Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

کوریا کے ایک گاؤں میں یون اوک نامی ایک نوجان عورت رہتی تھی۔ اس کا شوہر جنگ سے واپس آیا تو وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، وہ چپ رہتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ یون اوک نے بہت کوشش کی، لیکن اس کا شوہر اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ ایک دن وہ ایک بوڑھے بابا کے پاس گئی۔ بابا نے کہا: “جنگل میں ایک شیر رہتا ہے۔ اگر تم اس شیر کی مونچھ لا سکو تو تمہارا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہو جائے گا۔” یون اوک شیر کی مونچھ لینے کے لیے نکلی۔ وہ ہر روز شیر کی غار کے پاس جاتی، اس کے لیے کھانا رکھتی، اور دور بیٹھ کر اسے دیکھتی۔ پہلے دن شیر بھونکا، دوسرے دن غرایا، تیسرے دن اس نے کھانا کھایا — پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آنے لگا۔ چھ مہینوں کی…

Read more

حضرت ذوالنون مصریؒ ایک دن دریا کے کنارے خاموشی سے بیٹھے مراقبے میں مشغول تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک کچھوا نمودار ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوا اور کچھوا اسے دریا کے دوسرے کنارے لے گیا۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر حضرت ذوالنون مصریؒ حیران رہ گئے کہ آخر ایک زہریلے جانور کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا انتظام فرمایا ہے؟ آپ بھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درخت کے سائے تلے گہری نیند میں سو رہا ہے، اور ایک کالا سانپ اس کے قریب پہنچ چکا ہے، جیسے ہی وہ اسے ڈسنے والا تھا— اسی لمحے وہی بچھو وہاں پہنچا اور اس نے سانپ کو ڈنک مار دیا۔ سانپ تڑپ کر مر گیا اور بچھو خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ جب نوجوان کی آنکھ کھلی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی — خوبصورت بھی اور ذہین بھی۔ جب وہ بچی تھی تو ایک پری نے اسے عقل اور خوبصورتی کا تحفہ دیا تھا۔ ایک دن کسان کو جنگل میں سونے کا ایک طشت (مٹکا) ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ لیکن بیٹی نے کہا: “باپ! ایسا مت کرو۔ بادشاہ یہ سوچے گا کہ اس طشت کے ساتھ اس کا موصل (چمچہ) بھی ہونا چاہیے۔ جب وہ نہیں ملے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔” کسان نے اپنی بیٹی کی بات نہیں مانی اور طشت بادشاہ کو دے دیا۔ جیسا کہ لڑکی نے کہا تھا، بادشاہ نے پوچھا: “اس کا موصل کہاں ہے؟” کسان نے کہا کہ نہیں ملا۔ بادشاہ ناراض ہو گیا، لیکن جب اس نے سنا کہ…

Read more

چھوٹے کو کبھی حقیر نہ سمجھوایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عقاب ایک خرگوش کا پیچھا کر رہا تھا۔ خرگوش نے خوفزدہ ہو کر اپنے پاس موجود واحد جاندار سے مدد مانگی جو ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا تھا: یعنی ایک چھوٹا سا گوبر کا بھنورا، جو اس کا گہرا دوست تھا۔خرگوش نے مدد کی بھیک مانگی۔ بھنورا اگرچہ چھوٹا اور بے بس تھا، پھر بھی وہ آگے بڑھا اور عقاب سے کہا: “براہِ کرم، میرے دوست کو چھوڑ دو۔”عقاب ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ اس کی نظر میں اتنے چھوٹے جاندار کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس نے بھنورے کو ایک طرف جھٹک دیا اور خرگوش کو اٹھا کر لے گیا۔وہ فخر اور اس یقین کے ساتھ اڑ گیا کہ اتنی چھوٹی چیز کبھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔اس دن کے بعد سے، بھنورا…

Read more

بین اور جیری نامی یہ دو سروں والا سانپ دنیا کی نایاب ترین مخلوقات میں سے ایک ہے، اور یہ دونوں (سر) ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے۔بقا کی معجزاتی کہانییہ کیلیفورنیا کنگ سنیک (California Kingsnakes) ہیں جو ‘بائیسیفیلی’ (Bicephaly) نامی حالت کے ساتھ پیدا ہوئے، یعنی ایک جسم اور دو سر۔ یہ صورتحال 10,000 میں سے کسی ایک سانپ کے ساتھ پیش آتی ہے۔ لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسے 99.9 فیصد سانپ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ وہ عام طور پر اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں دماغ کھانے کے معاملے میں ہم آہنگ نہیں ہو پاتے، وہ گھٹ کر مر جاتے ہیں، یا ایک سر دوسرے پر حملہ کر دیتا ہے۔بین اور جیری اس وقت ساڑھے چار سال کے ہیں، جو کہ ایک طبی معجزہ ہے۔ایک پیٹ، دو مختلف شخصیاتان کا معدہ اور نظامِ ہاضمہ ایک ہی ہے، لیکن دو…

Read more

توبہ کی طاقت — ایک ایمان افروز واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مرتبہ شدید قحط پڑ گیا۔ زمین خشک ہو گئی، لوگ پریشان اور بے حال ہو گئے۔ آخرکار سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارانِ رحمت نازل فرمائے۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر ہزار بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف نکلے اور نہایت عاجزی سے دعا فرمائی: “اے میرے رب! معصوم بچوں، نیک بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کے صدقے ہم پر رحم فرما اور بارش نازل فرما۔” ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے، مگر اس بار کچھ عجیب ہوا… دعا کے بعد آسمان اور زیادہ صاف ہو گیا اور سورج کی تپش پہلے سے بڑھ گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حیرت ہوئی۔ آپ نے دوبارہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے…

Read more

قدیم ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک برہمن رہتا تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا، بہت ایماندار تھا۔ اسے لوگوں پر بہت بھروسہ تھا — اتنا کہ کبھی کبھی وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھ بیٹھتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک بڑی تقریب میں حصہ لیا۔ تقریب کے بعد لوگوں نے اسے ایک بکری تحفے میں دی۔ برہمن بہت خوش ہوا۔ اس نے بکری کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔ وہ جنگل کے راستے سے جا رہا تھا۔ اتنے میں تین بدمعاشوں نے اسے دیکھا۔ انہوں نے سوچا: “یہ بکری ہمیں کھانی ہے۔ لیکن یہ برہمن مضبوط ہے — چھین کر نہیں لے سکتے۔ کوئی چال چلنی پڑے گی۔” پہلا بدمعاش برہمن کے پاس آیا اور بولا: “بابا! آپ اپنے کندھے پر کتا کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کتے کا گوشت کھانا تو آپ کے لیے مناسب نہیں۔” برہمن کو غصہ آ…

Read more

بچپن میں اک لطیفہ سنا تھا۔اک شخص کسی جرم میں جنگلی قبیلے میں پھنس گیا۔قبیلے کے سردار نے اس شخص کو دو انتخاب دیئے۔1۔ شانگالولو2۔ سزائے موتشانگالولو کیا ہے؟ اس شخص نے پوچھا۔ شانگالولویہ ہے کہ آپ کو ننگا کیا جائے گا اور قبیلے کا ہر شخص آپ کو 100 چھتر مارے گا !اس کو یہ بےعزتی لگی اور اس نے کہا مجھے سزائے موت دے دو !سرداد نے حکم دیا ۔ اس کو موت بذریعہ شانگالولو دی جائے۔ 😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی لگے تو اسے لائیک اور شیئر ضرور کریں۔اگر آپ کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں تو میری پروفائل فالو کرلیں۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت مالدار شحض کو بڑی سخت بیماری نے پکڑ لیا  بہت علاج کیا حکیموں کے پاس گیا لیکن کوئی آفاقہ نہیں ہوا سب نے کہہ دیا کہ آپکا مرض لا علاج ہے آپکا کوئی علاج نہیں اپنے اوپر دم کرتے رہنا ہمارے پاس اپکا کوئی علاج نہیں وہ بڑا پریشان ہوا چھوٹے چھوٹے بچے تھے سارا دن بیٹھ کر بچوں کو دیکھتا رہتا کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا انکی کفالت کون کرے گا ایک دن بیوی نے کہا کہ یہاں ایک پیغمبر ہے جنکی ہر بات سچی ہوتی ہے انکے پاس جاو وہ جو بولے گا اس میں پھر کوئی گنجائش نہیں جاو شاید وہ کوئی راستہ نکالے وہ گھر سے نکلا اور موسی علیہ السلام کے پاس گیا کہنے لگا اے اللہ کے نبی میں لاعلاج مرض میں مبتلا ہو نا امید ہو گیا ہو آپ اللہ سے دعا…

Read more

یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے عہد اور اتحاد: عقاب اور شیر کا قصہ🔥 ہر اتحاد ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بنتا۔سیرینگیٹی (Serengeti) کی بلند ترین چوٹی پر، جہاں ہوائیں چٹانوں سے ٹکراتی تھیں اور حدِ نگاہ تک ایک وسیع سلطنت پھیلی ہوئی تھی، ایک نایاب ملاقات ہوئی۔ایک طرف سنہرا عقاب کھڑا تھا— آسمانوں کا حکمران، تیز نگاہ، فخر سے بھرا اور دور اندیش۔دوسری طرف ببر شیر تھا— میدانوں کا بادشاہ، زمین سے جڑا ہوا، طاقتور اور غیر متزلزل۔ 🦅بلندی سے ایک پیشکشعقاب شیر سے چند قدم دور ایک چٹان پر اترا، شام کی روشنی میں اس کے پر چمک رہے تھے۔ اس نے پورے اعتماد سے کہا:“اے شیر! میں ایک ایسی پیشکش لایا ہوں جو اس پوری سرزمین کو بدل سکتی ہے۔ میں افق سے بھی آگے دیکھ سکتا ہوں، جبکہ تمہارے پاس بے مثال طاقت ہے۔ اگر ہم اتحاد کر لیں، تو تم قوت بنو…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے محل میں ایک عجیب و غریب کمرہ بنایا۔ اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی چاروں دیواریں، ستون اور چھت ہزاروں چھوٹے بڑے آئینوں سے سجے ہوئے تھے۔ جہاں بھی نظر پڑتی، انسان کو اپنا ہی عکس دکھائی دیتا۔ ایک دن ایک کتا اتفاقاً اس کمرے میں داخل ہوا۔ جیسے ہی اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، اسے ہر طرف سینکڑوں کتے دکھائی دیے۔ کتا خوفزدہ اور غصے میں آ گیا۔ ہر آئینے میں اسے دوسرے کتوں کے غصے سے بھونکتے ہوئے چہرے نظر آئے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی، خوف بڑھا، اور وہ سمجھ بیٹھا کہ ہر طرف دشمن ہی دشمن ہیں۔ آخرکار مسلسل بھونکتے اور ڈرتے ڈرتے وہ گر پڑا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کچھ دیر بعد ایک معصوم بچہ اسی کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بھی ہر طرف سینکڑوں بچے دیکھ رہا تھا، مگر اس کے دل میں…

Read more

خاتون نے اپنا بیمار گدھا ؛ مکمل طور پر صحتمند بتا کر دس ہزار روپے میں بیچ دیا ۔ ۔ ایک دن بعد گدھا مر گیا۔ خریدار نے خاتون سے شکایت کی آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ گدھا مکمل صحتمند ہے بس ذرا موسم کی وجہ سے سست ہو رہا ہے خاتون نے کہا کہ ذندگی کی گارنٹی تو میں نے نہیں دی تھی۔ پھر بھی آپ مرا ہوا گدھا مجھے واپس پہنچادو؛ کسان نے پوچھا کہ مرے ہوئے گدھے کا آپ کیا کرو گی؟ خاتون نے کہا کہ میں ایک مہینے بعد اس مرے ہوئے گدھے کی آدھی قیمت آپکو واپس دے دوُں گی۔ کسان نے کہا منظور ہے ؛ میں مرا ہوا گدھا آپ تک پہنچا دیتا ہوں پھر ایک مہینے بعد آکر پانچ ہزار روپے لے لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک مہینے بعد کسان واپس گیا تو دیکھا کہ خاتون کے پاس وہی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دعویٰ کیا کہ وہ گھپ اندھیرے کمرے میں، آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر کالی سوئی میں کالا دھاگہ مسلسل پانچ سو بار بھی پروئے تو اس کا نشانہ نہیں چوکے گا۔ بادشاہ کو یہ بات ناممکن لگی، لیکن اس شخص نے گزارش کی کہ اسے آزما کر دیکھ لیا جائے۔ چنانچہ اس شخص نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیکڑوں بار کالی سوئی میں کالا دھاگہ پرو کر دکھا دیا۔ بادشاہ اس کی یہ مہارت دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اگلے دن بادشاہ نے اسے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ اس شخص کو دس ہزار اشرفیاں انعام میں دی جائیں۔ وہ شخص انعام لے کر خوشی خوشی واپس جانے ہی لگا تھا کہ بادشاہ نے اسے روکا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے زمین پر لٹا کر دس کوڑے مارے…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔” آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔…

Read more

140/455
NZ's Corner