ایک فقیر بادشاہ 👑 کے دربار میں حاضر ھوا اور بولا:
“حضور! آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ھیں۔” 😊👏
بادشاہ مُسکرایا:
“بالکل درست سنا ھے، مانگو، کیا مانگتے ھو؟”
فقیر نے اپنا کاسہ آگے بڑھایا اور کہا:
“بس حضور! یہ کاسہ بھر دیجیے۔”
بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار اتار کر کاسے میں ڈال دیا،
مگر کاسہ خالی کا خالی! 😳
اس نے اشرفیوں کی بوریاں منگوا کر انڈیل دیں…
مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرا! 😲
بادشاہ نے پورا خزانہ کھول دیا…
سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات…
سب کچھ کاسے میں ڈال دیا…
لیکن کاسہ پھر بھی خالی ہی نظر آیا! 😱
فقیر مُسکرا رہا تھا اور بادشاہ کا پسینہ نکل رہا تھا۔ 😅
آخرکار بادشاہ نے تاج اتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور بے بسی سے بولا:
“اے درویش! خدا کے لیے بتاؤ یہ کیسا کاسہ ھے؟”
فقیر زور سے ہنسا اور بولا:
“حضور! یہ کسی بزرگ کا کاسہ نہیں…”
“یہ تو ریاست مانگستان کا کاسہ ھے!” 🤣🤣🤣
“اس میں جتنا بھی ڈال دو، کم ھی لگتا ھے!” 😂
بادشاہ حیران ھو کر بولا:
“پھر تم کون ھو؟” 🤔😕
فقیر نے آہ بھری، کوٹ سیدھا کیا اور کہا:
“میں وزیراعظم ہوں …” 😎
“اور میں مانگنے نہیں آیا…”
بس ایک بار اور آپ کی مدد چاہتا ھوں 😄🤣
سبق:
کچھ کاسے ایسے ھوتے ھیں جو بھرنے کے لیے نہیں بلکہ ہر چند ماہ بعد دوبارہ پیش ھونے کے لیے بنائے جاتے ھیں! 😂😂😂
