بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
🔘 یورپی سپین پر مسلمانوں کی حاکمیت
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے 🔘 اسپین کا جنوبی علاقہ اندلس آج بھی یورپ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی مٹی میں آٹھ صدیوں تک اسلامی تمدن کی خوشبو بسی رہی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے مسلمانوں نے الاندلس کا نام دیا، اور جہاں 711ء سے 1492ء تک تقریباً 781 سال تک اسلامی حکمرانی قائم رہی۔ یہ دور نہ صرف فتوحات کا ہے بلکہ علم، فن، تعمیرات اور رواداری کا بھی شاندار باب ہے۔ 🔘 یہ سب 711ء میں شروع ہوا جب طارق بن زیاد نے موسیٰ بن نصیر کے حکم پر افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کی۔ ویزی گوتھ بادشاہ راڈرک (رودرگو) کو وادی لکہ میں فیصلہ کن شکست دی۔ طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا: “دشمن سامنے ہے اور پیچھے سمندر!”۔ اس کے بعد چند ہی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdustory
چار ملنگ
چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ پینے آجاتا۔۔ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر جان چھڑانا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ابن بطوطہ‘‘میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ بحر انٹلا نٹک میں ایک مرتبہ طوفان کی وجہ سے عربوں کا ایک جہاز ٹوٹ گیا ،سمندر کی موجوں نے اسے برباد کردیا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک عرب کو جزیرہ کی طرف پہونچا دیا وہ آبادی میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ پوری بستی غیر مسلموں سے آباد ہے ایک غریب کے جھونپڑے میں فروکش ہوئے کچھ مدت کے بعد گھر والے غمگین اور شکستہ دل تھے ، عرب مہمان نے اپنے محسن مالک ِمکان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ہر سال سمندر سے ایک بلا آتی ہے اور بستی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس بلا کو ٹالنے کے لیے ایک رسم ادا کی جاتی ہے کہ پوری بستی میں سے ایک حسین و جمیل لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے سمندر کے کنارے ایک مندر میں رات میں چھوڑ آتے ہیں لڑکی بلا کی بھینٹ چڑھ…
سنڑھ
پرانے زمانے میں چور دیہاتوں میں ایک واردات کا طریقہ استعمال کرتے تھے جسے “سنڑھ لگانا” کہتے تھے۔ یہ ایک خاموش اور نہایت چالاکی سے کی جانے والی واردات تھی۔غمی خوشی کے موقع پر گھر کی ماسی، جو روزمرہ کے کاموں میں مکمل رسائی رکھتی تھی، جہیز کے زیورات، ٹرنک، پیٹی، صندوق اور کمروں کی ترتیب اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ اکثر وہ گھر والوں کو مشورے بھی دیتی، مثلاً کہ فلاں صندوق کو فلاں جگہ رکھیں۔ وہ نہ صرف سامان اٹھانے یا منتقل کرنے میں مدد کرتی بلکہ اندر کی ہر چھوٹی جگہ اور ترتیب کا بھی نقشہ ذہن نشین کر لیتی۔کمرے کے اندر وہ چاروں اطراف قدموں سے ناپ لیتی اور دیواروں کے طاقچوں کو یاد کر لیتی، جہاں دیا، لالٹین یا چھوٹا سامان رکھا ہوتا۔ موقع ملتے ہی اسی دیوار کی بیرونی جانب کوئلے سے ایک نشان بنا دیتی — عام لوگوں کے لیے معمولی، مگر…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر ان کی موت کا وقت بتایا کرتا تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ جس وقت کا وہ اعلان کرتا، عین اسی وقت وہ شخص مر جاتا۔ اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ امیر ہو یا غریب، سب اس کے پاس آتے اور کانپتے دل کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے سامنے رکھ دیتے۔ جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو سلطان کے دل میں بھی ایک ہلکا سا خوف جاگا، حالانکہ وہ ایک بہادر اور عقل مند حکمران تھا۔ سلطان نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس نجومی کو محل میں حاضر کیا جائے۔نجومی جب محل میں آیا تو اس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ گھبراہٹ، جیسے وہ پہلے ہی سب جانتا ہو۔ سلطان نے اسے غور سے دیکھا اور کہا،“کیا تو ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتا سکتا ہے؟”نجومی نے سر جھکا کر جواب…
نمرود
نمرود، جو خود کو خدا کہتا تھا، ایک حقیر سے مچھر کے آگے بے بس ہو چکا تھا۔ اس کا سارا غرور، اس کی ساری طاقت، اس کی فوجیں، اس کے محلات — سب بے معنی ہو گئے تھے۔ اب وہ اپنے ہی محل کے ایک کمرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا، جہاں نہ کوئی لشکر کام آتا تھا اور نہ ہی اس کی خدائی کے دعوے۔کہا جاتا ہے کہ جب مچھر اس کے دماغ میں داخل ہوا تو اسے ایسا درد اٹھا کہ وہ دیوانوں کی طرح چیخنے لگا۔ پہلے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے طبیبوں کے پاس لے جایا جائے۔ شہر کے بڑے بڑے حکیم بلائے گئے۔ جڑی بوٹیاں آزمائی گئیں، تعویذ لٹکائے گئے، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی گئیں، مگر درد کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔جب درد شدت اختیار کرتا تو وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ…
“پلِ فیصلہ”
قدیم جاپان میں، کیوتو کے قریب ایک پہاڑی پر ایک لکڑی کا پل تھا جسے لوگ “پلِ فیصلہ” کہتے تھے۔ روایت تھی کہ جو اس پل سے گزرتا ہے، وہ واپس وہی انسان نہیں رہتا۔ اسیعلاقے میں ہارو نام کا ایک نوجوان سامورائی رہتا تھاتلوار تیز، اصول سخت، اور دل میں ایک ہی خواہش: بے داغ عزت۔ ایک رات اس کے استاد نے اسے بلایا اور ایک خفیہ حکم دیا:“شہر کے ایک بوڑھے کاتب کو خاموش کرنا ہے۔ وہ سچ لکھتا ہے، اور سچ اس وقت ریاست کے لیے خطرہ ہے۔” ہارو نے سر جھکا لیا۔ حکم، حکم ہوتا ہے۔ مگر دل میں پہلی بار بوجھ اترا۔ وہ رات کے اندھیرے میں پل کی طرف بڑھا۔ پل کے بیچ پہنچ کر اسے ایک کمزور آواز سنائی دی۔ بوڑھا کاتب پل کے کنارے بیٹھا کاغذات سمیٹ رہا تھا۔ اس نے ہارو کو دیکھ کر کہا:“تم دیر سے آئے ہو۔ میں جانتا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات کی کڑیاں ایسے ملتی گئیں کہ تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ میں ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کی ایک لا۔ش کسی ٹوبہ یا تالاب میں تیر رہی ہے ، پولیس موقع پر پہنچی ، لا۔ش کے گل سڑ جانے اور پھول جانے کی وجہ سے شناخت ممکن نہ تھی ، ایک ہجوم جمع تھا مگر کسی نے شناخت نہ کی ، لہذا رسمی کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ، متوفی کی جیب سے بھی کچھ نہ ملا تھا ، پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت سر پر لگنے والی چوٹ بتائی گئی اور یہ کہ ٹوبہ میں پھینکے جانے سے قبل اس شخص کی موت ہو چکی تھی جسے ق۔ت۔ل کیا گیا ہے…
عرب و عجم کا بہادر ترین انسان: ابو الولید ابن فتحون
کہا جاتا ہے کہ جب کوئی رومی سپاہی اپنے گھوڑے کو پانی پلاتے اور وہ نہ پیتا، تو وہ اسے ڈانٹ کر کہتا:“تجھے کیا ہوا، پیتا کیوں نہیں؟ کیا تجھے پانی میں ابن فتحون نظر آگیا ہے؟!”ابو الولید ابن فتحون اپنے زمانے میں عرب و عجم کے سب سے بڑے بہادر اور اندلس کے مشہور ترین شہسواروں میں سے تھے۔ رومی فوجیں ان کے نام سے کانپتی تھیں، اور ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کہا جاتا ہے کہ خود گھوڑے بھی ان سے ڈرتے تھے۔ سلطان کی ناراضگی اور حاسدوں کی سازشابو الولید، سرقسطہ (اندلس کا ایک بڑا سرحدی شہر) کے امیر المستعین بن ہود کے دور میں تھے۔ امیر ان کی بہت عزت کرتا تھا اور ہر انعام میں انہیں 500 دینار عطا کرتا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی اس منزلت پر حسد کیا اور سلطان کے کان بھر دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے اپنی کرامت کا ذکر کر رھے تھے…🙂👇 کہ میں صحرا میں جا رہا تھا، چلتے چلتے دو دن گزر گئے تھے 🚶♂️ بھوک لگتی تو ہاتھ بڑھا کر اڑتا ھوا کوئی پرندہ پکڑ لیتا اور سورج کی روشنی پر بھون کر کھاتا…!!خدا کر شکر ادا کر کے آگے چل پڑتا، نماز کا خیال آیا تو پانی ختم ھو چکا تھا تو میں نے ایک جھاڑی دیکھی اس کے پاس جا کر زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی تو اس کے نیچے سے پانی کا چشمہ نکل آیا میں پینے لگا تو خیال آیا کہ یہ جھاڑی پیاسی ھے پہلے اسے پانی پلاؤں، چلو بھر پانی اس کی جڑ میں ڈالا تو وہ درخت بن گئی اور اس کے سائے میں نماز ادا کرنے کا سوچا وضو کے لیے چلو میں پانی لیکر کلی کی تو جہاں جہاں پانی گرا گلاب کے پھول کھل…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔ اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔ سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔ اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
قاتلوں کا گروہ
حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بڑے دریا کے پُرسکون کنارے پر ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا۔ وہاں دریا کی لہروں پر جھکے ہوئے ایک درخت پر ایک ذہین بندر بستا تھا۔ وہ دن بھر میٹھے پھل کھاتا اور سکون کی زندگی بسر کرتا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر اکثر اپنے درخت کے رسیلے پھل دریا میں پھینک دیتا، جنہیں کھا کر مگرمچھ بہت خوش ہوتا۔ یوں، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں میں گہری دوستی ہوتی گئیایک روز مگرمچھ کی بیوی نے ان میٹھے پھلوں کا ذکر سنا تو اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا:> “جو بندر روزانہ ایسے شیریں پھل کھاتا ہے، سوچو اس کا اپنا دل کتنا میٹھا ہوگا! مجھے اس کا دل کھانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”> مگرمچھ پہلے تو ہچکچایا، لیکن بیوی کے اصرار کے آگے ہار مان گیا اور اپنے دوست کو دھوکہ دینے کا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سلطنت میں ایک طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا—دولت، فوج، اختیار۔لیکن اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی بیٹی، شہزادی تھی۔شہزادی نہایت ذہین اور نرم دل تھی۔وہ محل کی اونچی دیواروں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی تھی،لوگوں کے دکھ سمجھنا چاہتی تھی۔ایک دن اس نے باپ سے کہا:“ابا جان، میں رعایا کے درمیان جانا چاہتی ہوں،دیکھنا چاہتی ہوں کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔”بادشاہ نے سختی سے منع کر دیا:“بادشاہوں کی بیٹیاں سوال نہیں کرتیں،وہ صرف حکم مانتی ہیں۔”شہزادی خاموش ہو گئی،مگر اس کی آنکھوں میں سوال زندہ رہے۔کچھ دن بعد سلطنت میں قحط آیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔بادشاہ کو خبر ملی،مگر اس نے سوچا:“یہ مسئلہ خزانے سے حل ہو جائے گا۔”شہزادی نے کہا:“ابا جان، خزانہ کافی نہیں،لوگوں کو صرف روٹی نہیں،عدل اور توجہ بھی چاہیے۔”بادشاہ نے پہلی بار بیٹی کی بات سنی نہیں—اور نقصان بڑھتا گیا۔آخرکار بادشاہ خود بھیس بدل کر شہر گیا۔جو کچھ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
پھجے میاں اور آدھی رات کا سایہ
پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
کتا اور بھیڑیا
کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں،بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،لاٹھی پر حملہ کرتا ہےاور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔یہ اُن لوگوں کی مثال ہےجو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،نتائج پر غصہ کرتے ہیںمگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛وہ فاعل کو دیکھتا ہے،سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،طاقت کے مقابل طاقت۔اور رہی لومڑی،تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛حرکت سے پہلے نیت کو،عمل سے پہلے فیصلے کو،اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکوجو ابھی ہوئی ہی نہیں۔قدیم حکمت خاموشی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
چنگیز خان کی وصیت اور سلطنت کی تقسیم
چنگیز خان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو اپنے چار بیٹوں: جوجی خان، اوقطائی خان، چغتائی خان اور تولی خان کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔ جوجی خان (بڑا بیٹا): اسے بحیرہ قزوین کے شمالی علاقے، بلغار اور قفقاز (Caucasus) کا حصہ ملا۔ تاہم، جوجی خان اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گیا، چنانچہ اس کی وراثت اس کے بیٹے باتو خان کو ملی۔ باتو خان نے ایک بڑی مہم کی قیادت کی اور مشرقی سمت سے یورپ پر حملہ آور ہوا۔ تولی خان: اسے منگولیا کی سرزمین ملی، جو بعد میں اس کے بیٹے ہلاکو خان کے حصے میں آئی۔ ہلاکو خان نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ فارس (ایران) کو فتح کیا اور پھر بغداد کی طرف بڑھا، جہاں اس نے عباسی خلیفہ کو شہید کیا اور پھر شام و مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ برکہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
جیفری ایپسٹین کون تھا؟
اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory