ہر مفت ملنے والی چیز نعمت نہیں ہوتی
جنگل کے مغربی کنارے پر ایک وسیع و عریض خطہ تھا جسے وادیِ سبزہ کہا جاتا تھا۔ وہاں کے درخت باقی جنگل سے زیادہ گھنے، چشمے زیادہ شفاف اور زمین زیادہ زرخیز تھی۔ دور دور سے جانور وہاں آتے، کچھ دن قیام کرتے اور پھر اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتے۔ مگر ایک دن اس وادی پر ایسی خاموشی اتری کہ پرندوں کے گیت رک گئے، چشموں کے کنارے آباد رہنے والے جانور اپنے بلوں میں تڑپنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی سب سے آباد وادی موت کی وادی بننے لگی۔ پہلے چند جانور بیمار ہوئے، پھر درجنوں، پھر سینکڑوں۔ کسی کو شدید بخار چڑھتا، کسی کا پیٹ پھول جاتا، کوئی چلتے چلتے زمین پر گر پڑتا۔ کئی دنوں کے اندر اندر وادی کے آدھے سے زیادہ جانور مر چکے تھے، جبکہ باقی زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنی بڑی…
اختیار اگر خدمت کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بن جائے تو محافظ اور لٹیرا پہچانے نہیں جاتے
جنگل میں دو بھیڑیے ایسے تھے جنہیں شاہی فرمان کے تحت جنگل کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کے پاس سرکاری مہر تھی، کمر پر شاہی نشان آویزاں تھا اور چال میں ایسا رعب کہ جنگل کی پگڈنڈی پر چلتے تو خرگوش راستہ بدل لیتے، ہرن دور سے ہی جھاڑیوں میں جا چھپتے اور بندر درختوں کی اوٹ سے انہیں گزرتا دیکھتے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ کمزوروں کی حفاظت کریں، ظالموں کو روکیں اور جنگل کے باشندوں کے جان و مال کو محفوظ رکھیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے حفاظت کے مفہوم ہی کو بدل ڈالا۔ اب ان کے نزدیک جنگل کی حفاظت کا مطلب یہ تھا کہ جنگل میں جو کچھ بھی اچھا کھانے کو ملے، وہ ان کی دسترس سے باہر نہ رہے۔ کسی درخت کے نیچے پھلوں کی ریڑھی لگی ہوتی تو وہ وہاں جا پہنچتے؛ کسی تالاب کے کنارے مچھلیوں…
اعمال کا صلہ
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک دولت مند تاجر رہتا تھا۔ دولت کی فراوانی نے اس کے دل کو سخت کر دیا تھا۔ اسی شہر میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی جسے اس کے مرحوم شوہر کی تھوڑی سی زمین اور ایک چھوٹا سا گھر وراثت میں ملا تھا۔ وہی اس کی کل متاع تھی، وہی اس کی امید تھی، اور وہی اس کی زندگی کا سہارا۔تاجر کی نظر اس زمین پر پڑی تو لالچ جاگ اٹھا۔ اس نے جعلی کاغذات تیار کروائے، جھوٹے گواہ کھڑے کیے اور آخرکار وہ بیوہ کی زمین اور گھر دونوں ہتھیا گیا۔ بیوہ نے بہت فریاد کی، لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر دولت کے سامنے اس کی آواز دب گئی۔ آخر ایک شام وہ اپنے ویران گھر کے کھنڈرات کے سامنے کھڑی ہوئی، آسمان کی طرف دیکھا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا: “اے میرے رب! آج میرا کوئی نہیں، مگر…
غیر سیاسی پوسٹ *بادشاہ، وزیر اور گیدڑوں کی دلچسپ کہانی* 😊
پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیر سے پوچھا: یہ گیدڑ رات بھر بہت شور و غل کر رہے تھے، کیا وجہ ہے؟ وزیر عقل مند تھا۔ اس نے کہا: جناب! کھانے پینے کی چیزوں کی کمی کی وجہ سے فریاد کر رہے تھے۔ حاکمِ وقت نے حکم فرمایا کہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے۔ وزیر صاحب نے سارا مال اپنے گھر بھجوا دیا اور دوستوں، رشتہ داروں میں تقسیم کروا دیا۔ پھر رات کو وہی آوازیں آئیں۔ بادشاہ نے صبح وزیر صاحب سے فرمایا: وہ کل آپ نے سامان بھجوایا نہیں تھا؟ وزیر نے کہا: جی، بھجوایا تھا۔ بادشاہ نے پوچھا: تو پھر شور کیوں؟ وزیر نے کہا: جناب! سردی کی وجہ سے شور کر رہے تھے۔ حاکمِ وقت نے آرڈر فرمایا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے۔ صبح وزیر صاحب کی موجیں لگ گئیں۔ پھر…
رب کی رحمت
سامان سے لدا ھوا ایک بحری جہاز محو سفر تھا کہ تیز ھواؤں کی وجہ سے وہ الٹنے لگا۔ قریب تھا کہ جہاز ڈوب جاتا، اس میں موجود تاجروں نے کہا کہ بوجھ ھلکا کرنے کیلئے کچھ سامان سمندر برد کرتے ھیں۔ تاجروں نے مشورہ کرکے طے کیا کہ سب سے زیادہ سامان جس کا ھو، وھی پھینک دیں گے۔ جہاز کا زیادہ تر لوڈ ایک ھی تاجر کا تھا۔ اس نے اعتراض کیا کہ صرف میرا سامان کیوں؟ سب کے مال میں سے تھوڑا تھوڑ پھینک دیتے ھیں۔ انہوں نے زبردستی اس نئے تاجر کو سامان سمیت سمندر میں پھینک دیا۔ قدرت کی شان کہ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ کھیلنے لگیں۔ اسے اپنی ھلاکت کا یقین ھو گیا، جب ھوش آیا تو کیا دیکھتا ھے کہ لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا ھے۔ یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا۔ جان بچنے پر اس نے رب کا…
بادشاہ کا فیصلہ
ایک بادشاہ نے ایک بے گناہ قیدی کے قتل کا حکم دے دیا۔ قیدی مایوسی کے عالم میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ بادشاہ نے اسے بڑبڑاتے دیکھا تو وزیر سے پوچھا: “یہ کیا کہہ رہا ہے؟” وزیر نے جواب دیا: “حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ معاف کرنے والوں کو اللہ پاک پسند فرماتا ہے۔” وزیر کی بات سن کر بادشاہ کا دل نرم پڑ گیا اور اس نے فوراً قیدی کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ایک مصاحب نے فوراً کہا: “حضور! یہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا، وزیر جھوٹ بول رہا ہے!” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وزیر کا وہ جھوٹ جو کسی کی جان بچا دے اور نیکی کی طرف لے جائے، تیرے اُس سچ سے بہتر ہے جو دلوں میں نفرت اور فساد پیدا کرے۔” سبق:ہر سچ بولنا ضروری نہیں، خاص طور پر وہ سچ جو کسی کی بھلائی کے بجائے فساد پیدا کرے۔…
دھوبی کا گدھا”
ایک جنگل میں ایک شیر خارش کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ علاج اور دواؤں کے باوجود اس کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی اور وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ اس میں شکار کرنے کی طاقت بالکل ختم ہو گئی۔ ایک لومڑی اس کی خدمتگار اور مصاحب تھی، جو شیر کے شکار کا بچا ہوا حصہ کھا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جب شیر خود شکار کے قابل نہ رہا تو لومڑی بھی شدید پریشان ہوئی، کیونکہ اس کی روزی کا دارومدار بھی اسی پر تھا۔ایک دن ایک لومڑی شیر کے پاس آ کر کہا: “اے جہاں پناہ! آپ کی بیماری نے جنگل کے تمام جانوروں کو پریشان اور اداس کر دیا ہے۔ تمام رعایا کو آپ کی کمزوری کا احساس ہے، کہیں کوئی دوسرا جانور اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا لے۔ آپ اپنی بیماری کا کسی اچھے طبیب سے علاج کیوں نہیں کرواتے؟”شیر نے آہ بھر…
نصیحت کرنا آسان ہے عمل کرنا مشکل ہے
کہتے ہیں، ایک دن ایک عقاب بلند فضا میں پرواز کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر زمین پر پڑے ایک چوہے پر پڑی۔ چوہا ایک شکاری کے بچھائے ہوئے جال کے قریب منڈلا رہا تھا، جس کے اندر پنیر کا ایک ٹکڑا رکھا تھا۔ عقاب فوراً نیچے اترا اور چوہے سے کہنے لگا، ’’نادان! تمہیں نظر نہیں آتا کہ یہ تمہارے لیے موت کا پھندا ہے؟ ذرا سی لالچ تمہاری جان لے سکتی ہے۔ عقل سے کام لو، ہر چمکتی چیز فائدے کی نہیں ہوتی۔‘‘ چوہا اس کی نصیحت سن کر خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔عقاب ابھی اپنی دانائی پر ناز ہی کر رہا تھا کہ اچانک اس کے پاؤں ایک دوسرے جال میں الجھ گئے، جو شکاری نے پرندوں کو پکڑنے کے لیے بچھا رکھا تھا۔ اس نے پھڑپھڑا کر نکلنے کی کوشش کی، مگر جال مزید سخت ہوتا گیا۔ کچھ دیر پہلے دوسروں کو عقل…
جھوٹ، دھوکا اور مکاری وقتی طور پر کامیابی کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔
ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے۔ دونوں نے تجارت کرنے کا ارادہ کیا اور ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ ان میں سے ایک نہایت عقل مند مگر حد سے زیادہ چالاک تھا۔ وہ اپنی چالاکیوں اور لوگوں کو دھوکا دینے کی عادت کی وجہ سے مکار چند کے نام سے مشہور تھا۔ دوسرا بہت سادہ لوح اور غافل تھا۔ وہ نفع اور نقصان میں بھی زیادہ فرق نہیں کر پاتا تھا، اس لیے لوگ اسے بھولا رام کہتے تھے۔ دونوں دوست کئی دن تک سفر کرتے رہے۔ راستے میں مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے ایک دن انہیں اچانک ایک تھیلا نظر آیا۔ انہوں نے قریب جا کر دیکھا تو اس میں اشرفیوں کی بڑی مقدار موجود تھی۔ دونوں یہ خزانہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ مکار چند نے کہا: “بھائی! کبھی…
تخت کا بوجھ
کہتے ہیں، کسی زمانے میں پہاڑوں، دریاؤں اور زرخیز میدانوں کے درمیان ایک ایسی سرزمین آباد تھی جہاں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں۔ کہیں تخت کے لیے بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا تھا، کہیں زمین کے ایک ٹکڑے پر نسلیں لڑ رہی تھیں، اور کہیں ایک معمولی سردار اپنے چند گھڑ سواروں کے بل پر خود کو بادشاہ کہلواتا تھا۔ہر طرف تلواروں کی جھنکار تھی، گھوڑوں کی ٹاپیں تھیں اور ان ماؤں کی آہیں تھیں جن کے بیٹے میدانِ جنگ سے کبھی واپس نہیں آتے تھے۔انہی دنوں ایک نوجوان سپاہی شاہی فوج میں بھرتی ہوا۔ اس کے پاس نہ کوئی خاندانی نام تھا، نہ کسی رئیس کی سرپرستی اور نہ ہی دولت کے انبار۔ اس کی واحد پونجی اس کا عزم، اس کی تلوار اور اپنی صلاحیت پر بھروسا تھا۔ وہ ان سپاہیوں میں سے نہیں تھا جو حکم سن کر صرف سر جھکا…
فقیر اور گدھے کی کہانی
ایک دن وتایو فقیر اپنے گدھے پر لکڑیاں لاد کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔ وہ خود بھی گدھے پر بیٹھا ہوا تھا۔ راستے میں کچھ لوگوں نے دیکھا اور ہنس کر کہا:“دیکھو یہ پاگل فقیر، خود بھی گدھے پر بیٹھا ہے اور لکڑیاں بھی گدھے پر لادی ہیں، بےچارہ گدھا مر جائے گا۔” وتایو نے یہ سنا تو فوراً گدھے سے اتر گیا اور پیدل چلنے لگا، گدھا خالی چل رہا تھا۔ آگے جا کر دوسرے لوگ ملے، وہ کہنے لگے:“دیکھو یہ کتنا بےوقوف ہے، گدھا خالی جا رہا ہے اور خود پیدل چل رہا ہے، بیٹھ کیوں نہیں جاتا؟” وتایو نے یہ سنا تو پھر گدھے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ کچھ اور آگے گیا تو تیسرے لوگ ملے، وہ بولے:“اس ظالم کو دیکھو، خود بھی گدھے پر بیٹھا ہے اور لکڑیاں بھی اسی پر رکھی ہیں، کتنا ظلم کر رہا ہے بےزبان جانور پر۔” وتایو پریشان…
عالم اور ملاح
ایک بہت بڑا عالمِ دین کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کر رہا تھا۔ 🚤🌊 راستے میں عالم نے ملاح سے پوچھا: 🤓 عالم:“بھائی! تم نے تاریخ پڑھی ھے؟” 😐 ملاح:“نہیں جناب!” عالم نے افسوس سے سر ہلایا: 😂 “اوہو! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کچھ دیر بعد عالم نے پھر پوچھا: 🤓 “اچھا یہ بتاؤ، جغرافیہ پڑھا ھے؟” ملاح نے جواب دیا: 😐 “نہیں حضور!” عالم مسکرایا اور بولا: 😂 “پھر تو تمہاری 75 فیصد زندگی ضائع ھو گئی!” ملاح خاموش رہا۔ 🤐 لیکن ابھی عالم کی اکڑ ختم نہیں ھوئی تھی! 😂 اچانک… 🌪️ زور دار طوفان آ گیا! کشتی بری طرح ہچکولے کھانے لگی۔ 🌊😱پانی کشتی میں داخل ھونے لگا۔ عالم کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے! 😨 ملاح نے فوراً پوچھا: 😳 “جناب! کیا آپ کو تیرنا آتا ھے؟” عالم نے کانپتے ہوئے جواب دیا: 😭 “نہیں…!” ملاح نے مُسکرا کر کہا:…
El sacrificio de un ministro leal
Había un gran grupo de monos viviendo en una isla, donde abundaban las frutas y las flores y el clima era perfecto para ellos. Un día, mientras algunos monos ancianos estaban sentados a la sombra de un árbol charlando, pasó de repente un oso llamado Bulbul. Bulbul pensó en lo cómoda que era la vida de estos monos: vivía en una estrecha cueva entre las montañas, trabajaba duro para conseguir hierba y flores, y veía cómo estos monos comían frutas frescas y descansaban sobre la suave vegetación con alegría. Pensando esto, Bulbul atacó a los monos con furia. Todos los monos huyeron gritando de miedo, pero a pesar de reunirse por miles, no pudieron resistir a Bulbul, quien mordió e hirió a varios. Con gran dificultad, Bulbul escapó de allí hacia las montañas. Cuando Shahbaz, el rey de los monos, regresó y vio esto, quedó profundamente conmocionado. Entre los monos…
گدھا اور گھوڑا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔ گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔ وہ اکثر خود سے کہتا:“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔” اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔ گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں…
وفادار وزیر کی قربانی
ایک جزیرے پر بندروں کی ایک بڑی جماعت بستی تھی، جہاں پھل پھول عام تھے اور آب و ہوا ان کے مزاج کے بالکل موافق تھی۔ ایک دن، جب چند بزرگ بندر ایک درخت کے سائے میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تو اچانک وہاں سے ایک بلبل نامی ریچھ کا گزر ہوا۔ بلبُل نے دل میں سوچا کہ ان بندروں کا رہن سہن کتنا آرام دہ ہے؛ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ غار میں گزارا کرتا ہوں، بڑی محنت سے گھاس پھول حاصل کرتا ہوں، اور یہ بندر کتنے مزے سے تازہ پھل کھاتے اور نرم سبزے پر آرام کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر بلبُل نے غصے میں بندروں پر حملہ کر دیا۔تمام بندر ڈر کر چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود وہ بلبُل کا مقابلہ نہ کر سکے اور بلبُل نے کئی بندروں کو کاٹ کر زخمی کر…
ایک کروڑ ڈالر 😂
سیاحوں کا ایک گروپ مگرمچھوں کے فارم کی سیر کر رہا تھا۔ سب لوگ جھیل کے درمیان بنے ایک محفوظ تیرتے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ اچانک فارم کے مالک نے اعلان کیا: ’’جو شخص مگرمچھوں سے بھری اس جھیل میں چھلانگ لگا کر بحفاظت کنارے تک پہنچ جائے گا، اسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا!‘‘ سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کوئی اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ اچانک ایک آدمی نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ مگرمچھ اس کے پیچھے لپکے، لیکن قسمت اچھی تھی کہ وہ بحفاظت کنارے تک پہنچ گیا۔ فارم کے مالک نے خوش ہو کر اعلان کیا: ’’یہ شخص ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا حق دار ہے!‘‘ انعام لینے کے بعد وہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل واپس آیا۔ کمرے میں پہنچتے ہی اس نے غصے سے کہا: ’’میں نے اپنی مرضی سے چھلانگ نہیں لگائی تھی! کسی نے…
سچی نیت اور بادشاہ کا انعام
ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…
بوڑھا خرگوش اور چوہا
جنگل کے ایک سرسبز کونے میں ایک بوڑھا خرگوش رہتا تھا۔ بڑھاپے کے باوجود وہ محنت سے جی نہیں چراتا تھا۔ اس نے اپنے پنجوں سے زمین نرم کی، بیج بوئے، پانی دیا اور کئی مہینوں کی محنت کے بعد گاجروں کا ایک خوبصورت کھیت تیار کر لیا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ جنگل کے جانور جب وہاں سے گزرتے تو کوئی گاجریں کھا جاتا، کوئی پودوں پر پاؤں رکھ دیتا، کوئی کھیلتے کھیلتے فصل روند دیتا۔ شام تک خرگوش آدھی فصل تباہ دیکھتا، مگر خاموش رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جھگڑے سے فصلیں نہیں بچتیں۔آخر اس نے بڑی محنت سے پورے کھیت کے گرد مضبوط لکڑیوں کی باڑ بنا دی۔ اب جانوروں کا اندر جانا بند ہو گیا۔ لیکن جنگل میں ایک نوجوان چوہا بھی رہتا تھا۔وہ اپنی شرارتوں اور اکڑ کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسے دوسروں کو تنگ کرنے میں عجیب لطف آتا تھا۔ اسے جب معلوم…
محبوبہ کی چپل
ایک لڑکا جس لڑکی کو پسند کرتا تھا، ایک دن اس سے کہنے لگا: “مجھے کوئی ایسی چیز تحفے میں دے دو جسے میں ساری زندگی اپنے پاس سنبھال کر رکھ سکوں۔” لڑکی نے اپنی چپل کا نچلا حصہ اتار کر اسے دے دیا۔ لڑکا وہ حصہ لے کر سنار کے پاس گیا اور بولا: “اس کے لیے چاندی کا خوبصورت فریم بنا دو اور اسے اس میں جڑ دو۔” سنار نے کہا: “کل آ کر لے جانا۔” اگلے دن جب لڑکا اپنا تحفہ لینے پہنچا تو سنار نے حیرت سے پوچھا: “بھائی! یہ کس پیر صاحب کی چپل ہے؟” لڑکے نے جواب دیا: “یہ کسی پیر صاحب کی نہیں، میری محبوبہ کی چپل ہے!” یہ سنتے ہی سنار غصے سے بولا: “او مجنوں کی اولاد! کل سے میرا پورا خاندان اس چپل کو چوم چوم کر پاگل ہو چکا ہے!” 😂🤣
دانت اور ڈھکن 😄
شادی کا موقع تھا، ہم سب کزن بیٹھے تھے۔ یکدم ممانی دوائی کی شیشی تھامے وارد ہوئیں: “ارے لڑکوں ذرا یہ بوتل تو کھول دو” طبع آزمائی شروع ہو گئی۔ جب ایک لڑکا ناکام ہوتا تو دوسرا بڑے ہی کانفیڈنس سے کوشش کرتا مگر بے سود۔ لڑکیاں ہماری کیفیت دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھیں۔ لڑکوں نے طاقت کی انتہا لگا دی لیکن ڈھکن تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ بوتل گھومتے گھومتے میرے پاس آ گئی۔ اس کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں، انجانی طاقت محسوس کرنے لگا۔ ہاتھوں سے زور لگایا۔۔ مگر بے سود۔ اس کی آنکھوں میں تحقیر نظر آنے لگی۔ جوش سر چڑھنے لگا تو منہ سے ڈھکن کھولنے لگا، زور لگایا، یکدم کٹک کی آواز آئی۔ اب ڈینٹسٹ کے پاس بیٹھا ہوا ہوں، نیا دانت لگنا ہے


















