جادو کا توڑ –
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک ننھا خرگوش رہتا تھا، جس کی چھوٹی سی دُم تھی اور لمبے لمبے کان تھے وہ انتہائی شرارتی اور بد تمیز تھا۔ہمیشہ لوگوں کے نام بگاڑتا رہتا اور جب کبھی کوئی غصے سے ڈانٹتا تو اس کا تُرکی بہ تُرکی جواب دیتا۔اس کا نام جینو تھا۔وہ قریب ہی ایک بِل میں رہنے والے خارپشت (چوہے جیسا جانور جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں خطرے کے وقت وہ ان سے اپنا بچاؤ کرتا ہے) کو کانٹوں کا بوجھ کہہ کر پکارتا جس کا وہ بہت بُرا مناتا اور جینو سے کہتا کہ میں تمہاری ماں سے تمہاری شکایت کروں گا۔یہ سن کر جینو کی ہمیشہ ہنسی چھوٹ جاتی اور وہ شرمندہ ہونے کے بجائے کہتا کہ ٹھیک ہے تم میرے امی ابا کو بتاؤ، میرے بہن بھائی کو بتاؤ، بلکہ میرے دادا، دادی کو بتا کر اپنا شوق پورا کر لو۔…
موت کا فرشتہ –
گاؤں کا چودھری جمیل خان کتوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، مگر پھر اچانک ان کی سوچ تبدیل ہو گئی۔انھیں کتے اچھے لگنے لگے۔چودھری کے کہنے سے ان کے منشی نے اخباروں میں اچھی نسل کے ایک کتے کی ضرورت کا اشتہار دے دیا۔جمیل خان کو ایسا کتا درکار تھا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہے اور ان کے اشاروں کو سمجھے۔آخر جمیل خان کو اپنے مطلب کا کتا مل ہی گیا۔کتے کے ساتھ اس کو سدھانے والا بھی آیا اور کتے کی اس طرح ترتیب کی، جیسا کہ جمیل خان چاہتے تھے اور پھر وہ کتا ہر وقت جمیل خان کے ساتھ رہنے لگا۔وہ واقعی ایک اعلیٰ نسل کا کتا تھا، جو جمیل خان کے اشارے پر چلتا تھا۔یہاں تک کہ وہ جمیل خان کے کمرے میں سوتا بھی تھا۔اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے دو نوکر مقرر تھے۔ کتا اتنے مزے میں تھا کہ بعض…
اس دور کے بندر سیانے
پرانے زمانے کا دور تھا۔ایک شخص ٹوپیاں فروخت کرکے اپنی گزر بسر کیا کرتا تھا۔لوگ اس وقت ننگے سر پھرنا معیوب سمجھتے تھے اس لئے اپنے سروں پر ٹوپی یا پگڑی رکھتے تھے ایک دن گرمی کے موسم میں ٹوپیاں بیچنے والا دوپہر کے وقت ایک درخت کے سائے میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گیا اسے نیند آگئی۔اس کے برابر میں ٹوپیوں سے بھرا ہوا تھیلا رکھا ہوا تھا۔جب سوکر اٹھا تو اس نے دیکھا کہ ٹوپیوں سے بھرا ہوا تھیلا غائب ہے۔اچانک اس کی نظر درخت کے اوپر بیٹھے ہوئے بندروں پر پڑی جہاں بندر اس کی ٹوپیوں سے کھیل رہے تھے۔ٹوپیاں فروخت کرنے والا پریشانی میں اپنا سر کھجانے لگا۔لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تمام بندر اس کی نقل کرتے ہوئے اپنا اپنا سر کھجا رہے ہیں اس نے ایک دو حرکتیں اور کیں بندر اس کی ہر حرکت کی نقل کرتے رہے۔…
عقلمند مُرغا –
کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا اور بڑا مالدار بھی تھا وہ مختلف جانوروں کی بولیاں بھی اچھی طرح سمجھتا تھا اسی دن اس نے اپنے مویشی خانے میں گدھے اور بیل کو آپس میں باتیں کرتے سنا بیل گدھے سے کہہ رہا تھا تم خوش قسمت ہوں جبکہ میں سارا دن ہل چلاتا ہوں اور تم مزے سے رہتے ہوں گدھے نے کہا میرا کہا مانو تو تم بھی آرام پاﺅ گے کل کام کے وقت بیمار پڑجانا تو مالک تم سے کام نہیں لیں گا بیل نے خوش ہوکر تجویز پر پورا عمل کرنے کا یقین دلایا سوداگر نے ان کی باتیں سن لیں مگر خاموش رہا اگلے دن جب ملازم نے بیل کے بیمار ہونے کی اطلاع دی تو سوداگر مسکرا دیا اور کہا کہ گدھے کو لے جاﺅ نوکر گدھے کو لے گیااور شام تک کام لیا رات کو جب گدھا آیا تو بیل…
دوا نمبر اکیس –
ایک دن راحیل نے سنا کہ ایک نیا کلینک کھلا ہے اور ڈاکٹر کے پاس ہر قسم کی بیماری کا علاج ہے وہ بھی صرف تین سو روپے میں۔اگر علاج نہ ہو تو ایک ہزار روپے لے جائیں۔راحیل یہ سن کر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔اسے شرارت سوجی۔اگلے ہی دن وہ ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا:”ڈاکٹر صاحب!مجھے کسی چیز کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر نے نرس سے کہا:”دوا نمبر 21 لے کر آؤ۔“ڈاکٹر نے ایک چمچہ دوا راحیل کو پلا دی۔راحیل بے اختیار چیخا:”ڈاکٹر صاحب!یہ تو پیٹرول ہے۔“ڈاکٹر نے کہا:”ماشاء اللہ!آپ کی زبان کا ذائقہ واپس آگیا ہے۔تین سو روپے فیس دے دیجیے۔“راحیل کو مجبوراً پیسے دینے پڑے۔اگلے دن راحیل نے ڈاکٹر سے کہا:”ڈاکٹر صاحب!میری یادداشت ختم ہو گئی ہے،مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔ “ڈاکٹر نے نرس سے کہا:”دوا نمبر 21 لے کر آؤ۔“”نہیں ڈاکٹر صاحب نہیں۔“راحیل چیخا:”یہ تو پیٹرول ہے۔“”مبارک ہو،آپ کی یادداشت واپس آگئی،لائیے میری فیس۔“اس…
احمق بیوی
کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔“یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے اس نے گوشت…
موچی کی شادی
کسی گاؤں میں ایک بہت غریب موچی اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔یہاں اس کا کوئی بھی رشتے دار نہیں تھا۔وہ اتنا غریب تھا کہ اس نے کبھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ایک دن اسے بہت بھوک لگی تھی اور چاول کھانے کا دل چاہ رہا تھا۔اتفاق سے اسی دن اس کے پاس بہت سے گاہک آئے۔وہ بہت خوش تھا۔اس نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا اور پیسوں سے چاول اور مسالے خرید کر لایا اور جلدی جلدی دال چاول پکانا شروع کیے۔چاول پکانے کے بعد ان کو ایک بڑی سی پلیٹ میں ڈال دیا۔چاول بہت گرم تھے، اس لئے وہ ان کو اس وقت نہیں کھا سکتا تھا۔اس نے سوچا کہ پہلے پڑوسی کا ٹھیک کیا ہوا جوتا ان کو واپس کر آتا ہوں پھر آ کر مزے سے کھاؤں گا۔ وہ جوتا واپس کرنے چلا گیا، لیکن جاتے وقت اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا…
ہاتھی اور بندر میں ہوگئی لڑائی – ۔۔۔
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک اس نے سست طریقے سے چلتے ہاتھی کو دیکھا تو اس کو شرارت سوجھی اور جب ہاتھی اس درخت کے نیچے سے گزررہاتھا تو اس نے کیلے کا چھلکا اس کے پاؤں کے قریب پھینک دیا۔جس سے ہاتھی پھسلتے پھسلتے بچ گیا اور جب اُوپر بندر کو دیکھا تو غصے سے سونڈ لہرائی اور زور سے درخت پر ماری۔ بندر کی جرأت نہ پڑی کہ دوسرے درخت پہ چھلانگ لگاسکے اور دوسری مسئلہ یہ کہ درخت بھی کچھ فاصلے پر تھا اور جب ہاتھی نے اپنے پاؤں سے درخت کو جھٹکا دیا تو شرارتی بندر کوجان کے لالے پڑ گئے اس کو لگ رہا تھا ہاتھی درخت اکھاڑ کر اپنے پاؤں سے تلے مسل دے گا۔ اب…
ذہانت –
صدیوں پرانی بات ہے ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ رحمدل اور انصاف پسند تھا۔اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات تھے وہ جنگ و جدل سے بھی پرہیز کرتا تھا۔بادشاہ کی طرح شہزادے بھی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دن ملکہ کا ہیرے جواہرات اور قیمتی موتیوں والا ہار گم ہو گیا محل کے داروغے نے بہت کوشش کی ہار مل جائے مگر ہار نہ ملا اس نے انعام کا اعلان بھی کیا مگر کسی نے بھی اتنا قیمتی ہار واپس نہ کیا آخرکار معاملہ بادشاہ تک پہنچا اس نے دربار میں اعلان کیا کہ ہمیں اپنے نوکروں،خدمتگاروں پر بھروسہ ہے مگر افسوس ان میں سے کسی نے نمک حرامی کی ہے اور ہار واپس کرنے پر تیار نہیں کوئی ایسا ذہین آدمی چاہئے جو ہمیں ہار ڈھونڈ کر دے ہم اسے مالا مال کر دیں گے بہت سے لوگ آئے…
جوزی
جنوبی افریقہ کے ایڈو ہاتھی نیشنل پارک کے اندر گہرائی میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کا نام جوزی تھا۔ اس نے اپنے خاندان کا شکار کرنے اور ان کی حفاظت کرنے میں کئی سال گزارے تھے۔ لیکن جیسے جیسے وہ بوڑھی ہوتی گئی، ایک دکھ بھری بات ہوئی۔ جوزی آہستہ آہستہ اپنی بینائی کھو بیٹھی۔ جنگل میں، ایک اندھی شیرنی عام طور پر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی کیونکہ شکار کرنا اور خطرات سے بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن جوزی اکیلی نہیں تھی۔ اس کی دو بیٹیاں، ڈان اور ڈفی، نے اسے پیچھے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اپنی ماں کو جدوجہد کرنے دینے کے بجائے، انہوں نے ہر روز اس کی دیکھ بھال کی۔ وہ خاندان کے لیے شکاری بن گئیں، زیبروں، کُڈو اور حتیٰ کہ طاقتور بھینسوں کا پیچھا کرتیں اور انہیں پکڑتیں۔ ہر کامیاب شکار کے بعد، وہ جوزی کو آواز دیتیں تاکہ…
جس کا کام اُسی کو ساجھے ۔
آپ نے مُلا نصیر الدین کا نام یقینا سنا ہو گا اور اُن کے کارنامے بھی پڑھے ہوں گے ۔مُلا ایک ذہین وفطین اور مزاح والے تھے ۔وہ ایک بادشاہ کے دربار سے وابستہ تھے ۔بادشاہ نے اپنی سالگرہ پر اپنے وزرا،اُمراء اور درباریوں کو بہت سے انعامات سے نوازا اور عوام کو بھی کئی ٹیکس معاف کر دےئے ۔بہت سے قیدی رہا کر دےئے ۔ یہ انعام و اکرام پا کر مُلا قریبی ریاستوں کے سیاحتی دورے پر چلے گئے ۔ڈھائی تین ماہ بعد وہ واپس آئے تو دیکھا کہ بادشاہ کچھ پریشان ہے ۔پوچھا ؛”بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں “۔’جان کی امان دی ،پوچھو کیا پوچھتے ہو“؟بادشاہ نے کہا۔بادشاہ سلامت مجھے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ۔آپ کچھ بتانا پسند کریں گے؟ہاں بھئی مُلا پریشانی تو ہے ۔ کچھ دن پہلے دربار لگا ہوا تھا وزراء ،امراء ،روساء بیٹھے ہوئے تھے ،ہمیں…
الہٰ دین کے جن کا زوال –
الہٰ دین کا چراغ نسل در نسل ہوتا ہوا جب الہٰ دین ہفتم کے ہاتھ آیا (جو ایک سیدھا سادہ انسان تھا) تو اس نے باپ کی وفات کے اگلے ہی روز چراغ زمین پر رگڑا، جس سے فضا میں دھواں پھیل گیا اور پھر اس دھویں میں سے ان کا خاندانی جن خوف ناک قہقہے لگاتا ہوا نمودار ہوا۔ اس کے بازو مشرق اور مغرب میں پھیلے ہوئے تھے اور قد آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ جب یہ دھواں چھٹا اور اس قوی ہیکل جن کی دہلا دینے والی آواز فضا میں گونجی : ” کیا حکم ہے میرے آقا؟“ تو الہٰ دین ہفتم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کہا : ” ذرا دوڑ کر نکر والی دکان سے میرے لیے ایک سانچی پان لاﺅ۔“ جن کو اپنے نئے آقا کے اس حکم کی تعمیل میں بڑی شرم محسوس ہوئی، مگر اس نے تعمیل کی اور…
گدھے کی حجامت –
نجو نائی کی حجامت کا دور دور تک چرچا تھا۔وہ اپنے کام میں اس قدر ماہر تھا کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کے بھی حجامت کرتا تو کوئی ذراسی خامی باقی نہ چھوڑتا۔اس اعلاکارکردگی کے باعث بڑے بڑے اُمر،وزرا،مشیر ،شہر کے عام امیر نیز دور دراز علاقوں کے لوگ اس کے پاس آکے حجامت بنوانے میں اپنی خوش بختی تصور کرتے۔ایک دن نجونائی اپنی دکان پر کام میں مصروف تھا کہ لکڑیوں فروخت کرنے والے کسی شخص کی آواز آئی:”لکڑی لے لو․․․․․سوکھی لکڑی۔نجو نائی نے باہر نکل کر دیکھا تو اسے وہ شخص گدھے پر لکڑیاں لے جاتا نظر آیا۔نجو نائی بولا:”دو آنے لو اور لکڑی دے دو بھائی!“”ایک من لکڑی کے صرف دو آنے․․․․توبہ توبہ․․․․“لکڑی فروش منھ بنا کے جانے لگا تو نجو نائی اسے دیکھ کر کچھ سوچنے لگا۔ ”اے! ناراض مت ہو ،چلو تم ہی بتاؤ،کتنے میں دو گے؟“نجو نائی چلا یا۔”چار آنے سے کم میں نہیں…
جادو کا پانی –
بہت دنوں کی بات ہے کہ جنگل میں ایک لکڑہاراور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ دونوں بہت بوڑھے اور غریب تھے۔ لکڑہار ادن بھرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹتا اور شام کو انہیں شہر میں بچ آتا تھا۔ لکڑہار کی بیوی گھر کا کام کاج کرتی تھی۔ایک دن لکڑہارے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہاتھا۔ کہ اسے بہت زور کی پیاس لگی۔ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کہ کوئی کنواں یا تالاب نظرآئے تووہاں جا کر پانی پی لوں مگر جب کوئی کنواں یا تالاب نظر نہ آیا تو اس نے کلہاڑی ہاتھ سے رکھ دی۔ اور پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر پھرنے لگا۔تھوڑی دیر میں اُسے ایک تالاب مل گیا۔ جسے اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ تالاب صاف اور ٹھنڈے پانی سے بھرا ہواتھا۔ پانی کودیکھ کر بوڑھے لکڑہارے کی جان میں جان آئی۔ اس نے تالاب کے کنارے بیٹھ کر دو تین چلو پانی کے پئے۔خدا کی قدرت!…
مراثی اور طہارت 🤣
ایک میراثی زندگی میں پہلی بار مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔ باتھ روم سے طہارت کر کے نکلا تو مولوی صاحب باہر کھڑے تھے۔ مولوی صاحب نے کہا او میراثی! نماز کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔پہلے طہارت ہوتی ہے اور اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔جب بندہ باتھ روم میں داخل ہونے لگتا ہے تو اسے کھانسنا چاہئے پھر الٹا پاؤں رکھنا چاہیے۔اس کے بعد کافی دیر طہارت کے لئے بیٹھنا چاہئے ایک تو ہے کہ گیا اور فوراًِ ہی باہر نکل آیا میراثی کو بہت برا لگا مگر بولا کہ مولوی صاحب غلطی ہو گئی،آئندہ خیال رکھوں گا۔ میراثی اگلے دن مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب مولوی ٹوائلٹ میں جائے جیسے ہی مولوی صاحب طہارت کے لئے جانے لگے تو میراثی بھی ساتھ والے ٹوائلٹ میں گھس گیا مولوی صاحب نے سوچا کہ ابھی کل ہی تو میں…
سنہری لڑکی اور بھالو –
ایک جنگل کے کنارے ایک خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔وہ جتنی خوبصورت تھی ،اتنے ہی خوبصورت اس کے بال تھے۔اس کے سنہری بالوں کے لچھے دیکھ کر سب ہی اس کو ”گولڈی لوکس“کہتے تھے۔ہر صبح جب اس کی ماں گولڈی لوکس کے بالوں میں کنگھی کرتی تو کہتی ”میری پیاری گولڈی لوکس کے بال کتنے پیارے چمکیلے اور خوبصورت ہیں جیسے سونے کے لچھے ہوں۔“ایک دن گولڈی لوکس صبح کی سیر کو نکلی تو چلتے چلتے جنگل کی طرف نکل گئی۔جنگل میں پرندے چہچہارہے تھے اور پھول کھلے ہوئے تھے۔درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے اسے بہت اچھے لگے اور وہ جنگل کے اندر گھستی چلی گئی۔چلتے چلتے اس کو احساس ہوا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے۔اس کو اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ کس طرح جنگل سے نکل کر اپنے گھر جائے۔وہ اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہی تھی کہ اس نے درختوں کی طرف دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا۔وہ بھاگ…
کربھلا سوہو بھلا –
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بطخ دریا کے کنارے رہتی تھی کیونکہ اُسکا نرمرچکا تھا، وہ بیچاری ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔ ایک دن اسکی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اُسے بتایا کہ تمہاری بیماری ایسی کہ تم جلد مرجاوٴ گی۔ اُسے یہ سن کر صدمہ ہو ا کیونکہ اُسکے پاس ایک انڈا تھا۔ اُسے ڈرلگا کہ اگر وہ مر گئی تو اس انڈے کا کیا ہو گا جس میں سے جلد ہی بچہ نکلنے والا تھا اور پھر اس بچے کو کون سنبھالے گا۔ لہٰذا وہ جنگل میں رہنے والے اپنے سب دوستوں کے پا س گئی اور اُنہیں اپنی ساری کہائی سنائی لیکن ہرکسی نے ہی اُس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ بیچاری بطخ نے اُن کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے تم لوگ مرنے کے بعد میرے بچے کو اپنا سایہ دینا لیکن کسی…
ایک رات کے بدلے پوری بادشاہت
کہتے ہیں ایک بادشاہ شدید بیمار ہو گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے اپنی رعایا میں ایک عجیب اعلان کروا دیا۔ جو شخص میری وفات کے بعد ایک رات میری قبر میں گزارنے کے لیے تیار ہو جائے، میری پوری سلطنت، خزانے اور بادشاہت اسی کے نام کر دی جائے۔اعلان سنتے ہی پورا ملک خوف میں مبتلا ہو گیا۔ بادشاہت سب کو پسند تھی، لیکن قبر کی ایک رات… اس کا تصور ہی لوگوں کے جسم میں کپکپی پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ کسی نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی۔ اسی دوران ایک غریب کمہار سامنے آیا۔وہ ساری زندگی غربت میں جیا تھا۔ نہ اس کے پاس زمین تھی، نہ محل، نہ خزانے، نہ نوکر چاکر۔ اس کی کل کائنات صرف ایک گدھا تھا، جس پر سامان لاد کر وہ اپنی روزی کماتا تھا۔ اس نے سوچا:آخر مجھے…
Amistad y sacrificio –
En la corte del rey, entre los numerosos sirvientes, había dos amigos íntimos. Baqir se encargaba de ir a buscar agua al río, y Aqil de traer el dinero y cocinar. Aqil era muy descuidado y derrochador, pero también muy inteligente. Había asuntos del reino que el rey y sus ministros tenían tiempo para resolver, y cuando Aqil se enteraba de alguno, lo solucionaba con facilidad. Gracias a esta cualidad, Aqil gozaba de un lugar especial en el corazón del rey, quien a menudo le otorgaba numerosas recompensas. Baqir era un hombre sensato, pero detestaba profundamente cualquier tipo de derroche y extravagancia. Aqil, el cocinero, desperdiciaba mucha comida y bebida en la mina por su descuido, e incluso agua. Baqir siempre regañaba a Aqil. En respuesta, Aqil dijo: Me regañas por usar agua para que no tengas que traer más y así evitar dificultades, y la segunda razón es que…
🔥😏 Publicación política 😂💁♂️
Un día, el rey salió de caza 🏹. Como de costumbre, le preguntó al nuevo ministro sobre el tiempo. 🌦️ El ministro, con aire de superioridad 😤, dijo: «¡Majestad! El tiempo está muy agradable hoy, no hay riesgo de lluvia». ☀️😊 El rey quedó satisfecho y partió con su ejército. En el camino, se encontró con un alfarero. Este hizo una reverencia cortés y dijo: «¿Dónde está el refugio? Creo que pronto empezará a llover; mejor pospongamos la cacería». 🌧️😕 El rey lo consideró un hombre común y lo reprendió. Enfurecido, incluso le arrojó dos zapatos y dijo: «¡Confío más en mi ministro!». 😠👞 Pero no pasó mucho tiempo antes de que una densa nube cubriera el cielo. En cuanto la vio, comenzó a llover torrencialmente. El suelo del bosque se convirtió en lodazal, los soldados empezaron a resbalar y se les escapó todo el entusiasmo por la caza. 🌩️😅…