عادت
۔۔ روزگار کی تلاش اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شہر کے ایک شور شرابے والے چوراہے پر ایک غریب اور بدحال بھکارن بیٹھا کرتی تھی۔ اگرچہ اس کے تن پر میلے کچیلے اور بوسیدہ کپڑے تھے، اور اس کا چہرہ دھوپ اور گرد و غبار سے جھلس چکا تھا، لیکن قدرت نے اسے ایسی بلا کی خوبصورتی اور حسنِ دلکش عطا کیا تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ وہ در بدر مارکیٹ اور گلی کوچوں میں ہاتھ پھیلاتی اور اپنا پیٹ بھرتی تھی۔ایک روز اتفاقاً کسی ملک کا جاہ و جلال والا بادشاہ اپنی شاہی سواری اور لاؤ لشکر کے ساتھ اسی راستے سے گزرا۔ شاہی قافلے کی آمد پر لوگ راستے کے دونوں جانب ہجوم لگائے کھڑے تھے۔ بادشاہ کی نظر اچانک اس نادار اور خستہ حال بھکارن پر پڑی۔ اگرچہ اس کے کپڑے میلے تھے، مگر اس کا قدرتی حسن اور طبعی نفاست اتنی نمایاں…
ناک
ایک گھر میں ایک ایسا بچہ رہتا تھا جس کی ذہانت سے زیادہ اس کی تجسس بھری طبیعت مشہور تھی۔ ہر بات پر سوال کرنا اس کی عادت تھی۔ سوال کر کر کے والدین کا ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ ایک دن شوہر گھر آیا تو غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ بیوی نے سوال داغا: “کیا دفتر میں کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟” “نہیں، جھگڑا تو تمہیں پتہ ہے میں کسی سے نہیں کرتا۔ اصل میں ایک جگہ خالی ہوئی ہے جہاں میری ترقی کا چانس بنتا ہے۔ میں نے کل باس کی دعوت کی ہے، اگر خوش ہو گیا تو سمجھو کام بن جائے گا۔” “یہ تو بہت اچھی بات ہے، پھر پریشانی کس بات کی ہے؟” “پریشانی یہ ہے کہ باس کی ناک کچھ زیادہ ہی لمبی ہے۔ اب اگر ہمارے افلاطون بیٹے نے اس کی ناک پر تبصرہ کر دیا تو سمجھو بیڑہ غرق ہو…
عالم اور شیطان
ایک دن شیطان بیٹھا رسیوں کے پھندے تیار کر رہا تھا۔ کچھ موٹی موٹی رسیوں کے پھندے تھے، کچھ باریک اور کمزور رسیوں کے پھندے تھے۔ وہاں سے ایک علم والے کا گزر ہوا تو اس نے شیطان سے پوچھا: “ارے او دشمنِ انسان! یہ کیا کر رہے ہو؟” شیطان نے سر اٹھا کر دیکھا اور اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا: “دیکھتے نہیں حضرت، انسانوں کو قابو کرنے کے لیے پھندے تیار کر رہا ہوں۔” ان حضرت نے پوچھا: “یہ کیسے پھندے ہیں؟ کچھ موٹے کچھ باریک؟” شیطان نے جواب دیا: “پھندے ان لوگوں کے لیے ہیں جو شیطان کی باتوں میں نہیں آتے، لہٰذا مختلف قسم کے پھندے تیار کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ خوشنما، کچھ موٹے اور کچھ باریک۔” ان حضرت کے دل میں تجسس پیدا ہوا، پوچھا: “کیا میرے لیے بھی کوئی پھندا ہے؟” شیطان نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا: “آپ علم والوں کے لیے…
ذہین کسان۔
گاؤں کے ایک سیدھے سادے مگر ذہین کسان اللہ وسایا نے زندگی میں پہلی بار ارادہ کیا کہ وہ شہر جا کر اپنے بیٹے کے اسکول کے کپڑے، بیوی کے لیے شال اور کچھ بیج خریدے گا۔ صبح سویرے بیل گاڑی سے قریبی اسٹیشن پہنچا، سر پر صاف ستھری پگڑی، ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی، جیب میں چند نوٹ، اور دل میں ایک انجانی خوشی۔شہر کا شور، گاڑیوں کے ہارن، لوگوں کی جلدی۔سب کچھ اسے حیران کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ گاؤں میں سورج نکلنے سے پہلے مرغ بولتا ہے، یہاں انسان چیختے ہیں۔ اسی دوران ایک نرم لہجے والا شخص آگے بڑھا۔ سفید کپڑے، چمکدار جوتے، تسبیح ہاتھ میں۔ بولا، “السلام علیکم بھائی جان! لگتا ہے آپ گاؤں سے آئے ہیں؟ میں حاجی فضل دین ہوں، خدمتِ خلق میں لگا رہتا ہوں۔ اگر کہیں جانا ہو تو بتائیں، میرا بھی راستہ بازار کی طرف ہے۔اللہ وسایا…
بادشاہ کی اصل عظمت اس کے تاج میں نہیں، اس انصاف میں ہے جو اس کے زیرِ سایہ رہنے والوں کو ملتا ہے۔
ایک سلطنت تھی جس کی وسعت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بلند دروازے، سنگِ مرمر کے ایوان، سونے سے مزین چھتیں اور آسمان سے باتیں کرتے مینار دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ محل کے گرد بلند فصیلیں تھیں، فصیلوں پر پہرے دار تعینات تھے اور دربار میں ایسے وزیر و امیر جمع رہتے تھے جن کی زبانوں پر بادشاہ کی تعریف اور نگاہوں میں اپنی اپنی غرض کے سوا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ خود کو خوش نصیب سمجھتا تھا۔ اس کے خزانے بھرے ہوئے تھے، اس کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے تھے اور اس کے ایک اشارے پر سینکڑوں آدمی دوڑ پڑتے تھے۔ اسے گمان تھا کہ اس کی رعایا بھی اسی طرح آسودہ ہوگی جس طرح وہ خود آسودہ تھا، کیونکہ دربار میں روزانہ اس کے کانوں تک یہی خبریں پہنچائی جاتی تھیں کہ ملک میں امن ہے،…
Dulce bien
Hubo un tiempo en el estado subcontinental de Bahawalpur en que las decisiones de los estados se tomaban en las cortes reales, los grandes señores feudales se jactaban de sus tierras, los nawabs contaban historias de su gloria y los maharajás intentaban impresionar al mundo con el brillo de sus tesoros. Al mismo tiempo, vivía en Bahawalpur un comerciante cuya riqueza no se limitaba a los mercados locales, sino que su nombre también era mencionado con respeto en los salones de estados lejanos. A veces, el diwan de un estado se presentaba en su puerta solicitando un préstamo, a veces un nawab le pedía ayuda para cubrir los gastos de su hacienda, y a veces el enviado de un rey llegaba con una carta con el sello real. Tenía reservas de oro y plata, un extenso negocio, agentes en ciudades lejanas y relaciones comerciales a las que no cualquier comerciante…
Conocimientos y experiencia
Había un rey que había vivido muchas experiencias. Había presenciado guerras, derrotas, victorias, lealtades y traiciones. Ahora, al envejecer, su mayor preocupación no era el reino, sino su hijo, quien algún día se sentaría en el trono. Una tarde, el rey llamó al príncipe y le dijo: «¡Hijo! No basta con blandir una espada o presidir una corte para heredar el trono. La verdadera prueba llega cuando surge un problema para el que no encuentras solución en ningún sitio. En ese momento, recuerda siempre una cosa: cuanto mayor sea el problema, a más personas con experiencia debes acudir». El príncipe se sorprendió. Preguntó: «Padre, nuestra corte cuenta con grandes eruditos, personas cultas, expertos y consejeros inteligentes. ¿Por qué insistes siempre en acudir a los ancianos?». El rey sonrió y dijo: «Debes escuchar a los sabios, pero no ignores a los experimentados. El libro explica qué es una tormenta, pero quien…
Ídolo del miedo
Se cuenta que en una región lejana había una aldea. Sus habitantes vivían siempre preocupados, pues cada año un gigante terrible llegaba y los desafiaba: “¿Hay entre vosotros alguien que pueda competir conmigo? ¿Hay alguien que tenga el valor de vencerme?” Y así, cada año, mataba a un ser humano. Hoy era el mismo día de la llegada del gigante, y los aldeanos estaban muy asustados y preocupados de que otro joven de la aldea muriera. Casualmente, ese mismo día llegó un guerrero. Al ver el luto que reinaba en toda la aldea, se sorprendió y se angustió. Preguntó a los aldeanos: “¿Por qué estáis tan preocupados? ¿Qué ha pasado aquí para que todo parezca muerto?” Los aldeanos le contaron lo sucedido: “Cada año viene un gigante, exige un hombre para un desafío y luego mata a un ser humano de la aldea”. El guerrero preguntó: “¿A quién habéis elegido…
خوف کا بت
*کہتے ہیں کہ دور دراز کے کسی علاقے میں ایک بستی تھی۔ وہاں لوگ ہمیشہ پریشان رہتے تھے، وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک خوفناک دیو وہاں آتا اور بستی والوں کو للکار کر کہتا،* “کیا کوئی مرد ہے تمہارے درمیان جو مجھ سے مقابلہ کرے؟ کیا کوئی ایسی ہمت رکھتا ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور یوں وہ ہر سال کسی نہ کسی انسان کو مار ڈالتا۔ آج بھی وہی دن تھا… دیو کے آنے کا… اور گاؤں والے سخت ڈرے اور پریشان تھے کہ آج بھی ہماری بستی کا کوئی نوجوان جان سے جائے گا۔ اتفاقاً اسی دن، ایک مرد مجاہد وہاں جا پہنچا۔ جب اس نے پورے گاؤں میں موت جیسا سوگ دیکھا تو وہ بہت حیران اور بے چین ہوا۔ اس نے بستی والوں سے پوچھا،“تم لوگ اتنے پریشان کیوں ہو؟ یہاں کیا ہوا ہے کہ سب کچھ مردہ سا نظر آتا ہے؟” بستی والوں نے…
علم اور تجربہ
ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…
بادشاہ اور چراغ
8ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں ایک…
میٹھا کنواں
برصغیر کی ریاست بہاولپور میں ایک زمانہ تھا جب ریاستوں کے فیصلے شاہی درباروں میں ہوتے، بڑے بڑے جاگیردار اپنی زمینوں پر فخر کرتے، نواب اپنی شان و شوکت کے قصے سناتے اور مہاراجے اپنے خزانوں کی چمک سے دنیا کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی زمانے میں بہاولپور میں ایک ایسا تاجر رہتا تھا جس کی دولت کے چرچے صرف مقامی بازاروں تک محدود نہ تھے، بلکہ دور دراز ریاستوں کے ایوانوں میں بھی اس کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ اس کے دروازے پر کبھی کسی ریاست کا دیوان قرض کی درخواست لیے کھڑا ہوتا، کبھی کوئی نواب اپنی جاگیر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا اور کبھی کسی راجے کا ایلچی شاہی مہر لگی چٹھی لیے حاضر ہوتا۔ اس کے پاس سونے چاندی کے ذخیرے تھے، وسیع کاروبار تھا، دور دراز شہروں میں اس کے کارندے تھے اور ایسے تجارتی…
La naturaleza no cambia.
En busca de trabajo y para saciar su hambre, una mendiga pobre y miserable solía sentarse en una concurrida intersección de la ciudad. Aunque vestía ropas sucias y desgastadas, y su rostro curtido por el sol y el polvo, la naturaleza la había dotado de tal belleza y encanto que dejaba atónitos a quienes la veían. Extendía sus manos en los mercados y callejones para alimentarse. Un día, por casualidad, un glorioso rey de un país pasó por ese mismo camino con su carroza real y un gran ejército. Cuando llegó la caravana real, la gente se agolpaba a ambos lados del camino. La mirada del rey se posó de repente en aquella mendiga pobre y andrajosa. Aunque su ropa estaba sucia, su belleza natural y su sofisticación eran tan evidentes que no pudieron pasar desapercibidas para la mirada penetrante del rey. A primera vista, quedó prendado de aquella hermosa…
El pájaro dorado y el viejo árbol
En medio de un bosque, había un árbol muy viejo y frondoso. Era tan antiguo que todos los animales y aves del bosque lo respetaban. En la rama más alta de este viejo árbol vivía un pájaro dorado, cuyas alas brillaban como el oro y cuyo canto tenía una extraña magia. El pájaro y el viejo árbol eran grandes amigos. Cada mañana, el pájaro venía de lejos y le contaba al viejo árbol historias y cuentos de todo el mundo. A cambio, el viejo árbol protegía al pájaro del sol abrasador, la lluvia y las tormentas con sus gruesas hojas. Érase una vez, una grave sequía azotó la zona. Dejaron de llover, los ríos se secaron y todos los árboles del bosque comenzaron a marchitarse. Aquel viejo árbol también empezó a secarse lentamente, sus hojas cayeron y sus ramas se debilitaron. Todas las demás aves del bosque abandonaron sus nidos…
Precio del diamante
Un empresario compró una vez un enorme diamante de Sudáfrica, del tamaño de una yema de huevo. Pero para su disgusto, el diamante tenía una grieta en el interior.Acudió a un joyero experto para pedir consejo.El joyero examinó el diamante con detenimiento y le dijo:“Este diamante se puede cortar en dos hermosas piezas,que valdrán más que el diamante original.Pero si un solo corte falla, se romperá en pedazos y perderá todo su valor.No me arriesgaré”.El empresario visitó a diferentes joyeros alrededor del mundo.Todos le dieron la misma respuesta: “Muy peligroso”.Finalmente, alguien le habló de un viejo artesano en Ámsterdam,conocido como “el de las manos de oro”.Fue allí de inmediato.El viejo joyero examinó el diamante con atención a través de su lupa y luego le advirtió:“El peligro es grande”.El empresario lo interrumpió:“Ya he oído esa frase antes.Estoy listo, hágalo”.El joyero sonrió y asintió, fijó el precio yse dirigió a un joven…
La novia del marido
Un hombre africano vivía con su familia en el bosque. Un día encontró un espejo. Al ver su reflejo, pensó que era una foto de su padre fallecido. Se llevó el espejo a casa y lo sacaba todos los días para hablarle. Un día, su esposa se preguntó con quién hablaba su marido a diario. En ausencia de su esposo, sacó el espejo, vio su reflejo y exclamó furiosa: «¡Vaya! ¡Así que esta es la bruja con la que habla mi marido todos los días!» 😂 Luego, cogió el espejo, se lo llevó a su suegra y le dijo: «¡Mamá! ¡Mira cómo es la novia de tu hijo!» La suegra se miró en el espejo, frunció el ceño y exclamó: «¡Ay, Dios mío! ¡Mira la edad de la bruja y sus fechorías! ¿Mi hijo es igual?» 😂🤣
شوہر کی محبوبہ
ایک افریقی شخص اپنے خاندان کے ساتھ جنگل میں رہتا تھا۔ ایک دن اسے جنگل میں ایک شیشہ ملا۔ اس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا تو اسے گمان ہوا کہ یہ اس کے مرحوم والد کی تصویر ہے۔ وہ شیشہ گھر لے آیا اور روز اسے نکال کر اس سے باتیں کرنے لگا۔ ایک دن اس کی بیوی کو شک ہوا کہ آخر اس کا شوہر روز کس سے باتیں کرتا ہے؟ شوہر کی غیر موجودگی میں اس نے شیشہ نکالا اور اپنا عکس دیکھ کر غصے سے بولی: “اچھااا! تو یہ ہے وہ کلموہی، جس سے میرا شوہر روز باتیں کرتا ہے!” 😂 پھر وہ شیشہ اٹھا کر اپنی ساس کے پاس لے گئی اور بولی: “اماں! ذرا دیکھیں تو سہی، آپ کے بیٹے کی محبوبہ کیسی ہے!” ساس نے شیشے میں دیکھا، پھر ناک چڑھا کر بولی: “ہائے ہائے! چڑیل کی عمر تو دیکھو، اور کرتوت دیکھو!…
رزق کے راستے
ایک بلند پہاڑی کے دامن میں ایک گھنا جنگل آباد تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر پتھروں کے درمیان ایک تنگ سا راستہ تھا جو ایک چھوٹی سی غار تک جاتا تھا۔ اسی غار میں ایک پہاڑی بکری رہتی تھی جس کی عادت تھی کہ ہر صبح جنگل کے نچلے حصے میں اترتی، جہاں کہیں تازہ گھاس، نرم پتے، جنگلی پھل یا خوراک کا کوئی اور ذخیرہ ملتا، اسے سمیٹتی اور واپس اپنی غار کی طرف چل پڑتی۔ اس کے دل میں ہمیشہ ایک ہی خواہش رہتی کہ آج کچھ زیادہ خوراک جمع کر لے، تاکہ آنے والے دنوں میں اسے دوبارہ نیچے نہ اترنا پڑے۔ چنانچہ وہ جتنا اٹھا سکتی، اس سے بھی زیادہ سمیٹنے کی کوشش کرتی؛ کبھی منہ میں پتے بھر لیتی، کبھی پیٹھ پر گھاس کا گٹھا لاد لیتی اور کبھی دانتوں میں جنگلی پھل دبا کر پہاڑی کی چڑھائی شروع کر دیتی۔ مگر راستے میں ایک…
رنگو
ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں کی بات ہے، جہاں دریا کے کنارے ایک پرانا اور گھنا درخت تھا۔ اس درخت پر ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا جس کا نام “رنگو” تھا۔ رنگو کے پر باقی پرندوں سے ذرا مختلف اور چمکدار تھے، لیکن وہ بہت شرمیلا تھا اور دوسرے پرندوں کے ساتھ کھیلنے سے کتراتا تھا۔ہر شام گاؤں کے تمام پرندے دریا کے اوپر اونچی اڑان بھرتے اور مل کر گیت گاتے، لیکن رنگو ایک کونے میں بیٹھ کر بس انہیں دیکھا کرتا۔ اس کا دل تو بہت چاہتا تھا کہ وہ بھی ان کی طرح آزادانہ اڑے اور گائے، مگر اسے لگتا تھا کہ شاید اس کی آواز کسی کو پسند نہیں آئے گی۔ایک روز ہوا یہ کہ جنگل میں سخت طوفان آ گیا۔ کالی گھٹا چھا گئی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ باقی تمام پرندے ڈر کے مارے اپنے گھونسلوں میں چھپ گئے۔…
وہم
جنگل میں ایک گینڈا رہتا تھا۔ جسم ایسا بھاری کہ اس کے گزرنے سے راستے کے جھاڑ جھنکار دب جاتے، آواز ایسی گرج دار کہ چھوٹے جانور دور سے ہی راستہ چھوڑ دیتے، اور مزاج ایسا کہ کسی کو اس کے سامنے اپنی بات کہنے کی ہمت نہ ہوتی۔ جنگل کے بندر حجامت کے فن میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ ان کی بازار میں کئی دکانیں تھیں، جہاں جانور بال کٹوانے، داڑھی بنوانے اور حلیہ سنوارنے آتے تھے۔ گینڈا بھی ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی بندر کی دکان پر پہنچ جاتا، خوب خاطر مدارت کرواتا اور اجرت ادا کیے بغیر یہ جا، وہ جا۔ شروع میں بندروں نے اس کی طاقت کے خوف سے اسے برداشت کیا، مگر جب یہ روز کا معمول بن گیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ آخر ایک دن سب بندر جمع ہوئے اور طے کیا کہ اس مغرور گاہک…


















