Category Archives: Urdu Stories

رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔ آسمان پر بادل اس طرح گرج رہے تھے جیسے کسی نے صدیوں کا دکھ ایک ہی رات میں زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بارش کی ہر بوند چھت پر نہیں، جیسے دل پر گر رہی تھی، مسلسل، بے رحم، اور بے آواز چیخوں کے ساتھ۔ ایک کچی سی جھونپڑی کے اندر، ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔اور اس چراغ کی لو بھی جیسے تھک چکی تھی۔ وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی، حلیمہ۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں وہ خالی پن، جو صرف مسلسل صبر سے پیدا ہوتا ہے، اور دل میں ایک ایسی خاموش جنگ، جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ اس کے شوہر، اکرم، کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ وقت بھی پُر نہ کر سکا۔ کونے میں اس…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…

Read more

ایک گاؤں کا سکھ، چین اور آرام سے بھرا ماحول، جہاں ایک چوہدری صاحب رہتے تھے۔ چوہدری صاحب خود کو بہت سیانا سمجھتے تھے، لیکن درحقیقت وہ کافی بھولے تھے۔ ان کے گھر کے پاس ایک حجام کی دکان تھی، جس کا مالک جیدا نامی ایک مکار شخص تھا۔چوہدری: (جیدے کی دکان پر حجامت کراتے ہوئے، فخر سے) “جیدے! میرے جیسا کوئی سیانا آدمی اس گاؤں میں ہے؟”جیدا: (مکار مسکراہٹ کے ساتھ) “بالکل نہیں چوہدری صاحب! آپ تو عقل کے سمندر ہیں۔ لیکن… آپ کو معلوم ہے، شہر کے لوگ ایک ایسی ترکیب جانتے ہیں جس سے عقل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔”چوہدری: (شوق سے) “کیا؟ وہ کون سی ترکیب ہے؟”جیدا: “شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک بار اپنے بال ‘الٹے’ کٹوائے، تو اس کی عقل دگنی ہو جاتی ہے۔ میں تو یہ کام صرف خاص لوگوں کے لیے کرتا ہوں۔”چوہدری: (خوشی سے) “جیدے!…

Read more

کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک چرواہا لڑکا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بکریاں لے کر گاؤں سے دور جنگل میں چرایا کرتا تھا۔ لوگ اسے سمجھاتے کہ کہیں بھیڑیا نہ آ جائے، لیکن وہ کسی کی سنتا نہ تھا۔ اس نے ایک دن سوچا، کیوں نہ گاؤں والوں کے ساتھ تھوڑا مذاق کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا، “بھائیو! بھیڑیا آ گیا، بھیڑیا آ گیا، میری مدد کرو!” یہ سن کر سارے گاؤں والے ہتھیار لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو کوئی بھیڑیا ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ۔ چرواہا ان کو دیکھ کر خوب ہنسا۔ لوگ بہت غصے ہوئے اور اسے سمجھا کر واپس چلے گئے۔ چند روز بعد اس نے پھر وہی شرارت کی۔ لوگ پھر دوڑے آئے، اور پھر وہاں کچھ نہ تھا۔ اس بار لوگوں نے پکّا فیصلہ کر…

Read more

دو دوست ایک بینک میں ملازم تھے۔ انہیں عیدِ قربان کے لیے بکرا خریدنا تھا۔ وہ بینک سے سیدھے پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد انہوں نے منڈی کا جائزہ لیا کہ آخر شروعات کہاں سے کی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر جانور ہی جانور نظر آ رہے تھے۔ جہاں گاڑی کھڑی کی تھی، وہیں سے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا۔ جو بکرا آنکھوں کو ذرا بھاتا، اس کی قیمت پچاس ہزار کی حد باآسانی عبور کر رہی ہوتی تھی۔ چونکہ دن کی چائے پر دونوں نے اپنا بجٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا تھا، اس لیے انہوں نے ایسے بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو قدرے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے پتلے ہوں۔ مگر انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود کوئی بھی بکرا ستر ہزار سے کم کا نہ ملا۔…

Read more

کسی ملک میں ایک امیر سوداگر رہتا تھا۔ اس کی تین خوبصورت اور نیک بیٹیاں تھیں جو اس کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ ایک دفعہ سوداگر کو کسی دوسرے ملک میں مال خریدنے کے لیے جانا پڑا۔ اس نے اپنی لڑکیوں کو بلایا اور پیار سے پوچھا، “میرے بچّو! بتاؤ، میں تمہارے لیے کیا تحفہ لا سکتا ہوں؟” بڑی لڑکی نے اپنی مرضی کے ایک نئے کوٹ کے لیے فرمائش کی۔ منجھلی لڑکی نے بھی کوٹ ہی کو پسند کیا۔ لیکن جب اس کی چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اٹھایا، اس پر ایک پھول بنا دیا اور کہنے لگی، “ابا جان! میرے لیے بالکل اس طرح کا ایک پھول لانا۔” سوداگر نے اپنی بیٹیوں سے وعدہ کیا اور اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ وہ بہت عرصے تک مختلف ممالک میں گھومتا رہا اور بڑی بیٹیوں کے لیے کوٹ…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب زمین پر عدل کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اور اس عدل کے سائے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی قائم تھی وہ بادشاہ جن کے سامنے نہ صرف انسان بلکہ پرندے، جانور اور جنات بھی سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک سادہ سا چرواہا تھا، جو آپ علیہ السلام کی بھیڑوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔وہ نہ کوئی عالم تھا، نہ کوئی سردار، مگر اپنے فرض میں سچا اور دل سے مخلص تھا۔ ایک دن، جب وہ میدان میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ مصروف تھا، اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا۔مگر یہ کوئی عام بھیڑیا نہ تھا وہ بولا: “اے چرواہے! مجھے ان بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔ چرواہا چونک گیا، اس نے حیرت سے کہا: “یہ بھیڑیں میرے اختیار میں نہیں، یہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیں، میں تو صرف…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بھیڑیا ندی کے کنارے کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ نیچے کی طرف ایک بھیڑ کا بچہ پانی پی رہا ہے۔ بھیڑیا نے سوچا کہ اس بچے کو کھانے کا کوئی بہانہ بنایا جائے۔ وہ اونچی آواز میں بولا، “تو نے میرا پانی کیوں گندا کیا؟” بھیڑ کے بچے نے ڈرتے ہوئے کہا، “بھائی صاحب! آپ تو اوپر کی طرف ہیں اور میں نیچے کی طرف۔ پانی اوپر سے نیچے بہتا ہے، تو میں آپ کا پانی کیسے گندا کر سکتا ہوں؟” بھیڑیا پھر بولا، “تو پھر تم نے پچھلے سال مجھے گالیاں کیوں دی تھیں؟” بچہ بولا، “بھائی صاحب، میں تو پچھلے سال پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔” بھیڑیا غصے میں بولا، “پھر یہ غلطی تمہارے باپ نے کی ہوگی، لیکن سزا تمہیں ملے گی۔” یہ کہہ کر بھیڑیا بچے پر جھپٹا اور اسے کھا گیا۔ سبق: ظالم کو بہانے کی ضرورت…

Read more

ناروے کے ایک برفیلے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ سردیوں کی ایک رات جب برف گِر رہی تھی اور ہوا نے اپنی سیٹیاں بجا کر ان برفیلے پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو اس لومڑی نے محسوس کیا کہ اس کی جان نکل رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ جم کر مر جائے گی۔ اتنی سردی میں بچنے کے لیے اسے کسی گرم چیز کی ضرورت تھی۔ اس نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا، برف کے گولے ان سے لپٹے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا: “صبح ہوتے ہی میں درختوں کی چھال سے ایک کمبل بنا لوں گی۔ اس کمبل سے میں اپنے آپ کو ڈھانپ لوں گی اور بچ جاؤں گی۔” اس نے خود کو یقین دلایا اور سو گئی۔ جب صبح ہوئی تو سورج نکلا اور اس کی کرنیں برف پر چمکنے لگیں۔ لومڑی نے دیکھا کہ اب سردی اتنی نہیں…

Read more

آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھامس نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ اپنی بیوی، اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک سال آلو کی فصل تباہ ہو گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ تھامس نے مجبوراً اپنے مالک کی زمینوں میں شکار کرنے کا فیصلہ کیا  حالانکہ اس کی سزا موت تھی۔ تھامس سارا دن جنگل میں بھٹکتا رہا، لیکن اسے کوئی جانور نہ ملا۔ شام کو جب وہ واپس ہونے لگا تو اسے ایک خوبصورت ہرن نظر آیا۔ جب اس نے ہرن کو مارنے کے لیے تیر چڑھایا تو ہرن بول پڑا، “مجھے مت مارو! میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گا۔ کل صبح اس جگہ آ جانا اور اپنا جواب بتا دینا۔” تھامس حیران تھا، لیکن اس نے ہرن کو جانے دیا۔ گھر واپس آ کر اس نے اپنے باپ سے مشورہ کیا۔ باپ نے…

Read more

ہر مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہےمگر اصل کامیاب وہی ہوتا ہےجو مشکل وقت میں گھبراہٹ نہیں بلکہ عقل سے کام لیتا ہے۔ زندگی میں بھی اکثر ہمایسے حالات میں پھنس جاتے ہیںجہاں آگے خطرہ…پیچھے خطرہ…اور نیچے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس مسئلے کا بہترین حل کیا ہے؟اگر آپ اس لڑکے کی جگہ ہوتےتو کیا کرتے؟ اپنی رائے ضرور دیںاور دیکھیں کون سب سے بہترین حل بتاتا ہے!

راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے جس کی عورتیں اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں.مردم شماری ہو رہی تھی ،ان کے ایک گاوّں میں مردم شماری کے لئیے فوجی پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔ دروازے کے پیچھے سے خاتونِ خانہ کی آواز آئی کون ؟. فوجی نے بتایا کہ اہل خانہ کے کوائف لکھنے ہیں اپنے میاں کو باہر بھیجیں.بیوی نے کہا وہ تو گھر پر نہیں ہیں. فوجی تو پھر آپ ہی نام وغیرہ لکھوا دیں فوجی نے کہا بتائیے آپ کے خاوند کا نام کیا ہے ؟.وہ تو میں نہیں بتا سکتی، ہم اپنے شوہر کا نام زبان پر نہیں لاتیں۔ عورت نے جواب دیا. فوجی نے کہا یہ بہت ضروری ہے ہم نے گھر کے سربراہ کا نام لکھنا ہے۔عورت بولی ایک طریقہ ہے میں آپ سے سوال کرتی جاتی ہوں آپ جواب دیتے جائیں۔ عورت – مغلیہ خاندان کا بانی کون تھا ؟فوجی : بابر عورت-…

Read more

ایک دن شاہی دربار میں ایک مشہور جادوگر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ محل کے ستونوں سے لے کر سنہری جھاڑ فانوس تک، ہر چیز اس کے کرتبوں کی چمک سے دمک رہی تھی۔ درباری حیرت سے منہ کھولے کھڑے تھے، اور سلطان خود مسحور ہو کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “سبحان اللہ! کیا کمال ہے، کیا غیر معمولی صلاحیت ہے!” سلطان نے جوش سے کہا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب سلطان کے دانا وزیر نے ادب سے سر جھکا کر عرض کیا: “جہاں پناہ، یہ کوئی آسمانی عطیہ نہیں۔ یہ فن مسلسل محنت، مشق اور صبر کا نتیجہ ہے۔” وزیر کے یہ الفاظ سلطان کے غرور پر بجلی بن کر گرے۔ اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔ “گستاخ!” سلطان دھاڑا۔ “تم نے ہماری بات کی تردید کی؟ ہم نے کہا کہ صلاحیت یا تو پیدائشی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اور یہی سچ…

Read more

قدیم یونان کے ایک شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جس کے گھر ایک خوبصورت شہزادہ پیدا ہوا۔ پوری سلطنت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ پائی کیونکہ اسی روز ایک مشہور نجومی (پیشین گو) نے بادشاہ کے سامنے یہ پیشین گوئی کر دی: “بادشاہ سلامت! یہ شہزادہ بارہ سال کا ہونے سے پہلے ہی کسی شیر کی نظر کا شکار ہو جائے گا اور اس کی موت واقع ہو جائے گی۔” بادشاہ یہ سن کر کانپ اٹھا۔ اس نے فوراً اپنی ملکہ کو بلایا اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شہزادے کو ہر قسم کے شیر سے دور رکھیں گے۔ انہوں نے شہزادے کو ایک اونچے، مضبوط محل کے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس کمرے کی دیواروں پر کوئی تصویر نہیں تھی، کوئی کھلونا نہیں تھا، کچھ بھی نہیں تھا جس سے شہزادے کو شیر کی یاد آئے۔ برسوں یہ…

Read more

ہسپانیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، لیکن اس کی زمین بہت کمزور تھی اور فصل اچھی نہیں ہوتی تھی۔ ایک سال جب قحط پڑا تو اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اب وہ اپنے بچوں کو کیا کھلائے گا۔ ایک دن وہ اپنے کھیت میں گھوم رہا تھا کہ اسے زمین پر گندم کے چار دانے پڑے نظر آئے۔ اس نے انہیں اٹھایا اور سوچا کہ ابھی تو یہ بہت کم ہیں، لیکن شاید ان سے کچھ فصل اگ آئے۔ اس نے ان چار دانوں کو اپنے کھیت کے ایک کونے میں بو دیا۔ اس نے روزانہ انہیں پانی دیا اور ان کی دیکھ بھال کی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ دانے اگنے لگے اور چند مہینوں میں اسے گندم کی اچھی خاصی فصل مل گئی۔ اس نے اس…

Read more

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے صدر دروازے پر ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا تو ایک دوسرے دربان کی نسبت وہ بہت بوڑھا لگ رہا تھا، اور ساتھ ہی بہت کمزور بھی۔ بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اس عمر میں اس نے اسے اس عہدے پر کیوں لگا رکھا ہے، لیکن پھر وہ اس کے پاس سے گزر گیا۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: “میاں! سردی نہیں لگ رہی؟” دربان نے جواب دیا: “بہت لگتی ہے حضور! مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔” بادشاہ کے دل میں رحم آیا۔ اس نے کہا: “میں ابھی محل کے اندر جا…

Read more

پولینڈ کے گہرے جنگلات میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں ایک لکڑہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ وہ اتنے غریب تھے کہ کبھی ان کے پاس کھانے کے لیے صرف ایک روٹی ہوتی اور کبھی کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ لکڑہارا دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور پھر انہیں شہر لے جا کر بیچتا، مگر اس کی کمائی بمشکل ان کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ ایک روز لکڑہارا بہت دکھی دل سے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بے حد ناانصافی کر رہا ہے اور اسے ایک اچھی زندگی نہیں دے سکا۔ اچانک اس کی نظر ایک بہت پرانے بلوط کے درخت پر پڑی جس کے تنے پر کچھ نقوش بنے ہوئے تھے۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ نقوش دراصل ایک چھوٹے سے دروازے کی…

Read more

‏ایک استاد کی ڈائری…!مجھے اپنے ہونہار شاگرد بہت یاد آتے ہیں…اردو میں تلفظ اور املا کی ایسی غلطیاں جن کو چیک کرتے ہوئے غصہ بھی مسکراہٹ میں بدل جاتا ہےایک دفعہ کلاس میں بچیوں سے کہا پہلے درخواست پڑھ کر سنائیں پھر لکھیں…ایک بچی نے بخدمت جناب کو “بدبخت جناب” پڑھامیں نے تصحیح کر دی…پھر اس نے کہا:فوزیہ کو دو دن کی چھٹی عنایت کی جائے۔میں نے پوچھا: آپ کا نام فوزیہ ہے؟جواب آیا: “نہیں تو… لیکن درخواست میں یہی لکھا ہے۔”وہاں “فدویہ” لکھا تھاپرچے میں چچا کے نام خط لکھنے کو کہا گیا تو…کسی کے چچا شاید وفات پا چکے تھے، خط کے آغاز میں لکھا:السلام علیکم یا اہل القبورایک طالب علم نے خط نویسی میںامید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔کی جگہامید ہے آپ بیغیرت ہوں گے۔ لکھ دیاپھپھوندی کو پھپھو…ندی پڑھتے ہیںدرختوں پر انجیر لٹکے ہوئے تھے، کودرختوں پر انجینئر لٹکے ہوئے تھے۔” پڑھتے ہیںاکثر تو گھر جا…

Read more

تین عورتیں آپس میں کھسر پھسر کر رہی تھیں کہ اچانک وہاں سے شیطان کا گزر ہوا۔ عورتوں کو اتنے جوش میں باتیں کرتے دیکھ کر شیطان بھی رک گیا کہ دیکھوں تو سہی کیا کھچڑی پک رہی ہے۔وہ قریب گیا تو سنا کہ تینوں اس بات پر بحث کر رہی تھیں کہ “دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم کون ہے؟”پہلی عورت بولی: “سب سے مظلوم وہ ‘بیوی’ ہے جس کا شوہر کنجوس ہو، ایک ایک پائی کا حساب لیتا ہو اور سیل (Sale) کے دنوں میں اسے میکے بھیج دے۔”دوسری عورت نے ٹھنڈی آہ بھری: “نہیں بہن! سب سے مظلوم وہ ‘ساس’ ہے جس کی بہو اسے کچن میں گھسنے نہ دے اور ریموٹ پر خود قبضہ کر لے۔”تیسری عورت، جو سب سے زیادہ چالاک لگ رہی تھی، مسکرا کر بولی: “تم دونوں غلط ہو۔ سب سے مظلوم تو وہ ‘عورت’ ہے جسے کوئی بہت بڑی خفیہ بات (Secret)…

Read more

زمانۂ قدیم میں جب کہ زمین پر انسانوں کی آبادیاں وجود میں آ رہی تھیں اور معاشرے اپنی بنیادی اقدار کی تلاش میں تھے، دو ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں۔ ایک کا نام سچ تھا اور دوسرے کا جھوٹ ۔ یہ دونوں بھائی تھے، لیکن ان کی راہیں بالکل جدا تھیں۔ سچ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتا تھا، اس کی گفتگو میں شیرینی تھی اور اس کے چہرے پر نور تھا۔ جھوٹ ہمیشہ گول مول باتیں کرتا، اس کی آنکھوں میں چالاکی تھی اور اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ جھوٹ نے اپنے بھائی سچ کو ایک جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک بہت بڑا اور قیمتی خنجر اپنے بھائی سچ کے پاس امانتاً چھوڑ دیا۔ سچ نے اپنے بھائی کے بھروسے کا احترام کرتے ہوئے خنجر کو ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔…

Read more

60/797
NZ's Corner