جادو
ایک پاکستانی اور ایک بھارتی دو دوست تھے۔ ایک دن دونوں گھومتے ہوئے ایک دکان کے پاس جا پہنچے تو بھارتی نے پاکستانی سے کہا کہ تمہیں اپنا کمال دکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ دکاندار کی نظروں میں آئے بغیر دکان سے تین چاکلیٹ چُھپا لے گیا اور باہر آ گیا۔ دونوں دوست آگے چل پڑے تو بھارتی نے فخر سے کہا کہ دیکھا میرا کمال؟ اس مہارت سے چاکلیٹ چُرائے کہ دکاندار نے دیکھا تک نہیں۔ یہ سن کر پاکستانی بولا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں، کیا تم اس سے بہتر میرا کمال دیکھنا چاہو گے؟ بھارتی راضی ہو گیا تو پاکستانی نے اسے واپس دکان پر چلنے کو کہا۔جب دونوں دکان پر پہنچے تو پاکستانی نے دکاندار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میرا جادو دیکھنا پسند کرو گے؟ دکاندار مان گیا تو پاکستانی نے اس سے کہا کہ مجھے ایک چاکلیٹ دو۔ جب…
پراسرار صندوق
کسی زمانے میں ایک خوبصورت گاؤں میں حامد نامی ایک تاجر رہتا تھا۔ وہ بہت امیر تھا، لیکن اس کی لالچ کی کوئی حد نہیں تھی۔ اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے، پھر بھی وہ ہر وقت مزید دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ گاؤں کے غریب لوگ اس سے مدد مانگتے تو وہ انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیتا۔ اسی گاؤں میں کریم نامی ایک غریب لکڑہارا بھی رہتا تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا اور ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ ایک دن حامد اپنے پرانے گودام کی صفائی کروا رہا تھا کہ اسے لکڑی کے ڈھیر کے نیچے ایک عجیب و غریب صندوق ملا۔ صندوق پر زنگ آلود تالا لگا تھا اور اس پر لکھا تھا: ”اس صندوق میں موجود دولت صرف اسی شخص کو ملے گی جو اپنی لالچ پر قابو پا سکے گا۔“ حامد یہ عبارت پڑھ…
بندر کا قاضی
ایک بادشاہ نے اپنے خاص دوست کی درخواست پر اس کے کم پڑھے لکھے بیٹے کو عدل و انصاف کا وزیر یعنی قاضی بنا دیا۔ وہ نوجوان زیادہ تر فیصلے سِکّہ اُچھال کر یا خوابوں کی تعبیر پر کرتا، جس سے ریاست میں انصاف کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ایک روز پڑوسی سلطنت کے بادشاہ کا بیٹا، ایک اہم معاہدے پر بات چیت کے لیے، اس بادشاہ کی ریاست میں آیا۔ اس شہزادے نے اپنے قیام کے دوران ریاست کے عدالتی نظام کا جائزہ لینا چاہا۔ بادشاہ نے اپنے نئے قاضی کو دربار میں بلایا اور آنے والے مہمان شہزادے کے سامنے اپنے کام کا شاندار مظاہرہ کرنے کا حکم دیا۔قاضی نے ایک پرانے اور پیچیدہ زمین کے جھگڑے کا معاملہ اپنے سامنے رکھا۔ اس نے سارا حال سنا اور کہا، “میں اس معاملے میں رات کو الہامی خواب دیکھوں گا اور پھر فیصلہ کروں گا۔”شام کو بادشاہ…
نسلوں کی وفاداری
پرانے زمانے کی ایک سلطنت میں شاہی اصطبل کے دروازے پر ایک جملہ اکثر سنائی دیتا تھا: ’’ہمارے خاندان نے چار نسلوں تک بادشاہ کے گھوڑوں کی خدمت کی ہے۔‘‘ یہ جملہ وہاں کام کرنے والے ایک بوڑھے ملازم کے لیے محض تعارف نہ تھا، بلکہ اس کی خاندانی عزت کا نشان تھا۔ اس کا دادا بھی شاہی اصطبل میں کام کرتا تھا، باپ نے بھی اسی خدمت میں عمر گزاری تھی اور اب وہ خود اپنی زندگی کے پچاس برس اسی کام میں گزار چکا تھا۔ گھر میں جب کبھی خاندان کا ذکر ہوتا، اس کے بزرگ فخر سے بتایا کرتے کہ ان کا بادشاہ کے دربار میں آنا جانا ہے، شاہی خاندان کے لوگوں سے سلام دعا ہے اور ان کی نسل نے ہمیشہ تخت کے وفادار خادموں میں شمار ہونے کا اعزاز پایا ہے۔ ان باتوں کو سنتے سنتے اس کے دل میں بھی یہ یقین راسخ…
نیکی کا بدلہ
پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…
نیکی کا صلہ
کہتے ہیں کہ جب زمین پر انسانوں کی بستیاں ابھی نئی نئی آباد ہو رہی تھیں، پہاڑوں کی خاموشی میں ہوا سرگوشیاں کرتی تھی اور دور دراز وادیوں میں چرواہوں کی بانسریاں گونجا کرتی تھیں، انہی دنوں کوہِ سیماب کے دامن میں ایک ایسا غریب آدمی رہتا تھا جس کے گھر میں فاقوں کے سوا کوئی مستقل مہمان نہ تھا۔ اس کی جھونپڑی کی چھت بارش میں ٹپکتی، دیواروں کی مٹی ہر موسم میں جھڑتی اور چولہا کبھی کبھی کئی کئی دن تک ٹھنڈا پڑا رہتا۔ وہ محنت کرتا، جنگل سے لکڑیاں چنتا، پہاڑی راستوں پر بوجھ اٹھاتا، مگر شام کو جب گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھوں میں تھکن ہوتی اور دامن میں چند سوکھے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ ایک شام، جب بھوک سے نڈھال ہو کر وہ اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا، اس کے دل سے ایک آہ نکلی۔ اس نے…
خسارہ
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب دور دراز سلطنتوں کے درمیان سفر کئی کئی دنوں میں طے ہوتا تھا اور پہاڑوں کے دامن میں آباد چھوٹی بستیوں کے لوگ سورج نکلنے سے پہلے کام پر نکلتے اور شام کو تھکے قدموں سے گھروں کو لوٹتے تھے۔ انہی بستیوں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کی جھونپڑی پہاڑ کے دامن میں تھی، چھت سے بارش ٹپکتی تھی اور سردیوں میں ہوا دیواروں کی درزوں سے اندر آتی تھی۔ وہ صبح اندھیرے میں جنگل جاتا، لکڑیاں کاٹتا، بازار میں بیچتا اور شام کو آٹا، دال اور تھوڑی سی لکڑی لے کر گھر لوٹ آتا۔ اس کی بیوی کبھی بچوں کے لیے نئے کپڑوں کی خواہش کرتی تو وہ خاموش ہو جاتا، کیونکہ اس کی ساری کمائی بمشکل گھر کا چولہا جلاتی تھی۔ ایک رات شدید بارش میں اس کی جھونپڑی کی چھت کا ایک حصہ گر گیا۔ بچے سہم کر…
بلاعنوان
جب مغلیہ سلطنت زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی، دلی کے لال قلعے کے باہر ایک مسخرہ اور بھانڈ بانس پر چڑیا بٹھا کر عجیب و غریب آوازیں نکالتا تھا اور اچھل کود کرتا تھا۔ تاریخ لکھتی ہے کہ دلی کے بڑے بڑے نواب، عربی و فارسی کے جید عالم، درباری شعرا اور جاگیردار اپنی پالکیوں سے اتر کر اس بھانڈ کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کا ہاتھ چھونے کے لیے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال دیا کرتے تھے۔ اسی دوران قلعے کے ایک کونے میں دلی کا سب سے بڑا ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان مفلسی کے عالم میں مر گیا، لیکن اس کا جنازہ اٹھانے کے لیے چار کندھے تک نصیب نہ ہوئے کیونکہ وقت کے باشعور لوگ تو چوک پر مسخرے کی بولیاں سننے میں مصروف تھے۔ جب نادر شاہ دلی میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے انہی نوابوں کی گردنیں…
بلاعنوان
ایک جنگل میں ایک شیر خارش کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ علاج اور دواؤں کے باوجود اس کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی اور وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ اس میں شکار کرنے کی طاقت بالکل ختم ہو گئی۔ ایک لومڑی اس کی خدمتگار اور مصاحب تھی، جو شیر کے شکار کا بچا ہوا حصہ کھا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جب شیر خود شکار کے قابل نہ رہا تو لومڑی بھی شدید پریشان ہوئی، کیونکہ اس کی روزی کا دارومدار بھی اسی پر تھا۔ایک دن ایک لومڑی شیر کے پاس آ کر کہا: “اے جہاں پناہ! آپ کی بیماری نے جنگل کے تمام جانوروں کو پریشان اور اداس کر دیا ہے۔ تمام رعایا کو آپ کی کمزوری کا احساس ہے، کہیں کوئی دوسرا جانور اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا لے۔ آپ اپنی بیماری کا کسی اچھے طبیب سے علاج کیوں نہیں کرواتے؟”شیر نے آہ…
انصاف
قدیم زمانے میں کوہِ زریاب اور دریائے نیلگوں کے درمیان ایک وسیع و عریض ریاست آباد تھی، جس کا نام مملکتِ ماہتاب آباد تھا۔ اس کا دارالحکومت شہرِ زرنگار کہلاتا تھا، جہاں کے بلند دروازے، سنگِ مرمر کے ایوان اور بازاروں کی رونق دور دراز کے مسافروں کو حیران کر دیتی تھی۔ بظاہر یہ ایک خوش حال ریاست تھی، مگر اس کی گلیوں میں ایک ایسی آفت نے سر اٹھا لیا تھا جس نے امیر و غریب، تاجر و مزدور، سب کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ ہر صبح شہر کے کسی نہ کسی گھر کا دروازہ ٹوٹا ہوا ملتا، کسی کے صندوق خالی ہوتے، کسی کے زیورات غائب ہوتے اور کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی راتوں رات اڑن چھو ہو جاتی۔ چور اتنے ماہر تھے کہ نہ کوئی آہٹ سنائی دیتی، نہ کوئی نشان ہاتھ آتا۔ لوگ رات کو دروازوں پر کئی کئی تالے لگاتے، پہرے بٹھاتے، مگر…
عادت
۔۔ روزگار کی تلاش اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شہر کے ایک شور شرابے والے چوراہے پر ایک غریب اور بدحال بھکارن بیٹھا کرتی تھی۔ اگرچہ اس کے تن پر میلے کچیلے اور بوسیدہ کپڑے تھے، اور اس کا چہرہ دھوپ اور گرد و غبار سے جھلس چکا تھا، لیکن قدرت نے اسے ایسی بلا کی خوبصورتی اور حسنِ دلکش عطا کیا تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ وہ در بدر مارکیٹ اور گلی کوچوں میں ہاتھ پھیلاتی اور اپنا پیٹ بھرتی تھی۔ایک روز اتفاقاً کسی ملک کا جاہ و جلال والا بادشاہ اپنی شاہی سواری اور لاؤ لشکر کے ساتھ اسی راستے سے گزرا۔ شاہی قافلے کی آمد پر لوگ راستے کے دونوں جانب ہجوم لگائے کھڑے تھے۔ بادشاہ کی نظر اچانک اس نادار اور خستہ حال بھکارن پر پڑی۔ اگرچہ اس کے کپڑے میلے تھے، مگر اس کا قدرتی حسن اور طبعی نفاست اتنی نمایاں…
ناک
ایک گھر میں ایک ایسا بچہ رہتا تھا جس کی ذہانت سے زیادہ اس کی تجسس بھری طبیعت مشہور تھی۔ ہر بات پر سوال کرنا اس کی عادت تھی۔ سوال کر کر کے والدین کا ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ ایک دن شوہر گھر آیا تو غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ بیوی نے سوال داغا: “کیا دفتر میں کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟” “نہیں، جھگڑا تو تمہیں پتہ ہے میں کسی سے نہیں کرتا۔ اصل میں ایک جگہ خالی ہوئی ہے جہاں میری ترقی کا چانس بنتا ہے۔ میں نے کل باس کی دعوت کی ہے، اگر خوش ہو گیا تو سمجھو کام بن جائے گا۔” “یہ تو بہت اچھی بات ہے، پھر پریشانی کس بات کی ہے؟” “پریشانی یہ ہے کہ باس کی ناک کچھ زیادہ ہی لمبی ہے۔ اب اگر ہمارے افلاطون بیٹے نے اس کی ناک پر تبصرہ کر دیا تو سمجھو بیڑہ غرق ہو…
عالم اور شیطان
ایک دن شیطان بیٹھا رسیوں کے پھندے تیار کر رہا تھا۔ کچھ موٹی موٹی رسیوں کے پھندے تھے، کچھ باریک اور کمزور رسیوں کے پھندے تھے۔ وہاں سے ایک علم والے کا گزر ہوا تو اس نے شیطان سے پوچھا: “ارے او دشمنِ انسان! یہ کیا کر رہے ہو؟” شیطان نے سر اٹھا کر دیکھا اور اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا: “دیکھتے نہیں حضرت، انسانوں کو قابو کرنے کے لیے پھندے تیار کر رہا ہوں۔” ان حضرت نے پوچھا: “یہ کیسے پھندے ہیں؟ کچھ موٹے کچھ باریک؟” شیطان نے جواب دیا: “پھندے ان لوگوں کے لیے ہیں جو شیطان کی باتوں میں نہیں آتے، لہٰذا مختلف قسم کے پھندے تیار کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ خوشنما، کچھ موٹے اور کچھ باریک۔” ان حضرت کے دل میں تجسس پیدا ہوا، پوچھا: “کیا میرے لیے بھی کوئی پھندا ہے؟” شیطان نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے کہا: “آپ علم والوں کے لیے…
ذہین کسان۔
گاؤں کے ایک سیدھے سادے مگر ذہین کسان اللہ وسایا نے زندگی میں پہلی بار ارادہ کیا کہ وہ شہر جا کر اپنے بیٹے کے اسکول کے کپڑے، بیوی کے لیے شال اور کچھ بیج خریدے گا۔ صبح سویرے بیل گاڑی سے قریبی اسٹیشن پہنچا، سر پر صاف ستھری پگڑی، ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی، جیب میں چند نوٹ، اور دل میں ایک انجانی خوشی۔شہر کا شور، گاڑیوں کے ہارن، لوگوں کی جلدی۔سب کچھ اسے حیران کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ گاؤں میں سورج نکلنے سے پہلے مرغ بولتا ہے، یہاں انسان چیختے ہیں۔ اسی دوران ایک نرم لہجے والا شخص آگے بڑھا۔ سفید کپڑے، چمکدار جوتے، تسبیح ہاتھ میں۔ بولا، “السلام علیکم بھائی جان! لگتا ہے آپ گاؤں سے آئے ہیں؟ میں حاجی فضل دین ہوں، خدمتِ خلق میں لگا رہتا ہوں۔ اگر کہیں جانا ہو تو بتائیں، میرا بھی راستہ بازار کی طرف ہے۔اللہ وسایا…
بادشاہ کی اصل عظمت اس کے تاج میں نہیں، اس انصاف میں ہے جو اس کے زیرِ سایہ رہنے والوں کو ملتا ہے۔
ایک سلطنت تھی جس کی وسعت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بلند دروازے، سنگِ مرمر کے ایوان، سونے سے مزین چھتیں اور آسمان سے باتیں کرتے مینار دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ محل کے گرد بلند فصیلیں تھیں، فصیلوں پر پہرے دار تعینات تھے اور دربار میں ایسے وزیر و امیر جمع رہتے تھے جن کی زبانوں پر بادشاہ کی تعریف اور نگاہوں میں اپنی اپنی غرض کے سوا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ خود کو خوش نصیب سمجھتا تھا۔ اس کے خزانے بھرے ہوئے تھے، اس کے دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے تھے اور اس کے ایک اشارے پر سینکڑوں آدمی دوڑ پڑتے تھے۔ اسے گمان تھا کہ اس کی رعایا بھی اسی طرح آسودہ ہوگی جس طرح وہ خود آسودہ تھا، کیونکہ دربار میں روزانہ اس کے کانوں تک یہی خبریں پہنچائی جاتی تھیں کہ ملک میں امن ہے،…
خوف کا بت
*کہتے ہیں کہ دور دراز کے کسی علاقے میں ایک بستی تھی۔ وہاں لوگ ہمیشہ پریشان رہتے تھے، وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک خوفناک دیو وہاں آتا اور بستی والوں کو للکار کر کہتا،* “کیا کوئی مرد ہے تمہارے درمیان جو مجھ سے مقابلہ کرے؟ کیا کوئی ایسی ہمت رکھتا ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور یوں وہ ہر سال کسی نہ کسی انسان کو مار ڈالتا۔ آج بھی وہی دن تھا… دیو کے آنے کا… اور گاؤں والے سخت ڈرے اور پریشان تھے کہ آج بھی ہماری بستی کا کوئی نوجوان جان سے جائے گا۔ اتفاقاً اسی دن، ایک مرد مجاہد وہاں جا پہنچا۔ جب اس نے پورے گاؤں میں موت جیسا سوگ دیکھا تو وہ بہت حیران اور بے چین ہوا۔ اس نے بستی والوں سے پوچھا،“تم لوگ اتنے پریشان کیوں ہو؟ یہاں کیا ہوا ہے کہ سب کچھ مردہ سا نظر آتا ہے؟” بستی والوں نے…
علم اور تجربہ
ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…
بادشاہ اور چراغ
8ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں ایک…
میٹھا کنواں
برصغیر کی ریاست بہاولپور میں ایک زمانہ تھا جب ریاستوں کے فیصلے شاہی درباروں میں ہوتے، بڑے بڑے جاگیردار اپنی زمینوں پر فخر کرتے، نواب اپنی شان و شوکت کے قصے سناتے اور مہاراجے اپنے خزانوں کی چمک سے دنیا کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی زمانے میں بہاولپور میں ایک ایسا تاجر رہتا تھا جس کی دولت کے چرچے صرف مقامی بازاروں تک محدود نہ تھے، بلکہ دور دراز ریاستوں کے ایوانوں میں بھی اس کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ اس کے دروازے پر کبھی کسی ریاست کا دیوان قرض کی درخواست لیے کھڑا ہوتا، کبھی کوئی نواب اپنی جاگیر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا اور کبھی کسی راجے کا ایلچی شاہی مہر لگی چٹھی لیے حاضر ہوتا۔ اس کے پاس سونے چاندی کے ذخیرے تھے، وسیع کاروبار تھا، دور دراز شہروں میں اس کے کارندے تھے اور ایسے تجارتی…
El pájaro dorado y el viejo árbol
En medio de un bosque, había un árbol muy viejo y frondoso. Era tan antiguo que todos los animales y aves del bosque lo respetaban. En la rama más alta de este viejo árbol vivía un pájaro dorado, cuyas alas brillaban como el oro y cuyo canto tenía una extraña magia. El pájaro y el viejo árbol eran grandes amigos. Cada mañana, el pájaro venía de lejos y le contaba al viejo árbol historias y cuentos de todo el mundo. A cambio, el viejo árbol protegía al pájaro del sol abrasador, la lluvia y las tormentas con sus gruesas hojas. Érase una vez, una grave sequía azotó la zona. Dejaron de llover, los ríos se secaron y todos los árboles del bosque comenzaron a marchitarse. Aquel viejo árbol también empezó a secarse lentamente, sus hojas cayeron y sus ramas se debilitaron. Todas las demás aves del bosque abandonaron sus nidos…


















