ایک دن ایک موٹا اور سست آدمی بازار سے گزر رہا تھا۔ اس کا دل خربوزہ کھانے کو چاہا، لیکن وہ اتنا کنجوس تھا کہ جیب سے ایک روپیہ بھی نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک پھل والے کی دکان پر گیا اور بولا: “بھائی! یہ خربوزہ کتنے کا ہے؟”
پھل والے نے کہا: “جناب! یہ بہت میٹھا خربوزہ ہے، صرف بیس روپے کا۔”
کنجوس آدمی نے منہ بنا کر کہا: “بیس روپے؟ یہ تو بہت زیادہ ہیں۔ کیا یہ مجھے دس روپے میں مل سکتا ہے؟”
پھل والے کو غصہ آ گیا، اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “دس روپے میں تو تمہیں اس سامنے والے درخت پر چڑھی ہوئی بیل سے بھی خربوزہ نہیں ملے گا۔ اگر تمہیں بالکل مفت میں چاہیے، تو وہ جو سامنے بڑی ندی ہے، اس کے پار ایک بہت بڑا کھیت ہے۔ وہاں جاؤ، جتنے مرضی خربوزے مفت میں توڑ کر کھا لو۔”
کنجوس آدمی خوش ہو گیا اور بولا: “مفت؟ یہ تو بہت اچھی بات ہے!” وہ فوراً ندی کی طرف چل پڑا۔
ندی گہری تھی اور اس پر کوئی پل نہیں تھا۔ مفت کے خربوزے کے چکر میں کنجوس آدمی نے اپنے کپڑے اتارے، انہیں سر پر باندھا اور ندی میں تیرنا شروع کر دیا۔ وہ موٹا تھا، اس لیے آدھی ندی پار کرتے ہی اس کا سانس پھول گیا اور وہ پانی میں ڈوبنے لگا۔
وہ زور زور سے چلایا: “بچاؤ! بچاؤ! میں ڈوب رہا ہوں!”
ندی کے کنارے ایک ملوک (کشتی والا) کھڑا تھا۔ اس نے چلایا: “میں تمہیں بچانے کے لیے ندی میں کود تو جاؤں گا، لیکن میں جان بچانے کے پچاس روپے لوں گا!”
ڈوبتے ہوئے کنجوس آدمی نے پانی کا ایک بڑا گھونٹ بھرا، اپنی جیب کا حساب لگایا اور ندی کے بیچ سے ہی زور سے چیخ کر بولا: “پچاس روپے؟ ارے بھائی رہنے دو! بازار میں تو خربوزہ صرف بیس روپے کا مل رہا تھا، میں بیس روپے بچانے کے لیے پچاس روپے کیوں برباد کروں؟ اس سے تو اچھا ہے میں یہیں ڈوب جاؤں!”
کشتیاں چلانے والا اس کی یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گیا کہ انسان مر رہا ہے لیکن پھر بھی حساب کتاب کر رہا ہے۔ خیر، اس نے رحم کھا کر اسے مفت میں باہر نکال لیا۔
نتیجہ (Moral):
کنجوسی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ بعض اوقات انسان تھوڑے سے پیسے بچانے کے چکر میں اپنا بہت بڑا نقصان کر بیٹھتا ہے۔
