ایک میراثی زندگی میں پہلی بار مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔
باتھ روم سے طہارت کر کے نکلا تو مولوی صاحب باہر کھڑے تھے۔
مولوی صاحب نے کہا او میراثی! نماز کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔
پہلے طہارت ہوتی ہے اور اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔
جب بندہ باتھ روم میں داخل ہونے لگتا ہے تو اسے کھانسنا چاہئے پھر الٹا پاؤں رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد کافی دیر طہارت کے لئے بیٹھنا چاہئے
ایک تو ہے کہ گیا اور فوراًِ ہی باہر نکل آیا
میراثی کو بہت برا لگا مگر بولا کہ مولوی صاحب غلطی ہو گئی،آئندہ خیال رکھوں گا۔
میراثی اگلے دن مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب مولوی ٹوائلٹ میں جائے
جیسے ہی مولوی صاحب طہارت کے لئے جانے لگے تو میراثی بھی ساتھ والے ٹوائلٹ میں گھس گیا
مولوی صاحب نے سوچا کہ ابھی کل ہی تو میں نے میراثی کی بےعزتی کی ہے۔اب اگر میں میراثی سے پہلے نکلا تو اس نے مجھے ذلیل کر دینا ہے۔
مولوی کھانسا تو میراثی بھی کھانسا۔
مولوی بیٹھا رہا،میراثی بھی بیٹھا رہا۔
اذان مغرب ہو گئی،نمازی سمجھے کہ مولانا کہیں مصروف ہیں،اس لئے نماز بھی شروع کر دی۔
عشاء کی اذان ہو گئی،نماز بھی ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد میراثی کا بیٹا آیا،آواز لگائی۔
باپ نے جواب دیا تو بولا ابا گھر آ۔ روٹی کھانے بھی نہیں آیا،اب گاۓ کا دودھ نکالنے کے لیے تو آ جا۔
باپ نے کہا پتر تو گھر جا ماں کو کہنا کہ دودھ نکال لے۔
بہنوں کا خیال رکھنا،اپنی پڑھائی پر دھیان دینا اور جب بہنیں بڑی ہو جائیں تو اچھے رشتے دیکھ کر ان کی شادی کر دینا۔
یہ پیغام لے کر میراثی کا بیٹا واپس چلا گیا۔
کچھ دیر بعد مولوی کا بیٹا باپ کو ڈھونڈتے مسجد آ پہنچا
بیٹے نے آواز دی تو مولوی نے جواب دیا۔
بیٹے نے کہا ابا تو ساری رات گھر نہیں آیا،اماں راہ دیکھتی رہ گئی۔اب مجھے بھیجا کہ تمھیں ڈھونڈ کر لاؤں۔
ابا گھر کب آؤ گے ؟
مولوی نے روہانسی سی آواز میں کہا پتر ماں کو بولنا کہ اک حرامی کے ساتھ واسطہ پڑ گیا ہے،اس لۓ میری راہ تکنا چھوڑ دے اور اب دوسری شادی کر لے
