یونان کے ایک پرانے شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔
وہ اتنا بڑا فلسفی تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح بخیر” کہہ دیتا تو وہ جواب میں کہتا
“صبح کا تصور دراصل وقت کی غلامی ہے۔”
لوگ سر ہلا دیتے، حالانکہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آتا۔
اسی شہر کے بازار میں ایک طوطا تھا۔
سادہ سا، سبز رنگ کا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی جملہ بولتا تھا
“کم بولنے والا زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔”
فلسفی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔
وہ بولا
“ایک پرندہ مجھے دانائی سکھائے گا؟”
اس نے طوطے کو خرید لیا اور گھر لے آیا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اپنی فلسفیانہ گفتگو سے خاموش کرا دے۔
روز وہ طوطے کے سامنے لیکچر دیتا،
روح، کائنات، وجود، عدم
گھنٹوں بولتا رہتا۔
طوطا خاموش رہتا۔
ایک دن فلسفی تھک کر بولا
“کیا تم مان گئے کہ اصل دانا میں ہوں؟”
طوطا پہلی بار مسکرایا (کم ازکم فلسفی کو ایسا ہی لگا) اور بولا
“میں تو پہلے دن سے مان گیا تھا
اسی لیے خاموش تھا۔”
فلسفی پہلی بار خاموش ہوا۔
اور شاید پہلی بار کچھ سمجھا بھی۔
اخلاقی سبق۔
حقیقی دانائی شور نہیں مچاتی
اور مزاح اکثر سچ کو آسان بنا دیتا ہے۔
