ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گیا ہے اور گاؤں والوں کو اپنی ہوشیاری دکھانی چاہیے۔
صبح سویرے وہ ایک لمبی لاٹھی لے کر گھر سے نکلا۔ راستے میں ایک آدمی نے پوچھا:
“شیخ چلی، یہ لاٹھی کیوں اٹھا رکھی ہے؟”
شیخ چلی نے بڑے فخر سے کہا: “میں آج جنگل جا رہا ہوں۔ اگر شیر آ گیا تو اسے ڈرا دوں گا!”
آدمی ہنس کر بولا: “اگر شیر نہ آیا تو؟”
شیخ چلی فوراً بولا: “تو پھر میری لاٹھی بچ جائے گی!”
وہ جنگل کی طرف چلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ایک درخت پر شہد کا چھتا نظر آیا۔ اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا:
“اگر میں شہد لے آؤں تو پورا گاؤں میری تعریف کرے گا۔”
شیخ چلی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی اس نے چھتے کو ہاتھ لگایا، شہد کی مکھیاں غصے میں باہر نکل آئیں۔
“بھوں بھوں بھوں!”
مکھیاں شیخ چلی کے پیچھے پڑ گئیں۔ وہ گھبرا کر درخت سے کودا اور بھاگنے لگا۔ بھاگتے بھاگتے ایک تالاب میں جا گرا۔
پورا جسم گیلا، کپڑے خراب، اور چہرہ سوجا ہوا تھا۔
گاؤں واپس پہنچا تو لوگ ہنسنے لگے۔ کسی نے پوچھا: “شیخ چلی! شہد کہاں ہے؟”
شیخ چلی نے ناک پکڑتے ہوئے کہا: “شہد تو نہیں ملا، لیکن مکھیاں ضرور بہت مہمان نواز تھیں!”
سب لوگ زور زور سے ہنسنے لگے۔
سبق:
بغیر سوچے سمجھے کسی کام میں ہاتھ ڈالنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔
