نوے اور پانچ سو
ایک بار ایک دیہاتی شہر گیا وہ اس شہر کے بازار میں آیا اور زور زور سے پکارا”نوے اور پانچ سو“․․․․․نوے اور پنچ سو․․․․نوے اور پانچ سو․․․․․جو بھی دیہاتی کا یہ حساب سنتا وہ ہنس دیتا ایک شہری دیہاتی کے پاس آیا اور بولا”بھائی نوے اور پانچ سو نہیں ہوتے بلکہ نوے اور دس سو ہوتے ہیں مگر دیہاتی الٹا شہری کو غلط کہتے ہر بہ ضد تھا ادھر شہری کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا دونوں کی آپس میں نوے اور پانچ سو کی تکرار ہو رہی تھی۔ جب دونوں ہی اپنی اپنی ضد پر قائم رہے تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے کہ دیکھیں نوے اور پانچ سو والا کیا معاملہ ہے آخر وہ شہری ہار مانتے ہوئے بولا”اچھا پانچ تمہیں معاف کیے لاؤ پچانوے روپے ہی دے دو،دیہاتی یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا جس پر لوگ اسے طعنے دینے لگے…
سونے کا سفید انڈا –
پرانے زمانے کی بات ہے کسی گاؤں کا چودھری بڑا لالچی تھا۔لالچ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا اور کردار و اخلاق انتہائی پست ہو گیا تھا۔وہ گاؤں کے کسی بھی شخص کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز دیکھتا تو اسے کسی بھی طریقے ہتھیا لیتا۔گاؤں والے اس کے رویے سے تنگ آ چکے تھے۔انھوں نے کئی بار گاؤں کے قاضی اور مسجد کے پیش امام سے بھی شکایتیں کیں جن کی باتیں چودھری بڑے غور سے سنتا تھا، لیکن ان کو ماننے اور عمل کرنے پر بالکل تیار نہ ہوتا تھا۔اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کسی کے پاس اچھی نسل کی گائیں، بھینس یا بکری، یہاں تک کہ مرغی ہی کیوں نہ ہو، وہ بے چارہ اس سے محروم ہو جاتا۔گاؤں والے اپنے اچھے سے اچھے جانور میں بھی کوئی نہ کوئی عیب نکالتے اور اسے سارے گاؤں میں مشہور کر دیتے تھے، تاکہ ان…
کھانا اور ڈنڈا
کسی گاؤں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز تھے۔ان کے گاؤں میں کوئی مہمان آجائے تو بہت آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کے گاؤں میں ایک مہمان آیا۔گاؤں والوں نے اس کے آگے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر چُن دیے۔ساتھ ہی ایک بڑا سا ڈنڈا رکھ دیا۔مہمان کھانے دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔میزبانوں سے پوچھا:یہ ڈنڈا کیوں رکھا ہے؟“انھوں نے کہا:”یہ ہماری روایت ہے۔آپ ڈریں نہیں اور کھانا شروع کریں۔“مہمان اَڑ گیا کہ پہلے مجھے ڈنڈے کی حقیقت سے آگاہ کریں۔میزبان لاکھ قسمیں کھائیں کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا،لیکن مہمان نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔دل ہی دل میں وہ ڈر رہا تھا کہ کھانا کھلانے کے بعد یہ لوگ میری درگت بنائیں گے۔ مہمان کا کھانا کھانے سے انکار سن کر پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ایک بزرگ کو مہمان کے پاس لایا گیا کہ…
سو پیاز
عربوں کے دلچسپ واقعات میں سے : “عورتوں کا کہنا نہ مانو “ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کوئی جرم کیا تو قاضی نے اسے تین سزاؤں میں سے ایک چننے کو کہا:پہلی سزا: سو پیاز کھانادوسری سزا: سو کوڑے کھاناتیسری سزا: سو دینار ادا کرنا اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “پیاز کھا لو، یہ تو شہد کے برابر ہے۔”آدمی نے پیاز چن لیا، مگر پینسٹھویں پیاز کے بعد اس کی آنکھیں باہر آ گئیں اور اس نے اعلان کیا کہ وہ مزید نہیں کھا سکتا۔اس نے دوبارہ اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “اگر پیاز نہیں کھا سکتے تو ایک گھنٹے کا درد بہتر ہے روز روز کے درد سے۔”آدمی نے کوڑے چن لئے ۔جب کوڑے کی تعداد 72 تک پہنچی تو اس کے گھٹنے کانپنے لگے اور وہ چیخنے لگا: “بس کرو، میں مزید برداشت نہیں کر…
ہتھنی اور کتیا
ایک ہتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟” ہتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔…
بلاعنوان 😂
کہتے ہیں ایک استاد کے پاس ایک شادی شدہ شاگرد پڑھتا تھا۔ 🙂💁♂️ استاد کی دو شادیاں تھیں، شاگرد کی ایک۔ استاد روز فخر سے کہتا:“ایک شادی میں کیا رکھا ھے؟ اصل مزہ تو دوسری شادی میں ھے!” 😏✌️ آخر شاگرد بھی استاد کی باتوں میں آ گیا اور دوسری شادی کر لی۔ 😄🙄 شادی کی پہلی رات دوستوں میں بیٹھا ذرا دیر سے گھر پہنچا۔ نئی دلہن نے دروازہ ھی نہ کھولا:“جاؤ! جہاں اتنی دیر بیٹھے تھے وھیں جاؤ!” 😒🙎 بیچارہ پہلی بیوی کے پاس گیا۔ وہاں سے جواب آیا:“جو نئی دلہن لائے ھو، اسی کے پاس جاؤ!” 😏😒 اب دونوں گھروں سے نکالا ھوا شاگرد سرد رات میں مسجد جا پہنچا۔ اندھیرے میں ایک صف پر کسی کے لیٹے ھونے کا احساس ھوا۔ 😳🤔 شاگرد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:“کون ھے؟” آواز آئی: “اوئے شیدیا… میں تیرا استاد آں!” 😄 شاگرد حیران:“استاد جی! تسی ایتھے؟” استاد نے لمبی آہ…
عقل مند قاضی اور اصلی چور
پرانے زمانے میں بخارا شہر میں ایک نہایت دانا اور انصاف پسند قاضی رہتے تھے، جنہیں لوگ محبت سے “قاضی فہیم” کہتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شور، سختی یا ظلم کے بغیر صرف اپنی عقل و حکمت سے بڑے بڑے معاملات حل کر لیتے تھے۔ اسی لیے دور دراز سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اُن کے پاس آتے اور مطمئن ہو کر واپس جاتے۔اُسی زمانے میں بخارا کا بازار تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دور دراز سے تاجر اپنی قیمتی اشیاء لے کر آتے، لیکن کچھ عرصے سے بازار میں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔کسی نہ کسی تاجر کی رقم، زیورات یا قیمتی سامان غائب ہو جاتا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔لوگ خوفزدہ تھے، ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا تھا، اور بازار کی رونق…
بلاعنوان 😂
ﺍﯾﮏ دیہاتی ﮔﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﺟﺎ ﺑﺴﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺮﻏﯽ ﺭﻭﺯ ﺍﻧﮉﺍ ﺩﯾﺘﯽ تھی۔ ﻣﺮﻏﯽ نے ایک دن ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﺍﻧﮉﺍ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮐﮯ گھر ﺟﺎ ﮐﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ دیہاتی ﮐﻮ ﺍﻧﮉﺍ ﻧﮧ ﻣﻼ تو اس نے ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻭﮐﯿﻞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ. ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ کہا، ﺍﻧﮉﺍ تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ دے ﮔﺎ نہیں ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮉﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻠﮑﯿﺘﯽ ﺍﺭﺍﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻗﺎﻧﻮنا” ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ دیہاتی ﺑﻀﺪ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻧﮉﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ﺑﺎﺕ بڑھنے ﻟﮕﯽ تو دیہاتی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻨﮉﻭ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﮑﺎ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﻣﮑﮯ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺟﯿﺖ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻨﺎﺯﻋﮧ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ مان ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﮩﺮﯼ ﻭﮐﯿﻞ ﮨﭩﺎ ﮐﭩﺎ ﺗﮭﺎ، اس ﻧﮯ دیہاتی…
چھوٹی سی غلطی
کبھی کبھی زندگی میں ہونے والی سب سے بڑی تباہی کی شروعات کسی بہت چھوٹی سی غلطی سے ہوتی ہیں… کہا جاتا ہے کہ ایک قدیم سلطنت میں ایک بہت بڑا بازار لگا کرتا تھا۔ 🏘️ دور دراز علاقوں سے تاجر آتے، لوگ خریداری میں مصروف رہتے، بچے کھیلتے اور ہر طرف خوشحالی اور رونق کا سماں ہوتا۔ ایک دن ایک شہد فروش اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ رش کے دوران اس کے برتن سے شہد کی صرف ایک بوند زمین پر گر گئی۔ اس نے بے پروائی سے سوچا:“صرف ایک قطرہ ہی تو ہے، اس سے کیا فرق پڑے گا!”اور وہ اسے صاف کیے بغیر اپنے کام میں لگ گیا۔ چند ہی لمحوں بعد ایک مکھی اس شہد پر آ بیٹھی۔ 🐝 پھر دوسری، تیسری اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی مکھیاں وہاں جمع ہو گئیں۔ اسی دوران ایک مکڑی نے ایک مکھی کو پکڑنے کی کوشش کی۔ پھر ایک…
بے زبانوں پر ظلم –
عدید جتنا عقل مند اور ذہین تھا اتنا ہی شریر اور من چلا بھی تھا وہ پن اور فن میں بہت ماہر تھا ۔بچے تو بچے بڑے بھی اس کے منہ لگنے سے گھبراتے تھے محلے والے اسے شیطان کا باپ کہا کرتے تھے بہت زیادہ بولتا تھا۔عدید جب بچوں اور بڑوں کو چھیڑتے چھیڑتے اکتا جاتا تو غلیل لے کر کسی باغ میں نکل جاتا اور ننھی منی چڑیوں کا شکار کھیل کر دل بہلاتا کہیں کسی بھی پرندے کا گھونسلہ نظر آجاتا تو جب تک اسے توڑ پھوڑ کر نیچے نہ پھینک دیتا تب تک اسے چین نہ آتا۔گھر میں چڑیاں یا کبوتر گھونسلہ بنا لیتے تو بیچاروں کی شامت آجاتی ۔اس کی والدہ اور دادا مجید اکثر اس کی چھترول کرتے لیکن وہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا سب محلے والے اس سے تنگ تھے اس کے دادا جی نے زمینوں پر مرغیاں رکھی…
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا
نتھوایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے ماں باپ دوسرے خانہ بدوش قبیلے سے اس کی دلہن بیاہ کرلائے تھے۔ ان کادستور تھاکہ وہ دلہن کے بدلے جتنا پیسہ اس کے ماں باپ کواداکرتے دلہن کواتنا پیسہ کماکر سسرال والوں کوواپس کرتا ہوتا۔ نتھوکی دلہن کامنی کوسسرال آئے دس بارہ دن ہوگئے توساس نے اس سے کہا بس ری چھوری بہت ہوچکا دلہناپا،آج سے میرے ساتھ دھندے پرچلاکر۔ حکم کی دیرتھی کہ دلہن تیارہوگئی اور چھماچھم کرتی ساس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ان لوگوں کاپیشہ تھا کہ گلی محلوں میں ناچ گانا کرکے بھیک مانگتے تھے۔یہ دونوں جب قریب کی آبادی کے ایک محلے میں پہنچیں توساس نے دفلی کی تھاپ پرزور سے ہانک لگائی۔دف پرگھنگھروں کی آواز سن کربچے جمع ہوگئے۔ عورتیں دروازوں پر آکر جھانکنے لگیں۔نئی نویلی دلہن کولال رنگ کے گھاگرے اور چولی پرشیشوں کی کڑھائی والا چم چم کرتا دوپٹہ اوڑھے دیکھ کرایک گھر…
چالیس گواہ –
ایک مرتبہ ایک امیر شخص کسی مقدمے میں پھنس گیا۔اس کا مقدمہ ایک رشوت خور قاضی کی عدالت میں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ قاضی کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر کیسے مجبور کروں؟ سوچتے سوچتے اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ترکی کی مٹھائی بہت منفرد انداز کی ہوتی ہے۔اس مٹھائی کے رنگ برنگے ٹکڑے دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ان کا ذائقہ بھی پاکستانی مٹھائی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔اس امیر آدمی نے چاندی کے ایک تھال میں بڑی خوبصورتی سے اس رنگ برنگی مٹھائی کے چالیس ٹکڑے سجائے اور ہر ٹکڑے کے نیچے سونے کی ایک اشرفی رکھ دی اور تھال قاضی کی خدمت میں بھیج دیا۔امیر آدمی کا ملازم جب یہ تھال لے کر قاضی کے دفتر پہنچا تو قاضی کے منشی نے وہ تھال وصول کیا۔ تھال میں رکھی مٹھائی دیکھ کر منشی کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے…
انوکھا انصاف –
یہ گئے وقتوں کی بات ہے کسی شہر کا قاضی مرغی لینے بازار گیا دکان دار دکان بند کرچکا تھا وہ ایک گاہک کے لیے مرغی ذبح کرکے اس کا انتظار کررہا تھا قاضی صاحب نے کہا یہی مرغی دے دو۔“دکان دار نے کہا ،میں مرغی کے مالک کو کیا جواب دوں گا؟ قاضی صاحب نے کہا گاہک سے کہہ دینا مرغی اُڑ گئی بات بڑھے گی تو معاملہ میرے پاس ہی آئے گا،دکان دار نے مرغی قاضی کو دے دی کچھ ہی دیر میں وہ گاہک آن پہنچا جس کی مرغی تھی مرغی طلب کرنے پر دکان دار نے بتایا کہ مرغی اُرگئی ہے وہ نہ مانا اور دکان دار کو پکڑ کر قاضی کے پاس چل دیا راستے میں دو افراد جھگڑرہے تھے دکان دار بیچ بچاﺅ کرانے لگا تو اس کی انگلی لڑنے والوں میں سے ایک شخص کی آنکھ میں لگ گئی جس سے اس کی…
خرگوش کی غلط فہمی –
سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…
ناراض بھوری
میاں کرم دین بزرگ آدمی تھے اور طویل عرصے سے چودھری نواز کے اصطبل میں ملازم تھے،جہاں جانوروں کی رکھوالی،ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔چودھری صاحب بہت رحم دل انسان تھے۔گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے جانوروں سے بھی بہت محبت کرتے تھے اور ان کو کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔جانور بھی ان کی بات سمجھتے تھے۔ایک دن کرم دین نے آ کر چودھری صاحب کو بتایا کہ ان کی پسندیدہ گائے بھوری چارا نہیں کھا رہی ہے۔چودھری صاحب تڑپ کر اُٹھے اور حکم دیا کہ جا کر حکیم صاحب کو لے آئے۔وہ خود بڑی دیر تک بھوری کو پچکارتے رہے،مگر اس نے چارے کی طرف دیکھا تک نہیں۔اس دوران حکیم صاحب بھی پہنچ گئے۔ انھوں نے بھوری کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے،نہ جانے کیا وجہ ہے۔ حکیم صاحب نے کرم دین سے…
زلزلہ کس نے روکا –
بہت عرصہ پہلے بحیرہ عرب کے کنارے واقع ناریل کے درختوں کی جھنڈ میں ایک پیارا سا سفید خرگوش رہتا تھا،جو بہت وہمی تھا۔ایک دن اپنا کھانا بل میں رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ اگر زلزلہ آ جائے تو میرا کیا ہو گا؟پھر تو میں دراڑوں میں دب کر مر جاؤں گا۔یہ سوچ کر وہ بڑا فکرمند ہوا۔اتفاق سے اسی لمحے ایک پکا ہوا ناریل درخت سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔ناریل کے گرنے کی آواز سن کر وہمی خرگوش نے ہوا میں چھلانگ لگا دی۔اسے یقین ہو گیا کہ زلزلہ آ گیا ہے اور زمین پھٹ رہی ہے۔اس لئے وہ پیچھے دیکھے بغیر بھاگتا چلا گیا۔راستے میں اسے ایک اور خرگوش ملا،جس نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی۔”بھئی!تم اتنی تیزی سے کہاں بھاگے جا رہے ہو؟خیر تو ہے؟“”مت پوچھو بس یوں سمجھو،غضب ہو گیا ہے۔ “اس نے بھاگتے ہوئے کہا۔”مگر ہوا کیا؟کچھ تو پتا چلے!“دوسرے خرگوش نے اس…
میاں کنجوس –
کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے،مگر جب میاں کنجوس کی شامت آئی تو ان کی بیوی نے ان سے آموں کی فرمائش کر دی۔میاں کنجوس کا اصل نام حامد خاں تھا،مگر محلے کا ہر چھوٹا بڑا کنجوسی کی وجہ سے ان کو ’میاں کنجوس‘ کہتا تھا۔خیر،میاں کنجوس نے فرمائش سن تو لی،پھر بہت ہمت کرکے اپنے صندوق میں سے کچھ پیسے نکالے اور بہت شان سے اپنی جیب میں رکھ کر بازار کا رُخ کیا۔ سب سے پہلے ایک آم والے کے پاس پہنچے اور دام معلوم کیا تو پتا چلا ڈیڑھ سو روپے کلو․․․․یہ سنتے ہی میاں کنجوس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے:”ارے بھئی،اتنے مہنگے!کچھ تو کم کرو۔“یہ سن کر آم والے نے جواب دیا:”اس سے سستے لینے ہیں تو آگے جاؤ۔ “میاں کنجوس فوراً آگے ہو لیے۔آگے چل کر دام دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آم ڈیڑھ…
بھالو اور لومڑی –
بھالو میاں اکثر بی لومڑی کی چالاکیوں کا شکار رہتے تھے۔آج بھی ایسا ہی ہوا بی لومڑی نے اطلاع دی کہ ادھر جھونپڑی میں نئے سیاح آئے ہیں ان کے پاس شہد کے جار ہیں تمہارے تو مزے ہو جائیں گے۔وہ بیچارہ لالچ میں اس طرف نکل گیا جس طرف کا لومڑی نے بتایا تھا لیکن کچھ دور جا کر اسے اندازہ ہوا وہ پھر اس کی چال میں آ گیا ہے کیونکہ دور دور تک کسی جھونپڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اس کے پاؤں بھی زخمی ہوئے کیونکہ راستے میں کانٹے تھے۔آج اس کو لومڑی پر بہت غصہ آیا اور اس نے ارادہ کیا اب وہ اس سے ضرور بدلہ لے گا۔شام کو وہ اپنے دوست ہاتھی کے پاس گیا اور تمام ماجرا سنایا اس نے بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور مل کر لومڑی کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا۔ جنگل میں ہر روز…
شیخ چلی کے خیالی پلاؤ
کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کا ایک ہی بیٹا تھا،جس کا نام چلی تھا۔وہ بہت کام چور،بے وقوف،سست اور کاہل تھا۔اسے بس ایک ہی کام آتا تھا،شیخی بگھارنے کا۔جہاں چند لوگوں کو اکٹھے بیٹھے دیکھتا،ان کے قریب جا کر خود بھی بیٹھ جاتا اور انہیں گفتگو کا موقع دیئے بغیر اپنے جھوٹے سچے کارنامے بیان کرنے لگتا۔گاؤں کے لوگ اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھے اور اس کا نام ہی”شیخ چلی“ رکھ دیا تھا۔وہ اپنے نام کی طرح بڑے بڑے خیالی منصوبے بناتا لیکن کسی پر عمل نہیں کرتا۔ایک دن اس کے ”خیالی پلاؤ“ پکانے کی عادت سے چڑ کر ایک شخص نے اس سے کہا:”شیخ صاحب!آپ اتنے بڑے منصوبے کیوں بناتے ہیں؟آپ نے ایک ہفتے بعد اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے،اپنی موت کا خیال کریں“۔ یہ سننا تھا کہ بے وقوف شیخ چلی کو ایک ہفتے بعد اپنی موت کا یقین ہو…
مزاج بخیر
مزاج بخیر سہیل بھائی جان کو بہت اچھی ملازمت مل گئی تھی، جس کی خوشی میں امی نے خاندان بھر میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ابو جی کے کہنے پر ہم شاہدہ خالہ کے ہاں بھی مٹھائی لے کر گئے۔ امی کے ساتھ چند دن پہلے ہی ان کی کسی بات پرنوک جھونک ہو گئی بلکہ بات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ دونوں ہی نے جینا مرناختم کرنے کی قسم کھا لی تھی۔ خاندان کے کچھ لوگ امی کی طرف داری میں اور کچھ شا ہد ہ خا لہ کی حمایت میں تھے۔جب ہم دونوں بھائی میٹھائی لے کر گئے تو نہ صرف انھوں نے مٹھائی لینے سے انکار کر دیا ، بلکہ غصے میں باتیں بھی سنائیں :” لے جاوٴ یہ مٹھائی۔ اس سے بہتر ہے کہ میں زہر کھالوں۔“ وہ غصے سے بولیں اور ہم سر جھکائے باہر نکل آئے۔ منے ! اگر یہ…