Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں بیوقوف نہیں بنا سکتا۔ اسی دوران گاؤں کے ایک آدمی نے مذاق میں کہا: “شیخ چلی! اگر تم سارا دن خاموش رہو تو میں تمہیں دس روپے دوں گا۔” دس روپے سن کر شیخ چلی فوراً مان گئے۔ انہوں نے دل میں کہا: “واہ! بغیر کچھ کیے دس روپے مل جائیں گے!” صبح سے شام تک وہ خاموش رہے۔ لوگ انہیں چھیڑتے، سوال پوچھتے، ہنساتے، مگر وہ ایک لفظ نہ بولتے۔ دوپہر کو ان کی والدہ نے پوچھا: “بیٹا، کھانا کھاؤ گے؟” شیخ چلی خاموش۔ دوستوں نے کہا: “شیخ چلی! تمہارے گھر کے پیچھے بندر ناچ رہا ہے!” مگر وہ پھر بھی خاموش رہے۔ شام کے وقت وہ آدمی آیا اور بولا: “شاباش شیخ چلی! تم واقعی خاموش رہے۔ یہ لو تمہارے دس روپے۔” شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے اور…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ وہ اب بہت بڑا عالم بن چکا ہے۔ اس نے ایک بڑی سی پگڑی باندھی، ہاتھ میں موٹی کتاب لی اور گاؤں کے چوک میں جا بیٹھا۔ لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے: “شیخ چلی! آج یہ کیا نیا کام شروع کر دیا؟” شیخ چلی نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا: “آج سے میں گاؤں والوں کو عقل کی باتیں سکھاؤں گا!” سب لوگ جمع ہوگئے۔ ایک آدمی نے پوچھا: “اچھا شیخ صاحب، یہ بتاؤ اگر بارش ہو رہی ہو اور چھت ٹپک رہی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟” شیخ چلی فوراً بولا: “بہت آسان ہے! بارش بند ہونے کا انتظار کرو!” لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر ایک بچے نے پوچھا: “اگر کوئی کنویں میں گر جائے تو؟” شیخ چلی نے بڑی سنجیدگی سے کہا: “پہلے اس سے پوچھو کہ وہ تیرنا جانتا ہے یا نہیں!” سب لوگ ہنسنے لگے۔…

Read more

ابن کثیر میں ہے. ایک شخص بڑا نیک اور بھی تھا۔ اس کا باغ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو ہمیشہ ادا کرتا تھا۔ اس باغ کی پیداوار میں سے اپنے بال بچوں اور باغ کے خرچ کو نکال کر باقی پیداوار کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر ڈالتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالی نے اس کے مال میں بڑی برکت دے رکھی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد جب اس باغ کی وارث اس کی اولاد ہوئی تو باپ کے اس خرچ کا حساب کیا تو بہت ٹھہرا ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ حقیقت میں ہمارا باپ بڑا ہی بے وقوف اور نادان تھا جو اتنی بڑی رقم مفت خوروں ، غریبوں اور مسکینوں میں بلا وجہ دے دیا کرتا تھا لہذا ہم ان غریبوں کے حق کو روکیں اور ان کو کچھ نہ دیں تو ہمارے پاس بہت…

Read more

ایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟” ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔” پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔ پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا جی! آپ مجھ سے جھوٹ بول…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پرورش پاتے رہے، لیکن جب آپ جوان ہوئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے ظلم و ستم کو دیکھ کر بے چین ہو گئے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم، جو قبطی کہلاتی تھی، آپ کے دشمن بن گئے اور آپ نے فرعون کا محل بلکہ پورا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر زندگی گزارنا شروع کر دی۔ ایک دن جب شہر کے لوگ دوپہر کے وقت آرام (قیلولہ) کر رہے تھے تو آپ خاموشی سے شہر میں داخل ہوئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع تھا، اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں بدل کر “منف” بن گیا۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ فسطاط تھا اور بعض نے اسے حامین بتایا ہے جو مصر سے تقریباً دو کوس…

Read more

ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے…

Read more

ایک دن بہلول نے حضرت جنید بغدادیؒ سے پوچھا:“شیخ صاحب! کیا آپ کھانے کے آداب جانتے ہیں؟” حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا:“بسم اللہ پڑھنا، اپنے سامنے سے کھانا، چھوٹا لقمہ لینا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اچھی طرح چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمے پر نظر نہ رکھنا، اللہ کو یاد کرنا، آخر میں الحمدللہ کہنا اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا۔” بہلول یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:“لوگوں کے مرشد ہو، مگر کھانے کے آداب نہیں جانتے!” یہ کہہ کر وہ آگے چل دیے۔حضرت جنیدؒ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ مریدوں نے عرض کیا:“حضور! وہ تو دیوانہ ہے۔”لیکن شیخ پھر بھی ان کے پاس پہنچ گئے۔ سلام کیا۔بہلول نے جواب دیا اور پوچھا:“کون ہو؟” فرمایا:“جنید بغدادی… جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔” بہلول نے پوچھا:“اچھا، بولنے کے آداب جانتے ہو؟” حضرت جنیدؒ نے فرمایا:“مخاطب کے مطابق بات کرنا، بے موقع اور فضول گفتگو سے بچنا،…

Read more

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔ اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں: * اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔ * صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔ * بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔ * اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔ * عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول…

Read more

فرعون کے غرق ہونے اور سمندر کی لہروں کے تھم جانے کے بعد بنی اسرائیل ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے تھے جسے ان کی کئی نسلوں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔ یہ صرف ایک ہجرت نہ تھی… یہ ایک غلام قوم کی نفسیاتی، فکری اور روحانی تعمیرِ نو کا آغاز تھا۔ مگر آزادی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ آزادی اپنے ساتھ ذمہ داریاں، آزمائشیں اور صبر بھی لاتی ہے۔ جیسے ہی بنی اسرائیل نے صحرائے سینا کی تپتی زمین پر قدم رکھا، انہیں پہلی بڑی آزمائش نے گھیر لیا۔ پانی ختم ہو چکا تھا۔ پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔ وہ تین دن تک پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ یہ علاقہ اپنی شدید گرمی، خشک پہاڑوں اور سخت ماحول کے لیے مشہور تھا، جہاں زندہ رہنا بھی ایک معرکہ تھا۔ جب پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو قوم نے پھر احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرت…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک بادشاہ کے دربار میں دوسرے ملک کے سفیر نے تین خوبصورت گڑیا تحفے میں بھیجیں۔ وہ تینوں گڑیا دیکھنے میں بالکل ایک جیسی تھیں؛ ان کا سائز، رنگ، بناوٹ اور وزن بالکل یکساں تھا۔سفیر نے بادشاہ کو ایک چیلنج دیا: “عالی جاہ! یہ تینوں گڑیا بظاہر ایک جیسی ہیں، لیکن ان کی قیمت اور اخلاقی قدر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیا آپ کا کوئی درباری ان تینوں میں فرق بتا سکتا ہے؟”بادشاہ نے اپنے تمام دانشوروں اور وزیروں کو بلایا۔ سب نے گڑیا کو غور سے دیکھا، چھو کر دیکھا، لیکن کوئی بھی ان میں کوئی فرق نہ ڈھونڈ سکا۔ بادشاہ پریشان ہو گیا کہ اگر جواب نہ دیا تو سلطنت کی بدنامی ہوگی۔ آخر کار، بادشاہ کے سب سے عاقل اور دانا وزیر نے اس چیلنج کو قبول کیا۔وزیر نے ایک باریک تار منگوایا۔    1. پہلی گڑیا: وزیر نے…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے پیچھے اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے تیزی سے ہرن کا پیچھا کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ بادشاہ نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کہاں جائے۔ گھوڑا بھی گرمی سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کوئی بستی نظر نہ آئی، البتہ دور کچھ جانور چرتے دکھائی دیے اور بانسری کی آواز بھی تیز ہوا کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کا رخ کیا۔ چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی…

Read more

سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو…

Read more

ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ایک چھوٹے غیر آباد جزیرے پر بہہ کر پہنچ گیا۔ اس نے خدا سے دعا کی کہ اسے بچا لے، لیکن کئی دن گزر گئے، نہ کوئی مدد آئی اور نہ ہی کوئی اسے بچانے آیا۔ تھک ہار کر، ایک دن اس نے ادھر ادھر سے چیزیں ڈھونڈیں اور ٹوٹے ہوئے جہاز کے بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں اور اسے اس جزیرے پر اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔ اس نے آس پاس سے زندہ رہنے کے لیے چیزیں اکٹھی کیں اور وہ سب کچھ جھونپڑی میں رکھ دیا، جب تک کہ اسے کوئی مدد نہ مل جائے۔ دن گزرتے رہے، لیکن ایک دن جب وہ کھانے کی تلاش میں نکلا…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔ ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔ اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا: “کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!” مرغے نے سر جھکا کر کہا:“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔” اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ مالک غصے سے بولا:“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!” مرغا خاموش ہوگیا۔ اگلے دن صبح ہوئی۔اس بار اس نے نہ اذان دی،…

Read more

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔ نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ… لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا: “سایہ چور!” یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!” بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ…

Read more

ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!” استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔” استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے…

Read more

ایک بار دو بلیوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ روٹی کس کی ہے۔ “میں نے پہلے دیکھی تھی” ایک بولی۔ “نہیں، میں نے اٹھائی تھی” دوسری چیخی۔ اتنے میں وہاں سے ایک بندر گزرا۔ بلیوں نے بندر سے کہا: “چچا بندر، آپ ہی انصاف کر دیں۔ روٹی کے دو برابر حصے کر دیں۔” بندر مان گیا۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے، مگر جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا رکھا۔ ترازو لے کر بولا: “ارے یہ والا تو بڑا ہے، اسے برابر کرنا پڑے گا۔” یہ کہہ کر بڑے ٹکڑے سے تھوڑا سا کاٹ کر کھا گیا۔ اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہو گیا۔ بندر پھر بولا: “اب یہ بڑا ہے، اسے بھی برابر کرنا ہوگا۔” اور اس میں سے بھی نوالہ توڑ کر کھا گیا۔ ایسے کرتے کرتے بندر ساری روٹی کھا گیا اور آخر میں بولا: “چونکہ اب کچھ بچا ہی…

Read more

ایک سرسبز درخت پر، دریا کے کنارے، ایک ذہین بندر رہتا تھا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر روزانہ درخت کے میٹھے پھل توڑ کر اپنے دوست مگرمچھ کو کھلاتا، اور یوں دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ایک دن مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بھی پھل لے گیا۔ پھل کھا کر اس نے کہا: “جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اس کا دل بھی یقیناً بہت میٹھا ہوگا۔ میں اس کا دل کھانا چاہتی ہوں۔” مگرمچھ اپنی بیوی کی ضد کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس نے بندر کو دعوت کا بہانہ بنایا اور اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا کے درمیان لے گیا۔ وہاں اس نے حقیقت بتائی کہ اس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔ بندر لمحہ بھر کو گھبرایا، مگر فوراً عقل سے کام لیا اور بولا: “دوست! ہم بندر اپنا دل درخت پر رکھتے ہیں۔ اگر پہلے…

Read more

Había un vasto bosque donde reinaban los animales más poderosos. Los grandes animales tomaban sus propias decisiones, mientras que a nadie le importaban las criaturas más pequeñas. Los elefantes construían los caminos, los leones imponían la ley y los búfalos custodiaban los almacenes. Por otro lado, los ratones, las ardillas y, sobre todo, los guepardos vivían tranquilamente. Los guepardos eran las criaturas más laboriosas del bosque. Recolectaban granos, semillas y hojas desde la mañana hasta la noche y construían túneles subterráneos de kilómetros de longitud. Aparentemente, su existencia era muy pequeña, pero su arduo trabajo desempeñaba un papel importante en el mantenimiento de la vida del bosque. Un año, el consejo de animales poderosos anunció que se construiría una gran represa en el río para que ningún animal pasara sed durante los días de sequía. El elefante dijo con orgullo: “Construiremos una represa que será fuente de vida para todo…

Read more

120/612
NZ's Corner