین العابدین، اولادِ رسول ﷺ میں سے” بس یہ الفاظ سننا تھا کہ جیسے وقت رک گیا۔ حکیم رستم الدین کے چہرے کی سختی ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔ اُس کی آنکھیں پھیل گئیں، پھر فوراً جھک گئیں۔ وہ بےاختیار آگے بڑھا اور ادب سے جھک گیا۔ اُس کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی۔ کانپتی ہوئی آواز میں بولا: “حضور، آپ خود یہاں تشریف لائے؟” اُس کے لہجے میں اب غرور نہیں، عقیدت تھی۔ “آپ حکم بھیج دیتے، میں دوڑتا ہوا حاضر ہو جاتا” پھر اُس نے شرمندگی سے درویش کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: “یہ میری شان نہیں کہ سید میرے دروازے پر آئیں، میری عزت تو اسی میں ہے کہ میں ان کے قدموں میں جاؤں” پھر وہ خود اُس بچے کو اپنے گھر لے گیا۔ نہایت ادب سے اُس کیلئے بہترین کھانا پیش کیا، آرام کا انتظام کیا، اور بار بار معذرت کرتا رہا۔ اُس رات شاید پہلی بار اُسے احساس ہوا کہ انسان جتنا مرضوں کا علاج سیکھ لے، اگر دل میں عاجزی نہ ہو تو وہ اندر سے بیمار ہی رہتا ہے۔ اگلی صبح اُس نے نور آباد کے لوگوں کیلئے دوائیں تیار کروائیں، اپنے شاگردوں کو ساتھ بلایا، اور وعدہ کیا: “دو دن بعد میں خود نور آباد حاضر ہوں گا”
دو دن بعد جب حکیم رستم الدین نور آباد جانے کی تیاری کر رہا تھا تو اُس کے گھر میں عجیب ہلچل تھی۔ خادم دوائیں باندھ رہے تھے، شاگرد ضروری سامان تیار کر رہے تھے، اور گھوڑے سفر کیلئے تیار کیے جا رہے تھے۔ اتنے میں اُس کی بیوی حیرت سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی: “ذرا سوچیں بھی، ایک طرف بادشاہِ خراسان کا دربار اور دوسری طرف ایک چھوٹی سی بستی” اُس کے لہجے میں حیرت بھی تھی اور خوف بھی۔ کیونکہ پورے خراسان میں سب جانتے تھے کہ سلطان جلال الدین تیموری اپنے حکم کی نافرمانی برداشت نہیں کرتا۔ اُس کے دربار سے غیرحاضر ہونا گویا اپنی جان خطرے میں ڈالنا تھا۔ مگر حکیم رستم الدین یہ سن کر مسکرا دیا۔ اُس کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔ پھر اُس نے آہستہ سے کہا: “سوچا وہاں جاتا ہے جہاں مقابلہ ہو اور یہاں مقابلہ کہاں؟” اُس کی بیوی خاموش ہو گئی۔ حکیم نے سامان باندھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، پھر نہایت عاجزی سے بولا: “ہماری عزت، ہمارا علم، ہمارا رزق، سب حضور ﷺ کے صدقے سے ہے اور تم کہتی ہو کہ میں ابھی بھی سوچوں؟” یہ کہتے ہوئے اُس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ شاید پہلی بار اُس کے دل میں یہ احساس پوری شدت سے جاگا تھا کہ انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے، اُس کی اصل عزت اللہ والوں کی محبت میں جھکنے سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اگلے دن صبح سویرے حکیم رستم الدین اپنے شاگردوں اور دواؤں کے ساتھ نور آباد کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب وہ بستی میں پہنچا تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ جو شخص کبھی آنے کیلئے تیار نہیں تھا، آج وہ خود اُن کی گلیوں میں کھڑا تھا۔ عورتیں خوشی سے رونے لگیں، بوڑھے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دینے لگے، اور بچے اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ حکیم نے فوراً مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔ کئی لوگوں کو پہلی ہی دوا سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آرام آنے لگا۔ کچھ کی بینائی دھندلے پن سے نکلنے لگی، کچھ دوبارہ روشنی محسوس کرنے لگے۔ نور آباد میں جیسے امید دوبارہ زندہ ہو گئی۔ مگر ادھر خراسان کے شاہی محل میں صورتحال بالکل مختلف تھی۔ کئی دن گزر گئے، مگر حکیم رستم الدین دربار میں حاضر نہ ہوا۔ سلطان جلال الدین تیموری غصے سے بھر گیا۔ اُس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اُس نے درباریوں سے سخت لہجے میں پوچھا: “رستم الدین کہاں ہے؟” ایک وزیر نے جھکتے ہوئے کہا: “جہان پناہ، وہ نور آباد نامی بستی گیا ہے” سلطان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ “ایک معمولی بستی کو ہمارے دربار پر ترجیح دی گئی؟!” دربار پر خاموشی چھا گئی۔ کسی میں ہمت نہ تھی کہ کچھ بول سکے۔ سلطان غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا اور بلند آواز میں حکم دیا: “فوراً جاؤ اور حکیم رستم الدین کو زنجیروں میں جکڑ کر ہمارے سامنے پیش کرو!” حکم ملتے ہی سپاہیوں کا دستہ تیار ہو گیا۔ گھوڑوں کی ٹاپیں گونجنے لگیں، تلواریں باندھی گئیں، اور فوج نور آباد کی طرف روانہ ہو گئی۔ مگر اُسی رات، سلطان جلال الدین تیموری نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ اُس نے دیکھا کہ وہ ایک اندھیری جگہ میں کھڑا ہے، اور اچانک اُس اندھیرے میں ایک عظیم نور ظاہر ہوتا ہے۔ وہ نور اتنا شدید تھا کہ اُس کی آنکھیں جھکنے لگیں۔ پھر اُس نور میں ایک نہایت باوقار اور نورانی چہرے والی عظیم ہستی دکھائی دی۔ سلطان کا جسم کانپنے لگا۔ اُس کے دل پر ایسا رعب طاری ہوا جو اُس نے کبھی کسی جنگ میں بھی محسوس نہیں کیا تھا۔ پھر ایک پُرہیبت مگر مہربان آواز گونجی: “جلال الدین، آج تم نے ہمارے ایک غلام کو تکلیف دی ہے” سلطان کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ اُس کے گھٹنے کانپنے لگے۔ وہ کچھ بولنا چاہتا تھا مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔ پھر وہ آواز دوبارہ آئی: “جسے تم زنجیروں میں لانا چاہتے ہو، وہ ہمارے نواسے کی عزت میں جھکا ہے” یہ سنتے ہی سلطان کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اُس نے خواب میں ہی دیکھا کہ زنجیریں اُس کے اپنے ہاتھوں میں آ رہی ہیں، اور اُس کا غرور ٹوٹ رہا ہے۔ خوف سے اُس کی سانس رکنے لگی اور پھر اچانک وہ چیختے ہوئے نیند سے جاگ اٹھا۔ اُس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور رات کی تاریکی میں اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی بعض ہستیوں کے احترام کے سامنے بہت چھوٹی ہو جاتی ہے۔
سلطان جلال الدین تیموری ہڑبڑا کر نیند سے اٹھ بیٹھا۔ اُس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ سانسیں تیز چل رہی تھیں اور دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینہ چیر کر باہر آ جائے گا۔ کچھ لمحوں تک وہ خاموش بیٹھا رہا۔ اُس کے کانوں میں اب بھی وہی جملہ گونج رہا تھا: “جسے تم زنجیروں میں لانا چاہتے ہو، وہ ہمارے نواسے کی عزت میں جھکا ہے” اچانک اُسے اپنا حکم یاد آیا۔ وہی حکم جس میں اُس نے غصے میں آ کر کہا تھا کہ حکیم رستم الدین کو زنجیروں میں جکڑ کر دربار میں پیش کیا جائے۔ یہ یاد آتے ہی اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس نے فوراً محل کے خادموں کو آواز دی، مگر پھر خود ہی رک گیا۔ پہلی بار اُس کے اندر کا بادشاہ خاموش تھا اور ایک خوفزدہ انسان جاگ چکا تھا۔ وہ جلدی سے بستر سے اترا۔ نہ تاج پہنا، نہ شاہی لباس۔ یہاں تک کہ جوتے پہننے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ ننگے پاؤں ہی محل سے باہر نکل پڑا۔ محل کے پہرے دار حیران رہ گئے۔ اُنہوں نے کبھی سلطان کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ شخص جس کے ایک اشارے پر فوجیں حرکت کرتی تھیں، آج بےچینی سے ایک چھوٹی سی بستی کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ کئی دنوں کے بعد ایک صبح کی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی جب سلطان نور آباد پہنچا۔ بستی کے باہر اُس کی فوج کھڑی تھی۔ سپاہیوں نے حکیم رستم الدین کو گھیر رکھا تھا، اور چند سپاہی اُس کے ہاتھوں میں زنجیریں ڈالنے ہی والے تھے۔ نور آباد کے لوگ خوف سے سہمے کھڑے تھے۔ بچے اپنی ماؤں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، اور درویش خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔ اچانک دور سے سلطان کی آواز گونجی: “رکو!” سپاہی چونک کر پیچھے ہٹ گئے۔ سب نے حیرت سے مڑ کر دیکھا۔ سلطان جلال الدین تیموری خود اُن کی طرف آ رہا تھا۔ مگر آج اُس کی شان بدلی ہوئی تھی۔ نہ شاہی لباس، نہ تاج، نہ غرور۔ اُس کے پاؤں ننگے تھے، سر جھکا ہوا تھا، اور چہرے پر خوف اور عاجزی واضح تھی اور ایک بڑی خادموں کی تعداد سلطان کے پیچھے پیچھے تھی۔
لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار بادشاہ کو دیکھا وہ بھی اس حالت میں۔ پورے میدان پر خاموشی چھا گئی۔ سلطان سیدھا حکیم رستم الدین کے پاس پہنچا۔ اُس نے خود اپنے ہاتھوں سے زنجیریں کھلوائیں، پھر نہایت ادب سے حکیم کو اپنے برابر بٹھایا۔ سپاہی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ وہی بادشاہ جو کل تک اُسے مجرم سمجھ رہا تھا، آج اُس کے سامنے ادب سے بیٹھا تھا۔ پھر سلطان نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا: “آخر آپ کا وہ کون سا عمل ہے، جس نے آپ کو اتنا بلند مقام دیا؟” حکیم رستم الدین یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ کچھ لمحے زمین کی طرف دیکھتا رہا، جیسے اپنی پوری زندگی یاد کر رہا ہو۔ پھر اُس نے آہستہ سے کہا: “سلطان، میں نے زندگی میں کوئی بڑا عمل نہیں کیا” اُس کی آواز بھرّا گئی۔ پھر اُس نے اپنے قریب کھڑے کم عمر سید محمد زین العابدین کی طرف دیکھا۔ بچے کے چہرے پر معصوم سکون تھا۔ حکیم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے لرزتی آواز میں کہا: “بس، ایک سید کے حکم کو، بادشاہ کے حکم پر ترجیح دے دی” یہ جملہ سنتے ہی سلطان خاموش ہو گیا۔ اُس کا سر مزید جھک گیا۔ شاید اُس لمحے اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تخت نہیں ہوتی بلکہ وہ دل ہوتا ہے جو ادب اور محبت میں جھکنا جانتا ہو۔
سلطان جلال الدین تیموری کئی لمحوں تک خاموش بیٹھا رہا۔ اُس کے دل پر جیسے کوئی پردہ ہٹ چکا تھا۔ اُسے اپنی غلطی سمجھ آ چکی تھی۔ اُس نے پہلی بار محسوس کیا کہ طاقت انسان کو بڑا نہیں بناتی بلکہ بعض اوقات طاقت انسان کی آنکھوں پر غرور کی پٹی باندھ دیتی ہے۔ نور آباد کی وہ چھوٹی سی بستی، جسے وہ حقیر سمجھتا تھا، آج اُسے اپنی سلطنت سے بڑی محسوس ہو رہی تھی۔ کیونکہ وہاں اُس نے وہ چیز دیکھی تھی جو محلوں میں نہیں ملتی، اخلاص، ادب اور نسبت کی برکت۔ سلطان نے اپنی فوج کو واپس بھیج دیا اور خود تین دن نور آباد میں قیام کیا۔ یہ وہی بادشاہ تھا جس کے دربار میں لوگ جھک کر بات کرتے تھے، مگر یہاں وہ خاموشی سے مسجد کے دروازے پر بیٹھا رہتا، درویش کی گفتگو سنتا، اور ننھے سید محمد زین العابدین کو احترام سے دیکھتا رہتا۔ اُس نے پہلی بار دیکھا کہ لوگ اس بچے کے ہاتھ چومتے وقت دنیا نہیں، عقیدت دیکھتے ہیں۔ وہ حیران تھا کہ ایک کم عمر بچہ، جس کے پاس نہ فوج ہے، نہ خزانہ، نہ تخت پھر بھی دلوں پر حکومت کر رہا ہے۔ انہی تین دنوں میں سلطان نے یہ بھی دیکھا کہ حکیم رستم الدین کس عاجزی سے مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ کبھی کسی بوڑھی عورت کے پاس زمین پر بیٹھ جاتا، کبھی کسی اندھے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتا، کبھی رات گئے تک دوائیں تیار کرتا۔ اور جب بھی کوئی اُس کی تعریف کرتا، وہ فوراً سید محمد زین العابدین کی طرف دیکھ کر کہتا: “یہ سب اُن کی نسبت کی برکت ہے” سلطان یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر بدلتا جا رہا تھا۔ اُسے احساس ہو رہا تھا کہ عزت تخت سے نہیں ملتی، نسبت سے ملتی ہے۔ دولت سے نہیں ملتی، ادب سے ملتی ہے۔ اور بعض لوگ تاج پہن کر بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں، جبکہ بعض لوگ عاجزی میں جھک کر بھی دلوں کے بادشاہ بن جاتے ہیں۔
جب سب لوگ ٹھیک ہوگئے تو پھر واپسی کا وقت آ گیا۔ سلطان نے ادب سے حکیم رستم الدین کے قریب آ کر عرض کی: “حکیم صاحب، اب واپس چلیں، دربار آپ کا منتظر ہے” حکیم نے خاموشی سے ننھے سید کی طرف دیکھا، پھر نہایت ادب سے جواب دیا: “سلطان، اب میں وہاں جاؤں گا جہاں سید اجازت دیں گے” یہ سن کر سلطان کی آنکھیں جھک گئیں۔ کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ بعض فیصلے طاقت سے نہیں، ادب سے کیے جاتے ہیں۔ پورا نور آباد خاموش کھڑا تھا۔ سب کی نظریں اُس کم عمر سید پر تھیں۔ ننھے سید محمد زین العابدین نے معصوم مسکراہٹ کے ساتھ آہستہ سے سر ہلایا اور فرمایا: “آپ جا سکتے ہیں” بس یہ اجازت ملنا تھا کہ حکیم رستم الدین نے ادب سے سر جھکا لیا۔ پھر اُس نے بستی والوں سے رخصت لی، بچے کے ہاتھ چومے، اور سلطان کے ساتھ نور آباد سے روانہ ہو گیا۔ مگر اس سفر کے بعد صرف حکیم نہیں بدلا تھا، خراسان کا بادشاہ بھی بدل چکا تھا۔ کیونکہ بعض اوقات اللہ انسان کو تختوں پر نہیں، چھوٹی بستیوں میں جا کر سبق سکھاتا ہے۔
اخلاقی سبق
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت اُس کے علم، دولت، طاقت یا شہرت میں نہیں بلکہ اُس کے دل کی عاجزی، ادب اور اخلاص میں ہوتی ہے۔
حکیم رستم الدین کے پاس علم تھا، شہرت تھی، بادشاہوں کی قربت تھی، مگر اُس کے دل میں اُس وقت تک ایک خاموش غرور موجود تھا۔ وہ غریب بستی کے درد کو اہم نہیں سمجھ رہا تھا۔ مگر جب اُس نے ایک ننھے سید کی نسبت دیکھی تو اُس کے اندر کا غرور ٹوٹ گیا، اور اُسے احساس ہوا کہ اصل عزت اللہ والوں کے ادب میں جھکنے سے ملتی ہے۔
یہ کہانی یہ بھی سکھاتی ہے کہ:
کبھی کسی غریب، چھوٹی بستی یا کمزور انسان کو حقیر نہ سمجھو۔
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور برکت اکثر اُن جگہوں میں رکھتا ہے جہاں دنیا کی نگاہ نہیں جاتی۔
بعض اوقات ایک معصوم اور نیک دل انسان کی نسبت، بڑے بڑے طاقتور لوگوں کو بدل دیتی ہے۔
علم اگر عاجزی نہ سکھائے تو وہ انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔
اور طاقت اگر ادب نہ سکھائے تو وہ انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔
سلطان جلال الدین کے پاس تخت تھا، فوج تھی، اختیار تھا مگر ایک خواب نے اُسے یہ حقیقت دکھا دی کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اللہ والوں کی محبت اور ادب کے سامنے چھوٹی ہو جاتی ہے۔
اس کہانی کا سب سے خوبصورت سبق شاید یہ ہے:
انسان جتنا بڑا ہوتا جائے، اُتنا زیادہ جھکنا سیکھ لے،
کیونکہ پھلوں سے بھرا درخت ہمیشہ جھکا ہوا ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات اللہ انسان کو محلوں میں نہیں،
بلکہ کسی چھوٹی سی بستی، کسی درویش، یا کسی معصوم بچے کے ذریعے وہ سبق سکھاتا ہے جو پوری زندگی کی کتابیں نہیں سکھا سکتیں
