Category Archives: Urdu Stories

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔ مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔لیکن نوجوان…

Read more

ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں…

Read more

عید میں صرف چند دن باقی تھے۔ ایک سردار جی نے سوچا کہ اس بار ایسی شاندار پوشاک سلوانی ہے کہ پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے۔ وہ شہر گئے، مہنگا ترین کپڑا خریدا اور سیدھے شہر کے مشہور درزی کے پاس پہنچ گئے۔ درزی نے بڑے اعتماد سے ناپ لیا اور کہا: “سردار جی! فکر نہ کریں، چاند رات کو ایسا سوٹ دوں گا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔” یہ سن کر سردار جی خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور روز عید کا انتظار کرنے لگے۔ آخرکار چاند رات آ گئی۔ سردار جی نئے جوتے پہن کر، مونچھوں کو تاؤ دے کر درزی کی دکان پر پہنچے۔ لیکن جیسے ہی سوٹ نکال کر دیکھا، ان کے ہوش اڑ گئے۔ شلوار کا ایک پانچہ اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، جبکہ دوسرا اتنا چھوٹا تھا کہ ٹخنے بھی نہ ڈھانپ رہا تھا۔ سردار جی کا چہرہ لال…

Read more

اایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک پرسکون تالاب تھا، جہاں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔ وہ اکثر تالاب کے کنارے کی نرم کیچڑ میں چھپ کر سکون سے وقت گزارتے تھے۔ ایک دن ایک بھوکا سانپ وہاں آ پہنچا۔ اس کی نظریں تالاب کے مینڈکوں پر تھیں اور وہ انہیں اپنا شکار بنانا چاہتا تھا۔ چالاکی سے اس نے ایک مینڈک کے قریب جا کر نرم لہجے میں کہا: “مینڈک بھائی! گھبراؤ نہیں، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں تمہیں ایک ایسی جگہ لے جانا چاہتا ہوں جو اس تالاب سے زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔” مینڈک کو سانپ کی بات پر مکمل یقین تو نہ آیا، لیکن وہ سوچنے لگا کہ شاید سانپ سچ کہہ رہا ہو۔ وہ احتیاط سے آہستہ آہستہ کنارے کی طرف بڑھا۔ مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچا، سانپ نے جھپٹ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ مینڈک اگرچہ کمزور تھا، لیکن بے…

Read more

ایک دن شیخ چلی بازار سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بہت بڑا تربوز دیکھا۔ اتنا بڑا تربوز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ چلی نے دکاندار سے پوچھا: “بھائی، یہ تربوز اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟” دکاندار نے مذاق میں کہا: “یہ جادوئی تربوز ہے۔ جو اسے کھاتا ہے، اس کی ایک خواہش پوری ہو جاتی ہے!” شیخ چلی نے فوراً تربوز خرید لیا اور گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے تربوز کے سامنے بیٹھ کر کہا: “میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں!” پھر اس نے تربوز کاٹنے کے لیے چھری اٹھائی، لیکن چھری پھسل گئی اور تربوز زمین پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تربوز کے اندر سے صرف سرخ گودا نکلا، کوئی جادو نہیں! شیخ چلی حیران ہو کر بولا: “ارے! میری دولت کہاں گئی؟” اسی وقت اس کا دوست آ…

Read more

جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا ٹَھگ افسردہ بیٹھا تھا۔۔دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئےقیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہےبس ایک قطار میں سب کھڑے ہیںکوئی اگے تو کوئی پیچھےاور موت سے تو کافر لوگ ڈرتے ہیںہم تو ماشااللہ مسلمان ہیںپھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا  میں موت سے نہیں ڈرتابس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟پھانسی ولا مجرم:  کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیںکل مجھے پھانسی دے دی جائے گیاور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلیگا۔۔قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئےپھانسی والے مجرم نے…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت مشہور مصور (Painter) رہتا تھا۔ اس نے ایک دن ایک ایسی تصویر بنائی جو اس کی زندگی کا سب سے بہترین شاہکار تھی۔ اس تصویر میں زندگی کے رنگ، امید اور خوبصورتی کو اتنے شاندار طریقے سے دکھایا گیا تھا کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔مصور نے سوچا کہ کیوں نہ آج لوگوں کے ذوق کا امتحان لیا جائے۔ اس نے وہ تصویر شہر کے سب سے مصروف چوراہے پر لگا دی اور نیچے ایک بورڈ پر لکھ دیا:“جس کسی کو بھی اس تصویر میں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے، وہ وہاں لال رنگ سے ایک نشان (Cross) لگا دے۔” شام کا منظرشام کو جب مصور چوراہے پر اپنی تصویر واپس لینے پہنچا، تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔ پوری تصویر لال نشانات سے بھری پڑی تھی، یہاں تک کہ تصویر کا اصل چہرہ اور رنگ بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ مصور شدید…

Read more

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی،…

Read more

سمندر کے کنارے ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔ وہاں روز سیاح آتے، کھاتے پیتے اور بہت سا کھانا ضائع کر جاتے۔ اسی ہوٹل کے آس پاس ایک کوا رہتا تھا۔ مفت کے کھانے کھا کھا کر وہ خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا۔ جسم بھاری، آواز اونچی اور غرور آسمان سے بھی بلند۔ وہ جہاں بیٹھتا، دوسرے کوؤں کو حقارت سے دیکھتا اور کہتا: “تم لوگ عام کوا ہو… میں پرندوں کا بادشاہ ہوں!” بیچارے دوسرے کوا اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، کیونکہ بحث کرنے سے زیادہ شور وہ کرتا تھا۔ ایک دن دور دراز علاقوں سے ہنسوں کا ایک خوبصورت جوڑا سمندر کے کنارے اترا۔ ان کے پر چاندی کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے چہروں پر عجیب سا وقار تھا۔ کوا فوراً اکڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ گردن ٹیڑھی کی، سینہ پھلایا اور بولا: “سنا ہے تم لوگ بڑے اڑاکے بنتے ہو؟” بوڑھا…

Read more

ایک دن بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں سیدھا چلتے دیکھا۔ وہ حیران ہوا اور کمہار سے پوچھا: “تم انہیں کس طرح سیدھا چلنا سکھاتے ہو؟” کمہار نے جواب دیا: “حضور! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی ڈر سے یہ سب سیدھے چلتے ہیں۔” بادشاہ کو کمہار کی بات پسند آئی۔ اس نے کہا: “کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟” کمہار نے ہامی بھر لی۔ بادشاہ نے اسے بڑا عہدہ دے دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے چوری کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں چپکے سے کہا: “جناب، یہ چور وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔” کمہار نے دوبارہ حکم دیا: “چور کے دونوں ہاتھ کاٹو۔” اس کے بعد خود وزیر کمہار کے کان میں آیا اور سرگوشی کی: “جناب…

Read more

کہتے ہیں دور کہیں کسی گاؤں میں کئی لوگوں کی فصلیں چوری ہونے لگی، کسان اپنی فصل میں پہنچتے تو دیکھ کر لگتا کہ کوئی جانور گھاس کھا کر گیاہے لیکن کسی کو بھی جانور کے پیروں کے نشان نہ ملتے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بھینس فصل چر گئی، کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک کہانی عام ہوگئی کہ کوئی جانور نما جن رات گئے آتا ہے، فصل چرتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔ لیکن پھر کسی ایسے شخص نے جسے جن والی کہانی پر یقین نہیں تھا، رات گئے ایک نوجوان کو بھینس کندھے پر اٹھا کر جاتے ہوئے دیکھ لیا، پیچھا کرنے پر معاملہ یوں کھلا کہ نوجوان روز اپنی بھینس کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے، فصلوں میں چھوڑتا ہے اور پھر کندھے پر اٹھا کر واپس لے آتا ہے، تھوڑی تحقیق سے معلوم ہوا بھینس اٹھانے والا نوجوان جانور کو…

Read more

تپتے ہوئے صحرا کے کنارے ایک مسافر چلا جا رہا تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا، ریت کے ذرے انگاروں کی طرح جل رہے تھے، اور اس کے ہونٹ پیاس سے پھٹنے لگے تھے۔اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر منزل کی دھن اس کے سر پر سوار تھی۔کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک صاف و شفاف چشمہ دکھائی دیا۔ پانی دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا، جیسے کسی بانسری سے مدھر دھن نکل رہی ہو۔ اس کے کنارے سبز گھاس تھی اور ہوا میں تازگی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔پانی نے اپنی خاموش زبان میں پکارا:“اے مسافر! رک جا، ایک گھونٹ پی لے۔ تیری تھکن بھی اتر جائے گی اور پیاس بھی بجھ جائے گی۔”مسافر نے چشمے کی طرف دیکھا، مگر پھر اپنی راہ پر نظریں جما لیں۔وہ بولا:“ابھی نہیں۔ میرے پاس وقت نہیں۔ منزل بہت دور ہے، میں رک نہیں سکتا۔”پانی خاموش ہو گیا۔مسافر آگے بڑھتا رہا۔سورج مزید…

Read more

گاؤں کے کنارے ایک قدیم برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اتری ہوئی تھیں اور شاخیں آسمان سے راز و نیاز کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ نہ جانے کتنی نسلیں اس کے سائے میں پلی تھیں، کتنے مسافر اس کے نیچے دم لے چکے تھے، اور کتنے پرندوں نے اسے اپنا گھر بنایا تھا۔گرمی کی دوپہروں میں وہ ٹھنڈی چھاؤں بانٹتا، بارشوں میں مٹی کو بہنے سے بچاتا، اور خزاں میں بھی خاموشی سے کھڑا رہتا، گویا زندگی کے ہر رنگ کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا جانتا ہو۔ایک دن ایک لکڑہارا کلہاڑی کندھے پر رکھے وہاں آ پہنچا۔اس کی نگاہ درخت کے مضبوط تنے پر پڑی تو اسے اپنی ضرورتیں یاد آگئیں؛ گھر کی تنگ دستی، بچوں کی خواہشیں اور بازار میں لکڑی کی اچھی قیمت۔اس نے کلہاڑی سنبھالی اور درخت کے قریب آیا۔ہوا نے آہستہ سے سرگوشی کی، پرندے بےچین ہو کر پھڑپھڑانے…

Read more

ایک میراثی خاندان نے بڑی خوشی خوشی ایک بھینس خرید لی۔ سارا ٹبّر خوش تھا۔ کسی نے سوچا اب دودھ پئیں گے، کسی نے کہا دیسی گھی کھائیں گے، اور کوئی لسی کے خواب دیکھنے لگا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات بھینس بیمار ہو کر بیٹھ گئی۔ میراثیوں نے ہر ٹوٹکا آزما لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا: “چلو چودھری صاحب کے پاس چلتے ہیں، انہاں نوں ضرور کوئی علاج پتا ہووے گا۔” چند لوگ چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا:“مرچ، پیاز اور لہسن کا پیسٹ بنا لو، اس میں لسی ملا کر نال میں ڈال دو اور بھینس کے منہ میں انڈیل دو، ان شاء اللہ بھینس کھڑی ہو جائے گی۔” اگلے دن میراثی واپس آئے اور بولے:“چودھری صاحب! مجھ دوا نئی کھاندی، سب باہر سٹ دی اے۔” چودھری نے کہا:“نال کے پیچھے سوراخ کر لو، پھر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک قدیم جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور سایہ دار برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اس قدر پھیلی ہوئی تھیں کہ دور دور سے آنے والے مسافر اس کے سائے میں آرام کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور ایک دن اس درخت کے نیچے ایک عالمِ دین نے بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ہر روز چھوٹے چھوٹے بچے وہاں آتے، علم حاصل کرتے، قرآن و حکمت کی باتیں سنتے، ان کی ہنسی کی آوازیں فضا میں بکھرتیں اور وہ جگہ رحمت کا ایک مرکز بن گئی۔ بوڑھا درخت جب بچوں کو اپنے سائے میں بیٹھے دیکھتا تو خوشی سے اس کے پتے ہوا کے ساتھ جھومنے لگتے۔ ایک رات اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی: “اے میرے رب! مجھے لمبی عمر عطا فرما۔ مجھے زندگی سے محبت نہیں، نہ ہی مجھے مزید برس جینے…

Read more

کالج میں ایک طالب علم نے انگریزی کے پروفیسر سے پوچھا: “سر! یہ ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”“نٹورے؟؟” پروفیسر نے حیرت سے پوچھا اور پھر اسے ٹالتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں، میرے آفس آ جانا۔”طالب علم وہاں بھی پہنچ گیا اور بولا: “بتائیے سر، ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”پروفیسر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا: “میں تمہیں کل بتاتا ہوں۔”پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے۔ انہوں نے ڈکشنری کھنگالی، انٹرنیٹ پر تلاش کیا، لیکن ایسا کوئی لفظ نہ ملا۔اگلے دن طالب علم نے پھر وہی رٹ لگا دی: “سر! وہ ‘نٹورے’ کا مطلب…؟”اب پروفیسر صاحب اس سے کترانے لگے اور اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔ لیکن طالب علم ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔بالآخر ایک دن پروفیسر صاحب نے جھنجھلا کر پوچھا: “یہ جس ‘نٹورے’ لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ آخر کون سی زبان کا لفظ ہے؟”طالب…

Read more

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

کسی زمانے میں ایک ملک تھا جس کا بادشاہ بے اولاد ہی مر گیا۔کوئی قریبی رشتہ دار بھی ایسا نہیں تھا کہ جسےتخت و تاج سونپا جا سکتا۔ تو امیروں میں بحث شروع ہو گئی کہ بادشاہ کون بنے گا۔ہوتے ہوتے یہ طے پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے شہر کے دروازے سے داخل ہو گا اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا۔اگلی صبح کا سورج طلوع ہوا تو سب کی نگاہیں داخلیدروازے پر ٹکی تھیں۔ اچانک ایک ہیولا سا دروازےمیں سے اندر داخل ہوا۔ہر جانب مبارک سلامت کا شور اٹھا ملک و قوم کو اگلا بادشاہ مل ہی گیا تھا اور دروازے سے داخل ہونے والا ایک گدڑی پوش فقیر حیرت سے سب امرا کے چہرے دیکھ رہا تھا جو اس کا ہاتھ چومنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے تھے۔خیر قصہ مختصر۔ بادشاہ سلامت دربار میں جلوہ افروز ہوئے ایک وزیر نے اگے پڑھ…

Read more

ایک دفعہ ایک جنگل میں آگ لگ گئی کئی جانور پرندے جنگل سے بھاگنے اور اڑنے لگے ایک چھوٹا سا پرندہ اپنی چونچ میں دور سے پانی بھر کر لاتا اور جنگل کی آگ پر پھینکتا ۔ یہ عمل وہ بار بار کرتا کسی سمجھ دار پرندے نے پوچھا کہ بھائی یہ تم کیا کر رہے ہو ؟تمہارے اس قطرے سے یہ آگ بجھنے والی نہیں تم خو د بھی اس میں جل سکتے ہو …………. تو اس چھوٹے سے پرند ے نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میری اس کوشش سے آگ نہیں بجھے گی مگرجب تاریخ لکھی جائے گی میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا نہ کہ آگ لگانے والوں میں۔ کبھی کبھار آگ بجھانا ہمارے بس میں نہیں ہوتا لیکن خود کو پھونک مار کر آگ بھڑکانے والوں میں شامل نہ کریں۔ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں بھلے ہی آپ کی آواز کہیں پہنچ…

Read more

800/1815
NZ's Corner