Category Archives: Urdu Stories

کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔ کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔راستے میں کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا۔وہاں سے ایک درویش کا گزررہا تھا۔اس نے سوداگر کو دیکھا تو ان کے برابر میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگا۔وہ دونوں دوست بن گئے۔سوداگر نے پوچھا:”تم کہاں جارہے ہو؟“درویش نے جواب دیا:”مجھے ایک ایسی سرنگ کا پتاچلا ہے جس میں سونا بند ہے ،میں وہی سوناڈھونڈنے جارہا ہوں۔ اب میں چلتا ہوں۔“سوداگر نے کہا:”رکو،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔“سوداگر نے کہا:”اگر اس سرنگ میں سے سونا نکلا تو ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔(جاری ہے) “جب سرنگ کے قریب پہنچے تو درویش نے کوئی منتر پڑھا۔وہ سرنگ فوراً کھل گئی اور اس سرنگ کے کھلتے ہی…

Read more

آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی اجازت دی۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک فارس پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ بہت پریشان رہتا تھا کیونکہ ملک میں چوری اور ڈکیتی عام تھی،باوجود کوشش کے بھی وہ اس پر قابو نہیں پا رہا تھا۔ایک دن بادشاہ پریشانی میں محل سے نکل کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس نے دیکھا ایک لکڑہارا بہت محنت سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔لکڑہارا بادشاہ کو دیکھ کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت!آپ کسی شاہی سواری میں نہیں آئے؟بادشاہ نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو اس نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟بادشاہ نے سر ہلایا تو وہ بولا آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی…

Read more

کسی گاؤں میں دینو نام کا ایک کمہار رہا کرتا تھا۔دینو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔مٹی سے بڑے خوبصورت اور پائیدار برتن بنانا جانتا تھا۔ایک دفعہ اس کے بنائے ہوئے ایک برتن کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر گاؤں کے سخی زمیندار نے اسے ایک چھوٹا سا کھیت تحفے میں دے دیا۔اب دینو تو کمہار تھا۔وہ برتن بنانا تو جانتا تھا، مگر وہ تو کھیتی باڑی کے کام سے بالکل واقف نہ تھا۔اسے بس یہ معلوم تھا کہ کھیت میں ہل چلا کر اگر بیج بو دیا جائے تو فصل اُگ آتی ہے۔اس نے کھیت میں ہَل تو چلا دیا، مگر اب سوچ میں پڑ گیا۔پھر وہ فوراً بازار گیا اور بازار میں اسے جو بیج اچھا لگا، وہ اُٹھا لایا۔وہ سیدھا اپنے کھیت میں پہنچا اور سارے بیج پورے کھیت میں پھیلا دیے۔(جاری ہے) دینو کمہار نے جو بیج لگائے تھے وہ کسی سبزی یا پھل کے نہیں،…

Read more

رنگا بھالو اپنی سستی کی وجہ سے جنگل بھر میں نالائق اور نکما مشہور تھا۔جنگل کا قانون تھا کہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کا کھانا نہیں چرائے گا بلکہ خود محنت کرے گا لیکن اب بھلا رنگا کو یہ بات کون سمجھاتا؟اُسے جس نے بھی سمجھایا،وہ سمجھا سمجھا کر تھک گیا وہ کبھی کسی کی مچھلیاں چُرا لیتا اور کبھی شہد کی مکھیوں کو بھگا کر اُن کا شہد ہڑپ کر جاتا۔اپنی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے وہ کئی بار پٹ بھی چکا تھا لیکن رنگا کو باز آنا تھا،نہ آیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔سردیوں کی ایک رات بھوک سے رنگا کا بُرا حال تھا کہ اچانک اُسے درخت پر بھن بھن کی آوازیں سنائی دیں۔اس نے جب اوپر نظر اٹھائی تو اُسے شہد کا چھتا نظر آیا۔اب تو رنگا کے منہ میں پانی بھر آیا،اس نے چھلانگ لگائی اور درخت پر چڑھ گیا۔(جاری ہے) شہد کی مکھیوں…

Read more

مچھلی کے شکار کے لیے ہم دریا کہ کنارے کانٹے ، ڈوریاں پانی میں ڈالے اور بنسیاں تھا مے بیٹھے تھے۔ یہاں ساتھ ساتھ تین درخت تھے جن سے ٹیک لگائے ہم تین دوست بیٹھے تھے ۔ ہمیں ادھر آتے دیکھ کر کئی لوگوں نے منع کیا کہ اُدھر نہ جاؤ، وہاں ایک اژدہا دیکھا گیا ہے ۔ہم نے سنی اَن سنی کردی اور یہاں آبیٹھے ۔خالد نے کہا : ہم اسی لیے تو یہاں آئے ہیں۔ اژد ہے کہ خوف سے مچھلیوں کے شکاری اس طرف نہیں آتے اور یہاں خوب مچھلیاں ملتی ہیں اور پھر ہمارے پاس یہ بندوق بھی تو ہے ۔ اس نے تھیلے میں پڑی بندوق کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔اس وقت شامل ڈھل چکی تھی اور چاند نکل آیا تھا۔ آسمان پہ چاند ستاروں کا کارواں رواں دواں تھا۔ دریا کے پانی میں چاند ستارے یوں جھلملارہے تھے جیسے جگنوؤں لہروں اور دائروں میں تحلیل…

Read more

”چھوٹے میاں!میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم اپنی طاقت کو بڑھا لیں۔“بڑے چوہے نے چھوٹے خرگوش سے کہا۔دونوں میں بہت گہری دوستی تھی۔”بھائی جان!میں سمجھا نہیں،تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟“چھوٹا خرگوش کان ہلاتے ہوئے بولا۔”چھوٹے میاں!کل رات جب بندر تمہارے ہاتھ سے گاجر چھین کر بھاگ گیا تو مجھے بہت افسوس ہوا،میں رات بھر اپنے بل میں یہی سوچتا رہا کہ میں بھی بہادر ہوں،تم بھی بزدل نہیں ہو،پھر ہم میں ایسی کیا کمی ہے کہ بندر تم سے گاجر چھین کر بھاگ کھڑا ہوا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔“ بڑا چوہا تفصیل سے بولتا چلاy گیا۔”تو پھر؟“چھوٹے خرگوش نے آنکھیں مٹکائیں۔”پھر یہ کہ چھوٹے میاں!ہمیں اپنی طاقت بڑھانے کے لئے کسی طاقتور جانور سے دوستی کر لینی چاہیے،پھر کوئی بھی جانور ہم سے کچھ چھیننے سے پہلے سو بار سوچے گا۔(جاری ہے) “بڑے چوہے نے اپنی دانست میں بڑی ہی دانش مندانہ بات کی۔”ہاہاہاہا․․․․ہاہاہاہا۔ “چھوٹا خرگوش اپنے…

Read more

ارے تم نے یہ کیا کر دیا؟یہ تو میرے بچے تھے،اپنے دوست کے بچے ہی کھا گئی۔شور کی آواز سُن کر اَڑوس پڑوس کے چمگادڑ،اُلو کے گھر جمع ہو گئے،وہاں اُلو چیل سے جھگڑ رہا تھا اور اپنے بچے کھا جانے پر غصہ کر رہا تھا۔اُلو نے روتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو بتایا:”نئے سال کی خوشی میں جو جنگلی پرندوں کی دعوت تھی نا“!اس میں میری اس چیل سے دوستی ہو گئی تھی،میں نے اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ تم میرے بچوں کو نہیں کھاؤ گی،لیکن!یہ بے وفا نکلی،دوست نہیں میری دشمن نکلی اور آج اس نے میرے بچوں کو کھا لیا۔ اُلو روئے جا رہا تھا،بچوں کے غم میں اس کے آنسو رُک ہی نہیں پا رہے تھے۔اپنے پڑوسی کی حالت دیکھ کر چمگادڑوں نے بھی چیل کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ چیل نے انہیں خاموش کرواتے ہوئے کہا،آپ سب اس کے پڑوسی ہیں نا!پہلے…

Read more

Hay una historia famosa que dice: 😅Un alumno reprobó un examen. El alumno se quejó al director porque lo habían reprobado injustamente. El director llamó al profesor y al alumno y le preguntó al profesor el motivo del reprobado. El profesor explicó que el motivo era que el alumno se desviaba constantemente del tema, abandonando el tema asignado para escribir el ensayo y pasando a otro de su elección. Cuando el director pidió un ejemplo, el profesor dijo: Una vez le pedí que escribiera un ensayo sobre la primavera y escribió algo así: La primavera es una estación muy bonita y su paisaje es muy agradable. En esta estación, todo está verde y hay mucha vegetación. A los camellos les encanta esta estación y son animales muy fuertes. Se les llama el barco del desierto. Los camellos son animales muy pacientes. Hacen largos viajes y tienen la capacidad de soportar…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک کسان کے پاس دو جانور تھے۔ ایک خوبصورت، تیز رفتار گھوڑا، اور دوسرا مضبوط مگر سادہ سا گدھا۔گھوڑا کسان کی شان سمجھا جاتا تھا۔جب بھی کوئی مہمان آتا، کسان بڑے فخر سے کہتا:“آئیے، پہلے میرا گھوڑا دیکھیے۔”وہ باہر کھڑے ہو کر صرف ایک آواز لگاتا:“ارے میرے شہسوار!” اور گھوڑا اصطبل سے گرد اڑاتا ہوا دوڑتا چلا آتا۔مہمان اس کی چال دیکھتے، اس کی گردن سہلاتے، اس کی تعریف کرتے اور کسان کی قسمت پر رشک کرتے۔یہ سب مناظر اصطبل کے ایک کونے میں کھڑا گدھا خاموشی سے دیکھا کرتا تھا۔شروع میں وہ صرف دیکھتا رہا، پھر اسے حسرت ہونے لگیاور آخرکار حسرت نے خواہش کی شکل اختیار کر لی۔ وہ سوچتا: “آخر مجھ میں کیا کمی ہے؟ اگر میں بھی گھوڑے جیسا بن جاؤں تو لوگ میری بھی تعریف کریں، مالک بھی مجھ پر فخر کرے، اور مہمان مجھے دیکھنے آیا کریں۔”ایک دن اس…

Read more

راوی کہتا ہے  جب زمین نئی تھی، جب پہاڑ ابھی اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے، جب دریا اپنا راستہ بنانے میں تھے، اور جب پہلا انسان اس زمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ اس وقت کسی کو علم نہیں تھا کہ انسان کیا ہے، اسے کیا ملے گا، اور وہ کیا کھو دے گا۔ اس زمین کے پہلے انسانوں میں ایک شخص جیسے  قیس کہا جاتا تھا۔ قیس کو اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کا بادشاہ بنا دیا تھا، ہر پہاڑ، ہر دریا، ہر جنگل، ہر جانور، ہر پرندہ، ہر وہ چیز جو زمین پر تھی، سب قیس کی بادشاہت میں تھی۔ اس کے پاس اتنا کچھ تھا کہ ہزاروں سال خوشی سے گزار سکتا تھا۔ مگر قیس کا دل ٹھہرا نہیں۔ ایک چھوٹا سا حصہ تھا، زمین کے مشرقی کنارے پر، پہاڑی سلسلے کے پیچھے، جو قیس کی بادشاہت میں شامل نہیں تھا۔ یہ حصہ اللہ تعالیٰ نے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جزیرے پر تمام جذبات اور احساسات اکٹھے رہتے تھے۔ وہاں خوشی، غم، امید، خوف، عقلمندی اور محبت سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک دن سمندر میں ایک شدید طوفان آیا جو اس جزیرے کو ڈبو دینے کے قریب تھا۔ سب جذبات بہت گھبرا گئے۔ اسی وقت محبت (Love) نے سب کے لیے ایک بڑی کشتی تیار کی تاکہ سب محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ تمام جذبات جلدی سے کشتی میں سوار ہونے لگے۔ صرف ایک جذبہ پیچھے رہ گیا… انا (Ego)۔ محبت واپس گئی اور اسے کہا:“آؤ، جلدی کرو، کشتی ڈوبنے والی ہے!” لیکن انا نے سر اٹھا کر جواب دیا:“میں کسی کی مدد کی محتاج نہیں ہوں۔ میں خود بچ سکتا ہوں۔” محبت نے بہت کوشش کی، اسے سمجھایا، ہاتھ پکڑا، منتیں کیں… مگر انا اپنی ضد پر قائم رہا۔ کشتی میں موجود دوسرے جذبات چیخنے لگے:“محبت! جلدی آؤ، وقت کم ہے!” لیکن…

Read more

پھانسی گھاٹ کا راستہ صاف نظر آ رہا تھا، مگر اس 25 سالہ نوجوان کے چہرے پر خوف کے بجائے ایسی مسکراہٹ تھی جس نے مجھ جیسے سخت گیر اور پتھر دل ڈیوٹی افسر کے بھی پسینے چھڑا دیے تھے!حوالات کی سلاخوں کے پیچھے وہ سجدے میں گرا گڑگڑا رہا تھا۔ اس پر ایک لرزہ خیز قتل کا الزام تھا، ثبوت اور گواہ سب اس کے خلاف تھے اور چند دنوں میں اسے سزائے موت سنائی جانی تھی۔ میں شروع دن سے اس کے ساتھ انتہائی درشتگی سے پیش آ رہا تھا، مگر وہ جواب میں ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔ایک دن جب وہ دعا مانگ کر اٹھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے تلخ لہجے میں پوچھا: “تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ چند دن بعد تمہیں پھانسی کا پھندا پہنا دیا جائے گا۔ تم نے قتل کیا ہی کیوں؟”اس نے بڑی پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف…

Read more

ایک مشہور قصہ ہے کہ😅ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی…

Read more

Read more

ایک سرد رات تھی…چاندنی شہر کی خاموش گلیوں پر ایسے بکھری ہوئی تھی جیسے کسی نے چاند کو زمین پر اتار دیا ہو۔ بادشاہ اپنے وفادار قاضی کے ساتھ سادہ لباس میں بغداد کی گلیوں میں نکل آیا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ تخت پر بیٹھنے والا شخص آج خود ایک مسافر بن کر چل رہا ہے… اچانک ایک پرانی مسجد کے باہر اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی۔ پھٹے ہوئے کپڑے…کانپتا ہوا جسم…اور آنکھوں میں خاموش بھوک… یہ شہر کا مشہور بھکاری تھا — اللہ داد۔ بادشاہ رک گیا۔ اس نے دیکھا کہ اللہ داد نے اپنی جھولی سے ایک سادہ سی روٹی نکالی…آسمان کی طرف دیکھا…خاموش دعا کی…اور روٹی دو حصوں میں توڑ دی۔ آدھی خود کھائی…اور آدھی ایک تھیلی میں رکھ دی۔ بادشاہ حیران رہ گیا… اتنی غربت میں بھی “کل” کی فکر؟ بادشاہ قریب گیا اور بولا: “بھائی… ہم مسافر ہیں، کچھ کھانے…

Read more

رات کے 2 بجے ایک ٹیکسی ڈرائیور سنسان سڑک پر گاڑی چلا رہا تھا۔ پیچھے سیٹ پر ایک مسافر بیٹھا ھوا تھا جو بالکل خاموش تھا۔ ماحول بہت ڈراؤنا تھا، ہلکی ہلکی دھند تھی۔ اچانک… پیچھے بیٹھے مسافر نے ڈرائیور کے کندھے پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔ جیسے ھی مسافر کا ہاتھ کندھے پر لگا، ڈرائیور نے خوفناک چیخ ماری! اسٹیرنگ وہیل چھوٹ گیا، ٹیکسی لہراتی ھوئی فٹ پاتھ پر چڑھی، ایک کھمبے سے بال بال بچی اور بڑی مشکل سے ایک جھاڑی میں جا کر رکی۔ ڈرائیور کا سانس پھولا ھوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھا۔مسافر بھی ڈر گیا اور بولا: “بھائی صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو صرف آپ سے ٹائم (وقت) پوچھنے کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنا ڈر جائیں گے۔” ڈرائیور نے لمبی سانس لی، ماتھے سے پسینہ پونچھا اور…

Read more

یہ انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے گھنے جنگلوں کی ایک سچی کہانی ہے۔‎محکمہ جنگلات کے خفیہ کیمروں نے ایک ایسا منظر ریکارڈ کیا جس نے دیکھنے والوں کو گنگ کر دیا۔‎منظر انتہائی دردناک تھا۔ ایک مادہ اورنگوٹان اپنے ننھے، زخمی بچے کو سینے سے لگائے درختوں پر بیٹھی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس بچے پر ایک شیر نے حملہ کیا تھا۔ ماں اسے بچا کر لے تو آئی، لیکن بچہ اس کے بازوؤں میں تیزی سے کمزور پڑ رہا تھا۔‎وہ بار بار بچے کو دیکھتی۔ وہ منتظر تھی کہ شاید اس کا بچہ کوئی حرکت کرے۔‎لیکن… بچہ دم توڑ چکا تھا۔‎کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ اس نے اپنے مرے ہوئے بچے کو دیر تک سینے سے لگائے رکھا۔ پھر اسے آہستہ سے جنگل کی زمین پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ریسرچرز کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…

Read more

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔ اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل…

Read more

Dos amigos cazadores alquilaron una avioneta, impulsados por su pasión por la caza, y llegaron al bosque. El destino les sonrió y ambos cazaron dos enormes rinocerontes. 🦏🦏 Ahora el problema era cómo transportarlos de vuelta. Ambos comenzaron a cargar los rinocerontes en la avioneta con todas sus fuerzas. El piloto entró en pánico y exclamó: “¡Señor! ¡Este peso es excesivo! ¡Puede que la avioneta ni siquiera pueda volar!” Los dos cazadores respondieron de inmediato: “¡Oye, amigo! ¡El piloto de la última vez no puso objeciones!” 😏 El piloto intentó explicarles… Pero finalmente se rindió ante su terquedad. La avioneta despegó… Se mantuvo en el aire unos instantes… ¡Y pum! 💥 La avioneta cayó al suelo debido al exceso de peso. Después de un rato, uno de los cazadores recuperó la consciencia. Miró a su alrededor, luego sacudió a su amigo y dijo: “¡Oh, Hari Singh…!” “¡Parece que hemos vuelto…

Read more

ایک شکاری نے ایک خوبصورت ہرن شکار کیا اور اسے گدھوں سے بھرے ایک اصطبل میں باندھ دیا۔ بے چارہ ہرن گھبراہٹ سے کبھی اِدھر بھاگتا، کبھی اُدھر۔ دوسری طرف گدھے مزے سے گھاس کھانے میں مگن تھے، جیسے دنیا میں انہیں کسی اور چیز کی فکر ہی نہ ہو۔ شکاری رات بھر ان کے آگے گھاس ڈالتا رہا، مگر ہرن نہ وہ گھاس کھا سکا، نہ اس ماحول سے مانوس ہو سکا۔ دھواں، گرد و غبار اور اجنبی ماحول اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جب اس کی فطرت اور اصل جنس سے جدا کر دیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی سزا ہے۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُدہُد کی غیر حاضری پر فرمایا تھا کہ اگر وہ معقول عذر پیش نہ کرے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اہلِ معرفت کہتے ہیں…

Read more

40/1289
NZ's Corner