Category Archives: Urdu Stories

گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں ایک غریب عورت اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ غربت اس گھر کی ایسی مہمان تھی جو چاہے جتنی بار نکالو، اگلے دن پھر دروازے پر کھڑی مل جاتی۔ گھر میں اناج ناپ کر استعمال ہوتا، آٹا گوندھتے وقت عورت کی نظریں پیالے میں موجود آٹے پر ہوتی، اور چولہے پر روٹی پکاتے ہوئے وہ پہلے بچوں کی روٹیاں گنتی، پھر اپنے لیے کوئی چھوٹا سا ٹکڑا بچا لیتی۔ ایک دن اسے کچھ گندم کے دانے نصیب ہوئے۔ اس نے انہیں صاف کیا اور گھر کے صحن میں ایک چٹائی پر پھیلا دیا تاکہ ہوا لگ جائے اور دانوں کی نمی نکل جائے۔ پھر وہ گھر کے دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ اگلی صبح جب وہ دانے سمیٹنے آئی تو اچانک اس کی نظر ایک لمبی قطار پر پڑی۔ چیونٹیاں ایک کے پیچھے ایک چلی آ رہی تھیں۔ کوئی ایک دانہ اٹھائے…

Read more

تُو نے وہ قصہ سُنا ہے کہ ہندوستان میں ایک عقلمند نے دوستوں کے ایک گروہ کو دیکھا، بھوکے، تھکے ہوئے، بے ساز و سامان اور ننگے، سفر سے دراز راستہ سے آ رہے تھے، اُس کی دانائی کی محبت جوش میں آئی اور اُن کو تپاک سے سلام کیا اور پھول کیطرح کِھل گیا۔ بولا، میں جانتا ہوں کہ بھوک سے پورا معدہ خالی ہونے سے تم پر میدانِ کربلا کی سی مصبتیں جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن خدا کے لئے اے دوستو! تم ہاتھی کے بچے کو ہر گز نہ کھانا۔ جس جانب تم اب جا رہے ہو، ہاتھی ہے، دل و جان سے میری نصیحت سُن لو، تمہارے راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں جن کا شکار تمہیں بہت مرغوب ہے، نہایت عمدہ اور پاکیزہ اور موٹے ہیں، لیکن اُن کی ماں گھات میں رہتی ہے، اپنے بچے کی خاطر سینکڑوں میل کے راستہ سے وہ روتی…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے۔ دونوں نے تجارت کرنے کا ارادہ کیا اور ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ ان میں سے ایک نہایت عقل مند مگر حد سے زیادہ چالاک تھا۔ وہ اپنی چالاکیوں اور لوگوں کو دھوکا دینے کی عادت کی وجہ سے مکار چند کے نام سے مشہور تھا۔ دوسرا بہت سادہ لوح اور غافل تھا۔ وہ نفع اور نقصان میں بھی زیادہ فرق نہیں کر پاتا تھا، اس لیے لوگ اسے بھولا رام کہتے تھے۔ دونوں دوست کئی دن تک سفر کرتے رہے۔ راستے میں مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے ایک دن انہیں اچانک ایک تھیلا نظر آیا۔ انہوں نے قریب جا کر دیکھا تو اس میں اشرفیوں کی بڑی مقدار موجود تھی۔ دونوں یہ خزانہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ مکار چند نے کہا: “بھائی! کبھی…

Read more

ایک  بادشاہ کا  ایسے علاقے  سے گزر ہوا جہاں کے لوگ نہر سے  پانی پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کیلئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز پہاڑی علاقے کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کرتا، کوئی مویشی پالتا اور کوئی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کے گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ حامد دن بھر جنگل میں محنت کرتا اور شام کو لکڑیاں بیچ کر جو کچھ ملتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر کہتے: “حامد کے پاس دولت نہ ہو، لیکن اس کے دل میں خیانت نہیں۔” ایک دن صبح حامد حسبِ معمول اپنی کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ اس روز موسم کچھ عجیب تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ حامد نے…

Read more

برطانوی راج میں گاؤں سے پکڑ کر نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا۔ اسی چکر میں ایک مراثی کا بیٹا بھی پکڑ کر انہوں نے زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کیلئے پکڑا تو اسے لیجاتے ہوئے مراثی کی ماں وہاں پہنچ گئی اور آفیسر سے بولی“پتر۔۔۔! اے مراثیاں دا بال کدھر لے چلیا اے۔۔۔؟”تو آفیسر گھوڑے پر بیٹھے بولا “ماں جی۔۔۔! ملکہ برطانیہ نوں تہاڈے منڈے دی جنگ وچ لوڑ پے گئے اے۔۔۔!”تو ماں بولی “پتر۔۔۔! ملکہ نوں آکھیں کہ جے گل مراثیاں تے آگئی اے تے فیر صلح ای کر لو”برطانوی راج میں گاؤں سے پکڑ کر نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا۔ اسی چکر میں ایک مراثی کا بیٹا بھی پکڑ کر انہوں نے زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کیلئے پکڑا تو اسے لیجاتے ہوئے مراثی کی ماں وہاں پہنچ گئی اور آفیسر سے بولی“پتر۔۔۔! اے مراثیاں دا بال کدھر لے چلیا…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک نہایت دانا، رحم دل اور انصاف پسند قاضی ہوا کرتے تھے۔ ان کے فیصلوں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ قاضی صاحب مجرم کو صرف سزا نہیں دیتے تھے، بلکہ ایسی تدبیر کرتے کہ مجرم خود اپنے جرم کا راز کھول دیتا۔ ایک دن شہر کا ایک مالدار تاجر گھبرایا ہوا عدالت میں پہنچا۔ اس نے پریشانی سے کہا: “قاضی صاحب! میری دکان سے ہیروں کی ایک قیمتی پوٹلی غائب ہوگئی ہے۔ مجھے شک ہے کہ میرے چار ملازموں میں سے ہی کسی نے یہ چوری کی ہے، کیونکہ دکان کی چابی انہی چاروں کے پاس ہوتی ہے۔” قاضی صاحب نے غور سے اس کی بات سنی اور اطمینان سے بولے: “فکر نہ کرو، کل تک چور خود سامنے آ جائے گا۔” انہوں نے فوراً چاروں ملازموں کو عدالت میں طلب کیا۔ ہر ایک…

Read more

ایک بادشاہ نے ایک بے گناہ قیدی کے قتل کا حکم دے دیا۔ قیدی مایوسی کے عالم میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ بادشاہ نے اسے بڑبڑاتے دیکھا تو وزیر سے پوچھا: “یہ کیا کہہ رہا ہے؟” وزیر نے جواب دیا: “حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ معاف کرنے والوں کو اللہ پاک پسند فرماتا ہے۔” وزیر کی بات سن کر بادشاہ کا دل نرم پڑ گیا اور اس نے فوراً قیدی کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ایک مصاحب نے فوراً کہا: “حضور! یہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا، وزیر جھوٹ بول رہا ہے!” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وزیر کا وہ جھوٹ جو کسی کی جان بچا دے اور نیکی کی طرف لے جائے، تیرے اُس سچ سے بہتر ہے جو دلوں میں نفرت اور فساد پیدا کرے۔” سبق:ہر سچ بولنا ضروری نہیں، خاص طور پر وہ سچ جو کسی کی بھلائی کے بجائے فساد پیدا کرے۔…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز پہاڑی علاقے کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کرتا، کوئی مویشی پالتا اور کوئی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کے گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ حامد دن بھر جنگل میں محنت کرتا اور شام کو لکڑیاں بیچ کر جو کچھ ملتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر کہتے: “حامد کے پاس دولت نہ ہو، لیکن اس کے دل میں خیانت نہیں۔” ایک دن صبح حامد حسبِ معمول اپنی کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ اس روز موسم کچھ عجیب تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ حامد نے…

Read more

ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…

Read more

اشفاق احمد بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بانو قدسیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔ میں روزانہ انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔ گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا، دوسری طرف جا کر دروازہ کھولتا، بانو قدسیہ اترتیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہو جاتیں۔ چھٹی کے وقت بھی میں انہیں لینے آتا، گاڑی سے اتر کر دروازہ کھولتا اور انہیں عزت سے گاڑی میں بٹھا کر گھر لے آتا۔ یہ منظر روزانہ دیکھ کر ان کی سہیلیاں کہتیں: “واہ! ان دونوں میں کتنی محبت ہے۔ اللہ ہمیں بھی ایسا شوہر دے!” وہ مجھے کسی شاہی نوکر کی طرح دروازہ کھولتے اور بانو قدسیہ کو شہزادی کی طرح گاڑی سے اترتے دیکھتیں۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ حقیقت کچھ اور ہے… ہماری گاڑی کا دروازہ اندر سے خراب تھا، اس لیے مجھے ہر بار باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا! 🤣 کبھی کبھی لوگ…

Read more

عرب کے ایک مشہور شخص کو اپنی چچا زاد لڑکی پسند آ گئی۔ اس نے اس کے والد سے نکاح کا پیغام بھیجا اور مہر کے طور پر سو اونٹنیاں اور ان کا چرواہا دینے کی پیشکش کی۔ لڑکی کے والد نے کہا: “تم دوسروں سے زیادہ اس کے حقدار ہو، لیکن میں اس کا مہر صرف تمہارا گھوڑا چاہتا ہوں، وہی گھوڑا جس پر تم سواری کرتے ہو۔” گھوڑا اس شخص کو بے حد عزیز تھا، اس لیے وہ فوراً جواب نہ دے سکا۔ لڑکی نے اشارے سے اسے رضامند ہونے کا کہا، مگر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور سب کے سامنے یہ اشعار پڑھے: گھوڑے کے سر پر لگام کی جھنکار مجھے تم سے شادی کرنے سے زیادہ عزیز ہے۔ میرے گھوڑے کی لگام کی آواز تمہارے اشاروں سے زیادہ محبوب ہے۔ میرا گھوڑا اتنا معمولی نہیں کہ میں اسے آسانی سے دے دوں جبکہ نیزہ…

Read more

ایک بادشاہ تھا جسے اپنی سلطنت کی وسعت سے زیادہ اپنی یادگاروں پر ناز تھا۔ اس نے ایک دن اپنے دل میں خیال کیا کہ دنیا میں ایسے کتنے بادشاہ آئے اور چلے گئے، مگر ان کے نام کے ساتھ ایسا کیا رہ گیا جسے دیکھ کر آنے والی نسلیں کہیں کہ یہاں کبھی ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا؟ چنانچہ اس نے اپنی سلطنت کے ایک خوب صورت حصے میں ایک نیا شہر بسانے کا ارادہ کیا۔ دور دور تک زمین خریدی گئی، سنگ تراش بلائے گئے، معمار جمع کیے گئے اور خزانے کے دروازے کھول دیے گئے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا، “میں ایسا شہر چاہتا ہوں جس میں انسان کی ہر جائز خواہش کو جگہ مل جائے۔ تم سوچو، دنیا میں ایک خوش حال انسان کو کیا کیا چاہیے، اور جو چیز تمہیں اس شہر کے لائق لگے، اسے اس میں شامل کر دو۔” کسی…

Read more

ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…

Read more

یہ برصغیر کے اُن دنوں کی بات ہے جب ریاستیں اپنے اپنے رنگ میں آباد تھیں، کہیں مندروں کی گھنٹیاں صبح کے سناٹے کو توڑتی تھیں، کہیں مسجدوں کی اذانیں فضا میں پھیلتی تھیں، کہیں دور تک پھیلے کھیت زمین کو سبز چادر اوڑھائے رکھتے تھے اور کہیں ایسے گھنے جنگل تھے کہ دن کے وقت بھی سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لیے پتوں سے اجازت مانگتی محسوس ہوتی تھی۔ انہی دنوں مالوا کے ایک سرسبز علاقے، دھار کے قریب، ایک برہمن پنڈت رہتا تھا جس کا نام پنڈت دیو دت تھا۔ وہ صرف اپنے علاقے کا پنڈت نہیں تھا؛ دور دور کی ریاستوں میں لوگ اس سے مشورہ لینے آتے، راجے اس کے قدموں میں بیٹھتے، بڑے خاندان اس کی رائے کو اہمیت دیتے اور عام لوگ اسے علم و بصیرت کا آدمی سمجھتے تھے۔ مگر اس کی سب سے بڑی فکر اس کی شہرت یا دولت…

Read more

کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر صاحب!…

Read more

ستر برس کا بوڑھا مچھلی کا شکار کر رہا تھا کہ اسے آواز سنائی دی:“مجھے نکالو” آس پاس کوئی نہ تھا۔ بوڑھا سمجھا کہ اس کے کان بجے ہیں، مگر پھر “مجھے نکالو” کی آواز آئی تو اس نے دیکھا کہ پانی میں ایک مینڈک سر نکالے بول رہا تھا۔ اُس نے پوچھا: “کیا تم ہی انسانی آواز میں بولے ہو؟” مینڈک نے جواب دیا: “ہاں! مجھے نکالو، پھر مجھے بوسہ دو، میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی۔ لوگ تم پر رشک کیا کریں گے کہ تمہاری بیگم کس قدر خوبصورت ہے۔” بوڑھے نے مینڈک کو پانی سے نکالا اور اسے جیب میں ڈال کے نگاہیں بنسی کی ڈوری پر لگا دیں۔ مینڈک نے کہا: “کیا تم نے سنا نہیں کہ مجھے بوسہ دو تو میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن کر تمہاری بیوی کہلاؤں گی؟” بوڑھے نے تاریخ ساز الفاظ کہے!! “”نہیں بیٹا! اس عمر…

Read more

ایک شہر میں ایک نہایت امیر اور سخی تاجر رہتا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا، مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی… سستی! وہ زیادہ تر وقت بستر پر گزارتا۔ نہ چلنا پسند کرتا، نہ جسمانی محنت۔ آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھتا گیا اور صحت اتنی خراب ہوگئی کہ ایک دن وہ اپنے بستر سے خود اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا۔ گھر والوں نے بہت علاج کروائے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک دن انہیں ایک بزرگ کا پتا چلا جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے مشہور تھے۔ وہ تاجر کو لے کر بزرگ کے پاس پہنچے۔ بزرگ نے کہا: “میں اس کا علاج ضرور کروں گا، لیکن ایک شرط ہے… اسے خود چل کر میرے پاس آنا ہوگا۔” اگلے دن تاجر بڑی مشکل سے چلتا ہوا بزرگ کے گھر پہنچا، مگر بزرگ وہاں موجود نہ تھے۔ اگلے دن پھر سے…

Read more

مراد کے ابو تھانیدار تھے۔ ایک دفعہ ان کا تبادلہ شہر سے دور ایک پہاڑی گاؤں میں ہو گیا۔ مراد بھی اپنے امی ابو کے ساتھ اس گاؤں میں رہنے لگا۔ ان کا گھر گاؤں سے ہٹ کر تھا اور اس کے اطراف میں پہاڑیاں اور جنگل تھے جن میں ریچھ بہت زیادہ تھے۔ گاؤں والے ان سے بہت تنگ رہتے تھے، کیونکہ وہ ان کے کھیت اور باغ اجاڑ دیتے تھے۔ گاؤں میں اونچے اونچے درخت بھی تھے جن میں شہد کے بڑے بڑے چھتے لگے تھے۔ان چھتوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے گاؤں والوں نے درختوں کے ساتھ رسیاں باندھ رکھی تھیں جن میں موٹی موٹی لکڑیاں لٹک رہی تھیں۔ جب ہوا چلتی تو یہ لکڑیاں جھولنے لگتیں اور ان کی آواز اور حرکت سے ریچھ درختوں سے دور رہتے تھے۔ریچھ کا بچہ اور مرادایک رات ایک ریچھنی اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ گاؤں میں گھس…

Read more

40/1802
NZ's Corner