Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔” رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔ بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟” بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب…

Read more

ساجدہ اپنے نیک دل شوہر محمود سے بہت محبت کرتی تھی۔ اگرچہ غریب تھا، محمود بڑا مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کو دوپہر کے کھانے پر گھر لے آتا۔ اکثر، مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد میاں بیوی خود بھوکے رہ جاتے۔ ساجدہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ مہمانوں کو کھلانا مشکل ہے جب وہ خود دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ لیکن محمود نے نہ سنی اور بولا: “مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مہمان کو کھانا کھلانے سے برکت ہوتی ہے۔” ساجدہ سمجھ گئی کہ شوہر کو سمجھانا ناممکن ہے۔ اسے مہمانوں کو دوپہر کے کھانے پر آنے سے روکنے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ ایک صبح، محمود نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس نے تین مہمانوں کو بلایا ہے، ان کے لیے کھانا پکاؤ۔ “دوپہر تک وہ آ جائیں گے،” اس نے کہا۔ ساجدہ بتانا چاہتی تھی…

Read more

ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”  نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک طوطا تھا جو پنجرے میں رہتا تھا۔ ایک بار شہر میں ایک درویش آئے جو تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ آدمی روزانہ درویش کی محفل میں جاتا تھا۔ ایک دن اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “آپ روزانہ کہاں جاتے ہیں؟؟” اس نے جواب دیا، “میں درویش کی محفل میں اچھی باتیں سیکھنے جاتا ہوں۔” طوطے نے کہا، “کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے؟ مہربانی کر کے اس درویش سے پوچھیں — مجھے آزادی کب ملے گی؟” اگلے دن وہ آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ تعلیم ختم ہونے کے بعد وہ درویش کے پاس گیا اور کہا، “مہاراج، میرے گھر میں ایک طوطا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے آزادی کب ملے گی؟” یہ سنتے ہی درویش بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب آدمی نے یہ دیکھا تو وہ ڈر گیا اور چپ…

Read more

ایک عرب قبیلے کے سردار کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہو گیا ہے تو وہ عجیب بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی سے مرغے کے لیے آخر اتنی پریشانی کیوں؟ مگر سردار کی آنکھوں میں صرف ایک پرندے کا غم نہیں تھا… وہ اس خاموش خطرے کو دیکھ رہا تھا جو ابھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ پورا علاقہ چھان مارو۔ خود ٹیلوں پر چڑھ چڑھ کر دور تک دیکھتا رہا۔ رات گئے تک تلاش جاری رہی مگر مرغا نہ ملا۔ آخر ایک آدمی نے بے دلی سے کہا: “سردار! شاید کوئی بھیڑیا اسے اٹھا لے گیا ہوگا…” سردار نے فوراً سوال کیا: “اگر بھیڑیا لے گیا ہے… تو اس کے پر کہاں ہیں؟” یہ صرف ایک سوال نہیں تھا… ایک اشارہ تھا۔ مگر لوگ اس اشارے…

Read more

ایک دفعہ ایک بادشاہ نے خواب دیکھا۔ اپنے خواب میں اس نے ایک کالے سائے کو دیکھا جو اپنا ہاتھ بادشاہ کے کندھے پر رکھ رہا تھا۔ بادشاہ اس سائے کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا۔ اچانک سایہ بولا، “تمہیں پریشان ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ عام طور پر ہم بغیر بتائے آتے ہیں، لیکن چونکہ تم ایک عظیم بادشاہ تھے، اس لیے میں یہاں صرف تمہیں اطلاع دینے آیا ہوں۔” بادشاہ نے سوال کیا، “لیکن تم کون ہو؟؟” سایہ ہنسا اور جواب دیا، “میں تمہاری موت ہوں اور تیار ہو جاؤ۔ کل جب سورج غروب ہو رہا ہوگا، میں تمہیں لینے آؤں گا۔” اس ڈراؤنے خواب سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد بھی اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ صرف ایک خواب تھا، بادشاہ کانپ رہا تھا۔ اس نے فوراً اپنے تمام عقلمندوں کی مجلس بلائی اور انہیں اپنے خواب کے بارے میں…

Read more

میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے تھے۔ شروع شروع میں ان کا رابطہ صرف چیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے تک محدود تھا۔ پھر یہ زہریلے اور چبھتے ہوئے طنز میں بدل گیا اور آخر کار… ایک خاموشی چھا گئی۔ ایک سرد، بوجھل اور دم گھونٹنے والی خاموشی، جو دلوں میں بھری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوئی تھی۔وہ ہر وقت لڑتے رہتے تھے، اور پھر اچانک انہوں نے لڑنا بھی بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا۔ان کے درمیان کینہ، کڑواہٹ اور چڑچڑاپن ایک نادیدہ دیوار کی طرح بڑھتا گیا۔ آغاز میں تو وہ ایک دوسرے کے منہ پر بے عزتی کر دیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مکمل طور پر ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور گھر میں کم سے کم وقت گزارنے لگے۔ دونوں میں سے کسی کو یاد بھی نہیں…

Read more

ایک دن ایک موٹا اور سست آدمی بازار سے گزر رہا تھا۔ اس کا دل خربوزہ کھانے کو چاہا، لیکن وہ اتنا کنجوس تھا کہ جیب سے ایک روپیہ بھی نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک پھل والے کی دکان پر گیا اور بولا: “بھائی! یہ خربوزہ کتنے کا ہے؟”پھل والے نے کہا: “جناب! یہ بہت میٹھا خربوزہ ہے، صرف بیس روپے کا۔”کنجوس آدمی نے منہ بنا کر کہا: “بیس روپے؟ یہ تو بہت زیادہ ہیں۔ کیا یہ مجھے دس روپے میں مل سکتا ہے؟”پھل والے کو غصہ آ گیا، اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “دس روپے میں تو تمہیں اس سامنے والے درخت پر چڑھی ہوئی بیل سے بھی خربوزہ نہیں ملے گا۔ اگر تمہیں بالکل مفت میں چاہیے، تو وہ جو سامنے بڑی ندی ہے، اس کے پار ایک بہت بڑا کھیت ہے۔ وہاں جاؤ، جتنے مرضی خربوزے مفت میں توڑ کر کھا لو۔”کنجوس آدمی خوش ہو…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گیا ہے اور گاؤں والوں کو اپنی ہوشیاری دکھانی چاہیے۔ صبح سویرے وہ ایک لمبی لاٹھی لے کر گھر سے نکلا۔ راستے میں ایک آدمی نے پوچھا: “شیخ چلی، یہ لاٹھی کیوں اٹھا رکھی ہے؟” شیخ چلی نے بڑے فخر سے کہا: “میں آج جنگل جا رہا ہوں۔ اگر شیر آ گیا تو اسے ڈرا دوں گا!” آدمی ہنس کر بولا: “اگر شیر نہ آیا تو؟” شیخ چلی فوراً بولا: “تو پھر میری لاٹھی بچ جائے گی!” وہ جنگل کی طرف چلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ایک درخت پر شہد کا چھتا نظر آیا۔ اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر میں شہد لے آؤں تو پورا گاؤں میری تعریف کرے گا۔” شیخ چلی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی اس نے چھتے کو ہاتھ لگایا، شہد کی مکھیاں غصے…

Read more

ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے جو حد سے زیادہ سست تھے ۔وہ کوئی کام دھندا نہیں کرتے تھے اور دن بھر بس آرام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے ۔ ایک دن وہ چاروں ایک درخت  کے نیچے لیٹے ہوئے تھے،اور ان کے پاس بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔ اچانک ایک پکا ہوا آم  درخت سے گرااور ان میں سے ایک دوست کے سینے پر آ کر رک گیا ۔ پہلا دوست سستی سے بولا :“یار… کوئی یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو ۔” دوسرا دوست، جو اس سے بھی زیادہ سست تھا ، غصے سے بولا :“تم بھی کتنے خود غرض ہو! دیکھ نہیں رہے ایک کتا  پچھلے دس منٹ سے میرا منہ چاٹ رہا ہے اور میں نے اسے ہٹانے کے لیے ہاتھ تک ن ہیں ہلایا ،اور تمہیں آم کھانے کی پڑی ہے؟!” تیسرا دوست ان دونوں کی…

Read more

In British colonial India, a British officer once slapped an Indian citizen. The Indian citizen responded by slapping the officer with all his might and knocking him to the ground. The officer was shocked by this humiliating blow and left, wondering how an Indian citizen dared to slap an officer of the British army, which is part of an empire on which the sun never sets. He went to his headquarters to report the incident and ask for help in punishing the citizen. But the senior officer calmed him down and took him to his office, opened a treasury full of money and said: “Take ten thousand rupees from the treasury, and go to this Indian citizen and apologize to him, and give him this money as compensation.” The officer went mad and protested: “I have the right to slap and humiliate him, he slapped me when he had no…

Read more

ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئ لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،، لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک پایہ قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکی افتتاح کیجیے ،،شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئ جھوٹے دعویں مشہور کیے ہیں ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،، آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،…

Read more

If you read the history of the pharaohs, you can imagine how much power they had in their time.They were not ordinary kings, but were considered the “gods” of their time. They were regularly worshipped.Their slaves were treated like humans, not even like animals.Their food was also prepared under a special system. Royal cooks and priests prepared it in a specific way. Then the food was tasted, monitored, and delivered to the pharaoh after strict protocol.Most of the time, they did not eat food with their own hands, because they were considered gods. Therefore, from feeding them to cleaning their hands and mouth, all the work was done by slaves (I don’t know what the situation was about the washroom 😜)Not only thatIf there was a fear of flies or insects coming towards them during the meal, according to some traditions, the slaves were made to stand nearby with honey…

Read more

ایک شہر میں موتو بھائی نام کا ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ برسوں کی محنت کے بعد اُس نے دولت کمائی اور آخرکار ایک شاندار، کشادہ اور خوبصورت گھر خرید لیا۔نئے گھر میں آنے کے بعد وہ بہت خوش تھا۔ اُس نے سوچا: “اب سکون سے زندگی گزاروں گا… نہ شور، نہ پریشانی!”ایک دوپہر کھانا کھانے کے بعد وہ آرام کرنے کے لیے اپنے نرم بستر پر لیٹا۔ ابھی اُس کی آنکھ ذرا سی لگی ہی تھی کہ اچانک ایک خوفناک آواز نے اُسے چونکا دیا۔“گڑرررر… گڑرررر…!!!”موتو بھائی گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اُسے لگا جیسے سڑک پر کوئی بھاری انجن چل رہا ہو۔وہ فوراً کھڑکی کی طرف دوڑا، مگر باہر کوئی انجن نہ تھا۔کچھ لمحوں بعد اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا…آواز پڑوس کے گھر سے آ رہی تھی!وہاں ایک گویّا اپنی ریاض کر رہا تھا۔ مگر اُس کی آواز اتنی بے سُری، اتنی اونچی اور اتنی خوفناک تھی…

Read more

ایک مشہور فلسفی دنیا بھر میں اپنی عقل، منطق اور لمبی لمبی تقریروں کے لیے جانا جاتا تھا۔ایک دن سفر کرتے کرتے وہ ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچ گیا۔ گاؤں والوں نے کہا:“اگر واقعی عقل کے سمندر ہو تو پہلے ملا نصرالدین سے مل لو!” فلسفی فوراً ملا کے گھر پہنچا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی، لمبی گفتگو ہوئی، اور پھر فلسفی نے پوچھا:“ملا صاحب! یہاں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں کھانا کھایا جا سکے؟”ملا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا:“ہاں کیوں نہیں! ایک ایسی جگہ ہے جہاں کھانا بھی ملتا ہے اور قسمت بھی آزمائی جاتی ہے!” فلسفی کو بات سمجھ نہ آئی، مگر وہ ملا کو ساتھ لے کر ہوٹل پہنچ گیا۔دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر آگیا۔فلسفی نے بڑے رعب سے پوچھا:“آج کی خاص ڈش کیا ہے؟”ویٹر بولا:“حضور! آج تازہ مچھلی ہے… اتنی تازہ کہ شاید ابھی تک تیرنے کا ارادہ رکھتی ہو!” فلسفی نے کہا:“دو لے…

Read more

ایک شخص ہمیشہ کی طرح بال اور داڑھی بنوانے کے لیے نائی کی دکان پر گیا۔ نائی کام میں مصروف ہوا تو دونوں کے درمیان دلچسپ گفتگو شروع ہو گئی۔ باتوں باتوں میں دنیا کے مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے—زندگی، حالات، لوگ… اور پھر اچانک گفتگو خدا کے وجود تک جا پہنچی۔ نائی نے قینچی چلاتے ہوئے کہا:“دیکھو بھائی، میں خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔” گاہک نے حیرت سے پوچھا:“ایسا کیوں کہتے ہو؟” نائی نے گہری سانس لی اور بولا:“بات بہت سادہ ہے۔ بس باہر سڑک پر نکل جاؤ—تمہیں خود سمجھ آ جائے گی کہ خدا نہیں ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اتنے بیمار لوگ ہوتے؟ کیا معصوم بچے یوں بے سہارا پھرتے؟ اگر خدا ہوتا تو دنیا میں اتنا دکھ، اتنی تکلیف کیوں ہوتی؟ میں ایسے خدا کو نہیں مان سکتا جو یہ سب ہونے دے۔” گاہک خاموش ہو گیا۔ اس نے کچھ لمحے سوچا، مگر…

Read more

یتیم لڑکے کی ایسی بات کہ بادشاہ خاموش رہ گیا ایک نیک دل اور رحم دل بادشاہ تھا۔ اُس کے دل میں غریبوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ایک دن اُس نے ایک یتیم اور نہایت غریب لڑکے کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں محرومی تو تھی، مگر دل میں عجیب سی شرافت اور عاجزی تھی۔ بادشاہ اُس بچے کی معصومیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔وقت گزرتا گیا…لڑکا محل میں رہنے لگا، مگر اُس کی عاجزی اور ادب میں کبھی فرق نہ آیا۔ وہ ہر وقت بادشاہ کے احسانات کو یاد رکھتا اور دل ہی دل میں اُس کے لیے دعائیں کرتا رہتا۔بادشاہ کی ایک عادت تھی…جب بھی اُس کے سامنے کوئی خاص کھانا، قیمتی پھل یا لذیذ نعمت پیش کی جاتی، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو دیتا، پھر خود کھاتا۔محل کے لوگ اکثر حیران ہوتے…

Read more

ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد شاگردوں کا ہجوم رہتا۔ ہر کوئی اس کی حکمت، بصیرت اور دانائی کا معترف تھا۔ مگر انہی شاگردوں میں سے ایک نہایت ذہین مگر قدرے مغرور نوجوان کے دل میں ایک سوال نے جنم لیا: “کیا واقعی ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب ہمارے استاد نہ دے سکیں؟” ایک دن وہ نوجوان شہر سے باہر ایک سرسبز و شاداب میدان میں گیا، جہاں رنگ برنگے پھول ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے۔ اسی دوران اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت تتلی پر پڑی، جس کے پر قوسِ قزح کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے خاموشی سے اسے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں کی اوٹ میں چھپا لیا۔ تتلی اس کی ہتھیلیوں میں پھڑپھڑانے لگی، اس کے ننھے پروں کی لرزش اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔ نوجوان کے…

Read more

120/584
NZ's Corner