امیر تاجر اور دانا بزرگ…… ایک سبق آموز کہانی
ایک شہر میں ایک نہایت امیر اور سخی تاجر رہتا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا، مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی… سستی! وہ زیادہ تر وقت بستر پر گزارتا۔ نہ چلنا پسند کرتا، نہ جسمانی محنت۔ آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھتا گیا اور صحت اتنی خراب ہوگئی کہ ایک دن وہ اپنے بستر سے خود اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا۔ گھر والوں نے بہت علاج کروائے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک دن انہیں ایک بزرگ کا پتا چلا جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے مشہور تھے۔ وہ تاجر کو لے کر بزرگ کے پاس پہنچے۔ بزرگ نے کہا: “میں اس کا علاج ضرور کروں گا، لیکن ایک شرط ہے… اسے خود چل کر میرے پاس آنا ہوگا۔” اگلے دن تاجر بڑی مشکل سے چلتا ہوا بزرگ کے گھر پہنچا، مگر بزرگ وہاں موجود نہ تھے۔ اگلے دن پھر سے…
بھولا ریچھ
مراد کے ابو تھانیدار تھے۔ ایک دفعہ ان کا تبادلہ شہر سے دور ایک پہاڑی گاؤں میں ہو گیا۔ مراد بھی اپنے امی ابو کے ساتھ اس گاؤں میں رہنے لگا۔ ان کا گھر گاؤں سے ہٹ کر تھا اور اس کے اطراف میں پہاڑیاں اور جنگل تھے جن میں ریچھ بہت زیادہ تھے۔ گاؤں والے ان سے بہت تنگ رہتے تھے، کیونکہ وہ ان کے کھیت اور باغ اجاڑ دیتے تھے۔ گاؤں میں اونچے اونچے درخت بھی تھے جن میں شہد کے بڑے بڑے چھتے لگے تھے۔ان چھتوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے گاؤں والوں نے درختوں کے ساتھ رسیاں باندھ رکھی تھیں جن میں موٹی موٹی لکڑیاں لٹک رہی تھیں۔ جب ہوا چلتی تو یہ لکڑیاں جھولنے لگتیں اور ان کی آواز اور حرکت سے ریچھ درختوں سے دور رہتے تھے۔ریچھ کا بچہ اور مرادایک رات ایک ریچھنی اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ گاؤں میں گھس…
بلاعنوان
ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…
بلاعنوان
ایک بوڑھا آدمی، پرانے اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس، عدالت میں داخل ہوا اور خاموشی سے انتظار کرتا رہا جب تک کہ پہریدار نے اسے قاضی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دی۔بوڑھے نے قاضی کو سلام کیا اور بولا: “اے معزز قاضی، میں ایک غریب آدمی ہوں، میرے سات بچے ہیں اور ان کی ماں جن کا میں واحد کفیل ہوں۔ میرے پاس دنیا میں صرف ایک اصیل گھوڑا ہے، جو میری کل دولت اور عزت ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس دو چھوٹی الماریاں اور روشنی کے لیے ایک چراغ ہے۔ میں ایک چھوٹے سے کھیت میں رہتا ہوں جس کے اردگرد سایہ دار درخت ہیں۔” قاضی نے بوڑھے کی بات سن کر مختصر کرنے کے لیے کہا: “میں سمجھ گیا ہوں، اے محترم بزرگ، کہ تمہارے لیے تمہارا گھوڑا بہت قیمتی ہے اور تمہیں اس کے بغیر مشکلات کا سامنا ہو گا۔ مگر براہ کرم اپنی…
بادشاہ کا عقل مند وزیر اور
بے وقوف سپاہی
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر صاحب!…
بلاعنوان
شیر نے چیْتے کو دس بھیڑیوں کا نگران مقرر کیا۔ہر دن، شیر ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا۔ چیْتا خوراک کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرتا: اس نے ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھا اور باقی دس، جو سائز میں برابر تھے، بھیڑیوں کو دے دیے—ہر ایک کے لیے ایک ٹکڑا۔کچھ دن گزرے، تو بھیڑیوں کے درمیان بے چینی سے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ایک نے کہا، “چیْتا کو ہمارے جتنا حصہ کیوں ملتا ہے؟”دوسرے نے اتفاق کیا، “وہ کچھ خاص نہیں کرتا۔ وہ بس کھانا تقسیم کرتا ہے۔”“ہم دَس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں، تو ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کو کتنا ملنا چاہیے۔”چیْتے نے ان کی سرگوشیاں سن لیں، لیکن اس نے اپنے اصول نہیں بدلے۔ اس کا ماننا تھا کہ جب تک وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے، بغवत کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔لیکن ایک دن،…
لالچ اور نصیحت
تُو نے وہ قصہ سُنا ہے کہ ہندوستان میں ایک عقلمند نے دوستوں کے ایک گروہ کو دیکھا، بھوکے، تھکے ہوئے، بے ساز و سامان اور ننگے، سفر سے دراز راستہ سے آ رہے تھے، اُس کی دانائی کی محبت جوش میں آئی اور اُن کو تپاک سے سلام کیا اور پھول کیطرح کِھل گیا۔ بولا، میں جانتا ہوں کہ بھوک سے پورا معدہ خالی ہونے سے تم پر میدانِ کربلا کی سی مصبتیں جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن خدا کے لئے اے دوستو! تم ہاتھی کے بچے کو ہر گز نہ کھانا۔ جس جانب تم اب جا رہے ہو، ہاتھی ہے، دل و جان سے میری نصیحت سُن لو، تمہارے راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں جن کا شکار تمہیں بہت مرغوب ہے، نہایت عمدہ اور پاکیزہ اور موٹے ہیں، لیکن اُن کی ماں گھات میں رہتی ہے، اپنے بچے کی خاطر سینکڑوں میل کے راستہ سے وہ روتی…
چور کی انوکھی مہمان نوازی!… ایک مزاحیہ کہانی
ایک آدمی کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی چوری ہوگئی۔ شام کو وہی گاڑی صاف ستھری، مکمل پالش کے ساتھ واپس اسی جگہ کھڑی تھی۔ اندر ایک خط بھی تھا: “میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ میری بیوی کی ڈیلیوری کے باعث حالت تشویشناک تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا اور یہ قدم اٹھانا پڑا۔ مجھے امید ہے آپ معاف کر دیں گے۔ میری طرف سے آپ اور آپ کی فیملی کے لیے آج رات کے شو کی ٹکٹیں اور کھانے کا سامان بطور تحفہ قبول کریں۔ آپ کی گاڑی نے مشکل وقت میں میری بہت مدد کی۔” آدمی یہ پڑھ کر بہت خوش ہوا۔رات کو پوری فیملی فلم دیکھنے گئی اور خوب انجوائے کیا۔ جب واپس گھر پہنچے تو…پورا گھر خالی تھا! 😱 اندر ایک خط پڑا تھا: “امید ہے… فلم پسند آئی ہوگی! 😂😂”
کامیابی صرف طاقت سے نہیں، تیاری، صبر اور درست وقت کے انتخاب سے ملتی ہے۔
جنگل میں کئی دنوں سے ایک عجیب خوف پھیلا ہوا تھا۔ ہر صبح کوئی نہ کوئی خبر لاتا کہ پہاڑ کے اُس پار واقع دوسرا جنگل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ وہاں کے درختوں کے درمیان دن رات فوجی مشقیں ہو رہی تھیں، ہتھیار جمع کیے جا رہے تھے، سپاہیوں کی تعداد بڑھائی جا رہی تھی اور یہ بات بھی جنگل کے کانوں تک پہنچ چکی تھی کہ دشمن کا ارادہ صرف فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اس پورے جنگل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ جنگل کے جانوروں نے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روک دیا تھا۔ بازار سنسان ہونے لگے تھے۔ پرندے بھی درختوں پر بیٹھ کر خوش گپیوں کے بجائے آنے والی تباہی کی خبریں سناتے تھے۔ شیر بادشاہ کے لیے یہ خوف کچھ اور بھی بڑا تھا۔ اس کے باپ، دادا اور پردادا اسی جنگل پر حکومت کرتے آئے تھے اور…
تعلیم کی قیمت
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں…
بادشاہ کی آخری آزمائش
صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔ تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔ سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔ ایک دن سلطان نے…
سچائی کی فتح
کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…
👑 عقل کی فتح — بادشاہ کی انوکھی تدبیر
ایک غریب آدمی کو کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ وہ ساہوکار پر بھروسہ کرتا تھا، اس لیے نہ رسید لی اور نہ کوئی گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد واپس آیا تو ساہوکار سے اپنی رقم مانگی۔ ساہوکار نے صاف انکار کر دیا:“میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب بہت منت سماجت کرتا رہا، مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخرکار وہ بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور ساری داستان سنا دی۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا تمہارے پاس کوئی رسید یا گواہ ہے؟” غریب نے سر جھکا کر کہا:“نہیں، حضور۔” بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر بولا:“ثبوت تو نہیں، مگر ایک تدبیر ضرور ہے۔” اگلے دن بادشاہ نے اسے حکم دیا کہ ساہوکار کی دکان پر بیٹھا رہے۔ کچھ دیر بعد بادشاہ…
ایک کیل
کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان کو آپ کے پورے گھر کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اسے صرف ایک کیل لگانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔یہ کہانی توآپ نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ، ایک شخص کے پاس بہت خوبصورت مکان تھا۔ ایک خریدار اس کے پاس آیا اور گھر کی اچھی قیمت پیش کی، لیکن مالک نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ خریدار بار بار آتا رہا، رقم بڑھاتا رہا، مگر مالک ہر بار انکار کرتا رہا۔پھر ایک دن خریدار آیا، اس نے آدھی قیمت پیش کی اور کہا: “مجھے آپ کا پورا گھر نہیں چاہیے، مجھے صرف ایک دیوار چاہیے جس پر میں ایک کیل ٹھونک سکوں۔”مالک نے سوچا کہ صرف ایک کیل کی بدولت اسے گھر کی آدھی قیمت مل رہی ہے، سودا برا نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔ خریدار نے دیوار پر کیل ٹھونکی اور چلا گیا۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد…
علم اور تجربہ
ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…
پچھتاوا
ایک بوڑھا آدمی تھا اور ایک اس کی بوڑھی بیوی تھی۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بوڑھا اور بڑھیا شہر سے دور سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ بوڑھا محنت مزدوری کے لیے صبح منہ اندھیرے گھر سے نکل جاتا اور شام پڑے واپس آتا۔ وہ بہت رحم دل تھا، مگر جانے کیا بات ہے کہ رحم دل اور نیک لوگ کم کم ہی ہوتے ہیں۔ اس شخص کا ہاتھ تو بہت ہی تنگ رہتا تھا، مگر رحم دلی اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ کسی کو مشکل میں دیکھتا تو اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کا ہاتھ بٹاتا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شام ہو گئی تھی اور وہ لپک جھپک گھر جا رہا تھا۔ آج اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ صبح چلتے وقت بیوی نے کہا تھا کہ رات کے لیے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ پیسے لے کر آؤ گے تو روٹی پکے گی۔…
سو من لوہا۔
ایک سوداگر کچھ دنوں کے لیے ایک سفر پر جانے لگا تو اس نے سومن لوہا اپنے ایک دوست کے گھر امانت کے طور پر رکھوا دیا تاکہ ضرورت پڑے تو اسے بیچ کر روپیہ حاصل کر سکے۔ جب وہ سفر سے لوٹا تو اپنے دوست کے پاس آیا اور اس سے لوہا طلب کیا۔ دوست نے کہا۔ ’’تمہارا لوہا میں نے ایک کوٹھری میں بند کر کے رکھ دیا تھا مگر ایک دن کھول کے دیکھا تو چوہوں نے سب کھا لیا تھا۔‘‘ سوداگر نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ دراصل چوہوں کو لوہا بہت پسند ہے۔ وہ اس کی لذت پر جان دیتے ہیں۔ ضرور کھا لیا ہوگا کیونکہ ان کے دانت اس قسم کی ملائم اور چکنی چیز پر خوب چلتے ہیں۔‘‘یہ بات سن کر اس کا دوست بہت خوش ہوا کہ چلو اتنا سارا لوہا بغیر کسی جھگڑے کے ہضم ہو گیا۔ اسے سوداگر کی بے…
بے وقوف اونٹ
ایک چالاک کوا، ایک خطرناک بھیڑیا اور ایک مکار لومڑی ایک شیر کی خدمت میں تھے۔ ان کا جنگل شاہراہِ عام کے نزدیک تھا۔ ایک بار ایک سوداگر کا اونٹ اس جنگل کے آس پاس چرتے چرتے آیا اور شیر کے نزدیک پہنچ گیا۔ اونٹ شیر کو دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ لہٰذا، اس نے فوراً شیر کو سلام کیا۔ شیر نے بھی سلام کا جواب دیا اور اس کی خیریت پوچھی۔ اونٹ نے جواب دیا: “اگرچہ آپ سے پہلے اپنے کام میں مجھے اختیار تھا، لیکن جب سے آپ کو دیکھ لیا، عنانِ اختیار ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب آپ جو فرمائیں گے، وہی کروں گا۔”شیر نے کہا: “اگر پسند ہو تو میری امان میں رہو۔”اونٹ بہت خوش ہوا اور اسی جنگل میں رہنے لگا۔ ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا اور…
لالچ اور حسد کا انجام
کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔ بوڑھے نے اسے کئی بار وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موتی بار بار اسی جگہ واپس آ جاتا اور زمین کریدنے لگتا۔ آخرکار بوڑھے نے سوچا کہ شاید اس جگہ کوئی خاص چیز موجود ہے۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھودنا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پھاوڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ بوڑھے نے مٹی ہٹائی تو وہاں سے ایک پرانا گھڑا نکلا، جس میں…
سلیقہ مند بیوی کی سزا…. ایک دلچسپ کہانی
باباجی نے اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک خوبصورت اور جوانعمر مریدنی لا کر سوکن ڈال رکھی تھی۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نا رہا کہایک کو طلاق دے دیں۔ کس کو دیں، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ایک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف ثقافت اور حُسن کیمعراج۔ تاکہ کسی پر ظلم نا ہو، باباجی نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ باباجی نے اپنی دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیئے اور دوہفتوں کیلئے کہیں چلے گئے۔ واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ انکی پہلی بیوی نے دو ہفتوں میں اپناگزارہ کر کے بھی پینتیس سو بچا رکھے تھے جبکہ جوان و حسین بیوینے نا صرف دس ہزار خرچ کر دیئے تھے بلکہ ادھر اُدھر سے لیکرخرچ کرنے کیلئے پانچ ہزار کا قرضہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ باباجی نے فیصلہ کیا کہ ان کی پہلی بیوی انتہائی کفایت…















