زلزلہ کس نے روکا –
بہت عرصہ پہلے بحیرہ عرب کے کنارے واقع ناریل کے درختوں کی جھنڈ میں ایک پیارا سا سفید خرگوش رہتا تھا،جو بہت وہمی تھا۔ایک دن اپنا کھانا بل میں رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ اگر زلزلہ آ جائے تو میرا کیا ہو گا؟پھر تو میں دراڑوں میں دب کر مر جاؤں گا۔یہ سوچ کر وہ بڑا فکرمند ہوا۔اتفاق سے اسی لمحے ایک پکا ہوا ناریل درخت سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔ناریل کے گرنے کی آواز سن کر وہمی خرگوش نے ہوا میں چھلانگ لگا دی۔اسے یقین ہو گیا کہ زلزلہ آ گیا ہے اور زمین پھٹ رہی ہے۔اس لئے وہ پیچھے دیکھے بغیر بھاگتا چلا گیا۔راستے میں اسے ایک اور خرگوش ملا،جس نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی۔”بھئی!تم اتنی تیزی سے کہاں بھاگے جا رہے ہو؟خیر تو ہے؟“”مت پوچھو بس یوں سمجھو،غضب ہو گیا ہے۔ “اس نے بھاگتے ہوئے کہا۔”مگر ہوا کیا؟کچھ تو پتا چلے!“دوسرے خرگوش نے اس…
میاں کنجوس –
کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے،مگر جب میاں کنجوس کی شامت آئی تو ان کی بیوی نے ان سے آموں کی فرمائش کر دی۔میاں کنجوس کا اصل نام حامد خاں تھا،مگر محلے کا ہر چھوٹا بڑا کنجوسی کی وجہ سے ان کو ’میاں کنجوس‘ کہتا تھا۔خیر،میاں کنجوس نے فرمائش سن تو لی،پھر بہت ہمت کرکے اپنے صندوق میں سے کچھ پیسے نکالے اور بہت شان سے اپنی جیب میں رکھ کر بازار کا رُخ کیا۔ سب سے پہلے ایک آم والے کے پاس پہنچے اور دام معلوم کیا تو پتا چلا ڈیڑھ سو روپے کلو․․․․یہ سنتے ہی میاں کنجوس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے:”ارے بھئی،اتنے مہنگے!کچھ تو کم کرو۔“یہ سن کر آم والے نے جواب دیا:”اس سے سستے لینے ہیں تو آگے جاؤ۔ “میاں کنجوس فوراً آگے ہو لیے۔آگے چل کر دام دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آم ڈیڑھ…
بھالو اور لومڑی –
بھالو میاں اکثر بی لومڑی کی چالاکیوں کا شکار رہتے تھے۔آج بھی ایسا ہی ہوا بی لومڑی نے اطلاع دی کہ ادھر جھونپڑی میں نئے سیاح آئے ہیں ان کے پاس شہد کے جار ہیں تمہارے تو مزے ہو جائیں گے۔وہ بیچارہ لالچ میں اس طرف نکل گیا جس طرف کا لومڑی نے بتایا تھا لیکن کچھ دور جا کر اسے اندازہ ہوا وہ پھر اس کی چال میں آ گیا ہے کیونکہ دور دور تک کسی جھونپڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اس کے پاؤں بھی زخمی ہوئے کیونکہ راستے میں کانٹے تھے۔آج اس کو لومڑی پر بہت غصہ آیا اور اس نے ارادہ کیا اب وہ اس سے ضرور بدلہ لے گا۔شام کو وہ اپنے دوست ہاتھی کے پاس گیا اور تمام ماجرا سنایا اس نے بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور مل کر لومڑی کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا۔ جنگل میں ہر روز…
شیخ چلی کے خیالی پلاؤ
کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کا ایک ہی بیٹا تھا،جس کا نام چلی تھا۔وہ بہت کام چور،بے وقوف،سست اور کاہل تھا۔اسے بس ایک ہی کام آتا تھا،شیخی بگھارنے کا۔جہاں چند لوگوں کو اکٹھے بیٹھے دیکھتا،ان کے قریب جا کر خود بھی بیٹھ جاتا اور انہیں گفتگو کا موقع دیئے بغیر اپنے جھوٹے سچے کارنامے بیان کرنے لگتا۔گاؤں کے لوگ اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھے اور اس کا نام ہی”شیخ چلی“ رکھ دیا تھا۔وہ اپنے نام کی طرح بڑے بڑے خیالی منصوبے بناتا لیکن کسی پر عمل نہیں کرتا۔ایک دن اس کے ”خیالی پلاؤ“ پکانے کی عادت سے چڑ کر ایک شخص نے اس سے کہا:”شیخ صاحب!آپ اتنے بڑے منصوبے کیوں بناتے ہیں؟آپ نے ایک ہفتے بعد اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے،اپنی موت کا خیال کریں“۔ یہ سننا تھا کہ بے وقوف شیخ چلی کو ایک ہفتے بعد اپنی موت کا یقین ہو…
مزاج بخیر
مزاج بخیر سہیل بھائی جان کو بہت اچھی ملازمت مل گئی تھی، جس کی خوشی میں امی نے خاندان بھر میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ابو جی کے کہنے پر ہم شاہدہ خالہ کے ہاں بھی مٹھائی لے کر گئے۔ امی کے ساتھ چند دن پہلے ہی ان کی کسی بات پرنوک جھونک ہو گئی بلکہ بات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ دونوں ہی نے جینا مرناختم کرنے کی قسم کھا لی تھی۔ خاندان کے کچھ لوگ امی کی طرف داری میں اور کچھ شا ہد ہ خا لہ کی حمایت میں تھے۔جب ہم دونوں بھائی میٹھائی لے کر گئے تو نہ صرف انھوں نے مٹھائی لینے سے انکار کر دیا ، بلکہ غصے میں باتیں بھی سنائیں :” لے جاوٴ یہ مٹھائی۔ اس سے بہتر ہے کہ میں زہر کھالوں۔“ وہ غصے سے بولیں اور ہم سر جھکائے باہر نکل آئے۔ منے ! اگر یہ…
حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں
حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں“ مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔انہوں نے اسے رٹ لیا۔شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔یہ بھی ساتھ ہو لیے۔جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فوراً دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو…
جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ۔۔
انسان کی زندگی ایک خوبصورت اور مسلسل سفر ہے، لیکن اس سفر میں ہر موڑ پر ہمارا سامنا مختلف رویوں سے ہوتا ہے۰ بعض لوگ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی منفی سوچ اور کم ظرفی سے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۰ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے؟ نفسیات کے مطابق، انسان کا غصہ اور انا (ego) اکثر اسے ان لڑائیوں میں دھکیل دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۰ عقلمند اور کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہر میدان میں کود پڑیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی جگہ ان کےلیے بہتر ہےاور کہاں خاموشی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۰ اس بات کو سمجھنے کے لیے جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ ایک بہترین مثال ہے۰ ایک بار ایک طاقتور شیر نہایت سکون کے ساتھ…
خرگوش کی غلط فہمی –
سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…
بلاعنوان
ایک کسان نے ایک بوڑھے، بے بس اور بظاہر بیمار بھیڑیے کو بھیڑوں کے ریوڑ کے عین درمیان میں پھینک دیا، بھیڑیا اتنا کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۰ اس کے باوجود پورے ریوڑ میں ڈر کی وجہ سےشدید افرا تفری پھیل گئی۰ ریوڑ میں سب سے وزنی مینڈھا، جو ہمیشہ محفوظ رہنے کے لیے ریوڑ کے مرکز میں رہتا تھا، اچانک خود کو بھیڑیے کے بالکل سامنے کھڑا پاتا ہے۰ اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اس کے پیچھے موجود وہی بھیڑیں، جو روزانہ اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہوتی تھیں، اپنے لیے راستہ بنانے کی خاطر بھیڑیے کی طرف دھکیل دیتی ہیں۰ مینڈھے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بھیڑیے کے کاٹنے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ساتھیوں کے سموں تلے کچلے جانے کی وجہ سے اور وہ ایک بوڑھے ییمار بھیڑیے کی آسان ترین خوراک بن جاتا ہے۰ یہ کہانی ایک…
بلاعنوان 😂
ایک صاحب بیگم کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو دو تین نوالے کھانے کے بعد بولے: “یہ آج کیا پکا دیا ھے؟ نہ گوشت گلا ھے، نہ سبزی! مجھ سے تو یہ کھانا کھایا ھی نہیں جا رہا!” 🤔😒 بیگم فوراً بولیں: “غلطی اپنی اور غصہ مُجھ پر؟ یہ کھانا تو میرے گلے سے بھی نہیں اتر رہا!” 😕😡 شوہر حیران ھو کر بولا: “میری غلطی؟ کیا کھانا میں نے پکایا ھے؟” بیگم نے جواب دیا: “کھانا پکانے کی کتاب آپ ھی تو لائے تھے! میں نے اسی میں لکھی ترکیب سے یہ ڈش بنائی ھے۔” پھر فخر سے بولیں: “ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، لیکن ھم دو تھے، اس لیے میں نے ہر چیز آدھی کر دی…” شوہر نے کہا: “اچھا، پھر؟” بیگم بولیں: “میں نے احتیاط کی انتہا کر دی، مصالحے آدھے، تیل آدھا، پانی آدھا…” تھوڑی دیر رک کر فاتحانہ انداز میں بولیں: “اور پکانے کا…
اتفاق کی بات –
شیدا ایک بھولا بھالا سا انسان تھا۔آج وہ اپنی بیوی کو لینے اس کے گاؤں جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے دیکھا۔خیر وہ اپنے سسرال پہنچا۔بیوی کے بھائی نے اسے بیٹھک میں بیٹھا دیا۔اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ بھائی! میرے گدھے گم ہو گئے ہیں۔اگر آپ نے دیکھے ہوں تو بتائیے۔ شیدے نے فوراً کہا کہ ہاں میں نے فلاں جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ آدمی دوڑتا ہوا چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ آدمی دوبارہ آیا اور کہا کہ آپ تو عظیم آدمی ہیں۔آپ نے جس جگہ بتایا تھا، ٹھیک اسی جگہ گدھے موجود ہیں، پھر وہ چلا گیا۔اب روٹیاں پکنی شروع ہوئیں۔چونکہ وہ باورچی خانے کے قریب ہی کمرے میں بیٹھا تھا، اس لئے اسے روٹیوں کے تھپ تھپ کی آواز سنائی دی۔ اس آواز سے وہ روٹیاں گننے لگا۔جب اسے کھانا پیش کیا…
چوہے کی چوری –
مرزا انور بڑے سرکاری افسر تھے،لیکن نیکی کے کاموں میں حصہ لینا اور سخاوت ان کی خصوصیت تھی۔ایک دن وہ گھر والوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھے۔شادی ہال میں ان کی بیوی کو یاد آیا کہ وہ تو جلدی جلدی میں سونے کا ہار سنگھار میز پر ہی بھول آئی ہیں۔انھوں نے فوراً مرزا صاحب سے کہا تو انھوں نے بے فکری کے انداز میں جواب دیا۔سارے کمروں کو اپنے ہاتھ سے بند کرکے آیا ہوں اور بڑے گیٹ پر چوکیدار موجود ہے۔بے فکر ہو جاؤ،تمہارا ہار میز پر ہی ہو گا۔وہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔شادی کی تقریب کے بعد جب گھر پہنچے تو سنگھار میز پر ہار موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئے اور سارا کمرہ چھان مارا،لیکن ہار نہیں ملا۔ چوکیدار سے معلوم کیا کہ ہمارے بعد کوئی آیا تو نہیں تھا۔ چوکیدار نے جواب دیا:”کوئی نہیں آیا تھا صاحب․․․!“انور صاحب…
بیوقوف گد ھا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا اُس کتے سے بہت پیار کرتا تھا وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلاتا کتا بھی ہر وقت اسکے پیچھے پیچھے دم ہلاتا پھرتا اور جہاں وہ جاتا ساتھ ہو لیتا آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا جو دن بھر بوجھ اُٹھاتا اور رات کو اکیلا جگہ پر پڑارہتا ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر مالک کے کمرے میں جھانکا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کتا مزے سے کھاناکھارہا تھا اور مالک پاس بیٹھا اسے چمکا رہا تھا گدھا اسے دیکھ کر جل گیا اور دل میں کہنے لگا آخر میرا مالک اس کتے کو اتنا پیار کیوں کرتا ہے میں دن بھر سخت محنت کرتا ہوں اور کتاصرف دم ہلاتا ادھر اُدھر اُچھلتا کودتا ہے اس نے سوچا کہ اگر میں بھی کتے کی طرح اُچھلنے کودنے اور…
بے پَرکی اُڑانا –
مستانہ اپنے علاقے کا ایک مشہور حجام تھا۔بے تکی شاعری کرتا تھا۔قافیہ اور ردیف سے ناواقف یہ خود ساختہ شاعر اپنے آپ کو غالب اور مومن کے برابر کا شاعر سمجھتا تھا۔فیس بک پر اپنے اُلٹے سیدھے اشعار لگاتا اور انھیں اقبال کا ہم پلہ بتاتا۔کبھی دکان پر اپنی کسی بے وزن غزل کو مرزا غالب کے معیار کا سمجھ کر سناتا اور ملازموں اور ادب سے ناواقف گاہکوں سے خوب داد سمیٹتا۔اس علاقے میں مسافر دہلوی نام کے ایک شاعر بہت مشہور تھے۔مسافر دہلوی تنہائی پسند آدمی تھے۔انھیں لوگوں میں گھلنا ملنا پسند نہیں تھا،اس لئے اکثر لوگ اُن کے صرف نام اور کلام ہی سے واقف تھے۔”چھوٹے!تین کپ چائے لا!“”ابھی لایا استاد۔“مستانے نے ابھی ابھی دکان کھولی تھی۔”اجو!ٹی وی کھول،دیکھوں تو ذرا امریکا میں کورونا کی اب کیا حالت ہے؟“”کیوں استاد جی!امریکا جانے کا ارادہ ہے کیا؟“اجو نے کچو کا لگاتے ہوئے کہا۔”ارے احمق!وہاں میرا فیس بک فرینڈ…
ایک سے بڑا ایک –
ایک کنجوس کے گھر کوئی مہمان آیا تو اُس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ آدھا کلو عمدہ قسم کا گوشت کہیں سے لے کرآؤ۔ بیٹا بازار گیا اور خاصی دیر بعد خالی ہاتھ گھر لوٹا آیا۔ کنجوس باپ نے پوچھا؛”گوشت کہاں ہے؟“ بیٹا بولا ابا جان میں قصائی کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ جو سب سے عمدہ گوشت تمہارے پاس ہے ، وہ آدھا کلو دے دو۔قصائی نے کہا ؛ بے فکر رہو میں تمہیں ایسا گوشت دوں گا کہ گویا مکھن ہو“ میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو مکن ہی لے لیتا ہوں۔ میں نے قصائی سے گوشت لینے کا ارادہ ترک کردیا اور سیدھا بقال کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ تمہارے پاس جو سب سے عمدہ مکھن ہے وہ دیدو۔ بقال نے کہا؛ بے فکر رہو میں تمہیں ایسا مکھن دوں گا کہ شہد ہو“میں نے سوچا کہ اگر ایسا…
ملا جی کے کارنامے
ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔ ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔ یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی…
😂 چارپائی، چور اور لالچی پڑوسی! 😂
گاؤں کچا بھاگو میں اللہ دتہ نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اپنی حاضر جوابی اور شرارتوں کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کا ایک پڑوسی بھی تھا جس کا نام منیر تھا۔ منیر کی ایک بری عادت تھی، دوسروں کے گھر جھانکنا اور ہر وقت یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ کس کے گھر کیا ہو رہا ہے۔ اگر کسی کے گھر کوئی نئی چیز آ جائے تو رات تک پورے گاؤں میں خبر پھیلا دیتا تھا۔ 😄 ایک دن اللہ دتہ نے مذاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جان بوجھ کر گاؤں کے چند لوگوں کے سامنے کہا، “آج رات میرے گھر ایک بہت بڑا خزانہ آنے والا ہے، بس کسی کو خبر نہ ہو!” یہ بات سنتے ہی منیر کے کان کھڑے ہو گئے۔ شام ہوتے ہی وہ اپنے گھر کی بجائے دیوار کے ساتھ کان لگا کر بیٹھ گیا کہ دیکھوں…
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں
کسی ملک میں بادشاہ کے بیشتر درباری اس کے مشیرِ خاص کی مقبولیت کی وجہ سے اس سے حسد کرتے تھے۔وہ مشیرِ خاص کو نا پسند کرنے لگے تھے اور اسے دربار سے نکلوانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔وہ سارے خود کو چالاک اور عقل مند سمجھتے تھے اور سب سر جوڑ کے اس کے خلاف سازش کر رہے تھے۔ ایک درباری نے کہا:”ہم سب مشیرِ خاص کو ذلیل کر کے دربار سے نکلوانے کے کئی طریقے آزما چکے ہیں، لیکن اب تک کامیاب نہ ہو سکے۔“”پچھلی باتوں کو چھوڑو۔“ دوسرے درباری نے غصے سے کہا:”اس مرتبہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔“”میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی ہے۔“ تیسرے درباری نے کہا:”ہم سب ملکہ معظمہ کے پاس جائیں گے۔ان کا بھائی شکار کھیلنے اور نئے نئے کپڑے پہننے کا شوقین ہے۔ ہم ملکہ سے کہیں گے کہ ان کا بھائی مشیرِ خاص سے زیادہ عقل مند اور قابل ہے۔لہٰذا مشیرِ…
جادو کا توڑ –
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک ننھا خرگوش رہتا تھا، جس کی چھوٹی سی دُم تھی اور لمبے لمبے کان تھے وہ انتہائی شرارتی اور بد تمیز تھا۔ہمیشہ لوگوں کے نام بگاڑتا رہتا اور جب کبھی کوئی غصے سے ڈانٹتا تو اس کا تُرکی بہ تُرکی جواب دیتا۔اس کا نام جینو تھا۔وہ قریب ہی ایک بِل میں رہنے والے خارپشت (چوہے جیسا جانور جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں خطرے کے وقت وہ ان سے اپنا بچاؤ کرتا ہے) کو کانٹوں کا بوجھ کہہ کر پکارتا جس کا وہ بہت بُرا مناتا اور جینو سے کہتا کہ میں تمہاری ماں سے تمہاری شکایت کروں گا۔یہ سن کر جینو کی ہمیشہ ہنسی چھوٹ جاتی اور وہ شرمندہ ہونے کے بجائے کہتا کہ ٹھیک ہے تم میرے امی ابا کو بتاؤ، میرے بہن بھائی کو بتاؤ، بلکہ میرے دادا، دادی کو بتا کر اپنا شوق پورا کر لو۔…
موت کا فرشتہ –
گاؤں کا چودھری جمیل خان کتوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، مگر پھر اچانک ان کی سوچ تبدیل ہو گئی۔انھیں کتے اچھے لگنے لگے۔چودھری کے کہنے سے ان کے منشی نے اخباروں میں اچھی نسل کے ایک کتے کی ضرورت کا اشتہار دے دیا۔جمیل خان کو ایسا کتا درکار تھا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہے اور ان کے اشاروں کو سمجھے۔آخر جمیل خان کو اپنے مطلب کا کتا مل ہی گیا۔کتے کے ساتھ اس کو سدھانے والا بھی آیا اور کتے کی اس طرح ترتیب کی، جیسا کہ جمیل خان چاہتے تھے اور پھر وہ کتا ہر وقت جمیل خان کے ساتھ رہنے لگا۔وہ واقعی ایک اعلیٰ نسل کا کتا تھا، جو جمیل خان کے اشارے پر چلتا تھا۔یہاں تک کہ وہ جمیل خان کے کمرے میں سوتا بھی تھا۔اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے دو نوکر مقرر تھے۔ کتا اتنے مزے میں تھا کہ بعض…