Category Archives: Urdu Stories

او کام والی!آج کیاریوں کی صفائی کر دینا اچھے طریقے سے۔بیگم صاحبہ ثائمہ کو حکم دے کر کمرے میں چلی گئیں۔ثائمہ لفظ کام والی سن کر تڑپ کر رہ گئی تھی۔جانے کیوں اسے اس لفظ سے چڑ سی ہو گئی تھی۔یہ تم نے کیسی صفائی کی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ صفائی کی ہی نہیں۔تنخواہ لینے کا پتہ ہے بس کام کرتی نہیں ڈھنگ سے۔بیگم شازیہ ادریس احمد ملازمہ پر برس رہی تھیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ان کی یہ روز کی عادت تھی۔جتنی دیر ملازمہ کام کرتی وہ اس کو مسلسل کچھ نہ کچھ کہتی رہتی۔ کبھی انہیں کسی ملازمہ کی صفائی پسند نہیں آئی تھی۔وہ ایک انتہائی دولت مند خاتون تھیں اور وہ غریبوں کو نیچ اور ذلیل خیال کرتی تھیں۔ارے یہ تو نے کیا کیا؟چارپائی ناپاک کر دی میری اُٹھا اپنے بچے کو۔ثائمہ ایک دم لرز کر رہ گئی۔اس کی آنکھوں میں اپنی کم مائیگی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیونٹی جو کے دانے جمع کرنے کے لئے ایک رستے سے گذر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر شہد کے ایک چھتے پر پڑی۔شہد کی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔چھتا ایک پتھر کے اوپر لگا تھا۔چیونٹی نے ہر چند کوشش کی کہ وہ پتھر کی دیوار سے اوپر چڑھ کر چھتے تک رسائی حاصل کرے مگر ناکام رہی کیونکہ اس کے پاؤں پھسل جاتے تھے اور وہ گر پڑتی تھی۔شہد کے لالچ نے اسے آواز لگانے پر مجبور کر دیا اور وہ فریاد کرنے لگی:”اے لوگو، مجھے شہد کی طلب ہے۔اگر کوئی جواں مرد مجھے شہد کے چھتے تک پہنچا دے تو میں اسے معاوضے کے طور پر ایک جو پیش کروں گی۔“ایک پردار چیونٹی ہوا میں اُڑ رہی تھی۔اس نے چیونٹی کی آواز سنی اور اسے تنبیہ کرنے لگی:”دیکھو، ایسا نہ ہو کہ چھتے کی طرف چل دو۔…

Read more

ایک آدمی نے شادی کے بیس سال گزرنے کے باوجود کبھی اپنی بیوی کے ہاتھ کے کھانے یا اس کی کسی بات کی تعریف نہیں کی۔ایک جمعہ وہ مسجد گیا۔ خطبے میں مولوی صاحب نے نصیحت کی:“بھائیو! اپنی بیوی کی اچھائیوں اور اس کے کھانے کی تعریف بھی کیا کریں۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور یہ بھی نیکی کا کام ہے۔”وہ شخص گھر آیا تو حسبِ معمول بیوی نے کھانا سامنے رکھ دیا۔ آج اس نے پہلا لقمہ لیا تو بے اختیار بولا:“👍سبحان اللہ! کیا ذائقہ ہے! واہ، آج تو مزہ ہی آ گیا!”پھر ہر دوسرے لقمے کے ساتھ تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔بیوی چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ پھر اچانک باورچی خانے سے بیلنا اٹھایا اور دھڑام سے اس کے سر پر 😂😂😂😂دے مارا۔شوہر سر پکڑ کر بولا:“ارے بیگم! یہ کیا کر رہی ہو؟”بیوی غصے سے بولی:“بیس سال میں میرے ہاتھ کے کھانے کی کبھی تعریف…

Read more

بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے…

Read more

ایک نان بائی تھا وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا لوگ دور دور سے اس کے نان کلچے خریدنے آتے تھے کچھ لوگ اسے کھوٹے سکے دے کر چلے جاتے تھے جیسا کہ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے وہ نان بائی ان سکوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اپنی پیسوں والی صندوقچی میں رکھ دیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا نہ آواز دے کر کہتا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے یا بےایمانی کی ہےبلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔ جب اس نان بائی کا        وقت قریب آیا تو اس نے اللّٰہ کو پکار کر کہااے اللّٰہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں گرم گرم اور صحت مند خوشبودار نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت کے کر آیا ہوں وہ اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک سرسبز جنگل میں ہرن رہتا تھا۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھا، نہ سب سے تیز، مگر اس کی ایک خوبی ایسی تھی جس کی وجہ سے پورا جنگل اس کی عزت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی کسی کمزور یا بے بس جانور کو مصیبت میں دیکھتا، اس کی مدد کیے بغیر آگے نہ بڑھتا۔ ایک دن وہ جنگل کے ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک شور سنائی دیا۔ قریب جا کر دیکھا تو چند شرارتی بندروں نے ایک ننھے خرگوش کو پکڑا ہوا تھا۔ کوئی اس کے کان کھینچ رہا تھا، کوئی دم، اور کوئی اسے درخت سے درخت کی طرف اچھال کر ہنس رہا تھا۔ بیچارہ خرگوش خوف سے کانپ رہا تھا اور رہائی کے لیے تڑپ رہا تھا۔ ہرن سے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سخت آواز میں بولا، “شرم کرو! جس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر کے مصروف بازار میں ایک شخص کا گزر ہوا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کی نظر ایک بہت بڑے ہجوم پر پڑی۔ لوگ دائرہ بنا کر کھڑے تھے، تالیاں بجا رہے تھے اور خوشی سے قہقہے لگا رہے تھے۔ تجسس میں وہ بھی آگے بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بندر نہایت خوبصورتی سے ناچ رہا ہے۔ کبھی قلابازی لگاتا، کبھی لوگوں کو سلام کرتا، کبھی ڈھول کی تھاپ پر ایسا رقص کرتا کہ حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ لوگ خوش ہو کر مٹھی بھر بھر کر سکے اور نوٹ اس کے مالک کی چادر میں ڈال رہے تھے۔ وہ شخص کافی دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ اس کی نظریں بندر پر کم اور پیسوں پر زیادہ تھیں۔ واپسی پر اس کے دل میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہا۔ “اگر ایک بندر ناچ…

Read more

En un gran supermercado había tal cantidad de ratas que por la noche parecía que todo el lugar cobraba vida. Sacos de harina, frutos secos, arroz, legumbres, galletas… estaban por todas partes. Generaciones enteras habían crecido allí, ancianos habían muerto allí y niños nuevos crecían allí. El dueño del supermercado probó de todo, pero las ratas no se iban. Finalmente, un día, trajo un gato salvaje muy sanguinario y lo soltó. No era un gato cualquiera. Tenía hambre en los ojos, electricidad en las garras y un ataque tan feroz que muchas ratas no tenían oportunidad de recuperarse. Decenas de ratas murieron en la primera semana.La colonia de ratas estaba sumida en el caos. Cada noche, se oían lamentos provenientes de alguna casa. Entonces, un día, las ratas ancianas se reunieron. “Si hay vida, hay mundo”.«Por muy buena que sea la tienda, si cada mañana se celebra un funeral, ¿de…

Read more

ایک نائی کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت : ساہیوال سے کچھ کلو میٹر دور نہر کے کنارے پر بنے انگریز دور کے نائی والے بنگلے کی دلچسپ کہانی ۔۔۔۔۔۔یہ بنگلہ انگریزوں نے اپنے افسران کو دوران سفر رہائش کی سہولت مہیا کرنے کے  لیے 1908 میں تعمیر کروایا تھا ۔ یہاں انگریز افسران کئی کئی روز قیام پذیر رہتے ، اس بنگلے سے کچھ دور ایک نائی کی دکان یا گھر تھا جو لوگوں کی حجامتیں کرتا یا بال بناتا تھا ۔۔ انگریز افسران بھی حجامت کے لیے اس نائی کو طلب کیا کرتے اور وہ بنگلے پر آکر انکی شیو وغیرہ کر جاتا ۔ ایک افسر کا معمول تھا کہ وہ ہر روز صبح شیو لازمی بنواتا ، مذکورہ نائی کو ایک دن صبح منہ اندھیرے اپنی رشتہ داری میں لازمی جانا پڑ گیا ، اور یہ علی الصبح کا وقت تھا جبکہ گورا افسر ابھی سویا ہوا…

Read more

وہ کبھی کسی عالم کے پاس جاتا، کبھی کسی فلسفی کے پاس مگر اس کے سوالوں کا ایسا جواب نہ ملتا جو اس کے دل کو مطمئن کر دیتا ایک دن وہ گلی سے گزرتے ہوئے حضرت بہلول دانا کے قریب پہنچا لوگوں سے اس نے ان کا بہت چرچا سن رکھا تھا کہ وہ بڑے دانا اور حکمت والے انسان ہیں اسی لیے اس نے سوچا کہ شاید یہ شخص میرے سوالوں کے جواب دے سکے۔ وہ بہلول دانا کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا لوگ کہتے ہیں تم ہر سوال کا جواب دے دیتے ہو، میرے پاس بھی تین سوال ہیں جن کا جواب آج تک کسی کے پاس نہیں ملا، کیا تم ان کے جواب دے سکتے ہو؟ حضرت بہلول دانا نے فرمایا پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو؟” اس شخص نے پہلا سوال کیا اگر خدا موجود ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا؟ بہلول دانا…

Read more

ایک بدو اپنے اونٹ چرا رہا تھا کہ اسے ہرنوں کا ایک غول (گلہ) بھاگتا ہوا نظر آیا۔ بدو نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کو ایک درخت کے سائے میں بٹھایا اور تاکید کی کہ: “میرے لوٹنے تک یہیں رہنا، یہاں سے کہیں مت جانا۔” یہ کہہ کر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور ہرنوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ ہرنوں نے جب اسے پیچھا کرتے دیکھا تو وہ مزید تیزی سے بھاگنے لگے۔ بدو خود بھی شکار کا شوقین تھا، اسے یہ دوڑ پسند آ رہی تھی اور وہ دور تک ان کا پیچھا کرتا چلا گیا۔ادھر چار پانچ سال کا وہ معصوم بچہ اکیلا اپنے باپ کا انتظار کر رہا تھا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھوتنی کا گزر ہوا، جسے انسانی گوشت بہت پسند تھا۔ اس نے بچے کو اکیلا دیکھا تو بہت خوش ہوئی اور اسے کھا گئی۔بدو کافی دیر تک ہرنوں کا پیچھا کرتا رہا،…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا۔ اسے بہت بھوک اور پیاس 🥵 لگی تھی۔ اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ بہت پریشان تھا کہ اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔ وہ بہت خوش ہوا 😄۔ اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا، “چلو، کھانے کو کچھ تو ملا۔ جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے 🤲۔”مرغ نے یہ بات سن کر اسے جواب دیا، “قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو ✨۔”اس شخص نے مرغ سے کہا، “تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نہ کھاؤں اور بھوکا رہوں؟”مرغ نے اس شخص سے کہا، “سوچ لو، میں تمھارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں  اگر تم…

Read more

ایک گھنے جنگل میں ایک بکری بڑی بے فکری سے گھوم رہی تھی۔ نہ اُسے کسی درندے کا خوف تھا اور نہ کسی خطرے کی پروا۔ درخت پر بیٹھا ایک کوا یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا۔ وہ نیچے آیا اور بکری سے پوچھا: “بہن! تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے ڈر نہیں لگتا؟” بکری مسکرائی اور بولی:“کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی اور اپنے دو ننھے بچوں کو اکیلا چھوڑ گئی تھی۔ مجھے اُن پر رحم آ گیا، میں نے اُنہیں اپنا دودھ پلا کر پالا۔ آج وہ دونوں جوان شیر ہیں، اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ: ‘ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا۔’” یہ سن کر کوا بہت متاثر ہوا۔ اُس نے دل میں سوچا:“کاش مجھے بھی کسی پر نیکی کرنے کا ایسا موقع مل جائے۔” کچھ دیر بعد اُسے دریا میں ڈوبتا ہوا ایک چوہا…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنا، سرسبز اور خوشحال جنگل تھا، جہاں حکومت تو شیر کی تھی مگر اس کا سب سے قابلِ اعتماد ساتھی اس کا وزیر، لومڑی، تھا۔ صبح سے شام تک دربار میں، شکار کے وقت، فیصلوں میں، سفیروں کی ملاقات میں، یہاں تک کہ سیر و تفریح میں بھی لومڑی ہر وقت شیر کے ساتھ ہوتی تھی۔لیکن ایک چیز تھی جو برسوں سے اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔جنگل بھر کے جانور جب بھی اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوئی رس بھرے آم لاتا، کوئی خوشبودار خربوزے، کوئی میٹھے تربوز، کوئی شہد کے چھتے، تو کوئی نایاب جنگلی پھل۔سب تحفے شیر کے قدموں میں رکھ دیے جاتے۔شیر مزے سے کھاتا، تعریفیں سنتا، اور آگے بڑھ جاتا۔ادھر لومڑی چند قدم دور کھڑی رہتی، اس کے منہ میں پانی بھرتا رہتا، مگر اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا۔وہ دل…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر کی ریاستوں میں بڑے بڑے جاگیردار اور دولت مند تاجر اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہوا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک شہر میں ایک نہایت دولت مند شخص رہتا تھا۔ دولت، زمینیں، باغات، نوکر، گھوڑے، سب کچھ تھا، مگر اولاد صرف ایک تھی۔ ایک اکلوتا بیٹا۔وہ بیٹا اس کی آنکھوں کا نور تھا۔جس چیز کی خواہش کرتا، باپ اس کے قدموں میں لا کر رکھ دیتا۔ اس نے کبھی “نہیں” کا لفظ سنا ہی نہ تھا۔ایک دن بچپن میں اس نے محلے کے ایک غریب لڑکے کو معمولی سی بات پر بری طرح زخمی کر دیا۔لوگ شکایت لے کر آئے۔ایک بوڑھے شخص نے کہا:“مالک! بچے کی غلطی ہے۔ آج اسے روک لیجیے، کل دیر ہو جائے گی۔”دولت مند شخص نے مسکرا کر کہا: “بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ اتنی سی بات پر اپنے اکلوتے بیٹے کو سزا دوں؟”اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک گھنے جنگل میں ایک نہایت بھاری بھرکم گینڈا رہتا تھا۔ اپنی غیر معمولی جسامت اور طاقت کی وجہ سے وہ خود کو جنگل کا سب سے برتر جانور سمجھتا تھا۔اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا ہرن بھی رہتا تھا۔ہرن نہایت نرم مزاج، بردبار اور خاموش طبیعت کا مالک تھا۔مگر گینڈے کو اس کا کمزور جسم ایک مذاق محسوس ہوتا تھا۔جب بھی دونوں کا آمنا سامنا ہوتا، گینڈا ضرور کوئی نہ کوئی طنز کر دیتا۔ کبھی کہتا:“ہرن میاں! تم گھاس کھاتے ہو یا ہوا؟” کبھی ہنستے ہوئے بولتا:“ذرا احتیاط سے چلا کرو، کہیں تیز ہوا نہ چل جائے، ورنہ اڑ جاؤ گے!”اور کبھی اپنے موٹے پیروں کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتا:“تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تمہاری ٹانگیں لکڑی کی تیلیاں ہیں۔”آس پاس کھڑے چند جانور بھی ہنس دیتے۔ہرن مسکرا دیتا، مگر خاموش رہتا۔وہ جانتا تھا کہ ہر بات کا جواب زبان سے نہیں دیا…

Read more

ایک بڑے سپر اسٹور میں چوہوں کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ رات ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا جیسے پوری دکان زندہ ہو گئی ہو۔ آٹے کی بوریاں، خشک میوہ جات، چاول، دالیں، بسکٹ، ہر طرف ان کی چہل پہل تھی۔ نسلیں وہیں پلی تھیں، بوڑھے وہیں مرے تھے اور نئے بچے وہیں جوان ہو رہے تھے۔دکان کے مالک نے ہر ترکیب آزما لی، مگر چوہے ختم نہ ہوئے۔آخر ایک دن اس نے ایک نہایت خونخوار جنگلی بلی لا کر چھوڑ دی۔وہ عام بلی نہ تھی۔اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، پنجوں میں بجلی، اور حملہ ایسا کہ کئی چوہے سنبھلنے کا موقع ہی نہ پاتے۔ پہلے ہی ہفتے درجنوں چوہے مارے گئے۔چوہوں کی بستی میں کہرام مچ گیا۔ہر رات کسی نہ کسی گھر سے ماتم کی آواز آتی۔پھر ایک دن بزرگ چوہوں نے مشورہ کیا۔“جان ہے تو جہان ہے۔”“دکان کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر ہر صبح کسی…

Read more

Read more

! آپ نے ملا نصرالدین کا نام تو ضرور سنا ہو گا اور اُسکے کارنامے بھی ضرور پڑھے اور سنے ہو نگے ۔ملا کی عمر کا زیادہ ترحصہ بادشاہوں کے درباروں میں ہی گزرا۔وہ ہنس مُکھ اور بذلہ سنج شخص تھا ۔بادشاہ اکثر اُس پر انعام واکرام کی بارش کرتا رہتا تھا۔بادشاہ کے دربار میں اُس سے حسد کرنے والے بھی تھے وہ بادشاہ کے کان بھرتے رہتے تھے ،آخر ایک دن اُنہیں موقع مل ہی گیا ۔ بادشاہ کے مخالف کا مُلا سے آمنا سامنا ہوا۔مُلا نے اُسکے سلام کا جواب دیا ،اُس نے مُلا کا حال چال پوچھا ۔بس اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا کر بادشاہ کو ملا سے بد ظن کر دیا ۔بادشاہ ملا سے ناراض ہو گیا اور محل میں اُس کا داخلہ بند کر دیا ۔چند ماہ تک تو مُلا اپنی جمع پونجی خرچ کرتا رہا۔(جاری ہے) کہتے ہیں یوں کھانے سے قارون کا…

Read more

ایک مراثی بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھایہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا۔ اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتا۔ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا، اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا، حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں۔ میں آپ کا وفادار بھی ہوں۔ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا۔نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا،‘آپ حکم کیجئے’بادشاہ بولا۔ بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے۔ مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا۔ اور واپس آ کر بولا۔ جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔بادشاہ نے پوچھا۔ یہ جہاز کب آیا؟ نائی دوبارہ سمندر…

Read more

80/1290
NZ's Corner