ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔
جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی جھٹکے میں اس بکری کی گردن مروڑ کر اسے توڑ دیا اور اسے ہضم کر گیا۔
اس کہانی کا نفسیاتی تجزیہ
یہ کہانی انسانی نفسیات کے ایک بہت ہی کڑوے اور گہرے سچ کو سامنے لاتی ہے۔ جسے ہم عام طور پر احسان یا ہمدردی سمجھ رہے ہوتے ہیں، حقیقت میں کچھ لوگ اسے احسان نہیں بلکہ صرف ایک موقع سمجھتے ہیں، جس سے فائدہ اٹھا کر وہ طاقت پکڑتے ہیں۔
اس رویے کو ہم چند اہم نفسیاتی نکات سے سمجھ سکتے ہیں:
فطرت تبدیل نہیں ہوتی (Nature vs. Nurture):آپ کسی پر جتنا بھی احسان کر لیں، اس کو پال پوس کر بڑا کر دیں، لیکن جو اس کی اصل فطرت ہے، وہ بدل نہیں سکتی۔ بھیڑیے کی رگوں میں شکار کرنے کا خون تھا۔ بکری نے اسے ممتا اور دودھ تو دیا، لیکن وہ اس کی درندگی کی جبلت کو ختم نہیں کر سکی۔ انسانوں میں بھی جو لوگ اندر سے حاسد، خود غرض یا زہریلی فطرت کے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ آپ چاہے جتنا بھلا کر لیں، طاقت پکڑتے ہی ان کی اصلیت باہر آ جاتی ہے۔
احسان کو کمزوری سمجھنا: کمزور اور چھوٹی سوچ کے لوگ احسان کو دلی شکر گزاری کے ساتھ قبول نہیں کرتے۔ جب وہ مجبور ہوتے ہیں، تو آپ کی مدد کو ایک موقع سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ان کے پاس طاقت یا اختیار آتا ہے، انہیں اپنی پرانی محتاجی یاد آنے لگتی ہے۔ اس احساسِ کمتری کو مٹانے کے لیے وہ سب سے پہلے اسی محسن پر وار کرتے ہیں جس نے انہیں کھڑا کیا تھا، تاکہ ان کی پرانی مجبوری کا گواہ ہی ختم ہو جائے۔
طفیلی رویہ (Parasitic Relationship): نفسیات میں ایسے لوگوں کو جو دوسروں کا فائدہ اٹھا کر انہیں کھوکھلا کر دیتے ہیں، “طفیلی” (Parasites) کہا جاتا ہے۔ جیسے اس بچے نے دودھ پی پی کر بکری کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا، ویسے ہی کچھ لوگ آپ کے وسائل اور ہمدردی کا تب تک فائدہ اٹھاتے ہیں جب تک آپ بالکل خالی نہیں ہو جاتے۔ جب آپ کے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچتا، تو وہ آپ کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔
حدود (Boundaries) کا نہ ہونا: اس کہانی سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ حد سے زیادہ ہمدردی اور اندھی قربانیاں اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی غلط انسان پر بغیر سوچے سمجھے ترس کھائے گا اور اپنی حدود کا تعین نہیں کرے گا، تو وہ خود کو تباہی کے کنویں میں دھکیل دے گا۔ احسان ہمیشہ ان پر کرنا چاہیے جو اس کی قدر کرنا جانتے ہوں، نہ کہ ان پر جو صرف موقع پرست ہوں۔
سبق : ایسے لوگوں کے لیے آپ کا احسان صرف ایک سیڑھی ہوتی ہے اوپر آنے کی، اور جیسے ہی وہ اوپر پہنچتے ہیں، سب سے پہلے اسی سیڑھی کو لات مارتے ہیں۔
