انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ مگر حساس پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی کمزوریوں، عدمِ اعتماد یا اندرونی خوف پر قابو پانے کی بجائے کسی طاقتور، کامیاب یا بااثر شخصیت کے ساتھ وابستگی کو اپنی طاقت سمجھنے لگتا ہے. علمِ نفسیات میں اس رجحان کو Parasocial Attachment اور Basking in Reflected Glory (BIRG) کہا جاتا ہے، جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی اور شہرت سے جڑ کر اس کی اپنی اہمیت بھی بڑھ جائے گی. یہ احساس وقتی طور پر اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود اعتمادی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتا ہے.
اسی حقیقت کو ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے. ایک لومڑی کو ایک لمبی رسی ملی. اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھا اور دوسرا سرا خاموشی سے ایک سوئے ہوئے چیتے کی دم سے باندھ دیا. وہ اس خیال سے بے حد خوش تھی کہ اب اس کا تعلق جنگل کے سب سے طاقتور اور تیز رفتار جانور سے قائم ہو گیا ہے، اس لیے اس کی زندگی پہلے سے زیادہ آسان اور محفوظ ہو جائے گی.
درحقیقت یہ کیفیت Illusion of Control یعنی “کنٹرول کے مغالطے” کی مثال تھی. اسے یقین تھا کہ وہ چیتے کی طاقت سے فائدہ اٹھائے گی، حالانکہ اس نے اپنی آزادی اور اختیار کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیا تھا.
چند لمحوں بعد چیتا بیدار ہوا اور اپنی دم سے بندھے رسی کے سرے کو محسوس کر کےپوری رفتار سے دوڑنے لگا۰ اس کے لیے رسی کوئی رکاوٹ نہ تھی لیکن اسے اپنی دم سے بندھا محسو س کر کے وہ بے چین تھا اور کسی بھی طرح اپنی دم آزاد کروانا چاہ رہا تھا۰ چیتے کی تیز رفتار کی وجہ سے لومڑی ہر قدم پر گھسٹتی چلی گئی۰ چیتے نے ایک ہی چھلانگ میں چھوٹی سی ندی پار کر لی، جبکہ لومڑی پانی میں ڈوبتی اور سنبھلتی رہی۰ وہ خاردار جھاڑیوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ گیا، مگر لومڑی کا جسم جھاڑیوں کے کانٹوں کی وجہ سےزخموں سے بھر گیا۰ چیتا اپنی فطری رفتار سے منزل کی طرف بڑھتا رہا، جبکہ لومڑی اپنی استطاعت سے زیادہ رفتار کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے مسلسل تھکتی چلی گئی۰
کچھ ہی دیر بعد چیتے کے پاؤں شکاری کے بچھے ہوئے جال پر پڑے۰ لیکن چیتے نے اپنی طاقت سے وہ کمزور جال توڑ دیا جو شکاری نےچھوٹے جانوروں کو پھانسنے کے لیے لگایا تھا۔ اور ایک بلند چھلانگ لگا کر جنگل میں غائب ہو گیا، لیکن رسی جال میں الجھ کرایک زور دار جھٹکے سے رسی ٹوٹ گئی اور لومڑی سیدھی شکاری کے جال میں جا پھنسی جہاں سے آزاد ہونا اس کے بس سے باہر تھا۰ اس طرح جس سہارے کو وہ اپنی حفاظت اور کامیابی کا ذریعہ سمجھ رہی تھی، وہی آخرکار اس کی تباہی کا سبب بن گیا۰
یہ کہانی زندگی کے ایک اہم سبق کی طرف اشارہ کرتی ہے۰ بہت سے لوگ اپنی شخصیت، علم اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی بجائے دوسروں کے اثر و رسوخ، شہرت یا طاقت کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۰ سیاست دانوں کے تلوے چاٹنے سے لے کر دوسروں پر اپنی محنت کی کمائی نچھاور کر کے ان کے خوشامد کرتے ہوئے اپنی تصویروں کو سوشل میڈیا کی زینت بناتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۰
نفسیات کے مطابق جب انسان اپنی ترقی کی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کر دیتا ہے تو اس کی Self-Efficacy یعنی اپنی صلاحیتوں پر یقین آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۰ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کامیاب اور برسر اقتدار لوگوں کے قریب رہنا ہی کامیابی ہے، حالانکہ اصل کامیابی اپنی قابلیت، محنت اور ترقی سے حاصل ہوتی ہے۰
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان کا سفر، رفتار اور منزل مختلف ہوتی ہے۰ جو رفتار کسی اور کے لیے معمول ہو، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی موزوں ہو۰ اگر آپ کے اندر اس رفتار کو سنبھالنے کی صلاحیت، تجربہ اور تیاری موجود نہ ہو تو وہی رفتار آپ کو کامیابی کے بجائے نقصان کی طرف لے جا سکتی ہے۰ اسی لیے دوسروں کے مقام سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی بنیاد مضبوط بنانا زیادہ ضروری ہے۰
دوسروں کے سائے میں کھڑے ہونے کے بجائے اپنی شخصیت کو اتنا مضبوط بنائیں کہ ایک دن لوگ آپ کے سائے میں کھڑے ہونے پر فخر محسوس کریں۰ یاد رکھیں، عارضی سہارے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر مستقل کامیابی ہمیشہ اپنے بل بوتے پر کھڑے ہونے والوں کا مقدر بنتی ہے۰ کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کے قدموں کے نشان دیکھ کر نہیں، بلکہ اپنے قدموں سے طے کرنا پڑتا ہے۔
