Author Archives: NZ's Collection

کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے اور اتفاق سے تینوں کا نام “طیب” تھا۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر وصیت کی: “میری جائیداد میں سے ایک طیب کو حصہ نہیں ملے گا۔” یہ کہہ کر وہ فوت ہو گیا۔باپ کے انتقال کے بعد تینوں طیب پریشان ہو گئے کہ آخر وہ کون سا طیب ہے جسے وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے انہوں نے دور دراز کے ایک بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو اپنے دانشمندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھا۔اگلے دن جب وہ سفر پر تھے تو راستے میں انہیں ایک شخص ملا جس کا اونٹ گم ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟”پہلا طیب بولا: “کیا تمہارا اونٹ لنگڑا تھا؟” مالک نے کہا: “جی ہاں!”…

Read more

A landowner was looking for a servant who could take care of his farm with dedication. He always complained to his servants that he could not find any decent servants. Due to the strict conditions of the landowner, no servant was willing to work for the landowner. Once, when this landowner was desperately looking for a servant, a forced man arrived for work. The landowner asked him: Tell me about one of your qualities. The job seeker said: I sleep peacefully when it rains or there is a storm. The landowner did not understand what this man was saying, but due to the fear of the coming winter and the rainy and stormy season, he hired this barely available man. Days passed and one night when it was raining heavily, the roofs of the houses were being blown away by the winds, and he wondered what was happening to his…

Read more

Un terrateniente buscaba un sirviente que cuidara su granja con dedicación. Siempre se quejaba a sus sirvientes de no encontrar ninguno decente. Debido a las estrictas condiciones del terrateniente, ningún sirviente estaba dispuesto a trabajar para él. En una ocasión, cuando este terrateniente buscaba desesperadamente un sirviente, llegó un hombre obligado a trabajar. El terrateniente le preguntó: «Cuéntame una de tus cualidades». El solicitante respondió: «Duermo tranquilo cuando llueve o hay tormenta». El terrateniente no entendía lo que decía este hombre, pero por temor a la llegada del invierno y a la temporada de lluvias y tormentas, contrató a este hombre, que apenas estaba disponible. Pasaron los días y una noche, mientras llovía a cántaros, los techos de las casas se los llevaba el viento, y se preguntaba qué estaría pasando con su ganado. El terrateniente, preocupado por la inseguridad de sus bienes, llegó a su granja. Vio que el…

Read more

مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔ وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:“یہ رئیس زادے کون ہیں؟” کسی نے جواب دیا:“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔” یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:“اے اللہ!…

Read more

ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔ زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے  موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔ دن گزرتے…

Read more

Imagina: Tienes veintiséis años. Hace apenas unos días viste morir a tu marido defendiendo tu ciudad. Ahora estás de pie entre las cenizas de tu casa incendiada, con tus hijos aferrados a tu pecho, intentando ocultarte de la vista mientras hombres armados se mueven entre los supervivientes. Un soldado se detiene frente a ti y te pregunta tu edad. Mira a tus hijos. Hace una marca en una pizarra y sigue adelante. Aún no sabes qué significa la marca, pero pronto lo sabrás. Esa misma noche te arrebatan a tus hijos. Tu hijo menor grita tu nombre mientras se lo llevan a la fuerza. Intentas agarrarlo, pero tus manos te repelen. A tu alrededor, otras madres gritan, sus voces se convierten en polvo. Entonces te hacen marchar con cientos de mujeres, mientras el fuego de la ciudad se apaga lentamente tras ti. La guerra ha terminado. Pero la conquista apenas…

Read more

Imagine: You are twenty-six years old. Just days ago you watched your husband die defending your city. Now you stand in the ashes of your burned-out house, your children clutched to your chest, trying to hide yourself from view as armed men move among the survivors. A soldier stops in front of you and asks your age. He looks at your children. He makes a mark on a board and moves on. You don’t know what the mark means yet—but you will soon. That very night your children are taken from you. Your youngest child calls out your name as he is being forcibly taken away. You try to grab him, but your hands push you back. Around you other mothers scream, their voices breaking into dust. Then you are marched with hundreds of women, while the city’s fires slowly die down behind you. The war is over. But the…

Read more

There lived an old farmer in a village. He had a beautiful horse that he used to work in the fields. One day his horse ran away. The villagers came and said: “How unfortunate you are!” The old farmer smiled and said: “Do you know whether this is unfortunate or fortunate?” A few days later, the same horse returned, and brought three wild horses with it. The villagers were surprised and said: “How fortunate you are!” The old farmer smiled again: “Do you know whether this is fortunate or unfortunate?” The next day, the farmer’s son was trying to tame one of the wild horses when he fell and broke his leg. The villagers came again: “How unfortunate!” The farmer again replied: “Do you know?” A few weeks later, the king declared war and all the young men of the village were taken into the army. But the farmer’s son…

Read more

Había un viejo granjero en un pueblo. Tenía un hermoso caballo que usaba para trabajar en el campo. Un día, su caballo se escapó. Los aldeanos vinieron y le dijeron: “¡Qué desgraciado eres!” El viejo granjero sonrió y dijo: “¿Sabes si esto es desgraciado o afortunado?” Unos días después, el mismo caballo regresó, trayendo consigo tres caballos salvajes. Los aldeanos se sorprendieron y dijeron: “¡Qué suerte eres!” El viejo granjero sonrió de nuevo: “¿Sabes si esto es afortunado o desafortunado?” Al día siguiente, el hijo del granjero intentaba domar uno de los caballos salvajes cuando se cayó y se rompió una pata. Los aldeanos volvieron: “¡Qué desgraciado!” El granjero respondió de nuevo: “¿Lo sabes?” Unas semanas después, el rey declaró la guerra y todos los jóvenes del pueblo fueron reclutados en el ejército. Pero el hijo del granjero resultó herido, así que sobrevivió. Entonces los aldeanos dijeron: “¡De verdad! ¡Has…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: “کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!” بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: “کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟” چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: “کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!” بوڑھا کسان پھر مسکرایا: “کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟” اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: “کتنی بدقسمتی ہے!” کسان نے پھر وہی جواب دیا: “کیا معلوم؟” کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج…

Read more

ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔” سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔ سٹائل مارتے ہوئے بولے:“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!” سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔ ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔ سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔ کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ…

Read more

ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…

Read more

شہر کے پرانے حصے میں ایک وسیع قبرستان تھا۔ دن میں وہاں فاتحہ پڑھنے والے آتے، مگر رات کو سناٹا اتر آتا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشی پیدا کرتی۔ اسی قبرستان میں ایک رات ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر لوگ کانپ اٹھے۔کہتے ہیں ایک شخص، جس کا نام فرید تھا، اپنی خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔ اس کے دل میں نہ خوفِ خدا رہا تھا نہ حیا کی رمق۔ شیطان نے اسے اس حد تک بہکایا کہ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان پہنچا اور ایک تازہ قبر کے قریب ایسا گناہ کیا جسے زبان بیان کرتے ہوئے بھی شرمائے۔رات گزر گئی، مگر زمین و آسمان اس گناہ کے گواہ بن گئے۔اُسی شہر کا بادشاہ نہایت نیک سیرت تھا۔ عدل و انصاف اس کی پہچان تھا۔ اسی رات اسے خواب آیا کہ ایک سفید پوش بزرگ اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ چہرہ نور…

Read more

ہلاکو خان شہر سے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بغداد کا دھواں اٹھ رہا تھا، اور وہ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر تھا، غرور تھا، اور اس غرور میں وہ اندھا تھا جو صرف طاقت کو دیکھتا ہے، حکمت کو نہیں۔ اس نے شہر میں پیغام بھیجا: “شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔ اگر نہ آیا، تو کل صبح جو زندہ بچے گا، وہ اپنی موت کو دعائیں دے گا۔” شہر میں خاموشی تھی۔ کوئی عالم آگے نہیں آ رہا تھا۔ کیوں آتا؟ جو آج تک علم کی روشنی بانٹتا رہا، وہ اب اس آگ کے سامنے کیسے جائے جو روشنی کو بجھا دیتی ہے؟ جو آج تک لوگوں کو عزت کا سبق پڑھاتا رہا، وہ اب اس بےعزتی کے سامنے کیسے جائے جو انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتی ہے؟ مگر…

Read more

بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے، ایک طاقتور بادشاہ رہتا تھا جسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہے۔ اس کے پاس ہزاروں کتابیں اور سینکڑوں استاد تھے۔ لیکن اتنی معلومات کے باوجود، وہ زندگی کے بارے میں الجھن کا شکار رہتا تھا۔اس نے صحرا میں رہنے والی ایک دانشمند عورت کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ بادشاہ نے کہا، “میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو جاننا ممکن ہے، پھر بھی میں خود کو دانشمند کیوں محسوس نہیں کرتا؟”اس عورت نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، اس نے چائے کی کیتلی اٹھائی اور بادشاہ کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ پیالہ بھر جانے کے بعد بھی وہ چائے ڈالتی رہی۔ چائے پیالے سے چھلک کر میز اور بادشاہ کے کپڑوں پر گرنے لگی۔بادشاہ چلایا، “رک جائیں! کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پیالہ بھر…

Read more

ایک عظیم الشان بادشاہ کے محل میں ایک قابلِ اعتماد ساقی رہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری سادہ مگر بہت اہم تھی: بادشاہ کے لیے جام بھرنا اور شراب کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا۔ ہر جشن، ہر معاہدہ اور ہر تقریب اسی کے ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ شروع میں وہ بہت وفادار تھا۔ مے خالص اور بھرپور ہوتی تھی، اور بادشاہ کے مہمان اس کی طاقت اور مٹھاس کی تعریف کرتے تھے۔مگر لالچ ایک خاموش سرگوشی ہے۔ایک رات ساقی نے مٹکوں کی طرف دیکھا اور سوچا، “اگر میں اس میں تھوڑا سا پانی ملا دوں تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ میں فالتو شراب بیچ کر امیر ہو سکتا ہوں۔” اس نے بڑی احتیاط سے شاہی مشروب میں پانی ملا دیا۔ رنگ گہرا ہی رہا، خوشبو اب بھی میٹھی تھی۔ وہ اپنی اس “ہوشیاری” پر مسکرایا۔اگلی ضیافت میں اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ اور پھر بار بار۔ہر ملاوٹ…

Read more

چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”سائیں بخش کی…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے۔ وہ مکڑا جس نے رازوں کے ذریعے حکومت کیایک وسیع و عریض جنگل کے بیچوں بیچ “اروکُو” کا ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی شاخوں میں زارتھ نامی ایک مکڑا رہتا تھا۔ وہ قد میں چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں پورے جنگل پر حکومت کرنے کی خواہش تھی۔زارتھ کے پاس نہ تو شیر جیسی طاقت تھی اور نہ ہی ہرن جیسی رفتار۔ اس کے پاس نہ مینڈھے جیسے سینگ تھے اور نہ عقاب جیسے تیز ناخن۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا— راز۔ہر رات، وہ ان شاخوں کے درمیان بڑی احتیاط سے جالا بنتا جہاں دوسرے اسے صاف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے دھاگے باریک اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن وہ بہت مضبوط تھے۔ زارتھ بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے بندر کو کچھوے کی شکایت کرتے سنا، اس نے…

Read more

2200/3788
NZ's Corner