Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بوڑھا شیر رہتا تھا، جسے سب جانور دل ہی دل میں اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے۔ اگرچہ اس کی جسمانی طاقت پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر اس کی ہیبت اور وقار بدستور قائم تھا۔ اب وہ شکار کے بجائے دربار لگاتا اور جانوروں کے درمیان انصاف کے فیصلے کیا کرتا تھا۔ روزانہ جنگل کے مختلف جانور اس کے دربار میں حاضر ہوتے، ادب سے سلام پیش کرتے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔ خصوصاً لومڑیاں ہر وقت اس کے گرد منڈلاتیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں کہتیں: “حضور، آپ جیسا عادل حکمران زمانے نے نہیں دیکھا۔” “آپ کی دانائی تو مثال سے بالاتر ہے۔” شیر ان باتوں سے خوش ہوتا اور ان چاپلوسوں کو اپنے قریب رکھتا۔ ایک دن ایک کمزور سا ہرن، لنگڑاتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں…

Read more

‏یورپ کی بہترین فوج کا بادشاہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے نکلا لیکن دریا میں ڈوب کر مر گیا ،یہ 12ویں صدی عیسوی کا طاقتور جرمن بادشاہ فریڈرک باربروسہ تھا بابروسہ کا مطلب ہوتا ہے سرخ داڑھی والا اس نے آپس میں لڑتی جھگڑتی جرمن ریاستوں کو طاقت کے زور پر متحد کیا پھر پولینڈ کو فتح کیا اس کے بعد اٹلی پر حملہ کر کے روم جا پہنچا وہاں سے کیتھولک پوپ سے زبردستی اپنے فتح کردہ علاقوں کو Holy Roman Empire قرار دے کر اپنے آپ کو شہنشاہ تسلیم کروایا،جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے بیت المقدس فتح کرنے کی خبر یورپ پہنچی تو تیسری صلیبی جنگ کی تیاری کی گئی ان میں سب سے مضبوط فوج باربروسہ کی تھی فرانس اور انگلینڈ کی فوجیں فلپ اور رچرڈ کی قیادت میں سمندری راستے سے فلسطین پہنچیں ،لیکن بابروسہ نے زمینی راستہ منتخب کیا لیکن ایشیائے…

Read more

ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔ نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات…

Read more

تاریخ کی کتابوں میں ایک واقعہ درج ہے کہ ایک بدو کی دلہن کو جس گھوڑے پر بٹھا کر لوگ لائے تھے ۔ دلہن کے گھوڑے سے اترتے ہی اس بدو نے اس گھوڑے کی تلوار سے گردن الگ کردی ۔ لوگوں نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ میری بیوی کے اترنے کے فوراً بعد ہی کوئی اور اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے اور دلہن کی سواری کی وجہ سے تاحال گھوڑے کی پیٹھ گرم ہو اور کوئی غیر مرد اس حرارت کو محسوس کر لے ۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے ۵۰۰ دینار ہیںعدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا ۔عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور…

Read more

کہتے ہیں کسی ملک میں  ایک سال سخت قحط پڑا ۔ لوگ  بھوکے مرنے لگے ۔ ملک کے بادشاہ نے اپنے تمام اراکین سلطنت کو جمع کر کے اُن سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور رعایا کی جان کس طرح بچائی جائے : تمام امرا ، وزرا ، نے بہت غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے جو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے ہوں کیونکہ ملک کو اُن کی چنداں ضرورت نہیں اور اس طرح اناج کی جو مقدار کثیر اُن کی خوراک پر خرچ ہوتی ہے وہ بچے گی – اور یہ مفت کا خرچ  کم ہو کر جوانوں کے کام آئے گا۔ بادشاہ نے جو بالکل بے وقوف تھا ۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا اور اپنے جنگی سپاہیوں کے  نام حکم جاری کر دیا کہ وہ بوڑھوں کے قتل عام پر آمادہ…

Read more

یہ کہانی شام میں پیش آئی، جسے ایک درزی کے مالک نے بیان کیا ہے:کہانی کے راوی کہتے ہیں: میں ایک درزی کے کارخانے کا مالک تھا، اور میری ایک ہمسائی تھی جس کا شوہر فوت ہو چکا تھا اور اس نے تین یتیم بچے چھوڑے تھے۔ ایک دن وہ میرے کارخانے میں آئی اور کہنے لگی: “اے فلاں، میرے پاس ایک سلائی مشین ہے جس پر میرا شوہر کام کرتا تھا، اور ہم اس پر کام کرنا نہیں جانتے۔ میں چاہتی ہوں کہ ان یتیم بچوں کی کفالت کروں، کیا میں اس مشین کو آپ کے کارخانے میں لا کر آپ کو کرایہ پر دے سکتی ہوں تاکہ مجھے کچھ آمدنی ہو اور میں اپنے خاندان کا پیٹ پال سکوں؟” میں اس کی بات سن کر شرمندہ ہو گیا (اور شرم کبھی بھی برائی کی طرف نہیں لے جاتی)۔ میں نے کہا: “بہن، بالکل! آپ اسے میرے پاس بھیج…

Read more

ایک دن نبی کریم ﷺ کوہِ صفا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ  راستے میں ابو جہل آ گیا۔ اس نے آپ ﷺ کو سخت الفاظ کہے، مگر میرے آقا ﷺ خاموش رہے… کچھ جواب نہ دیا۔بدبختی یہاں تک بڑھی کہ اس نے ہاتھ میں موجود لاٹھی سے حضور ﷺ کے سرِ اقدس پر وار کیا۔ خون جاری ہو گیا… مگر رحمتِ عالم ﷺ پھر بھی خاموش رہے، صبر فرمایا اور گھر تشریف لے آئے۔یہ منظر ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔کچھ دیر بعد حضرت امیر حمزہؓ شکار سے واپس آئے۔ اس لونڈی نے کہا:“اے حمزہ! آپ شکار کھیل کر آ رہے ہیں، مگر آج آپ کے بھتیجے محمد ﷺ کو ابو جہل نے لاٹھی ماری، یہاں تک کہ ان کے سر مبارک سے خون بہنے لگا… وہ یہ ظلم اس لیے کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے محمد ﷺ کا کوئی مددگار نہیں۔ اگر آج عبدالمطلب زندہ ہوتے…

Read more

تھیسالیوں کا پاؤسانیاس نہایت دولت مند اور بااثر حکمران تھا. وہ سکندر کی ماں اولمپیا کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا اس نے چند طاقتور آدمیوں کو بہت سا مال و دولت دے کر اولمپیا کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے فلپ کو چھوڑ کر اس سے شادی کرنے پر آمادہ کریں. اولمپيا راضی نہ ہوئی تو پاؤسانیاس فلپ کو قتل کرنے اور اولمپیا کو حاصل کرنے کے ارادے سے تھیٹر کی طرف چل پڑا. وہ جانتا تھا کہ سکندر جنگی مہم میں مصروف تھا. فلپ اولمپک تھیٹر میں مقابلے دیکھ رہا تھا کہ ہتھیاروں سے مسلح پاؤسانیاس اپنے چند معزز ساتھیوں کے ساتھ وہاں آ دھمکا. وہ تیر کی طرح سیدھا فلپ کے پاس گیا اور تلوار سے اس کے سینے پر وار کیا. فلپ شدید زخمی ہو گیا. تھیٹر میں ہنگامہ برپا ہو گیا. وہاں سے پاؤسانیاس محل کی طرف بھاگا تاکہ اولمپيا کو اپنے قبضے میں لے…

Read more

سلطان صلاح الدین ایوبی عدل و انصاف اور دانائی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ شہر کا جائزہ لینے نکلے ہوئے تھے۔ راستے میں وہ ایک پرانے کنویں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ لوگ مٹکے اور مشکیزے بھر کر لے جا رہے تھے۔سلطان کو حیرت ہوئی کہ آخر ایک عام سے کنویں پر اتنی بھیڑ کیوں ہے۔ انہوں نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ جا کر معلوم کرے کہ معاملہ کیا ہے۔ سپاہی واپس آیا اور عرض کیا،“حضور! یہ کنواں ایک شخص کی ملکیت ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ لوگ دور دور سے یہاں آتے ہیں اور اس شخص سے پانی خرید کر لے جاتے ہیں۔”سلطان یہ سن کر مزید حیران ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ اللہ کی…

Read more

لوہے کے پنجرے میں قید آسمانی بجلی: سلطان بایزید یلدرم کی داستان 1402ء کا سال… اناطولیہ (انقرہ) کے تپتے ہوئے میدان میں تاریخ کی دو سب سے بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرانے والی تھیں۔ ایک طرف وہ عثمانی سلطان تھا جس کی تلوار کی کاٹ اور گھوڑوں کی رفتار دیکھ کر یورپ نے اسے ‘یلدرم’ (آسمانی بجلی) کا خطاب دیا تھا، اور دوسری طرف ایشیا کا لنگڑا لیکن ناقابلِ شکست فاتح، امیر تیمور کھڑا تھا۔ جو عثمانی سلطان ساری زندگی ہواؤں کے دوش پر اڑتا رہا اور جس نے پورے یورپ کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا تھا، اس ایک دن کی جنگ اور غرور نے اسے ایسا گرایا کہ تاریخ اسے ایک ‘لوہے کے پنجرے’ میں قید ایک بے بس قیدی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ یہ کہانی عثمانی تاریخ کے سب سے تیز رفتار، جری، لیکن سب سے المناک انجام پانے والے حکمران، سلطان بایزید اول (یلدرم)…

Read more

قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کاشہر ’’حجر‘‘ کی رنگین ،مدہوش اور پُرتعیش رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ موج مستی، رقص و سُرود، شراب و کباب کی محفلیں عروج پر تھیں۔ محلّات سے بازاروں تک، گھروں سے گلی کُوچوں تک، صحرائوں سے میدانوں تک غیراخلاقی حرکات اور مکروہ دھندوں نے احترامِ آدمیت کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی تھیں۔ مال و دولت کی فراوانی اور نعمتِ خداوندی کی کثرت نے شہر کے باسیوں کو اللہ سے غافل کردیا تھا اور شیطان اُن کی حیوانی خصلتوں پر قابض ہوچکا تھا۔ یہ اُن کا روز و شب کا معمول تھا، حکم عدولی اور نافرمانی اُن کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہاں، اگر کوئی نئی بات تھی، تو وہ اللہ کے نبی، حضرت صالح علیہ السلام کا یہ فرمان تھا کہ ’’اے میری قوم! تمہارے پاس عیش و عشرت کے لیے صرف تین دن بچے…

Read more

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ  حکمرانی کرے، سب سے بڑا شیر بھی آخر کار ایک خاموش اور بے بس انجام کو پہنچتا ہے۔ یہی اس دنیا کی حقیقت ہے۔اپنے عروج پر شہر جنگل کی بادشاہی کرتا ہے — تعاقب کرتا، فتح پاتا،اپنے شکار کو نگل جاتا، اور صرف ہڈیوں کے ٹکڑے پیچھے چھوڑتا ہے۔ طاقت اس کی پہچان ہوتی ہے۔اقتدار اسے گھیرے رکھتا ہے۔ خوف اس کے پیچھے چلتا ہے۔مگر وقت بڑا تیزی سے گزرتا ہے۔عمر اسے کمزور کر دیتی ہے جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔ وہی شیر جو ایک زمانے میں بآسانی شکار کرتا تھا، اب نہ تعاقب کر سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے۔ وہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے، خالی پن میں دھاڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قسمت اسے آ دھرتی ہے۔ جنہیں اس نے ایک زمانے میں نظر انداز کر دیا تھا، آج وہی اسے گھیر لیتے…

Read more

13ویں صدی کا اختتام… اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک بزرگ درویش ‘شیخ ادیبالی’ کے حجرے میں سویا ہوا ایک نوجوان جنگجو اچانک پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور حیرت تھی۔ اس نے ابھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس میں آنے والی چھ صدیوں اور تین براعظموں کی تاریخ چھپی تھی۔ خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ درویش کے سینے سے ایک چاند نکلا اور اس نوجوان کے سینے میں سما گیا۔ پھر اسی جگہ سے ایک عظیم الشان درخت اگا، جس کی شاخیں اتنی پھیلیں کہ انہوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ اس درخت کے سائے میں دنیا کے چار بڑے پہاڑ (کوہِ قاف، اطلس، طور اور بلقان) اور چار بڑے دریا (دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب) بہہ رہے تھے۔ جب اس نے یہ خواب درویش کو سنایا، تو بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مبارک…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻟﻮﮔﻮﮞ کو ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼﺟﺐ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﯿﺒﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮگئی، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮭﺴﻞ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﮕﻮﻟﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻃﯿﺶ ﺩﯾﮑﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ۔ﺗﻮ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺎﺭﺍ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺎ ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺮﺍﮐﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﺭﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ!  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭﺷﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯽ ﮨﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:ﻣﺠﮭﮯ…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

خاموشی ہمیشہ تاخیر نہیں ہوتیایک دھوپ سے بھرے باغ میں، ایک چھوٹی چیونٹی کو اپنی مصروفیت پر بڑا ناز تھا۔ وہ روزانہ اپنے جسم سے بڑے ٹکڑے اٹھائے ادھر ادھر دوڑتی رہتی۔ چیونٹی کے نزدیک حرکت ہی ترقی تھی اور بھاگ دوڑ ہی زندگی کا مقصد۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کوئی چیز حرکت میں نہیں ہے، تو وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ایک دوپہر، ایک گلابی پتے کے نیچے، چیونٹی کی نظر ایک خاکستری رنگ کے ککون (خول) پر پڑی جو خاموشی سے ٹہنی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ وہ خشک، بے آواز اور بالکل عام سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی حرکت، نہ زندگی کا کوئی نشان۔ چیونٹی قریب آئی اور حقارت سے بولی:“اپنی حالت تو دیکھو! میں سفر کر رہی ہوں، کام کر رہی ہوں اور نتائج حاصل کر رہی ہوں، جبکہ تم یہاں بس بیکار لٹکے ہوئے ہو۔ کتنی ضائع شدہ زندگی ہے تمہاری۔”ککون خاموش…

Read more

120/455
NZ's Corner