Category Archives: Urdu Stories

ایک بادشاہ تھا جس کا بچپن کا ایک دوست تھا۔ وہ دوست ہمیشہ یہ کہتا تھا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” بادشاہ کو یہ بات کبھی اچھی نہ لگتی، لیکن دوست اپنی بات پر ڈٹا رہتا۔ ایک دن دونوں شکار کو گئے۔ دوست نے بادشاہ کے لیے بندوق میں گولی بھری۔ لیکن غلطی سے بندوق میں کوئی خرابی ہو گئی۔ جب بادشاہ نے گولی چلائی تو اس کا انگوٹھا اُڑ گیا۔ بادشاہ درد سے چِلایا۔ دوست نے فوراً کہا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کو شدید غصہ آیا۔ اس نے حکم دے دیا کہ اس دوست کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ ایک سال گزر گیا۔ بادشاہ پھر شکار کو نکلا۔ اس بار وہ بہت دور نکل گیا اور ایک ایسے جنگل میں جا پہنچا جہاں آدم خور جنگلی قبیلہ رہتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو پکڑ لیا اور…

Read more

فارس کے شہنشاہ نوشیرواں عادل کے پاس ایک بہترین باز تھا، جسے اس نے اپنے اکلوتی شہزادے کو دیا تھا۔ شہزادہ جوان تھا اور اسے شکار کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن وہ باز لے کر شکار کو نکلا۔ راستے میں اس نے ایک ہرن دیکھا۔ اس نے باز کو اڑایا، لیکن باز واپس آ گیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، لیکن باز پھر واپس آ گیا۔ شہزادے کو بہت غصہ آیا اور اس نے باز کو زمین پر پٹخ دیا۔ باز مر گیا۔ شہزادہ شکار بھول کر واپس محل لوٹ آیا۔ شام کو جب شہنشاہ کو پتا چلا تو وہ بہت غمگین ہوا۔ اس نے شہزادے کو بلایا اور کہا، “بیٹا! باز تو چلا گیا، لیکن تم نے اسے بغیر وجہ مار ڈالا۔” شہزادے نے کہا، “والد جان! وہ میرا کہنا نہیں مان رہا تھا۔” شہنشاہ نے کہا، “بیٹا! باز کو مارنا آسان تھا، لیکن اس کی حکمت کو…

Read more

بغداد کے ایک گھنے بازار میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام حاجی تھا۔ وہ اتنا غریب تھا کہ کبھی کبھی اسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا جس کی دیواریں گرنے کو تھیں اور چھت سے بارش ٹپکتی تھی۔ ایک رات حاجی نے اللہ سے دعا کی، “اے میرے رب! میں نے اپنی پوری زندگی محنت کی ہے، لیکن میرے پاس آج بھی ایک پیسہ نہیں ہے۔ مجھے کوئی راستہ دکھا دے۔” اس رات اس نے خواب دیکھا۔ خواب میں ایک نورانی شخصیت نے اس سے کہا، “حاجی! تمہارا خزانہ مصر کے شہر قاہرہ میں ایک خاص جگہ دفن ہے۔ وہاں جاؤ اور اپنی قسمت آزماؤ۔” صبح جب حاجی بیدار ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ محض ایک خواب تھا، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی کشش پیدا ہوئی۔ وہ بار بار اس…

Read more

جاپان میں کسی جگہ ایک میاں بیوی بڑی خوش حال زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز وہ عبادت گاہ میں گئے اور گڑگڑا کر دعا کی۔ “اے اللہ، اپنی رحمتوں سے ہمیں ایک بچہ عطا فرما، چاہے انگلی کے ایک پور کے برابر ہو۔” کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک خوب صورت لڑکا پیدا ہوا۔ لیکن اس کا قد بالغ انسان کی انگلی سے بھی کم تھا، اس کے باوجود اس کے والدین نے اسے ناز و نعم سے پالا جیسے وہ ان کی آنکھ کا تارا ہو۔ لڑکا انتہائی ذہین اور اچھے اخلاق کا تھا، مگر اس کے قد میں اضافہ نہ ہوا۔ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اس سے محبت پیار سے پیش آتے اور اسے سن بوشی کے نام سے پکارتے۔ “سن” ایک پیمانہ ہے تقریباً تین سینٹی میٹر کے برابر اور “بوشی” کے معنی پروہت…

Read more

وقت کی گرد میں لپٹا ہوا وہ دور،جب مصر کی سرزمین پر ایک ایسا بادشاہ حکمران تھا جس کے غرور کی بلندیوں کو دیکھ کر آسمان بھی حیران رہ جاتا تھا۔وہ خود کو رب کہتا تھااور لوگ، خوف کے سائے میں، اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زمین پر طاقت ہی سچ تھی، اور کمزوری جرم۔ لیکن قدرت کا ایک عجیب اصول ہےوہ ہمیشہ سب سے بڑی طاقت کو سب سے کمزور ہاتھوں سے شکست دیتی ہے۔ فرعون کے محلاتسنگِ مرمر کے ستون، سونے سے مزین دیواریں، چمکتے ہوئے فانوس، اور غلاموں کی قطاریںظاہر میں سب کچھ شان و شوکت کا مظہر تھا، مگر باطن میں خوف، ظلم اور بے یقینی کا راج تھا۔ ایک پیشگوئی نے اس کی نیندیں چھین لی تھیں: “بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو تیری سلطنت کو ختم کر دے گا۔” یہ جملہ اس کے لیے…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر اندھیروں کا راج تھا،اور آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں کم ہو چکی تھیں مگر انہی اندھیروں میں ایک چراغ تھاحضرت ابراہیم علیہ السلام۔ وہ صرف ایک نبی نہیں تھے،وہ تلاش تھےوہ سوال تھےوہ یقین تک پہنچنے کا سفر تھے۔ شام کا وقت تھاسورج سمندر کے کنارے ڈوب رہا تھالہریں آہستہ آہستہ ساحل کو چھو رہی تھیں حضرت ابراہیمؑ تنہا کھڑے تھےخاموشسوچ میں ڈوبے ہوئے ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی ایک مردہ جسمجسے مچھلیاں کھا رہی تھیںپھر پرندے آئےپھر درندے ایک ہی جسم کے ٹکڑےمختلف مخلوقات کے پیٹ میں جا رہے تھے یہ منظر عام انسان کو شاید نظرانداز کر دیتالیکن ایک نبی کی نگاہ میں یہ سوال بن گیا۔ ایک سوال، جو ایمان کے اندر سے اٹھا حضرت ابراہیمؑ کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوئی یہ شک نہیں تھایہ انکار نہیں تھایہ صرف ایک خواہش تھی “میں دیکھنا چاہتا ہوں” انہوں…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر ایک ایسی سلطنت قائم تھیجس کی مثال نہ پہلے کبھی دیکھی گئی، نہ بعد میں ہوا غلام تھیجنات تابع تھےپرندے لشکر کا حصہ تھےاور انسان، ایک عظیم بادشاہ کے حکم کے پابندیہ سلطنت تھیحضرت سلیمان علیہ السلام کی حضرت سلیمانؑ صرف بادشاہ نہیں تھےوہ نبی بھی تھے ان کے حکم پر:ہوا تیز رفتاری سے چلتیجنات محلات بناتےسمندر سے موتی نکالے جاتےپرندے پیغام رسانی کرتے یہ وہ طاقت تھیجس پر انسان تو کیاجنات بھی حیران تھے جنات، جو انسانوں سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے تھےاپنی قوت پر نازاں تھے وہ سمجھتے تھے کہ: ہم سب کچھ جانتے ہیں ہم ہر راز تک پہنچ سکتے ہیں مگر ایک چیز تھیجو ان کے علم سے باہر تھی“غیب” حضرت سلیمانؑ نے جنات کو ایک عظیم کام پر لگا رکھا تھا۔ بیت المقدس کی تعمیر یہ کام آسان نہ تھامحنت طلب بھی تھا، اور مسلسل بھیجنات یہ کام کر رہے تھےلیکن…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنی ظلم و جور کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کی رعایا اس سے بے حد خوفزدہ تھی۔ لوگ اس کی موت کی دعائیں مانگتے تھے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو رکھتے تھے۔ مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں، لیکن بادشاہ اپنی روش پر ڈٹا ہوا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ پوری دنیہ حیران رہ گئی۔ اس ظالم بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنی سابقہ عادات کو ترک کر رہا ہے اور اب وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ لوگوں کو یقین نہ آیا، لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور بادشاہ اپنے وعدے پر قائم رہا تو رعایا نے اسے داد دینا شروع کر دی۔ لوگ اب اسے برکتوں سے یاد…

Read more

عام طور پر کہانیوں میں بھیڑیا کو چالاک اور ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ قصہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک بار جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک بوڑھے بھیڑیے کو اپنی غار کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔ شیر کا خیال تھا کہ بھیڑیا لالچ میں آسانی سے قابو میں آ جائے گا، اس لیے وہ اسے گوشت دے کر خوش رکھتا تھا۔ ایک رات شیر شکار پر چلا گیا۔ اسی دوران ایک لومڑی غار کے قریب آئی اور بھیڑیے سے آہستہ آواز میں کہا: “تم شیر کی خدمت کیوں کر رہے ہو؟ آؤ! غار میں موجود گوشت آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور یہاں سے نکل چلتے ہیں۔” بھیڑیا مسکرا کر بولا: “مجھے گوشت کی بھوک نہیں، بلکہ اس اعتماد کی قدر ہے جو شیر نے مجھ پر کیا ہے۔ اگر آج میں نے بے وفائی کی تو کل پورا جنگل یہی…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دور کی بات ہے۔ ایک شخص کا مزاج بگڑ گیا اور وہ ایک حکیم کے پاس گیا۔ اس نے حکیم سے کہا، “میرے لیے کوئی دوا بنا دو۔” حکیم نے معائنہ کرنے کے بعد کہا، “دوا کے تمام اجزا تو موجود ہیں، لیکن ایک چیز کی کمی ہے۔ شہد کی ضرورت ہے، اور یہ شہد کا موسم نہیں ہے۔ اگر تم شہد لے آؤ تو میں دوا تیار کر دوں۔” وہ شخص ایک چھوٹی سی ڈبیا لے کر نکلا۔ اس نے لوگوں کے دروازے دروازے پھٹکے، لیکن اسے کہیں شہد نہ ملا۔ ہر طرف مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ آخر کار اس نے دربارِ غزنوی میں حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ محل کے دروازے پر پہنچا تو ایاز وہاں کھڑا تھا۔ اس شخص نے اپنی داستان سنائی اور کہا کہ مجھے ایک چھوٹی سی ڈبیا میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا، “تم ٹھہرو، میں بادشاہ سے…

Read more

جنگل میں 🐯 شیر نے اعلان کیا کہ اب جنگل کا “خزانچی” رکھا جائے گا۔ جو سب سے ہوشیار ہو گا، وہی منتخب ہو گا 😎 🐺 لومڑی نے فوراً اپنا نام دے دیا۔ انٹرویو لینے کی ذمہ داری 🦉 الو کو ملی کیونکہ وہ رات کو جاگتا ہے اور سب کی خبریں رکھتا ہے۔ پہلے دن لومڑی آئی۔ الو نے پوچھا “خزانے کی رکھوالی کیسے کرو گی؟”لومڑی بولی “جی سر، آنکھیں بند کر کے۔ تاکہ لالچ نہ آئے” 😇 الو نے ایک زور دار چونچ ماری 👋 “جھوٹ کیوں بولتی ہو؟ آنکھیں بند کر کے تو تم خود خزانہ کھا جاؤ گی۔” اگلے دن لومڑی پھر آئی۔ الو: “چلو بتاؤ، اگر کوئی چوری کرے تو کیا کرو گی؟”لومڑی: “جی سر، میں شور مچا دوں گی۔”الو نے پھر چونچ ماری 👋 “جھوٹ۔ تم تو خود چوروں کی سردار ہو۔” تیسرے دن لومڑی تنگ آ کر 🐯 شیر کے پاس چلی…

Read more

کہتے ہیں ایک راجہ کا وزیر بڑا ہو شیار اور عقلمند تھا ۔ راجہ اُس کے کاموں سے اتنا خوش تھا کہ اُس نے اُس کو وزیر اعظم بنا دیا ۔ یہ بات رانی کو بہت ناگوار گزری ۔ کیونکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی تھی۔ پس وہ وزیر اعظم سے حسد کرنے لگی : ۔ ایک دن رانی نے راجہ سے کہا ۔ مہاراج ! آپ کا مزاج بھی دنیا سے نرالا ہے جس سے ذرا خوش ہوئے اُسی کو سر پر چڑھا لیا ۔ بھلا اس آدمی کے کون سے سرخاب کے پر لگے تھے کہ آپ نے اُسے وزیر اعظم بنا دیا اور میرے بھائی کے حقوق کا ذرا بھر خیال نہ کیا ۔ ایسا کونسا کام ہے جو یہ کر سکتا ہے۔ اور میرا بھائی نہیں کر سکتا ؟ راجہ نے کہا کہ یہ شخص بڑا عقلمند اور دور اندیش ہے ۔ اس…

Read more

شہر کے درمیان میں ایک اونچے ستون پر خوش راجکمار کا مجسمہ کھڑا تھا۔ وہ بالکل سونے کا بنا ہوا تھا، اس کی آنکھوں کی جگہ دو نیلم جڑے ہوئے تھے، اور اس کی تلوار کے قبضے پر ایک بہت بڑا سرخ یاقوت جڑا ہوا تھا۔ یہ مجسمہ بہت خوبصورت تھا۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ شہر کے ایک بوڑھے کونسلر نے کہا: “وہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوبصورت ہے۔” لیکن دوسرے کونسلر، جو ہمیشہ اپنی اہمیت جتانا چاہتے تھے، نے کہا: “وہ اتنا خوبصورت نہیں جتنا کہ مفید ہے۔” اور اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایک اور چیز بھی کہی  جو کوئی نہیں سمجھ سکا، لیکن وہ خود اس سے بہت خوش تھا۔ “تمہیں ہمیشہ اپنی اہمیت جتانے کا طریقہ آتا ہے،” بوڑھے کونسلر نے کہا۔ رات کے وقت، جب شہر میں سناٹا چھا جاتا تھا، ایک چھوٹا سا نگل پرندہ…

Read more

ایک زمانے میں ایک نمک فروش تھا۔ وہ روزانہ دریائے سندھ کے کنارے بستے شہر سے نمک خرید کر اپنے گدھے پر لادتا اور دوسرے شہر لے جا کر بیچتا تھا۔ اس گدھے کے ساتھ نمک فروش کی بہت محبت تھی۔ وہ اسے ہر روز صاف کرتا، اچھی خوراک دیتا اور کبھی اس پر سختی نہ کرتا۔ لیکن گدھا بڑا چالاک تھا۔ اس نے دیکھا کہ جب وہ دریا عبور کرتا ہے تو کبھی کبھی اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ پانی میں گر جاتا ہے۔ جب وہ پانی میں گرتا تو اس کی پشت پر لدا نمک پانی میں گھل جاتا اور بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔ گدھے نے سوچا کہ یہ تو بہت اچھا طریقہ ہے بوجھ ہلکا کرنے کا۔ چنانچہ اگلے دن جب نمک فروش نے گدھے پر نمک کی بوری لادی اور وہ دریا کے پاس پہنچے تو گدھے نے جان بوجھ کر اپنا…

Read more

*ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا…* پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ھے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے…؟؟ اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا، اور بولا : پروفیسر (عینک ٹھیک کرتے ہوئے) : “چلو ایک گیم کھیلتے ھیں…! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ھوں گے، پھر تم مجھ سے سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 1000 روپے دوں گا۔” 😎💁‍♂️ کسان (سوچتے ہوئے) : “یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 1000 کا فائدہ…؟ یہ تو وھی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ…! ٹھیک ھے، چلو کھیلتے ھیں…!” پروفیسر (اکڑ کر) : “زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ھے…؟” کسان…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسے جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس نے اپنی مملکت میں حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی جھوٹ بولے گا، اسے سخت جرمانہ دینا پڑے گا اور اس کی زبان کاٹ لی جائے گی۔ اس حکم سے پورے شہر میں خوف طاری ہو گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہ آتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر میں نکلیں گے اور لوگوں کے اخلاق کا خود مشاہدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے اور اپنے وزیر کے ساتھ شہر کی گلیوں میں نکل پڑا۔ شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے لگا تھا۔ بادشاہ اور وزیر شہر کے ایک گوشے میں پہنچے تو ان کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک تاجر بیٹھا اپنا سامان سجا رہا تھا۔ بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا خرگوش رہتا تھا۔ وہ بہت پیارا تھا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی تھی۔ وہ بہت ضدی تھا۔ اگر وہ ایک بار کسی بات پر اڑ جاتا تو اسے کوئی بھی نہ مان سکتا تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے کتنا سمجھایا کہ ضد کرنا اچھی بات نہیں ہے، لیکن خرگوش کسی کی نہ سنتا تھا۔ ایک دن خرگوش بھوک سے بے حال ہو گیا۔ وہ کھانے کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا اور بہت دور جا نکلا۔ وہاں اسے ایک باغ نظر آیا۔ باغ میں خوبصورت گاجریں اگی ہوئی تھیں۔ خرگوش بہت خوش ہوا اور خوب گاجریں کھائیں۔ اس کے بعد اس نے سوچا کہ کچھ گاجریں اپنے گھر بھی لے جائے۔ اس نے اتنی ساری گاجریں اکٹھی کیں کہ ایک بہت بڑا گچھا بن گیا۔ خرگوش نے وہ گچھا اپنے منہ میں لیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے…

Read more

تصور کریں… سال 1218ء کا وسط ہے۔ دنیا کے سب سے خونخوار فاتح، چنگیز خان نے چین کو فتح کرنے کے بعد ایک طاقتور اور وسیع مسلم سلطنت کے حکمران کو دوستی اور تجارت کا پیغام بھیجا ہے۔ چنگیز خان کے بھیجے ہوئے 450 تاجروں کا ایک پرامن تجارتی قافلہ سونا، چاندی، ریشم اور قیمتی تحائف لے کر اس مسلم سلطنت کے سرحدی شہر ‘اترار’ (Otrar) پہنچتا ہے۔ لیکن اس شہر کا حاکم ایک انتہائی مغرور اور لالچی انسان تھا۔ اس نے ان تاجروں کو جاسوس قرار دے کر قتل کروا دیا اور سارا مال لوٹ لیا۔ چنگیز خان کو جب یہ خبر ملی تو اس نے غصے پر قابو رکھا اور اس مسلم شہنشاہ کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے اپنے 3 خاص سفیر بھیجے تاکہ وہ اس سرحدی حاکم کو سزا دے۔ اس مسلم شہنشاہ نے تاریخ کی سب سے بڑی اور ہولناک حماقت کی۔ اپنے غرور کے…

Read more

ایک پریشان حال شوہر ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا، “ڈاکٹر صاحب! مجھے لگتا ہے کہ میری بیوی بالکل بہری ہو چکی ہے۔ مجھے کئی بار اپنی بات دہرانا پڑتی ہے،. . تب کہیں جا کر وہ جواب دیتی ہے۔ بتائیں کیا کروں؟” ڈاکٹر نے مشورہ دیا، “پہلے اس بات کا یقین کرلو کہ واقعی وہ اونچا سنتی ہے۔ پھر اسے چیک اپ کے لیے یہاں لے آنا۔ تم ایسا کرو، آج گھر جا کر 15 فٹ کے فاصلے سے اپنی بیوی سے کوئی بات کہو اور اس کا ردعمل دیکھو۔ اگر وہ جواب نہ دے تو 10 فٹ کے فاصلے سے وہی بات دہراؤ۔ پھر بھی نہ سنے تو 5 فٹ کی دوری سے کوشش کرو، اور اگر تب بھی جواب نہ ملے تو بالکل پاس جا کر پوچھو۔ اس سے ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ بہرہ پن کی شدت کتنی ہے، اور علاج میں آسانی رہے گی۔”…

Read more

ایک بادشاہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُس کے راستے میں ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگی، اور بولی ” اے بادشاہ تو میرے ساتھ انصاف یہاں کریں گا، یا قیامت کے دن پل صراط پر”یہ سن کر بادشاہ کانپ گیا، وہ فوراً بولا اماں “مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں پل صراط پر فیصلہ کروں، میں یہیں انصاف کروں گا” بتا تجھے کس نے پریشان کیا؟بوڑھی عورت نے کہا ” کل تیری فوج کے سپاہی یہاں سے گزارے انہوں نے میری گائے ذبح کر کے کھا لی۔ میری روزی کا صرف وہ ہی ذریعہ تھی۔ میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اُن کی پرورش کیسے کروں گئ؟”یہ سن کر بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اُس نے اپنے وزیر کو کہہ کر بوڑھی عورت کو ستر گائے دلوا دی۔یہ تھے  “سلطان الپ ارسلان” سلجوقی سلطنت کے عظیم سلطان جو بہادری شجاعت میں بھی بےمثال…

Read more

40/740
NZ's Corner