بلاعنوان

بلاعنوان

ایک بوڑھا شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اتفاقاً ڈبہ ابھی خالی تھا۔

پھر 8~10 لڑکے اس ڈبے میں آئے اور بیٹھ کر انہوں نے تفریح کرنی شروع کر دی.!

ایک نے کہا، “آؤ ، زنجیر کھینچیں”۔ ایک اور نے کہا – ” اس جرم پر 500 روپے جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا لکھی ہے۔

” تیسرے نے کہا – ”  ہم بہت سارے لوگ ہیں  500 روپے چنده کر کے جمع کروا دیں گے.!

” چندہ جمع کیا گیا تو 500 کی بجائے 1200 روپے جمع ہوگئے۔ جس میں 500 کا ایک نوٹ ، پچاس کے 2 نوٹ  باقی سب 100 کے نوٹ تھے.!🙆
چندہ پہلے لڑکے نے جیب میں رکھ لیا ۔

“زنجیر کھینچنے سے پہلے ایک بولا، 
“اگر کوئی پوچھے گا تو کہیں دینگے گے کہ بوڑھے نے اسے کھینچا تھا ۔ تب اپنے کو پیسہ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اور ان روپیوں سے پارٹی کریں گے ۔
“بوڑھے نے ہاتھ جوڑ کر کہا ، “بچوں ، میں نے آپ کے ساتھ کیا غلط کیا ہے ، آپ مجھے کیوں  پھنسا رہے ہیں؟”
لیکن وہ نہیں مانے اور  زنجیر کھینچ لی گئی۔
جیسی امید تھی
ٹی ٹی  کانسٹیبل کے ساتھ آیا ، لڑکوں نے ایک آواز میں کہا ، کہ اس بوڑھے نے زنجیر کھینچی ہے۔” ٹی ٹی نے بوڑھے سے کہا ،
“آپ کو اس عمر میں ایسا کام کرنے میں شرم نہیں آئی ؟
” ہاتھ جوڑ کر بوڑھے نے کہا ، “جناب ، میں نے زنجیر کھینچی ہے ، لیکن میں بہت بے بس تھا۔” اُنہوں  نے پوچھا ایسی کیا مجبوری تھی؟
بوڑھے نے کہا ، “میرے پاس صرف 1200 روپے تھے ، جو ان لڑکوں نے چھین لئے اور اس پہلے لڑکے نے اپنی جیب میں رکھے ہوئے ہیں ۔” اس میں 500 کا ایک نوٹ ، پچاس کے 2 نوٹ اور باقی سب 100 کے لوٹ  ہیں۔
اب ٹی ٹی نے کانسٹیبل سے کہا ، “ان کی تلاشی لو”
جیسا اس بوڑھے نے بتایا  تھا اس  لڑکے کی جیب سے 1200 روپے اُسی ترتیب ہیں برآمد ہوئے ، جو بوڑھے کو واپس کردیئے گئے اور لڑکوں کو اگلے اسٹیشن میں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس کے ساتھ جاتے ہوئے لڑکوں نے بوڑھے کو گھورا ، تو بوڑھے نے اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ  پھیرتے ہوئے کہا –
“پتر جی،  یہ بال دھوپ میں سفید نہیں ہوئے.!
😅

Leave a Reply

NZ's Corner