بادشاہ اور حجام
ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…
نادان اونٹ
ایک چالاک کوا، ایک خطرناک بھیڑیا اور ایک مکار لومڑی ایک شیر کی خدمت میں تھے۔ ان کا جنگل شاہراہِ عام کے نزدیک تھا۔ ایک بار ایک سوداگر کا اونٹ اس جنگل کے آس پاس چرتے چرتے آیا اور شیر کے نزدیک پہنچ گیا۔ اونٹ شیر کو دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ لہٰذا، اس نے فوراً شیر کو سلام کیا۔ شیر نے بھی سلام کا جواب دیا اور اس کی خیریت پوچھی۔ اونٹ نے جواب دیا: “اگرچہ آپ سے پہلے اپنے کام میں مجھے اختیار تھا، لیکن جب سے آپ کو دیکھ لیا، عنانِ اختیار ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب آپ جو فرمائیں گے، وہی کروں گا۔”شیر نے کہا: “اگر پسند ہو تو میری امان میں رہو۔”اونٹ بہت خوش ہوا اور اسی جنگل میں رہنے لگا۔ ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا اور…
بلاعنوان
کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:“تم نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی؟” اعرابی نے کہا: “وہ ابھی عدت میں ہے، ابھی تک میری بیوی ہے۔ مجھے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر میں اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کر دوں تو کل اس سے رجوع کیسے کروں گا؟” لوگ خاموش ہو گئے۔ عدت گزر گئی، مگر اعرابی نے رجوع نہ کیا۔ لوگ دوبارہ آئے اور پوچھا:“اب تو طلاق کی وجہ بتا دو!” اعرابی نے جواب دیا: “اب وہ میری بیوی نہیں رہی۔ اگر میں اس کے عیب بیان کروں گا تو اس کی شخصیت خراب ہوگی، اور شاید کوئی اس سے شادی نہ کرے۔” کچھ عرصے بعد اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو گئی۔ لوگ پھر اعرابی کے پاس پہنچے:“اب تو وہ کسی اور کی بیوی ہے، اب تو بتا دو کہ طلاق کیوں…
عشقِ مجازی
اصلاحِ نفس کے لیے ایک آدمی اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوا اور شیخ کے تجویز کردہ اوراد و وظائف کو پابندی کے ساتھ پڑھنے لگا۔ شیخ کے گھر سے ایک خادمہ اس کے لیے کھانا لایا کرتی تھی۔ چند دنوں کے بعد وہ اصلاحِ نفس کرنے والا آدمی نفس کے جال میں پھنسنا شروع ہو گیا۔وہ آہستہ آہستہ خادمہ کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ جب خادمہ کھانا لے کر آتی…… وہ اسے دیکھتا رہتا۔ خادمہ اللہ والوں کی نوکر تھی۔ اس نے صاف صاف شیخ صاحب کو بتلا دیا کہ حضور! آپ کا فلاں مرید میرے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب اس کو اوراد و وظائف سے کیا نفع ہوگا پہلے اس کا یہ مسئلہ حل کریں۔ شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو گئے اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کرنے لگے کہ الٰہی مجھے اس مسئلے کا حل عطا فرما۔ چند دنوں…
بندہ پروری
ہرات کا نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام الناس، مسافر، تاجر، الغرض تمام لوگ خوش تھے، اور یہ بادشاہِ وقت کا وفادار ساتھی تھا۔ بادشاہ اس پر مکمل اعتماد کرتا تھا۔ اس نواب کے کافی تعداد میں غلام تھے جن کو وہ بیٹوں کی طرح آرام اور زیب و زینت سے رکھتا تھا۔ اطلس اور کمخواب کی قبائیں اور ان پر گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان دو بالا کئے دیتی تھیں۔ ان شاندار زیب و زینت سے آراستہ غلاموں کی ٹولیاں بازار میں گشت کر رہی تھیں۔ایک غریب مفلس قلاش شخص جو بھوکا اور ننگا تھا۔ ان کو دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا یہ رئیس زادے کون ہیں؟ جواب دینے والے نے کہا: “یہ ہمارے اس علاقے کے نواب کے نوکر چکر ہیں۔” وہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے…
ملا نصیرالدین کا انوکھا حساب🤣
ایک دن ملا نصیرالدین حمام گئے۔ ان کے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ دیکھنے والا فوراً یہی سمجھے کہ یہ کوئی غریب آدمی ہیں۔ حمام کے خادم نے بھی یہی سوچا۔ اس نے نہ خاص توجہ دی، نہ اچھی خدمت کی۔ تولیہ بھی ایسے لا کر دیا جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔ مگر جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو انہوں نے خادم کو اچھی خاصی بخشش دے دی۔ خادم حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر معمولی خدمت پر اتنی بخشش ملی ہے تو اگلی بار خوب خدمت کروں گا!” ایک ہفتے بعد ملا نصیرالدین دوبارہ حمام پہنچے۔ اس بار خادم دوڑتا ہوا آیا۔ بڑے ادب سے استقبال کیا، بہترین تولیہ دیا، گرم پانی کا انتظام کیا اور ہر طرح کی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ وہ دل ہی دل میں بڑی بخشش کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو…
بدی کی سزا بدی ہے
پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا جو بڑا ہی ظالم، خونخوار اور جفا پیشہ تھا ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتا تھا۔ ایک فقیر نے اس کے لیے بد دعا کی اور اس پر لعنت ملامت بھیجی۔ ایک دن وہ بادشاہ شکار سے لوٹا تو منادی کرا دی کہ ” میں نے ایک عمر تک غریبوں اور کمزوروں پر ظلم و ستم کیا۔ انھیں طرح طرح کی ایذائیں دیں ۔ لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ اب میں سچے دل سے توبہ کروں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آج سے کبھی اپنی رعایا کو آزار نہ پہنچاؤں گا اور کسی ستم گر کے قدم اپنی سلطنت کے کسی گلی کوچے میں پڑنے نہ دوں گا۔ اس خوشخبری سے رعایا کی جان میں جان آئی اور کچھ ہی دنوں میں اس کا عدل انصاف یہاں تک پہنچا کہ اس کا لقب ” بادشاہ دادگر مشہور ہو گیا۔ اس کے دور…
بلاعنوان
ایک دن، ایک آدمی اپنے ایک دانا اور بزرگ دوست سے ملنے گیا۔ جیسے ہی وہ بیٹھا، اس نے شکوہ کرنا شروع کر دیا۔اس نے کہا، “میری زندگی میں ہر چیز غلط ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ میں حسد کرنے والے اور مشکل مزاج لوگوں سے گھرا ہوا ہوں۔ کوئی نہ کوئی ہمیشہ مجھ پر تنقید کرتا رہتا ہے، مجھے مایوس کرتا ہے، یا میرا مزاج خراب کرتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے آس پاس صرف منفی پن ہے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟”بزرگ نے بغیر روکے اس کی بات سنی۔ پھر اس نے کمرے کے گرد نظر ڈالی اور کہا، “اس کمرے کو اچھی طرح دیکھو اور اس میں موجود ہر اس چیز کو یاد رکھنے کی کوشش کرو جو بھورے (brown) رنگ کی ہے۔”آدمی کو یہ ایک عجیب سی بات لگی، لیکن اس نے حکم کے مطابق کیا۔ اس نے لکڑی کی میز، کتابوں کی الماری، چمڑے کی…
بےعیب تصویر
ایک بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی لنگڑا تھا۔ لیکن ان مصوروں میں سے ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر ۔ چنانچہ اس کو تمام سامان مہیا کر دیا گیا اوروہ دل و جان سے تصویر بنانے میں لگ گیا۔جب تصویر تیار ہوئی تو وہ اپنی خوبصورتی میں ایک بہترین…
کھوٹے سکے
بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…
ایک استاد، ایک انگوٹھی
ایک روز ایک نوجوان اُستاد کے پاس آیا اور بولا: “میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کیونکہ میں خود کو بہت بے کار اور حقیر سمجھتا ہوں، مجھے جینے کی خواہش نہیں رہی۔ میرے اردگرد سب لوگ کہتے ہیں کہ میں ایک ناکام اور بدکردار انسان ہوں۔ اُستاد جی، میں آپ سے التجا کرتا ہوں — میری مدد کریں!” اُستاد نے نوجوان پر ایک سرسری نظر ڈالی اور جلدی سے بولے: “معاف کرنا، میں ابھی بہت مصروف ہوں اور تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔ مجھے ایک نہایت ضروری کام نمٹانا ہے۔” پھر ایک لمحہ سوچ کر بولے: “لیکن اگر تم میرے کام میں ہاتھ بٹاؤ، تو میں خوشی سے تمہاری مشکل بھی حل کروں گا۔” “جی… جی ضرور، اُستاد جی،” نوجوان نے ہکلاتے ہوئے کہا، دل میں یہ کڑواہٹ لیے کہ ایک بار پھر اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ “بہت اچھا،” اُستاد نے کہا اور اپنی بائیں ہاتھ…
ہر جگہ قابلیت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی
جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دن اعلان کیا کہ شاہی دربار میں ایک اہم عہدہ خالی ہے اور اس کے لیے پورے جنگل سے امیدوار درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ عہدہ بھی معمولی نہیں تھا؛ اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کیا جانا تھا، یعنی بادشاہ کے قریب رہنا، دربار کے معاملات دیکھنا، مختلف جانوروں کے درمیان رابطہ رکھنا اور اہم مواقع پر بادشاہ کی نمائندگی کرنا۔ اعلان ہوتے ہی جنگل میں جیسے روزگار کی بہار آ گئی۔ ہاتھی نے درخواست دی کہ اس سے زیادہ مضبوط اور ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، ریچھ نے کہا کہ طاقت اور تجربے میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں، ہرن نے اپنی پھرتی اور خوب صورتی کو قابلیت سمجھا، بھیڑیے نے اپنی بہادری گنوائی، اونٹ نے اپنی برداشت کا حوالہ دیا، بندر نے اپنی حاضر جوابی کو اپنی سب سے بڑی خوبی قرار دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے…
بڑھیا اور بلی
کسی ملک میں ایک بڑھیا رہتی تھی جو بہت ہی غریب تھی۔ اس کی جھونپڑی جاہلوں کے دماغ اور کنجوسوں کے دل کی طرح بے حد تنگ تھی۔ اس نے ایک بلی پال رکھی تھی جو اس کی واحد دوست تھی، مگر مفلسی کی وجہ سے بڑھیا اسے اس کی مرضی کے مطابق کھانا نہیں کھلا سکتی تھی۔بلی مشکل سے روٹی کی شکل دیکھ پاتی تھی۔ کبھی کبھی جب اسے کسی سوراخ سے چوہے کی بو آتی تھی، تو وہ صرف اس کے قدموں کے نشانات دیکھ کر ہی اپنی تسکین کر لیتی تھی، یا اتفاق سے کوئی چوہا اس کے ہاتھ آجاتا تو اس کا کام چل جاتا تھا۔ اس وقت وہ اتنی خوش ہوتی تھی جیسے کسی بھکاری کو خزانہ مل گیا ہو۔ لیکن اس کسمپرس کی وجہ سے وہ روز بہ روز لاغر اور کمزور ہوتی جارہی تھی۔ایک دن وہ بڑی مشکل سے بڑھیا کے گھر کی…
بلاعنوان
جب میں چھوٹا تھا، تو میرے دادا جان نے مجھ سے کہا تھا:“بیٹا، اپنا چھترا (چھتری) کبھی بھی ایسے شخص کو ادھار نہ دینا جو صرف بارش شروع ہونے پر تمہیں یاد کرتا ہو۔”اس وقت، میں اسے واقعی سمجھ نہیں پایا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ دادا لوگوں کی پرانی اور اچھی باتوں میں سے ایک ایسی بات ہے—جو سننے میں تو عقلمندانہ لگتی ہے، لیکن ایک بچے کے لیے اس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہوتا۔پھر میں بڑا ہو گیا۔اور زندگی نے، جیسا کہ اکثر وہ کرتی ہے, مجھے اس کا مطلب مشکل طریقے سے سکھایا۔میں نے سیکھا کہ کچھ لوگ صرف اس وقت سامنے آتے ہیں جب انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس وقت فون کرتے ہیں جب ان کی زندگی بکھرنے لگتی ہے، جب پیسے کی تنگی ہوتی ہے، جب کوئی رشتہ ٹوٹتا ہے، جب انہیں کسی احسان، سواری، رہنے کے لیے جگہ،…
بادشاہ کی انگوٹھی کا راز…….. ایک سبق آموز کہانی
ایک عظیم بادشاہ نے ایک دن اپنے دربار کے تمام دانا لوگوں کو بلایا اور کہا: “مجھے ایسا جملہ بتاؤ جو خوشی میں بھی کام آئے، غم میں بھی… فتح میں بھی، شکست میں بھی۔ ایسا راز جو ہر حال میں مجھے سنبھال سکے۔” دربار میں خاموشی چھا گئی۔ کافی دیر بعد ایک بوڑھا دانا آگے بڑھا۔ اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا، اسے تہہ کیا اور بادشاہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا: “حضور! اسے اپنی انگوٹھی کے نیچے چھپا کر رکھیں۔ مگر اسے صرف اس وقت پڑھیں جب آپ کو لگے کہ دنیا میں کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔” بادشاہ نے کاغذ لے لیا اور انگوٹی کے نیچے چھپا دیا۔ کچھ عرصے بعد دشمنوں نے سلطنت پر حملہ کر دیا۔ جنگ کئی دن جاری رہی، مگر آخرکار بادشاہ کی فوج شکست کھا گئی۔ بادشاہ جان بچا کر گھوڑے پر بھاگ رہا تھا۔ دشمن اس کے پیچھے تھے۔ وہ…
بلاعنوان
ایک دوپہر، کالج کا ایک نوجوان طالب علم اپنے ایک پروفیسر کے ساتھ سیر کے لیے نکا۔ جب وہ ایک دیہاتی سڑک پر چل رہے تھے، تو طالب علم کی نظر کھیت کے کنارے پڑی ایک پرانی اور خستہ حال جوڑی پر پڑی۔ وہ جوتے غالباً کسی غریب کسان کے تھے جو قریب ہی اپنے دن کا کام ختم کر رہا تھا۔طالب علم مسکرایا اور بولا، “پروفیسر، آئیے اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا مذاق کرتے ہیں۔ ہم اس کے جوتے چھپا دیتے ہیں، پھر ان جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر دیکھتے ہیں کہ جب وہ واپس آئے گا تو کیا کرے گا؟”پروفیسر نے اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا، “بیٹے! ہمیں کبھی بھی کسی دوسرے کی مجبوری یا تکلیف پر اپنے دل بہلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن چونکہ تمہارے پاس اس شخص سے زیادہ وسائل ہیں، اس لیے تم اسے ایک اور طرح کا سرپرائز دے…
بلاعنوان
ایک شخص نے ایک خوبصورت عورت سے شادی کی جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔ سالوں بعد، اسے جلد کی ایک سنگین بیماری لاحق ہو گئی جس نے آہستہ آہستہ اس کی ظاہری شکل بدل دی اور اس کی وہ خوبصورتی چھین لی جس کی وجہ سے وہ کبھی جانی جاتی تھی۔بالکل اسی دوران، اس کا شوہر کاروباری سلسلے میں شہر سے باہر گیا۔ جب وہ واپس آ رہا تھا، تو وہ ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا۔ جب وہ واپس لوٹا، تو سب کا یہی خیال تھا کہ وہ اپنی بینائی کھو بیٹھا ہے۔زندگی چلتی رہی، اور دونوں میاں بیوی اکٹھے رہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بیوی کی بیماری مزید بگڑتی گئی اور اس کی ظاہری شکل یکسر بدل گئی۔ لیکن اس کے شوہر نے اس کے ساتھ ذرا بھی رویہ تبدیل نہیں کیا۔ وہ اب بھی اس سے اتنی ہی نرمی سے بات کرتا،…
شیر پر سواری
طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک آدمی جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمة اللہ علیہ کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔ راستے کی دُوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی۔آخر ایک دن شوقِ زیارت نے اس کو بے تاب کر دیا۔ رخِ زیبا کی زیارت کے لئے سامانِ سفر باندھ لیا۔ راستہ کٹھن اور دشوار گزار تھا۔ لیکن وہ ہمت کا پکا تھا۔ کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پُر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزلِ مقصود تک پہنچ گیا۔ شہر خرقان میں آ کر اس نے شیخ ابوالحسن رحمة اللہ علیہ کے گھر کا پتا دریافت کیا۔ وہاں جا کر نہایت ادب کے ساتھ دروازے کی زنجیر ہلائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا کون ہے۔ اس نے جواب دیا! میں…… حضرت شیخ ابو الحسن…
ایک تلخ حقیقت پر مبنی جذباتی کہانی
سورج ڈھل رہا تھا اور حویلی کے صحن میں سناٹا تھا۔ آج علی کے والد، چوہدری صابر کے دنیا سے رخصت ہوئے پورا ایک سال گزر چکا تھا۔علی کو وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب اس کے والد زندہ تھے۔ حویلی میں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ چاچا، تایا، ماموں، خالاؤں اور تمام عزیز و اقارب کا آنا جانا لگا رہتا۔ باپ کا سایہ ایک ایسے گھنے درخت کی طرح تھا جس کے نیچے پورا خاندان پناہ لیے ہوئے تھا۔ والد صاحب کا رعب اور ان کی شفقت ایسی تھی کہ کوئی رشتے دار علی اور اس کی بہن کو نظر انداز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن باپ کے دنیا سے جاتے ہی، جیسے وقت کی ہوا کا رخ ہی بدل گیا۔شروع کے چند ہفتے تو لوگ تعزیت کے بہانے آتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ حویلی کی رونقیں مانند پڑنے لگیں۔ چھ ماہ گزرتے…
بلاعنوان۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ آم کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت تھا۔ ایک چھوٹا بچہ روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے آیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس نے درخت کے پاس آنا چھوڑ دیا۔کافی عرصے بعد، جب وہ ایک بار پھر اس درخت کے پاس آیا، تو اس نے درخت کو بہت اداس پایا۔ درخت نے اسے دیکھ کر خوشی سے پوچھا، “کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے؟”لڑکے نے جواب دیا، “اب میں بچہ نہیں رہا۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کھیل کی نہیں۔”درخت نے محبت سے کہا، “میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں، لیکن تم میرے سارے آم توڑ کر لے جاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”لڑکے نے تمام آم توڑے اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد درخت ایک بار پھر اداس اور تنہا رہ…
