دو مینڈک

دو مینڈک

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو چھوٹے مینڈک جنگل سے نکل کر کسی گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ بھوک اور تھکن سے نڈھال تھے، مگر زندگی کی تلاش میں آگے بڑھ رہے تھے۔
رات کے اندھیرے میں وہ ایک گھر کے کچن میں جا گھسے۔ وہاں ایک بڑا سا برتن رکھا تھا جو تازہ دودھ سے بھرا ہوا تھا۔ دودھ کی خوشبو نے دونوں کو بے اختیار کر دیا۔
اچانک دونوں کا پاؤں پھسلا اور “چھپاک” سے وہ سیدھے دودھ کے برتن میں جا گرے۔
شروع میں تو ہنستے رہے، سمجھا کہ آسانی سے نکل آئیں گے۔ لیکن جیسے ہی باہر نکلنے کی کوشش کی، حقیقت سامنے آ گئی… برتن بہت گہرا تھا اور دیواریں اتنی پھسلن والی کہ اوپر جانا ناممکن لگ رہا تھا۔
ایک مینڈک گھبرا گیا۔ وہ ہانپتے ہوئے بولا: “بس بھائی… اب نہیں بچ سکتے۔ جدوجہد کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم ختم ہو گئے ہیں۔”
اور اس نے کوشش چھوڑ دی…
چند لمحوں میں وہ مر گیا۔
دوسرا مینڈک خاموش تھا… لیکن اس کے اندر ایک عجیب سی ضد اور امید جل رہی تھی۔
وہ بار بار پاؤں مارتا رہا… بار بار… مسلسل… یہاں تک کہ اس کے جسم میں جان باقی نہ رہی، مگر امید باقی رہی۔
رات گزرتی گئی… اور اس کی مسلسل حرکت سے دودھ گاڑھا ہونے لگا، پھر وہ آہستہ آہستہ مکھن جیسا بن گیا۔
صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ، وہ مینڈک اسی جمی ہوئی سطح پر کھڑا تھا۔
اس نے آخری ہمت جمع کی… ایک زوردار چھلانگ لگائی… اور برتن کے باہر جا گرا۔
وہ بچ چکا تھا۔

سبق:
زندگی میں حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہمت چھوڑ دینا سب سے بڑی ہار ہے۔ مسلسل کوشش ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner