ایک عجیب و سبق آموز واقعہ

ایک عجیب و سبق آموز واقعہ

بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ مامون الرشید نے ایک نصرانی شخص کو پانچ سو درہم کے مطالبے میں قید کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ایک سوار کو روانہ کیا۔

راستے میں سوار کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کے سر پر گھاس کا ایک بڑا گٹھا تھا اور وہ ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ سوار نے آگے بڑھ کر اس گٹھے کو سیدھا کیا، لیکن وہ دوسری طرف جھک گیا۔

اس پر سوار کی زبان سے بے اختیار نکلا:

«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»

یعنی:

“اللہ بلند و عظیم کے سوا نہ کسی میں طاقت ہے اور نہ قوت۔”

نصرانی نے یہ کلمہ سنا تو اس کی عظمت کا اظہار کرنے لگا۔

سوار نے حیرت سے پوچھا:

“جب تم اس کلمے کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو اور اسے اتنا بزرگ سمجھتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟”

نصرانی نے جواب دیا:

“میں نے یہ کلمہ آسمان کے فرشتوں سے سیکھا ہے۔”

یہ سن کر سوار کو بہت تعجب ہوا۔ جب وہ خلیفہ مامون الرشید کے پاس پہنچا تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا۔

خلیفہ نے نصرانی کو اپنے سامنے طلب کیا اور پوچھا:

“تم نے یہ کلمہ فرشتوں سے کیسے سیکھا؟”

نصرانی نے اپنا عجیب واقعہ بیان کرنا شروع کیا:

“میرا ایک چچا بہت مالدار تھا اور اس کی ایک انتہائی خوبصورت بیٹی تھی۔ میں نے اس سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، لیکن میرے چچا نے انکار کر دیا اور اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا۔ اتفاق سے شادی کی رات ہی اس کا شوہر فوت ہوگیا۔”

“میں نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا، مگر پھر انکار کر دیا گیا اور اس کا نکاح ایک دوسرے شخص سے کر دیا گیا۔ وہ شخص بھی شادی کی رات ہی فوت ہوگیا۔”

“تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد جب میں نے چوتھی مرتبہ پیغام دیا تو آخرکار میرے ساتھ اس کا نکاح کر دیا گیا، کیونکہ اب کوئی اور شخص اس لڑکی سے نکاح کے لیے تیار نہ تھا۔”

نصرانی کہنے لگا:

“جب میں اپنی بیوی کے پاس گیا تو اچانک میرے سامنے ایک خوفناک شیطان ظاہر ہوا، جو دیکھنے میں پہاڑ کے ایک بڑے ٹکڑے کی مانند تھا۔ اس نے مجھے زور سے دھکا دیا اور پوچھا:”

“تم یہاں کیوں آئے ہو؟”

میں نے جواب دیا:

“میں اپنی بیوی کے پاس آیا ہوں۔”

اس نے کہا:

“کیا تمہیں اس کے پہلے شوہروں کا انجام معلوم نہیں؟ میں نے ہی ان کے ساتھ وہ سب کیا تھا!”

میں نے کہا:

“ہاں، مجھے معلوم ہے۔”

اس نے کہا:

“اگر تم اس بات پر راضی ہو جاؤ کہ یہ عورت رات کے وقت میری ہوگی اور دن میں تمہاری، تو ٹھیک ہے۔ ورنہ میں تمہیں بھی قتل کر دوں گا۔”

میں نے مجبوری میں کہا:

“میں راضی ہوں۔”

یوں ایک عرصے تک یہی معاملہ چلتا رہا۔

پھر ایک رات شیطان نے مجھ سے کہا:

“آج میری باری ہے کہ میں آسمان پر جا کر فرشتوں کی گفتگو سنوں۔ کیا تم میرے ساتھ چلنا چاہتے ہو؟”

میں نے کہا:

“ہاں، میں تیار ہوں۔”

وہ ایک بڑے اونٹ کی شکل میں بدل گیا اور مجھے اپنی پشت پر سوار کر لیا۔ پھر وہ ہوا میں بلند ہونے لگا۔

جب ہم اوپر پہنچے تو میں نے فرشتوں کو یہ کلمہ پڑھتے ہوئے سنا:

«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»

جیسے ہی شیطان نے یہ کلمات سنے، وہ اچانک الٹا ہوا اور زمین پر مردہ جیسا جا گرا۔ میں بھی اس کے قریب جا گرا۔

کچھ دیر بعد اسے ہوش آیا تو وہ مجھے واپس میرے گھر لے آیا۔

اس کے بعد میں نے اپنی بیوی سے کہا:

“گھر کے تمام سوراخ، دروازوں کی درزیں اور روشن دان اچھی طرح بند کر دو۔”

رات کو شیطان دوبارہ گھر میں داخل ہوا۔ میں نے دروازہ بند کر دیا اور دروازے کے پاس کھڑے ہو کر وہی کلمہ پڑھنا شروع کیا:

«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»

پھر مجھے گھر کے اندر ایک زوردار آواز سنائی دی۔

میں نے دوسری مرتبہ یہی کلمہ پڑھا، پھر تیسری مرتبہ بھی پڑھا۔

اتنے میں میری بیوی نے مجھے آواز دی:

“اندر آ جاؤ!”

میں اندر گیا تو اس نے بتایا:

“جب تم نے پہلی مرتبہ یہ کلمہ پڑھا تو شیطان بھاگنے کے لیے راستہ تلاش کرنے لگا، لیکن اسے کوئی راستہ نہ ملا۔”

“جب تم نے دوسری مرتبہ یہ کلمہ پڑھا تو آسمان سے آگ اتری اور اسے گھیر لیا۔”

“اور جب تم نے تیسری مرتبہ یہ کلمہ پڑھا تو وہ آگ اسے جلا کر راکھ کر گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ملعون سے نجات عطا فرمائی۔”

یہ پوری داستان سننے کے بعد خلیفہ مامون الرشید بہت متاثر ہوئے۔

انہوں نے اس نصرانی کو آزاد کر دیا اور وہ پانچ سو درہم بھی معاف کر دیے جن کے مطالبے کی وجہ سے اسے قید کیا گیا تھا۔

سبق:

یہ واقعہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ذکر کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ»

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی طاقت اور قوت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انسان جب خود کو بے بس محسوس کرے، مشکلات سے گھِر جائے یا کسی آزمائش میں مبتلا ہو تو اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر، وسوسے، آزمائش اور پریشانی سے محفوظ فرمائے، اپنے ذکر کی محبت عطا فرمائے اور ہر حال میں اپنی مدد و حفاظت ہمارے شاملِ حال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Leave a Reply

NZ's Corner