Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا اور پرانا درخت تھا۔لوگ گرمی میں اس کے سائے میں بیٹھتے، مسافر آرام کرتے اور بچے اس کے نیچے کھیلتے تھے۔ 😊 وقت گزرتا گیا، درخت بوڑھا ہو گیا۔اس کی شاخیں سوکھنے لگیں اور پھل بھی کم آنے لگے۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگ کہنے لگے:“اب یہ درخت کسی کام کا نہیں، اسے کاٹ دیتے ہیں!” 😒 یہ سن کر ایک بوڑھا شخص آگے آیا اور بولا:“جب یہ جوان تھا تو تم سب کو سایہ دیتا تھا، پھل دیتا تھا، کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔آج جب یہ بوڑھا ہو گیا ہے تو تم اسے بوجھ سمجھ رہے ہو؟” 💔 لوگ خاموش ہو گئے۔ بوڑھے شخص نے پھر کہا:“یاد رکھو!جو لوگ اپنے بڑوں اور بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے، وقت ایک دن انہیں بھی اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔” ⏳ یہ بات سب کے دل میں اتر گئی۔لوگوں نے درخت کو…

Read more

ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس…

Read more

ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگااتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟چور مسکرایا اور بولاارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتاباغبان نے چور سے کہاجناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں ۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ھے جو کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ: “جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!” یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں” دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔ گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے” اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا: “بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!” چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟” بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا: “بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…” بادشاہ حیران…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نہایت طاقتور بادشاہ اپنے جاہ و جلال، خزانے اور شان و شوکت پر ناز کیا کرتا تھا۔ اس کے محل کی دیواریں سونے سے مزین تھیں، دربار ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے، اور اس کے ایک اشارے پر ہزاروں خادم حاضر ہو جاتے تھے۔ مگر اس بے پناہ دولت اور طاقت کے باوجود اس کے دل میں ایک انجانی بے چینی بسی رہتی تھی۔ ایک صبح وہ اپنے شاہی لشکر کے ساتھ محل سے باہر نکلا۔ راستے میں ایک بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس فقیر درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو بڑے بڑے تاجداروں کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ بادشاہ اس کے قریب رکا اور غرور بھرے لہجے میں بولا: “اے فقیر! مانگ، کیا چاہتا ہے؟” فقیر نے آہستہ سے سر اٹھایا، مسکرایا، اور بولا: “کیا واقعی تم میری…

Read more

دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔ دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔ اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔ ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟ ملکہ نے کہا! سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے…. !! بادشاہ کو بیوی سے بڑی # محبت تھی۔ بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔ بادشاہ باہر دربار میں آیا توبادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو  خوش دیکھا تو۔۔۔ واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بادشاہ مزید خوش ہونے۔ بادشاہ نے کہا سبکو…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت رحم دل اور عقلمند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی؛وہ ہر سال اپنے وزیروں اور مشیروں کا امتحان لیتا تھا تاکہ یہ جان سکے کہ کون سب سے زیادہ دانا ہے۔ایک دن بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بڑا اور خوبصورت پیاسہ کوا (کرافٹڈ) لٹکایا اور اپنے تین سب سے خاص وزیروں کو بلایا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا:”مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟”بادشاہ نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔پہلے وزیر کا جواب: تین دن بعد پہلا وزیر آیا اور بولا، “عالی جاہ! دنیا کا سب سے بڑا سچ ‘موت’ ہے جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا، اور سب سے بڑا جھوٹ ‘دنیا کی زندگی’ ہے جو ایک…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔” رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔ بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟” بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب…

Read more

ساجدہ اپنے نیک دل شوہر محمود سے بہت محبت کرتی تھی۔ اگرچہ غریب تھا، محمود بڑا مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کو دوپہر کے کھانے پر گھر لے آتا۔ اکثر، مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد میاں بیوی خود بھوکے رہ جاتے۔ ساجدہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ مہمانوں کو کھلانا مشکل ہے جب وہ خود دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ لیکن محمود نے نہ سنی اور بولا: “مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مہمان کو کھانا کھلانے سے برکت ہوتی ہے۔” ساجدہ سمجھ گئی کہ شوہر کو سمجھانا ناممکن ہے۔ اسے مہمانوں کو دوپہر کے کھانے پر آنے سے روکنے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ ایک صبح، محمود نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس نے تین مہمانوں کو بلایا ہے، ان کے لیے کھانا پکاؤ۔ “دوپہر تک وہ آ جائیں گے،” اس نے کہا۔ ساجدہ بتانا چاہتی تھی…

Read more

ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”  نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک طوطا تھا جو پنجرے میں رہتا تھا۔ ایک بار شہر میں ایک درویش آئے جو تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ آدمی روزانہ درویش کی محفل میں جاتا تھا۔ ایک دن اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “آپ روزانہ کہاں جاتے ہیں؟؟” اس نے جواب دیا، “میں درویش کی محفل میں اچھی باتیں سیکھنے جاتا ہوں۔” طوطے نے کہا، “کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے؟ مہربانی کر کے اس درویش سے پوچھیں — مجھے آزادی کب ملے گی؟” اگلے دن وہ آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ تعلیم ختم ہونے کے بعد وہ درویش کے پاس گیا اور کہا، “مہاراج، میرے گھر میں ایک طوطا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے آزادی کب ملے گی؟” یہ سنتے ہی درویش بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب آدمی نے یہ دیکھا تو وہ ڈر گیا اور چپ…

Read more

ایک عرب قبیلے کے سردار کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہو گیا ہے تو وہ عجیب بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی سے مرغے کے لیے آخر اتنی پریشانی کیوں؟ مگر سردار کی آنکھوں میں صرف ایک پرندے کا غم نہیں تھا… وہ اس خاموش خطرے کو دیکھ رہا تھا جو ابھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ پورا علاقہ چھان مارو۔ خود ٹیلوں پر چڑھ چڑھ کر دور تک دیکھتا رہا۔ رات گئے تک تلاش جاری رہی مگر مرغا نہ ملا۔ آخر ایک آدمی نے بے دلی سے کہا: “سردار! شاید کوئی بھیڑیا اسے اٹھا لے گیا ہوگا…” سردار نے فوراً سوال کیا: “اگر بھیڑیا لے گیا ہے… تو اس کے پر کہاں ہیں؟” یہ صرف ایک سوال نہیں تھا… ایک اشارہ تھا۔ مگر لوگ اس اشارے…

Read more

ایک دفعہ ایک بادشاہ نے خواب دیکھا۔ اپنے خواب میں اس نے ایک کالے سائے کو دیکھا جو اپنا ہاتھ بادشاہ کے کندھے پر رکھ رہا تھا۔ بادشاہ اس سائے کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا۔ اچانک سایہ بولا، “تمہیں پریشان ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ عام طور پر ہم بغیر بتائے آتے ہیں، لیکن چونکہ تم ایک عظیم بادشاہ تھے، اس لیے میں یہاں صرف تمہیں اطلاع دینے آیا ہوں۔” بادشاہ نے سوال کیا، “لیکن تم کون ہو؟؟” سایہ ہنسا اور جواب دیا، “میں تمہاری موت ہوں اور تیار ہو جاؤ۔ کل جب سورج غروب ہو رہا ہوگا، میں تمہیں لینے آؤں گا۔” اس ڈراؤنے خواب سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد بھی اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ صرف ایک خواب تھا، بادشاہ کانپ رہا تھا۔ اس نے فوراً اپنے تمام عقلمندوں کی مجلس بلائی اور انہیں اپنے خواب کے بارے میں…

Read more

میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے تھے۔ شروع شروع میں ان کا رابطہ صرف چیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے تک محدود تھا۔ پھر یہ زہریلے اور چبھتے ہوئے طنز میں بدل گیا اور آخر کار… ایک خاموشی چھا گئی۔ ایک سرد، بوجھل اور دم گھونٹنے والی خاموشی، جو دلوں میں بھری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوئی تھی۔وہ ہر وقت لڑتے رہتے تھے، اور پھر اچانک انہوں نے لڑنا بھی بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا۔ان کے درمیان کینہ، کڑواہٹ اور چڑچڑاپن ایک نادیدہ دیوار کی طرح بڑھتا گیا۔ آغاز میں تو وہ ایک دوسرے کے منہ پر بے عزتی کر دیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مکمل طور پر ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور گھر میں کم سے کم وقت گزارنے لگے۔ دونوں میں سے کسی کو یاد بھی نہیں…

Read more

ایک دن ایک موٹا اور سست آدمی بازار سے گزر رہا تھا۔ اس کا دل خربوزہ کھانے کو چاہا، لیکن وہ اتنا کنجوس تھا کہ جیب سے ایک روپیہ بھی نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک پھل والے کی دکان پر گیا اور بولا: “بھائی! یہ خربوزہ کتنے کا ہے؟”پھل والے نے کہا: “جناب! یہ بہت میٹھا خربوزہ ہے، صرف بیس روپے کا۔”کنجوس آدمی نے منہ بنا کر کہا: “بیس روپے؟ یہ تو بہت زیادہ ہیں۔ کیا یہ مجھے دس روپے میں مل سکتا ہے؟”پھل والے کو غصہ آ گیا، اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “دس روپے میں تو تمہیں اس سامنے والے درخت پر چڑھی ہوئی بیل سے بھی خربوزہ نہیں ملے گا۔ اگر تمہیں بالکل مفت میں چاہیے، تو وہ جو سامنے بڑی ندی ہے، اس کے پار ایک بہت بڑا کھیت ہے۔ وہاں جاؤ، جتنے مرضی خربوزے مفت میں توڑ کر کھا لو۔”کنجوس آدمی خوش ہو…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گیا ہے اور گاؤں والوں کو اپنی ہوشیاری دکھانی چاہیے۔ صبح سویرے وہ ایک لمبی لاٹھی لے کر گھر سے نکلا۔ راستے میں ایک آدمی نے پوچھا: “شیخ چلی، یہ لاٹھی کیوں اٹھا رکھی ہے؟” شیخ چلی نے بڑے فخر سے کہا: “میں آج جنگل جا رہا ہوں۔ اگر شیر آ گیا تو اسے ڈرا دوں گا!” آدمی ہنس کر بولا: “اگر شیر نہ آیا تو؟” شیخ چلی فوراً بولا: “تو پھر میری لاٹھی بچ جائے گی!” وہ جنگل کی طرف چلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ایک درخت پر شہد کا چھتا نظر آیا۔ اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر میں شہد لے آؤں تو پورا گاؤں میری تعریف کرے گا۔” شیخ چلی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی اس نے چھتے کو ہاتھ لگایا، شہد کی مکھیاں غصے…

Read more

ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے جو حد سے زیادہ سست تھے ۔وہ کوئی کام دھندا نہیں کرتے تھے اور دن بھر بس آرام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے ۔ ایک دن وہ چاروں ایک درخت  کے نیچے لیٹے ہوئے تھے،اور ان کے پاس بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔ اچانک ایک پکا ہوا آم  درخت سے گرااور ان میں سے ایک دوست کے سینے پر آ کر رک گیا ۔ پہلا دوست سستی سے بولا :“یار… کوئی یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو ۔” دوسرا دوست، جو اس سے بھی زیادہ سست تھا ، غصے سے بولا :“تم بھی کتنے خود غرض ہو! دیکھ نہیں رہے ایک کتا  پچھلے دس منٹ سے میرا منہ چاٹ رہا ہے اور میں نے اسے ہٹانے کے لیے ہاتھ تک ن ہیں ہلایا ،اور تمہیں آم کھانے کی پڑی ہے؟!” تیسرا دوست ان دونوں کی…

Read more

140/612
NZ's Corner