ایک سرسبز گاؤں میں ایک بزرگ کسان اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ کسان ساری زندگی محنت کرتا رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے بھی محبت اور اتفاق سے زندگی گزاریں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ تینوں بھائی ہر وقت آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ کبھی کھیت کے کام پر جھگڑا، کبھی پیسوں پر بحث، اور کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضی۔ پورا گاؤں ان کے جھگڑوں سے پریشان تھا۔
بوڑھا باپ اکثر انہیں سمجھاتا: “بیٹو! بھائی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں، دشمن نہیں۔” لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔
وقت گزرتا گیا، اور ایک دن بوڑھا کسان شدید بیمار پڑ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید اب اس کی زندگی زیادہ باقی نہیں۔ اس نے فوراً اپنے تینوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔
جب تینوں کمرے میں آئے تو باپ نے کمزور آواز میں کہا: “میں تمہیں زندگی کا سب سے بڑا راز بتانا چاہتا ہوں۔”
پھر اس نے چارپائی کے نیچے سے مضبوطی سے بندھا ہوا لکڑیوں کا ایک گٹھا نکالا اور بڑے بیٹے کو دیتے ہوئے کہا: “اسے توڑ کر دکھاؤ!”
بڑے بیٹے نے پوری طاقت لگا دی۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، مگر گٹھا نہ ٹوٹا۔
پھر دوسرے بیٹے نے کوشش کی، وہ بھی ناکام رہا۔
تیسرے بیٹے نے غصے میں آ کر زور لگایا، لیکن لکڑیاں ویسے کی ویسے رہیں۔
تینوں حیران ہو گئے اور بولے: “اباجان! یہ توڑنا ناممکن ہے!”
بوڑھا باپ ہلکا سا مسکرایا۔ اس نے آہستہ سے گٹھا کھولا اور تینوں کو ایک ایک لکڑی پکڑا دی۔
“اب اسے توڑو۔”
اس بار تینوں نے اپنی اپنی لکڑی پل بھر میں توڑ دی۔
بوڑھے باپ کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ اس نے محبت سے کہا:
“میرے بچو! جب تم سب ایک ساتھ ہوتے ہو تو اس گٹھے کی طرح مضبوط بن جاتے ہو۔ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن جب تم الگ الگ ہو جاتے ہو، تو ان اکیلی لکڑیوں کی طرح آسانی سے ٹوٹ جاتے ہو۔ یاد رکھو… بھائیوں کا اتحاد سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔”
یہ سنتے ہی تینوں بھائی شرمندہ ہو گئے۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہے تھے۔ تینوں نے اپنے بیمار باپ کے ہاتھ چومے اور وعدہ کیا:
“اباجان! آج کے بعد ہم کبھی نہیں لڑیں گے۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔”
یہ سن کر بوڑھے باپ کے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ آ گئی، کیونکہ اس کے بیٹے آخرکار اتحاد کی اصل طاقت سمجھ چکے تھے۔
سبق:
اتحاد میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔
آپس کی محبت اور اتفاق ہر مشکل کو آسان بنا دیتا ہے۔
جو خاندان متحد رہتا ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔
