عقل مند قاضی اور اصلی چور

عقل مند قاضی اور اصلی چور

پرانے زمانے میں بخارا شہر میں ایک نہایت دانا اور انصاف پسند قاضی رہتے تھے، جنہیں لوگ محبت سے “قاضی فہیم” کہتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شور، سختی یا ظلم کے بغیر صرف اپنی عقل و حکمت سے بڑے بڑے معاملات حل کر لیتے تھے۔ اسی لیے دور دراز سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اُن کے پاس آتے اور مطمئن ہو کر واپس جاتے۔
اُسی زمانے میں بخارا کا بازار تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دور دراز سے تاجر اپنی قیمتی اشیاء لے کر آتے، لیکن کچھ عرصے سے بازار میں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔
کسی نہ کسی تاجر کی رقم، زیورات یا قیمتی سامان غائب ہو جاتا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔
لوگ خوفزدہ تھے، ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا تھا، اور بازار کی رونق بھی ماند پڑنے لگی۔
آخرکار چند بڑے تاجر قاضی فہیم کے پاس پہنچے اور عرض کی:
“حضور! اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو لوگ اس شہر میں تجارت کرنا چھوڑ دیں گے۔”
قاضی نے اطمینان سے سب کی بات سنی اور فرمایا:
“چور چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اپنی ہی غلطی سے پکڑا جاتا ہے۔”
اسی دوران ایک مالدار تاجر روتا ہوا دربار میں آیا اور بتایا کہ اُس کی سونے کے سکوں سے بھری تھیلی بازار سے چوری ہو گئی ہے۔
قاضی نے فوراً حکم دیا کہ اُس وقت بازار میں موجود ہر شخص کو ایک جگہ جمع کیا جائے اور کوئی بھی باہر نہ جانے پائے۔
چند ہی دیر میں پورا بازار لوگوں سے بھر گیا۔
قاضی خاموشی سے سب کو دیکھتے رہے۔ اُن کی نظر ایک ایسے شخص پر بھی پڑی جو بار بار پسینہ صاف کر رہا تھا اور نظریں چرا رہا تھا، لیکن قاضی نے اُس وقت کچھ نہ کہا۔
پھر وہ بلند آواز میں بولے:
“میں کسی بے گناہ کو سزا نہیں دینا چاہتا، اس لیے ایک آسان طریقہ اختیار کروں گا۔”
یہ کہہ کر انہوں نے اپنے خادم سے لکڑی منگوائی، اُس کے برابر برابر ٹکڑے کیے اور ہر مشتبہ شخص کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔
پھر فرمایا:
“یہ عام لکڑیاں نہیں، جادوئی لکڑیاں ہیں۔ اگر کسی نے چوری کی ہے تو اُس کی لکڑی صبح تک ایک انچ بڑھ جائے گی۔ کل سب اپنی اپنی لکڑیاں واپس لے آئیں۔”
یہ سنتے ہی بے گناہ لوگ مسکرا دیے، لیکن اصلی چور کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
وہ پوری رات خوف میں مبتلا رہا۔
آخر اُس نے سوچا:
“اگر لکڑی واقعی بڑھ گئی تو میں فوراً پکڑا جاؤں گا۔”
ڈر کے مارے اُس نے اپنی لکڑی کا تقریباً ایک انچ حصہ کاٹ دیا تاکہ اگر لکڑی بڑھے بھی تو برابر ہو جائے۔
اگلی صبح سب لوگ اپنی لکڑیاں لے کر حاضر ہوئے۔
قاضی نے ایک ایک لکڑی دیکھی اور پھر ایک شخص کے سامنے رک کر مسکرا دیے۔
“اصل چور یہی ہے۔”
سپاہیوں نے فوراً اُسے گرفتار کر لیا۔
وہ گھبرا کر بولا:
“حضور! آپ کو کیسے معلوم ہوا؟”
قاضی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
“لکڑیاں جادوئی نہیں تھیں، لیکن مجھے معلوم تھا کہ چور اپنے خوف کی وجہ سے ضرور کوئی غلطی کرے گا۔ سب کی لکڑیاں برابر ہیں، صرف تمہاری لکڑی ایک انچ چھوٹی ہے۔”
یہ سنتے ہی پورا مجمع حیران رہ گیا۔
چور نے شرمندگی سے اپنا جرم قبول کر لیا اور تاجر کی چوری شدہ تھیلی واپس کر دی۔
اس واقعے کے بعد شہر میں ایک بار پھر امن قائم ہو گیا اور لوگ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ تجارت کرنے لگے۔
آخر میں قاضی فہیم نے لوگوں سے فرمایا:
“یاد رکھو! عقل مند انسان صرف لوگوں کی باتیں نہیں، اُن کے خوف کو بھی سمجھتا ہے۔ اکثر مجرم اپنی کسی نہ کسی حرکت سے خود ہی اپنے جرم کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔”
🌿 سبق:
طاقت، غصہ اور سختی ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتے۔ بہت سے معاملات صرف عقل، صبر، حکمت اور نفسیات کو سمجھنے سے حل ہو جاتے ہیں۔ خوف انسان سے ایسی غلطی کروا دیتا ہے جو اُس کے راز کو دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner