بلاعنوان
ایک امیر آدمی کی ایک غریب بہن تھی جو دیہات میں رہتی تھی۔ وہ تازہ دودھ، انڈے اور اپنے باغ کی سبزیاں بیچ کر معمولی سی کمائی کرتی تھی۔ گرمیوں میں، وہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی دکان لگاتی جہاں وہ بیر، مشروم اور زمین سے ملنے والی دوسری چیزیں فروخت کرتی تھی۔ سردیوں کے دوران، وہ اس رقم سے احتیاط سے گزارا کرتی جو اس نے گرمیوں کے مہینوں میں بچائی تھی۔اس کا بھائی اس کی سادہ زندگی کی وجہ سے شرمندہ ہوتا تھا۔ اس نے اسے کبھی شہر میں اپنے پاس آنے کی دعوت نہیں دی، اور وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کے بڑے، شاندار گھر میں آئے جہاں اس کے کامیاب دوست اس سے مل سکیں۔ تاہم، اس کی بہن نے کبھی اس کا برا نہیں مانا۔ جب بھی اسے موقع ملتا، وہ اسے اور اس کے خاندان کو اپنے ہاتھ کی بنی…
مارٹن اور سنہری تتلیاں
ایک چھوٹے سے قصبے میں مارٹن نام کا ایک موچی رہتا تھا۔ وہ اپنے کام میں بہت ماہر تھا، لیکن اس کا بٹوہ ہمیشہ خالی ہی رہتا تھا۔ ہر شام وہ اپنی کمائی کے چند سکے گنتا اور چپ چاپ آسمان کو کوستا کہ اس نے اسے اتنا کم کیوں دیا۔ایک برسات کی شام، جب کھڑکیوں پر بارش کاپانی طبلہ بجا رہا تھا، اس کی خستہ حال چھوٹی سی دکان کا دروازہ اچانک کھل گیا۔ دہلیز پر ایک اجنبی کھڑا تھا جس کا مہنگا کوٹ طوفان کی وجہ سے پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ لیکن اس میں کچھ انوکھی بات تھی—ایک پُرسکون سی گرمجوشی اس کے ساتھ اندر آئی تھی۔ مسافر نے پوچھا، “کیا تم مجھے تھوڑی دیر کے لیے آگ تاپنے (یا گرم ہونے) دو گے؟ بدلے میں، میں تمہیں ایک مشورہ دوں گا۔”مارٹن نے اپنے دل میں بڑبڑایا لیکن ایک اسٹول کھینچ کر رکھ دیا۔ مسافر بیٹھ گیا،…
بلاعنوان
ایک شیر پیٹ بھر کر کھانے کے بعد ایک بڑے درخت کے سائے میں آرام کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک گیڈر وہاں آیا اور بولا، “شیر! آؤ ہم لڑائی کرتے ہیں۔ ابھی، یہیں اور اسی وقت۔ تم اور میں۔”شیر نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔گیڈر کو غصہ آ گیا اور اس نے دوبارہ کوشش کی، “تم بزدل ہو، مجھ سے لڑو! اگر تم نے انکار کیا، تو میں جا کر صحرا کے سب لوگوں کو بتا دوں گا کہ طاقتور شیر مجھ سے مقابلہ کرنے سے ڈر گیا تھا۔”شیر نے جمائی لی، سستی سے اپنا جسم کھینچا اور آخر کار جواب دیا، “اگر وہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں ڈر گیا تھا، تو کہتے رہیں۔ میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ چند جانور مجھے بزدل سمجھیں، بجائے اس کے کہ وہ مجھے صرف کچھ ثابت کرنے کے لیے ایک گیڈر کے ساتھ لڑائی…
بلاعنوان
ایک تتلی ایک بچھو کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔وہ اس سے ڈر نہیں رہی تھی، بلکہ اسے اس پر تجسس تھا۔بچھو حیران ہوا، کیونکہ وہ کبھی کسی ایسے شخص سے نہیں ملا تھا جو اتنا نرم دل اور پرخلوص ہو۔“تم مجھے نہیں ڈراتیں،” تتلی نے کہا۔اس سے پہلے کسی نے اس سے کبھی ایسا نہیں کہا تھا۔ ہر کوئی اس سے ڈرتا تھا، اور اسے ہمیشہ اس بات پر فخر رہتا تھا۔چنانچہ جب تتلی نے اسے بتایا کہ وہ اس سے نہیں ڈرتی—بلکہ اس کے برعکس، وہ اس کی دوست بننا چاہتی ہے—تو وہ آہستہ اور احتیاط سے اس کے پیچھے ہولیا اور اپنا ڈنک پیچھ چھپا لیا۔وہ اپنے دن ایک ساتھ گزارنے لگے۔تتلی نے اسے پھول، دھوپ، پیاری خوشبو اور شفقت دکھائی—ایسی چیزیں جن کے وجود کا اسے کبھی وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ایک شام، تتلی نے کہا:“کاش تم میرے ساتھ اڑ سکتے۔”بچھو نے اپنے بھاری جسم…
😂 منحوسوں کی جوڑی۔
ایک آدمی کے بارے میں پورے گاؤں میں مشہور تھا کہ وہ انتہائی منحوس ہے۔ اس کی پہلی شادی ہوئی تو اگلے ہی دن بیوی مر گئی۔لوگوں نے افسوس بھی کیا اور سرگوشیاں بھی شروع کر دیں۔ کچھ عرصے بعد دوسری شادی ہوئی…لیکن اگلے دن دوسری بیوی بھی مر گئی! لوگوں نے اسے اتفاق سمجھا، مگر تیسری شادی کے بعد جب تیسری بیوی بھی اگلے ہی دن چل بسی تو پورے گاؤں کو یقین ہوگیا: “یہ بندہ منحوس نہیں، منحوسوں کا بادشاہ ہے!” اب چوتھی شادی کے لیے کوئی لڑکی دینے کو تیار نہ تھا۔ بڑی مشکل سے ایک بیوہ خاتون سے رشتہ طے ہوا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس عورت کی بھی تین شادیاں ہو چکی تھیں اور تینوں شوہر اگلے ہی دن مر گئے تھے۔ اب گاؤں والوں کا تجسس آسمان پر تھا۔ شادی ہوئی تو پورا گاؤں رات بھر جاگتا رہا: “صبح دیکھیں گے کون زندہ رہتا…
جس کا کام اسکو ساجھے
ایک سرسبز و شاداب گاؤں میں ایک کسان اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ کسان دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا، صبح سویرے گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔ وہ واقعی محنتی تھا، مگر اس کے دل میں ایک غلط فہمی گھر کر چکی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے زیادہ محنت دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔ ایک دن شام کو وہ گھر واپس آیا تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے کاموں میں مصروف دیکھا۔ نہ جانے کیوں اس دن اس کے دل میں اپنی بیوی کی محنت کو کمتر سمجھنے کا خیال آیا۔ وہ بولا: “میں صبح سے شام تک دھوپ میں کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ مٹی میں پسینہ بہاتا ہوں، فصلیں اگاتا ہوں اور گھر کا خرچ چلاتا ہوں۔ تم تو سارا دن گھر میں رہتی ہو۔ آخر تم ایسا کون سا مشکل کام کرتی ہو؟” بیوی کے ہاتھ ایک…
جھوٹے کی کہانی
ایک رئیس یا شاید کوئی نواب جو کسی دور و دراز ملک سے واپس آیا تھا، دیہات میں اپنے دوست کے ساتھ سیر کر رہا تھا اور جھوٹے سچے قصے سنا رہا تھا کہ میں نے فلاں چیز دیکھی اور فلاں جگہ گیا۔ کہنے لگا:“نہیں بھائی، اب ایسے عجائبات کہاں دیکھنے کو ملیں گے! یہ تمہارا ملک بھلا کوئی رہنے کی جگہ ہے؟ کبھی تو اتنی سردی، کبھی اتنی گرمی کہ خدا کی پناہ! کبھی سورج ہے کہ مہینوں بادلوں میں منہ چھپائے بیٹھا رہتا ہے، اور کبھی ایسا تیز چمکتا ہے کہ آنکھیں چکاچوند ہو جاتی ہیں۔ وہاں دیکھو تو بس جنت کا مزہ ہے! اسے یاد کرنے سے بھی دل کو فرحت ہوتی ہے۔ نہ لحاف کی ضرورت، نہ لالٹین کی، نہ کبھی رات کا اندھیرا؛ پورا سال بہار کا دن معلوم ہوتا ہے۔وہاں نہ کوئی ہل چلاتاتا ہے نہ محنت کرتا ہے، اور اس پر دیکھو کیا…
جانوروں کی بولی اور تقدیر کا راز.. ایک سبق آموز کہانی
کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “بیٹا! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…
بادشاہ اور دانا اجنبی۔۔۔ ایک سبق آموز کہانی
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی شخص ملازمت کی درخواست لے کر حاضر ہوا۔ بادشاہ نے پوچھا: “تم کیا کام جانتے ہو؟” اجنبی نے جواب دیا: “میں لوگوں اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔” اتفاق سے شاہی اصطبل کا نگران حال ہی میں فوت ہوا تھا، لہٰذا بادشاہ نے اسے اصطبل کی ذمہ داری سونپ دی۔ چند دن بعد بادشاہ نے اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کے بارے میں پوچھا۔ اجنبی نے کہا: “یہ گھوڑا نسلی تو ہے، لیکن اس کی پرورش گھوڑوں کی طرح نہیں ہوئی۔” تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ گھوڑے کی ماں پیدائش کے وقت مر گئی تھی اور اسے ایک گائے نے دودھ پلا کر پالا تھا۔ اسی لیے اس کی کچھ عادتیں گائے جیسی تھیں۔ بادشاہ اس کی ذہانت سے متاثر ہوا۔ کچھ عرصے بعد بادشاہ نے اپنی ملکہ کے بارے میں رائے پوچھی۔ اجنبی نے جواب دیا: “اس کے آداب…
بادشاہ اور مچھیرا
ایک قدیم ساحلی شہر میں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی کل پونجی ایک پرانی کشتی، ایک جال اور محنت کرنے والے دو ہاتھ تھے۔ ایک دن جال کھینچا تو اس میں ایک نہایت نایاب اور خوبصورت مچھلی پھنس گئی۔ مچھیرے نے سوچا: “آج یہ مچھلی اپنی بیوی کے لیے لے جاؤں گا، وہ بہت خوش ہوگی۔” مگر بیوی نے مچھلی دیکھ کر کہا: “یہ عام مچھلی نہیں۔ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے آؤ، شاید وہ بڑا انعام دے دیں۔” مچھیرا مچھلی لے کر محل پہنچ گیا۔ بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا اور پوچھا: “یہ تمہیں کہاں سے ملی؟” مچھیرا بولا: “حضور! اللہ نے میرے جال میں ڈال دی۔” بادشاہ اس کی سچائی سے متاثر ہوا اور بولا: “مانگو، جو چاہو مانگو۔” مچھیرا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا: “حضور! ایک مضبوط کشتی عطا…
احسان فراموش بادشاہ کا انجام … ایک سبق آموز کہانی
ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…
دانش مند وزیر کا فیصلہ”…..”کنواں، پانی اور انصاف”
ایک دور دراز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی زمین کو سرسبز بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل پانی کی کمی تھی۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے پڑوسی کے پاس ایک گہرا اور پانی سے بھرا کنواں ہے۔ کسان نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور امید کے ساتھ پڑوسی کے پاس جا کر کنواں خرید لیا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا کہ اب اس کے کھیت ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ مگر اس کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جب وہ پانی نکالنے کے لیے کنویں پر گیا تو پڑوسی نے اسے روک دیا اور سخت لہجے میں کہا،“میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر کا پانی نہیں!” یہ سن کر کسان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ پریشان اور دکھی ہو کر انصاف کی تلاش میں…
شیخ کی لالچ اور قاضی کا زبردست فیصلہ… ایک دلچسپ کہانی
ایک عرب شیخ بے حد دولت مند تھا، مگر دولت کے ساتھ وہ بہت زیادہ لالچی اور کنجوس بھی تھا ۔ وہ اپنے ملازمین کو کم اجرت دیتا، کسی ضرورت مند کی مدد نہ کرتا اور ہر وقت دولت بڑھانے کی فکر میں رہتا۔ ایک دن اس کے سونے کے سکوں سے بھرا تھیلا کہیں گم ہوگیا۔ شیخ نے پورا گھر، باغ اور آس پاس کی سڑکیں چھان ماریں، مگر تھیلا نہ ملا۔ دو دن بعد ایک چھوٹی بچی کو وہ تھیلا سڑک کے کنارے پڑا ملا۔ اس نے فوراً اپنے والد کو بتایا۔ والد اسی شیخ کے ہاں ملازم تھا۔ وہ ایماندار شخص تھیلا اٹھا کر شیخ کے پاس پہنچا اور بولا: “حضور! یہ تھیلا مجھے سڑک پر ملا تھا۔ میرا خیال ہے یہ آپ کا ہے۔” شیخ نے تھیلا کھولا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے ذہن میں ایک چال…
ناک کٹا لالچی بھائی
بہت پرانی بات ہے۔ ایک جگہ شجاع اور فیاض نام کے دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں کے مزاج بالکل مختلف تھے۔ بڑا بھائی شجاع بڑا لالچی اور چالاک تھا۔ باپ کی موت کے بعد اس نے پوری جائداد پر قبضہ کر لیا اور چھوٹے بھائی کو کچھ نہ دیا۔ چھوٹا بھائی فیاض سیدھا سادہ اور ایماندار تھا۔ باپ کی جائداد سے کچھ نہ ملنے پر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرتا تھا اور اس طرح محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتا رہا۔ایک مرتبہ چھوٹا بھائی فیاض ایک شہد بیچنے والے کے ہاں مزدوری کر رہا تھا۔ ایک دن اسے دو بالٹی شیرہ پہاڑ کے اس پار ایک دکاندار کو پہنچانا تھا۔ چنانچہ وہ بالٹیاں لے کر چل پڑا۔ ابھی اس نے پہاڑ پر آدھا راستہ بھی طے نہیں کیا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی، ذرا سی دیر میں راستے میں کیچڑ…
🔥😂 سرکاری شلوار اور بھڑوں کا معائنہ! 😂💁
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب دیہات کے زیادہ تر ماسٹر حضرات دھوتی پہنتے تھے۔ 🙂 لیکن سرکار کا حکم تھا: 📢 “ڈیوٹی کے وقت شلوار لازمی!” 👖 اب نوکری بھی بچانی تھی اور دھوتی بھی نہیں چھوڑنی تھی۔ 😅 سو ماسٹر صاحب نے کمال کا حل نکالا۔ 🤓👇 ایک سفید شلوار کلاس کے اندر کیل پر لٹکا دی۔ جیسے ھی خبر ملتی، 😳 “افسر آ رہا ھے!” بس… دھوتی اُتری 💨 شلوار چڑھی 👖 اور ماسٹر صاحب لمحوں میں سرکاری ملازم بن جاتے۔ 🤣 مگر ایک مسئلہ ھو گیا 😬👇 مہینوں تک کوئی افسر آیا ھی نہیں۔ شلوار بےچاری کیل پر لٹکی لٹکی دھول کھاتی رھی 😆 پھر ایک دن… ⚡ اچانک افسر معائنہ کرنے آ پہنچا! 🤯💁 ماسٹر صاحب بھاگتے ھوئے کمرے میں گئے 😰🏃 اور جلدی سے شلوار پہنی! 👖💨 ایک ٹانگ… پھر دوسری ٹانگ… اور جیسے ھی ناڑا باندھنے لگے… 🐝 بھڑرررررر…!! 😱 پتا چلا……
🔥😂 خواب کی تعبیر! 😂🙆
🌙 آدھی رات 🌃 ایک چور دبے پاؤں ایک گھر میں گھس گیا۔ 🕵️♂️😲 کمرے میں دیکھا تو ایک بوڑھی عورت آرام سے سو رھی تھی۔ 😴💁 ہلکی سی آواز ھوئی 🗣️👣 بوڑھی عورت جاگ گئی۔ 👀 چور گھبرا گیا! 😶🌫️😶 مگر دادی اماں مسکرا کر بولیں: “بیٹا! لگتا ھے حالات نے تمہیں چور بنا دیا ھے۔” 🙂🥀 “الماری میں جو ھے لے جانا مگر پہلے میرے خواب کی تعبیر بتا دو!” 😌🌠 چور حیران رہ گیا 😳✨ سوچا: “آج تو قسمت مہربان ھے!” 😎😊 وہ پاس جا کر بیٹھ گیا۔ دادی اماں بولیں: “میں نے خواب میں دیکھا، ایک چیل آئی اور تین بار زور سے بولی: 📢 “ماجد… ماجد… ماجد!” بس اتنا سننا تھا کہ: ساتھ والے کمرے سے دادی اماں کا جوان بیٹا ماجد ڈنڈا لے کر باہر آ گیا! 😡🏏 پھر جو چور کی خاطر تواضع ھوئی 😰👊 وہ اپنی زندگی میں کبھی نہ بھولا! 🤕😂…
بادشاہ کا آخری فیصلہ… اور ایک غریب کی حیران کن بات
ایک سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو اپنے انصاف کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے: “اس بادشاہ کے دربار میں امیر اور غریب برابر ہیں۔” ایک دن محل کے دروازے پر ایک غریب بوڑھا شخص پہنچا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر پریشانی تھی اور ہاتھ میں ایک پرانی لکڑی کی چھڑی تھی۔ دربان نے اسے روک لیا۔ بوڑھے نے کہا: “مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔” دربان ہنس کر بولا: “بادشاہ تم جیسے فقیر سے ملنے کے لیے نہیں بیٹھا۔ واپس جاؤ!” بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “میں بھیک مانگنے نہیں آیا، انصاف مانگنے آیا ہوں۔” یہ الفاظ سن کر دربان خاموش ہو گیا اور اسے اندر جانے دیا۔ بوڑھا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور بولا: “بادشاہ سلامت! میرے گاؤں کے امیر ترین تاجر نے میری زمین چھین لی ہے۔ میرے پاس کاغذات نہیں، گواہ نہیں، مگر زمین میری ہے۔” بادشاہ نے تاجر…
پاکستانی کسان اور جن کی شراکت!
ایک جن نے ایک پاکستانی 🤠 سے سودا کیا۔ 😄🤝 بولا: “کھیت اور بیج میرے، محنت تُمہاری، فصل آدھی آدھی!” 😃💁 پاکستانی مان گیا۔ 😊🤝 جن نے شرط رکھی: “پہلی فصل میں اوپر والا حصہ میرا!” پاکستانی نے کہا: “جی، ضرور!” 😏💯 🌱 اس نے آلو لگا دیے۔ فصل آئی تو جن کو ملیں سُوکھی پتیاں اور ڈنڈیاں! 🍂 اور پاکستانی… بوریاں بھر بھر کر آلو گھر لے گیا۔ 🥔😂 — جن غصے میں بولا: “اگلی بار نیچے والا حصہ میرا ھو گا!” 😤🤟 پاکستانی مُسکرایا: “جیسا حکم!” 😊💯 اس بار اس نے گندم بو دی۔ 🌾😁 فصل تیار ھوئی 😋💁 جن کے حصے میں آئیں جڑیں! 😑🥀 اور پاکستانی گندم سمیٹ کر چل دیا۔ 😎✨ — اب جن کا پارہ ہائی ھو گیا۔ 😤😡 کہنے لگا: “اب اوپر بھی میرا، نیچے بھی میرا اور درمیان تمہارا!” پاکستانی نے کہا: “بُہت اچھا!” 😁🙄 اس بار اس نے مکئی لگا دی۔…
اونٹ کی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک وسیع صحرا کے کنارے ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا پیشہ جنگل سے جانور پکڑنا تھا۔ وہ مختلف جانوروں کو جال میں پھنساتا، اپنے باڑے میں لا کر باندھ دیتا اور پھر انہیں دور دراز شہروں میں مہنگے داموں فروخت کر دیتا۔ اس کے باڑے میں ہرن تھے، جنگلی گھوڑے تھے، نیل گائے تھیں، لومڑیاں تھیں، جنگلی خرگوش تھے اور کئی نایاب پرندے بھی تھے۔ ہر جانور آزادی کی یاد میں تڑپتا رہتا تھا اور ہر رات اپنی قسمت پر آہیں بھرتا تھا۔ ایک دن شکاری جنگل سے ایک بوڑھا اونٹ پکڑ لایا۔اونٹ کا جسم کمزور تھا، گردن لمبی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ باقی جانوروں نے اسے دیکھا تو کچھ نے ہمدردی کی اور کچھ نے مذاق اڑایا۔ ایک ہرن بولا:“بیچارے! ابھی ابھی گرفتار ہوا ہے۔”جنگلی گھوڑا ہنسا:“اگر کبھی بھاگنے کا موقع ملا بھی تو یہ ہمیں کہاں پکڑ…
🔥😂 کنجوس اور جادوئی چراغ 😲🧞♂️
ایک کنجوس آدمی کو جادوئی چراغ ملا۔ رگڑا تو جن حاضر! ✨🧞♂️ جن بولا: “تین خواہشیں مانگو مگر جو تمہیں ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” 😄💁 کنجوس نے دانت پیسے 😅”منظور ھے!” 💰 پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” ✨👏 اچانک خبر آئی…! پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے! 😳 🚗 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” ⚡🚗 لیکن سامنے، پڑوسی کے گھر دو نئی گاڑیاں آ کھڑی ھوئیں! 🚗🚗 اب کنجوس کا خون کھولنے لگا! 🤬 😈 تیسری اور آخری خواہش پر بولا: “میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن چونک گیا: “ارے! تمہارا دماغ تو ٹھیک ھے؟” 😳😕 کنجوس مُسکرا کر بولا: 😂 “میری ایک آنکھ جائے گی مگر پڑوسی دونوں آنکھوں سے اندھا ھو جائے گا!” 🤣🤣 جن ماتھا پکڑ کر غائب ھوتے ھوئے بولا: “یہ انسان اپنی خوشی سے زیادہ، دوسروں کا نقصان دیکھ…