Author Archives: NZ's Collection

Dos amigos cazadores alquilaron una avioneta, impulsados por su pasión por la caza, y llegaron al bosque. El destino les sonrió y ambos cazaron dos enormes rinocerontes. 🦏🦏 Ahora el problema era cómo transportarlos de vuelta. Ambos comenzaron a cargar los rinocerontes en la avioneta con todas sus fuerzas. El piloto entró en pánico y exclamó: “¡Señor! ¡Este peso es excesivo! ¡Puede que la avioneta ni siquiera pueda volar!” Los dos cazadores respondieron de inmediato: “¡Oye, amigo! ¡El piloto de la última vez no puso objeciones!” 😏 El piloto intentó explicarles… Pero finalmente se rindió ante su terquedad. La avioneta despegó… Se mantuvo en el aire unos instantes… ¡Y pum! 💥 La avioneta cayó al suelo debido al exceso de peso. Después de un rato, uno de los cazadores recuperó la consciencia. Miró a su alrededor, luego sacudió a su amigo y dijo: “¡Oh, Hari Singh…!” “¡Parece que hemos vuelto…

Read more

Un cazador atrapó un hermoso venado y lo ató a un establo lleno de burros. El indefenso venado corría de un lado a otro presa del pánico. Mientras tanto, los burros pastaban tranquilamente, como si no tuvieran otra preocupación en el mundo. El cazador siguió poniéndoles hierba delante toda la noche, pero el venado no podía comerla ni acostumbrarse a aquel entorno. El humo, el polvo y el ambiente extraño eran un castigo para él. Hazrat Maulana Rumi (RA) dice que cuando una persona se separa de su naturaleza y género original, esto también es una forma de castigo. Por eso, Hazrat Salomón (AS) dijo sobre la ausencia de Hudhud que si no da una excusa razonable, será severamente castigado. Los sabios dicen que la separación del género también es un gran castigo. De igual manera, nuestra alma también está aprisionada en el cuerpo de este mundo y anhela su…

Read more

ایک شکاری نے ایک خوبصورت ہرن شکار کیا اور اسے گدھوں سے بھرے ایک اصطبل میں باندھ دیا۔ بے چارہ ہرن گھبراہٹ سے کبھی اِدھر بھاگتا، کبھی اُدھر۔ دوسری طرف گدھے مزے سے گھاس کھانے میں مگن تھے، جیسے دنیا میں انہیں کسی اور چیز کی فکر ہی نہ ہو۔ شکاری رات بھر ان کے آگے گھاس ڈالتا رہا، مگر ہرن نہ وہ گھاس کھا سکا، نہ اس ماحول سے مانوس ہو سکا۔ دھواں، گرد و غبار اور اجنبی ماحول اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جب اس کی فطرت اور اصل جنس سے جدا کر دیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی سزا ہے۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُدہُد کی غیر حاضری پر فرمایا تھا کہ اگر وہ معقول عذر پیش نہ کرے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اہلِ معرفت کہتے ہیں…

Read more

دو شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اُڑ ھی نہ سکے!” دونوں شکاری فوراً بول اٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی… مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ کچھ دیر بعد ایک شکاری کو ھوش آیا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر…

Read more

ایک آدمی جھوٹ بولنے میں اتنا مشہور تھا کہ پورے علاقے میں اس کے چرچے تھے۔ 😄 ایک دن ایک نیک دل بوڑھی خاتون اس کی اصلاح کرنے پہنچ گئیں۔ کہنے لگیں:“بیٹا! سنا ھے تم دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے آدمی ھو؟” آدمی نے خاتون کو غور سے دیکھا اور بولا: “دنیا کو چھوڑیں اماں جی…مجھے تو حیرت یہ ھے کہ اس عمر میں بھی آپ کا حسن، آپ کی دلکشی اور یہ نورانی چہرہ… سبحان اللہ!” 😍 بوڑھی خاتون شرما کر دوپٹہ سنبھالتے ھوئے بولیں: “ہائے اللہ! 😳 یہ دنیا والے بھی کتنے ظالم ھیں… اتنے اچھے بھلے، سچے انسان کو جھوٹا کہتے ھیں!” 😂😂 🤣🤣🤣 سبق:کچھ لوگ سچ سے نہیں…تعریف سے فوراً قائل ھو جاتے ھیں! 😄 مزید مزاحیہ اور دلچسپ پوسٹس کے لیے ہماری پروفائل کو فالو کریں 😊👍

کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے بھائی! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…

Read more

ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا: بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟ کسان: حضور، چار روپے۔ بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟ کسان مسکرایا اور بولا:کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔ بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے وضاحت کی:کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔ دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ…

Read more

ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!” استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔” استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے…

Read more

کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ بغداد سے باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ ان کے مرید بھی ساتھ تھے۔ راستے میں شیخ نے پوچھا: “بہلول کہاں ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔” مریدوں نے عرض کیا:“حضرت! وہ تو ایک پاگل شخص ہے، آپ کو اس سے کیا کام؟” شیخ نے فرمایا:“مجھے اسی سے کام ہے، اسے تلاش کرکے لاؤ۔” لوگوں نے بہلولؒ کو تلاش کیا تو وہ ایک صحرا میں سر کے نیچے اینٹ رکھے، اللہ کی یاد میں گم بیٹھے تھے۔ شیخ جنیدؒ نے سلام کیا۔ بہلولؒ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: “تم کون ہو؟” انہوں نے فرمایا:“میں جنید بغدادی ہوں۔” بہلولؒ نے پوچھا:“کیا تم وہی شیخ جنید ہو جو لوگوں کو روحانی تعلیم دیتے ہو؟” شیخ نے جواب دیا:“جی ہاں۔” بہلولؒ نے اگلا سوال کیا:“کیا تم کھانا کھانے کا صحیح طریقہ جانتے ہو؟” شیخ جنیدؒ نے کھانے کے تمام ظاہری آداب بیان…

Read more

ایک ساحلی شہر میں، جہاں صبح کی پہلی کرن سمندر کی لہروں پر سنہری چادر بچھا دیتی تھی اور شام ڈھلے افق یوں سرخ ہو جاتا تھا جیسے کسی مصور نے آسمان پر سرخ رنگ بکھیر دیا ہو، وہیں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ مٹی کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ باغ، نہ مویشی، نہ سونا چاندی۔ اگر اس کے پاس کچھ تھا تو صرف ایک پرانی کشتی، برسوں پرانا جال اور دو مضبوط بازو، جن کے سہارے وہ ہر صبح رزق کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتا۔رزق کا واحد ذریعہ دریا تھا۔ جو مچھلی ہاتھ آتی، وہی بیچ کر دونوں کا چولہا جلتا۔ایک صبح قسمت نے عجیب کروٹ لی۔جال پانی سے کھینچا تو اس میں ایک ایسی نایاب مچھلی تھی جس کا جسم چاندی کی طرح چمک رہا تھا، اس کے پر سنہری تھے اور اس…

Read more

Una noche oscura, una furiosa tormenta convirtió el mar en un infierno. Un gran barco, luchando contra las olas, acabó partiéndose en pedazos. De entre cientos de pasajeros, solo dos desafortunados sobrevivieron. Ambos, exhaustos y con el cuerpo maltrecho, nadaron hasta la orilla de una isla desierta y estéril. El hambre, la sed y la desesperanza los rodeaban. Finalmente, decidieron que su único recurso era rezar a Dios. Pero una pregunta surgió en sus corazones: ¿a quién escucha Dios? Para competir, dividieron la isla en dos partes: una al norte y otra al sur. Ahora la decisión se tomaría mediante la oración. El primer día, ambos alzaron la mano para comer. Al amanecer, un frondoso árbol cargado de frutos creció en la tierra del primero. Comió hasta saciarse. En el otro lado… reinaba el silencio. Ni una brizna de hierba crecía en la tierra del segundo. Solo mordía de hambre.…

Read more

Un día, un mercader se presentó en la corte del rey y le ofreció dos perlas de gran belleza. Eran tan parecidas en tamaño, color y brillo que resultaba imposible distinguirlas. El mercader dijo: «¡Majestad! Una de estas dos perlas es auténtica y la otra es una imitación muy bien hecha. Si sus cortesanos logran diferenciar la original de la imitación, se las obsequiaré; pero si nadie puede identificarlas, tendrá que pagar su precio». El rey llamó inmediatamente a sus ministros, eruditos y cortesanos. Todos observaron las perlas con atención, las examinaron una y otra vez, pero nadie pudo decir con certeza cuál era auténtica y cuál era la imitación. Un silencio se apoderó de la corte. El rey temía que, si nadie respondía, el honor del reino se vería arruinado. Mientras tanto, un anciano ciego que se encontraba fuera de la corte pidió permiso para entrar y dijo: «¡Oh,…

Read more

En un pueblo nevado, un humilde carpintero rescató a una cigüeña herida de la trampa de un cazador. Unos días después, en una noche de nieve, una misteriosa mujer llegó a su puerta buscando refugio. El carpintero la invitó a entrar, poco a poco se enamoraron y se casaron. La mujer le prometió tejerle una tela preciosa, con la condición de que nunca mirara dentro de la habitación mientras tejía. El carpintero lo prometió. La mujer tejió una tela plateada muy hermosa, que vendieron y su pobreza comenzó a desaparecer. Este proceso se repitió dos veces más, pero cada vez la mujer se debilitaba más. El carpintero, dominado por la codicia y la curiosidad, no pudo contenerse por tercera vez y miró dentro de la habitación descalzo. Dentro no estaba la mujer, sino la misma cigüeña, que se estaba convirtiendo en hilo arrancándose la última ala de su cuerpo. La…

Read more

ایک برفانی گاؤں میں ایک غریب بڑھئی نے ایک زخمی سارس کو شکاری کے جال سے آزاد کروایا۔ کچھ دن بعد ایک برفانی رات میں ایک پراسرار عورت اس کے دروازے پر پناہ مانگنے آئی۔ بڑھئی نے اسے اندر بلایا، رفتہ رفتہ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ عورت نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک قیمتی کپڑا بُنے گی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ بُنائی کے دوران کبھی کمرے میں نہ جھانکے۔ بڑھئی نے وعدہ کیا۔ عورت نے ایک نہایت خوبصورت، چاندی جیسا چمکتا کپڑا بُن کر دیا جسے بیچ کر ان کی غربت دور ہونے لگی۔یہ سلسلہ دو بار مزید چلا، مگر ہر بار عورت پہلے سے زیادہ کمزور ہوتی گئی۔ بڑھئی، لالچ اور تجسس میں گھر کر، تیسری بار خود کو روک نہ سکا اور دبے پاؤں کمرے میں جھانک لیا۔ اندر عورت نہیں بلکہ وہی سارس تھا، جو اپنے ہی جسم سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک شیخ صاحب رہتے تھے۔ شکل سے بڑے معصوم مگر باتوں میں خاصے چالاک تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اور دل ہی دل میں پسند کر بیٹھے۔ اگلے ہی دن ہمت کرکے اس کے گھر جا پہنچے۔ شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” لڑکی نے حیران ہو کر پوچھا:“آخر تم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں؟” شیخ صاحب نے بڑے فخر سے جواب دیا:“میرے ابا گاؤں کے سب سے بڑے آدمی ہیں!” یہ سن کر لڑکی سوچنے لگی کہ یقیناً اس کے والد کوئی بہت بڑے زمیندار یا بااثر شخص ہوں گے۔ متاثر ہو کر اس نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی۔ چند دن بعد شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ جب لڑکی پہلی بار سسرال پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک نہایت بوڑھے بابا جی لاٹھی…

Read more

ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔ سوداگر نے کہا: “عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو…

Read more

ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…

Read more

Se cuenta que, en tiempos muy antiguos, vivía en una ciudad un hombre llamado Amanat. Trabajaba como vendedor de grano y tenía una tienda en un gran mercado en el centro de la ciudad. En su tienda vendía trigo, arroz, panela, azúcar, maíz y legumbres. Gracias a su honestidad, buenos modales y precios razonables, la gente venía de todas partes a comprarle. Dos niños también trabajaban en su tienda. Uno se llamaba Ehsan y el otro Maqsood. Tenían casi la misma edad, unos doce años. Estos niños pertenecían a familias pobres y sus padres ya habían fallecido. Vivían en el barrio de Amanat. Él conocía la situación de sus hogares, así que los contrató para trabajar en su tienda. Lo que ganaban allí se lo entregaban a sus madres, con quienes se encargaban de los gastos del hogar. Ambos ayudaban a Amanat con gran esfuerzo y dedicación. Amanat estaba muy…

Read more

Cada año, en un pueblo, se celebraba un concurso de tala de árboles. La sencilla regla era que quien cortara más leña al final del día sería el ganador. Este año, solo dos personas llegaron a la final. Uno era un leñador viejo y experimentado, y el otro, un joven fuerte. El joven estaba muy entusiasmado. En cuanto empezó el concurso, se adentró en el bosque y comenzó a cortar leña de inmediato. El leñador viejo se dirigió al otro lado del bosque y comenzó su trabajo con calma. Durante el concurso, el joven notó que el sonido del leñador viejo cortando leña se interrumpía intermitentemente al otro lado del bosque. El joven supuso que el leñador viejo descansaba de vez en cuando para recuperarse del cansancio. Aprovechó la oportunidad y comenzó a cortar leña más rápido. Cuando terminó el concurso, el joven contempló su montón de leña cortada con…

Read more

Una mujer pobre acudió a un sabio religioso. Su voz temblaba. «¡Señor! Mi hijo llora de hambre todas las noches. Ruegue por mí; así no volveré a ver esto». El sabio escribió en silencio unas palabras en un trozo de papel, lo dobló y se lo entregó a la mujer, diciéndole: «Cuídalo y ten plena confianza en Alá». A la mañana siguiente, al abrir la puerta, encontraron una bolsa llena de dinero. Hasta el día de hoy, nadie ha podido averiguar quién la dejó. La mujer y su esposo tomaron ese dinero como garantía y alquilaron una pequeña tienda. Trabajaron arduamente día y noche, haciendo negocios con honestidad y agradeciendo a Alá en cada paso. Poco a poco, el negocio empezó a crecer. Una tienda se convirtió en dos, luego en cuatro, y pronto Alá les concedió prosperidad. Muchos años después, la mujer estaba limpiando una caja vieja. De repente,…

Read more

100/3043
NZ's Corner