ایک زمانہ تھا جب ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک نہایت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اس سے محبت کرتی تھی، مگر اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے تھے، بچوں کی آنکھوں سے بھوک جھانکتی تھی اور بوڑھوں کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔
بادشاہ نے خزانہ کھلوایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل قحط اور سابقہ امداد کی وجہ سے خزانے میں اتنی دولت باقی نہیں کہ ہر آنے والے کو دل کھول کر دیا جا سکے۔
یہی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ اگر امداد کا اعلان کر دیا تو واقعی ضرورت مندوں کے ساتھ وہ لوگ بھی آ جائیں گے جنہیں صرف مفت کا مال سمیٹنے کی عادت تھی، اور اگر اعلان نہ کیا تو اصل مستحق بھوک سے مر جائیں گے۔
اس نے فوراً دربار طلب کیا۔
وزیر، مشیر، سپہ سالار، عالم، تاجر، سب جمع ہو گئے۔
بادشاہ نے سوال کیا،
“ایسا کیا کیا جائے کہ خزانہ بھی ضائع نہ ہو اور امداد صرف حق دار تک پہنچے؟”
ایک وزیر بولا،”ناموں کی فہرست بنوا لیجیے۔”
دوسرا بولا،”ہر شخص سے گواہ لے لیجیے۔”
تیسرا بولا،”جو زیادہ روئے، اسے زیادہ دے دیجیے۔”
مگر بادشاہ کے چہرے پر اطمینان نہ آیا۔
اسی دوران محل کی ایک لونڈی، جو خاموشی سے پانی پیش کر رہی تھی، ادب سے آگے بڑھی اور جھک کر بولی،
“اگر حضور اجازت دیں، تو ایک عرض کروں؟”
چند درباری ہنس پڑے۔
“بادشاہ کے مسئلے کا حل اب ایک لونڈی دے گی؟”
مگر بادشاہ نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کر دیا۔
“کہو، کیا کہنا چاہتی ہو؟”
لونڈی نے ادب سے سر جھکایا اور بولی،”حضور! امداد کی قیمت حقیر سے حقیر رکھ دیجیے۔” اتنی معمولی کہ قیمت نہ ہونے کے برابر ہو۔”
بادشاہ نے پوچھا،
“اس سے کیا فرق پڑے گا؟”
لونڈی نے جواب دیا،
“فرق بہت بڑا پڑے گا، حضور! جسے واقعی ضرورت ہوگی، وہ معمولی سی معمولی امداد بھی لے جائے گا، کیونکہ اس کے لیے وہ امداد زندگی ہوگی۔ لیکن جسے ضرورت نہیں، وہ اتنی سی چیز کے لیے اپنی عزت، وقت اور محنت ضائع نہیں کرے گا۔ یوں امداد صرف انہی ہاتھوں تک پہنچے گی جن کے گھر واقعی خالی ہیں۔”
بادشاہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے فوراً اعلان کروا دیا۔
چند دن بعد حیرت انگیز منظر سامنے آیا۔
لمبی قطاریں غائب تھیں۔
شور مچانے والے بھی کہیں نظر نہ آئے۔
صرف وہی لوگ آئے جن کی آنکھوں میں بھوک تھی اور جن کے گھروں میں واقعی فاقے تھے۔
بادشاہ خود امداد تقسیم کر رہا تھا۔
ہر تھیلے کے ساتھ اس کے چہرے پر سکون بڑھتا جا رہا تھا۔
تقسیم مکمل ہوئی تو اس نے خزانے کی طرف دیکھا۔
پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ تھوڑا سا خزانہ بھی بہت سے گھروں میں امید بانٹ سکتا ہے، اگر وہ صحیح ہاتھوں تک پہنچے۔
اسی شام بادشاہ نے دربار سجایا۔
سب کے سامنے لونڈی کو بلایا، اسے شاہی خلعت پہنائی اور کہا، “دانائی صرف مسئلہ دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ ایسا حل دینے کا نام ہے جس میں انصاف بھی ہو اور حکمت بھی۔”
پھر مسکراتے ہوئے بولا،
“آج تم نے صرف خزانہ نہیں بچایا، تم نے حق دار کا حق بھی بچا لیا۔”
دربار تالیوں سے گونج اٹھا، اور اس دن کے بعد پورے ملک میں ایک کہاوت مشہور ہو گئی:
“جس تقسیم میں حکمت نہ ہو، وہاں حق دار اکثر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔”
حاصلِ سبق
صرف سخاوت کافی نہیں ہوتی، انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا بھی ایک فن ہے۔ حکمت یہ ہے کہ مدد وہاں پہنچے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو، نہ کہ وہاں جہاں صرف لینے کی عادت ہو۔
