Tag Archives: messageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary

Se cuenta que en un frondoso bosque vivía una respetada familia de búhos. El Búho Sahib se consideraba muy sabio, pues según la antigua tradición del bosque, el de ojos grandes y el que menos hablaba era considerado sabio. Tenía un hijo pequeño que se sentaba en las ramas toda la noche, repitiendo “Hun Hun” y durmiendo hasta el amanecer como si no hubiera nada más que hacer en el mundo.Un día, el Búho Sahib pensó:“Ahora debo casar a mi hijo”.Tras mucho pensarlo, decidió pedir la mano de la familia más ilustre y famosa del bosque: la familia del pavo real.El pavo real era famoso en todas partes por su esplendor, su hermoso plumaje y su orgullo.Así que el Búho Sahib llegó con una propuesta formal.El pavo real lo hizo sentar respetuosamente, le ofreció granos y le preguntó:“Dime, ¿cómo has llegado hasta aquí?”.El Búho carraspeó. “Queremos la mano de tu…

Read more

کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک چرواہا لڑکا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بکریاں لے کر گاؤں سے دور جنگل میں چرایا کرتا تھا۔ لوگ اسے سمجھاتے کہ کہیں بھیڑیا نہ آ جائے، لیکن وہ کسی کی سنتا نہ تھا۔ اس نے ایک دن سوچا، کیوں نہ گاؤں والوں کے ساتھ تھوڑا مذاق کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا، “بھائیو! بھیڑیا آ گیا، بھیڑیا آ گیا، میری مدد کرو!” یہ سن کر سارے گاؤں والے ہتھیار لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو کوئی بھیڑیا ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ۔ چرواہا ان کو دیکھ کر خوب ہنسا۔ لوگ بہت غصے ہوئے اور اسے سمجھا کر واپس چلے گئے۔ چند روز بعد اس نے پھر وہی شرارت کی۔ لوگ پھر دوڑے آئے، اور پھر وہاں کچھ نہ تھا۔ اس بار لوگوں نے پکّا فیصلہ کر…

Read more

یونان کے ایک پرانے شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔وہ اتنا بڑا فلسفی تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح بخیر” کہہ دیتا تو وہ جواب میں کہتا “صبح کا تصور دراصل وقت کی غلامی ہے۔”لوگ سر ہلا دیتے، حالانکہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آتا۔ اسی شہر کے بازار میں ایک طوطا تھا۔سادہ سا، سبز رنگ کا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی جملہ بولتا تھا “کم بولنے والا زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔” فلسفی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔وہ بولا“ایک پرندہ مجھے دانائی سکھائے گا؟” اس نے طوطے کو خرید لیا اور گھر لے آیا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اپنی فلسفیانہ گفتگو سے خاموش کرا دے۔ روز وہ طوطے کے سامنے لیکچر دیتا،روح، کائنات، وجود، عدمگھنٹوں بولتا رہتا۔ طوطا خاموش رہتا۔ ایک دن فلسفی تھک کر بولا“کیا تم مان گئے کہ اصل دانا میں ہوں؟” طوطا پہلی بار مسکرایا (کم ازکم فلسفی کو…

Read more

3/3
NZ's Corner