بانسری کی فتح

بانسری کی فتح

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے، لشکر بے شمار تھے، محلات آسمان سے باتیں کرتے تھے، مگر اس کے دل پر ایک ہی بوجھ تھا۔
اس کی اکلوتی بیٹی کبھی ہنستی نہ تھی۔
نہ مسکراتی، نہ قہقہہ لگاتی، نہ کسی لطیفے پر لب ہلاتی۔
دربار کے مسخرے ناک کے بل گرتے، شعبدہ باز عجیب کرتب دکھاتے، شاعر قصیدے پڑھتے، مگر شہزادی کا چہرہ ایسا سنجیدہ رہتا جیسے دنیا کے سارے غم اسی کے حصے میں آ گئے ہوں۔
آخر تنگ آ کر بادشاہ نے سلطنت بھر میں اعلان کروا دیا:
“جو شخص میری بیٹی کو ہنسا دے گا، وہی اس سے شادی کرے گا اور آدھی سلطنت کا مالک بنے گا!”
یہ اعلان سنتے ہی دور دور سے شہزادے، امیرزادے، دانشور اور خودساختہ عقل کے بادشاہ دربار میں آ پہنچے۔
مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
شہزادی کے چہرے پر ایک شکن تک نہ آئی۔
پھر ایک دن ایک غریب کسان کا بیٹا دربار میں حاضر ہوا۔
وہ نہ شاہی لباس پہنے ہوئے تھا، نہ اس کے ساتھ خادموں کا لشکر تھا۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے سادہ، اور چہرے پر ایسی معصومیت جیسے دنیا کی چالاکیوں سے ابھی تک واقف نہ ہوا ہو۔
درباری اسے دیکھ کر ہنسنے لگے۔
ایک نے سرگوشی کی:
“یہ آدھی سلطنت لینے آیا ہے یا راستہ بھول کر یہاں پہنچ گیا ہے؟”
لیکن لڑکے نے کسی کی پروا نہ کی۔
اس نے جیب سے ایک بانسری نکالی اور بجانا شروع کر دی۔
جیسے ہی دھن فضا میں بکھری، کچھ ایسا جادو ہوا کہ شہزادی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
درباری حیران!
اور پھر…
شہزادی ہنس پڑی!
پہلے ہلکی سی ہنسی، پھر کھلکھلاہٹ، پھر ایسا قہقہہ کہ محل کی دیواریں تک گونج اٹھیں۔
بادشاہ خوشی سے نہال ہو گیا۔
لیکن جب اس نے غور سے لڑکے کو دیکھا تو دل میں سوچا:
“یہ تو واقعی کسان کا بیٹا لگتا ہے! آدھی سلطنت اسے کیسے دے دوں؟”
چنانچہ اس نے ایک نئی آزمائش گھڑ لی۔
بادشاہ بولا:
“اگر تم واقعی اس انعام کے حق دار ہو تو پہلے میرا ایک کام کرو۔”
“حکم فرمائیے۔”
“یہ سو جنگلی خرگوش ہیں۔ انہیں تین دن تک ایک ساتھ رکھو۔ اگر ایک بھی بھاگ گیا تو نہ شادی ہوگی، نہ سلطنت!”
لڑکے نے مسکرا کر خرگوش سنبھال لیے۔
اب خرگوش بھی آخر خرگوش تھے۔
کچھ اِدھر دوڑے، کچھ اُدھر بھاگے، کچھ جھاڑیوں میں گھس گئے۔
مگر لڑکے نے سکون سے بانسری بجائی۔
دھن سنتے ہی سارے خرگوش ایسے واپس لوٹے جیسے اسکول کی چھٹی کے بعد بچے ٹافی بانٹنے والے استاد کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔
بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہو گیا۔
اس نے خفیہ منصوبہ بنایا۔
اگلے دن شہزادی کو بلایا اور کہا:
“جا کر کسی طرح ایک خرگوش چرا لا۔”
شہزادی جنگل پہنچی اور بڑی نرمی سے بولی:
“کیا تم مجھے ایک خرگوش دے سکتے ہو؟”
لڑکا مسکرایا۔
“دے تو سکتا ہوں، لیکن ایک شرط پر۔”
“کیا شرط؟”
“تمہیں مجھے ایک بوسہ دینا ہوگا۔”
شہزادی شرما گئی، مگر خرگوش کی خاطر شرط مان لی۔
خرگوش لے کر محل پہنچی تو سب خوش ہوئے۔
مگر کچھ دیر بعد بانسری کی دھن جنگل سے ابھری۔
خرگوش نے کان کھڑے کیے، ایک چھلانگ لگائی، اور ہوا کی طرح واپس اپنے ساتھیوں میں جا ملا۔
شہزادی حیران رہ گئی۔
دوسرے دن ملکہ خود بھیس بدل کر گئی۔
سوچا، “میں اپنی عقل سے اس دیہاتی لڑکے کو چکمہ دے دوں گی۔”
لیکن آخرکار وہ بھی اس کی باتوں میں آ گئی اور خرگوش لے آئی۔
نتیجہ؟
وہی بانسری، وہی دھن، اور وہی بھاگتا ہوا خرگوش!
تیسرے دن بادشاہ خود نکل کھڑا ہوا۔
سادہ کپڑے پہن کر آیا اور سمجھا کہ اس بار کامیابی یقینی ہے۔
مگر کسان کا بیٹا اس سے بھی زیادہ ہوشیار نکلا۔
آخرکار بادشاہ کو ایک قیمتی گھوڑی بطور معاوضہ دینی پڑی، تب جا کر خرگوش اس کے حوالے ہوا۔
لیکن جیسے ہی بانسری بجی، وہ خرگوش بھی اپنی فوج میں واپس جا ملا۔
تین دن گزر گئے۔
سو کے سو خرگوش موجود تھے۔
ایک بھی کم نہ ہوا۔
اب بادشاہ کے پاس کوئی بہانہ باقی نہ بچا۔
چنانچہ دھوم دھام سے شادی ہوئی۔
شہزادی، جو کبھی مسکرانا بھی بھول چکی تھی، اب ہر وقت ہنستی رہتی تھی۔
اور کسان کا وہ سادہ لوح مگر ذہین بیٹا آدھی سلطنت کا مالک بن گیا۔
لوگ کہتے تھے:
“اس نے تلوار سے نہیں، بانسری سے فتح حاصل کی ہے۔”
سبق
عقل ہمیشہ شاہی تاج نہیں پہنتی؛ کبھی کبھی وہ سادہ کپڑوں میں بانسری اٹھائے پھرتی ہے۔
اور یہ بھی کہ:
خوش مزاجی، حاضر جوابی اور تھوڑی سی معصوم شرارت وہ دروازے کھول دیتی ہے جو طاقت اور دولت نہیں کھول سکتیں۔
جو دلوں کو ہنسانا جانتا ہو، وہ دنیا جیتنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔
#منقول


Leave a Reply

NZ's Corner