بلاعنوان

بلاعنوان

ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ:

“جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!”

یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔

کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا:

“چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں”

دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔

گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:

“تمہاری عمر کتنی ہے؟”

تاجر نے سکون سے جواب دیا:

“20 سال”

پھر پوچھا گیا:

“تمہارے پاس کتنی دولت ہے؟”

وہ بولا:

“70 ہزار دینار”

پھر سوال ہوا:

“تمہارے کتنے بچے ہیں؟”

تاجر نے جواب دیا:

“صرف ایک”

بادشاہ اور وزیر خاموشی سے واپس محل آ گئے۔

اگلے دن سرکاری دفتر میں تاجر کا مکمل ریکارڈ منگوایا گیا۔ جب کاغذات دیکھے گئے تو حقیقت مختلف نکلی۔ تاجر کی عمر 35 سال تھی، اس کی دولت 70 ہزار سے کہیں زیادہ تھی، اور اس کے پانچ بچے تھے۔

بادشاہ فوراً غصے میں آ گیا اور حکم دیا:

“اس تاجر کو فوراً دربار میں پیش کیا جائے!”

تاجر دربار میں حاضر ہوا۔

بادشاہ نے دوبارہ وہی تین سوال پوچھے۔

اور حیرت کی بات یہ کہ تاجر نے پھر وہی جواب دیا:

“میری عمر 20 سال ہے
میری دولت 70 ہزار دینار ہے
اور میرا صرف ایک بیٹا ہے”

یہ سن کر بادشاہ نے وزیر سے کہا:

“اس شخص پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کیا جائے، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں!”

پورا دربار خاموش تھا۔

مگر تاجر کے چہرے پر خوف کے بجائے سکون تھا۔

اس نے ادب سے عرض کیا:

“بادشاہ سلامت! میں نے اپنی زندگی کے صرف وہی 20 سال شمار کیے ہیں جو نیکی، ایمان داری اور بھلائی میں گزرے۔ باقی سال تو غفلت میں گزر گئے، اُنہیں میں اپنی اصل زندگی نہیں سمجھتا…”

پھر اُس نے کہا:

“میری دولت میں سے 70 ہزار دینار اللہ کی راہ میں مسجد کی تعمیر پر خرچ ہوئے۔ وہی دولت میرے کام آنے والی ہے، اسی لیے میں اُسے اپنی اصل دولت سمجھتا ہوں…”

اور پھر اُس کی آواز ذرا بھر آئی:

“میرے پانچ بچوں میں سے چار بد اخلاق اور نافرمان ہیں۔ صرف ایک بچہ نیک، فرمانبردار اور باکردار ہے… اسی لیے میں اُسے ہی اپنا حقیقی بیٹا سمجھتا ہوں”

یہ سن کر پورا دربار خاموش ہو گیا۔

بادشاہ کچھ لمحے سر جھکائے بیٹھا رہا، پھر آہستہ سے بولا:

“واقعی
اصل عمر وہی ہے جو نیکی میں گزرے…
اصل دولت وہی ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ ہو
اور اصل اولاد وہی ہے جو نیک کردار ہو”

پھر اُس نے تاجر کا جرمانہ معاف کر دیا اور عزت کے ساتھ رخصت کیا۔

اخلاقی سبق:

زندگی کی حقیقت صرف سال گننے میں نہیں، بلکہ اُن لمحوں میں ہے جو نیکی اور بھلائی میں گزریں۔ دولت وہی ہے جو انسان کے بعد بھی باقی رہے، اور اولاد وہی کامیاب ہے جو اپنے کردار سے والدین کا سر فخر سے بلند کرے۔

Leave a Reply

NZ's Corner