باپ کی سب سے قیمتی وراثت
بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ سب طاقتور، محنتی اور بہادر تھے، مگر افسوس کہ ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن بھی تھے۔ وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے، لیکن ان کے دلوں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے کوئی نصیحت گرا نہ سکتی تھی۔ ہر صبح کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہوتا، ہر شام نئی ناراضی جنم لیتی، اور ہر رات باپ بے بسی سے یہ سب دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جس گھر سے اتفاق اٹھ جائے، وہاں دولت، طاقت اور وراثت بھی زیادہ دیر سلامت نہیں رہتیں۔ ایک شام اس نے چاروں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس کی آواز میں کمزوری تھی، مگر الفاظ میں برسوں کی حکمت۔ “بیٹو! آج میں تم سے ایک آخری کام کہنا چاہتا ہوں۔” چاروں خاموشی سے اس کے سامنے…
سردار بھی پریشان، محکمہ بھی حیران!🤣
ریڈ انڈینز کے اپاچی قبیلے کا بزرگ سردار انتقال کر گیا تو ایک جدید یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان نے سرداری سنبھال لی۔ چند ماہ بعد خزاں کا موسم آیا تو قبیلے والوں نے پوچھا، ’’سردار! اس سال سردی معمول کے مطابق ہوگی یا زیادہ برف پڑے گی؟‘‘ نوجوان سردار کو موسم کی پیش گوئی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس نے احتیاطاً کہا، ’’اس بار سخت سردی پڑنے کا امکان ہے، اس لیے زیادہ لکڑیاں جمع کر لو۔‘‘ قبیلے والے لکڑیاں جمع کرنے میں لگ گئے، مگر سردار کو تسلی نہ ہوئی۔ اس نے محکمۂ موسمیات کو فون کرکے پوچھا کہ موسم سرما کیسا ہوگا؟ افسر نے جواب دیا، ’’بہت سخت سردی پڑنے والی ہے۔‘‘ سردار نے قبیلے والوں کو مزید لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ ایک ہفتے بعد اس نے دوبارہ فون کیا تو جواب ملا، ’’سردی پہلے اندازے سے بھی زیادہ شدید ہوگی!‘‘ سردار نے…
چور اور شیطان
بغداد کے ایک گاؤں میں ایک متقی اور پرہیزگار شخص رہتا تھا جو اپنا سارا وقت عبادت میں گزارتا تھا۔ اسے دنیا کی کوئی لالچ نہیں تھی اور وہ روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک مرید نے خوش ہو کر اسے عقیدت اور محبت میں ایک موٹی تازی بھینس تحفے میں دی تاکہ وہ اس کے دودھ اور گھی سے اپنی گزر اوقات کر سکے۔ایک چور کی نظر اس بھینس پر پڑی اور اس کے دل میں لالچ آ گیا کہ اس بھینس کو چرا لیا جائے۔ چنانچہ وہ زاہد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جو کہ دراصل انسان کی شکل میں خود شیطان تھا۔جب چور نے پوچھا کہ “تو کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟” تو اس نے جواب دیا، “میں شیطان ہوں اور آدمی کی شکل میں ہوں تاکہ خانقاہ کے زاہد کو جاؤں،…
😂 چور جو دیوار پھلانگ کر سسرال جا گرا 😂
رات کے تین بج رہے تھے اور چاروں طرف گہرا سناٹا تھا۔ شیدا میاں نے اس رات کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کے لیے محلے کی سب سے بڑی اور عالیشان کوٹھی کا انتخاب کیا۔ ارادہ بالکل واضح تھا کہ خاموشی سے دیوار پھلانگ کر اندر گھسیں گے، مال ومتاع پر ہاتھ صاف کریں گے اور رفو چکر ہو جائیں گے۔منصوبے کے مطابق شیدا میاں نے بلی کی سی پھرتی دکھائی، اونچی دیوار پر ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جست میں اوپر جا پہنچے۔ تاریکی میں چاروں طرف جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اندر کی طرف ایک شاندار چھلانگ لگائی۔ لیکن قسمت کا پھیر تو دیکھیے! پیر زمین پر ٹکنے کے بجائے سیدھے ایک مہنگے چینی کے گملے پر پڑے، گملہ چکنا چور ہوا، محلے کا چوکیدار والا کتا بیدار ہو کر ڈوبارہ فرکانس پر آگیا، اور شیدا میاں دھڑم سے لان میں بچھاری ایک بڑی سی چارپائی پر جا…
عقل مند گدھا
ایک دور دراز گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام رحمت علی تھا اور وہ بہت محنتی تھارحمت علی کے پاس اپنی زمین کے سوا ایک گدھا تھا جو اس کا واحد سہارا اور کل سرمایہ تھااس گدھے کا نام رحمت علی نے کالا رکھا ہوا تھا لیکن کالا عام گدھوں جیسا بالکل نہیں تھاکالا بہت سمجھدار تھا اور انسانوں کی باتوں کو بہت جلدی سمجھ جاتا تھا اور اشاروں پر عمل کرتا تھارحمت علی روز صبح سویرے اٹھتا اور کالے کی پیٹھ پر تازہ سبزیاں لاد کر شہر کی منڈی میں بیچنے جاتاشہر کا راستہ ایک گھنے جنگل سے ہو کر گزرتا تھا جہاں ہر طرح کے جانور رہتے تھےاس جنگل میں ایک چالاک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت عرصے سے کسی آسان شکار کی تلاش میں تھیلومڑی نے کئی بار رحمت علی اور اس کے گدھے کو آتے جاتے دیکھا تھا اور اس کے…
بے وقوف بادشاہ
ایک ملک میں ایک بہت ہی بے وقوف بادشاہ حکومت کرتا تھااس کا نام راجہ موٹو تھا اور وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے مشہور تھااس کا دربار بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا تھابادشاہ کو لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے عقل مند بادشاہ ہےحالانکہ حقیقت میں وہ ہر بات الٹی سمجھتا تھاایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے چاند چاہیےوزیر نے کہا حضور چاند تو آسمان پر ہے اسے کیسے لایا جائےبادشاہ نے کہا تم سب بے وقوف ہو ایک بڑی سی سیڑھی لگاؤ اور چاند اتار لاؤپورے دربار میں سپاہی سیڑھیاں لے کر چاند کو اتارنے کی کوشش کرنے لگےلوگ یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے کہ کیسا بے وقوف بادشاہ ہےبادشاہ نے ایک دن کہا کہ ملک میں سب کو الٹا چلنا چاہیےاس نے حکم دیا کہ آج سے سب لوگ سیدھے کی بجائے الٹے چلیں گےاگلے دن…
بادشاہ کا عقل مند وزیر اور بے وقوف سپاہی
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر…
سچے موتی اور سخی کسان
کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…
😂🐟 بڑی مچھلی کا اصل حقدار کون؟
ایک دن ایک مشہور فلسفی اپنے علم اور عقل پر بڑا ناز کرتا ہوا ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچا۔ گاؤں والوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی عقل مند ہو تو پہلے ملا صاحب سے ملاقات ضرور کرنا! فلسفی ملا کے پاس پہنچا۔ کافی دیر علمی گفتگو ہوتی رہی، پھر دونوں کھانا کھانے ایک ہوٹل چلے گئے۔ ویٹر نے آ کر بتایا:”جناب! آج تازہ مچھلی دستیاب ہے۔“ فلسفی نے فوراً دو مچھلیاں منگوا لیں۔ تھوڑی دیر بعد کھانا آیا تو ایک مچھلی بڑی اور دوسری چھوٹی تھی۔ ملا نصرالدین نے بغیر دیر کیے بڑی مچھلی اٹھائی اور اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ 😂🐟 یہ دیکھ کر فلسفی کا پارہ چڑھ گیا۔ کہنے لگا:”ملا صاحب! یہ کون سا اخلاق ہے؟ ایک مہذب انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ تہذیب، شرافت اور انسانی اقدار کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ بڑی مچھلی اپنے مہمان کو دیتے!“ ملا صاحب خاموشی سے…
بادشاہ کی آخری آزمائش
صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔ تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔ سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔ ایک دن سلطان نے…
تین حاسد
تین آدمی ایک ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے۔ ان تینوں میں جو سب سے بڑا تھا اُس نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا، “تم نے اپنا شہر کیوں چھوڑا اور سفر کی یہ مصیبت کیوں قبول کی ہے؟”اُس نے جواب دیا، “میں جس گاؤں میں رہتا تھا، وہاں ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے تھے جنہیں میں برداشت نہیں کر پاتا تھا اور حد سے جل اٹھتا تھا اور مسلسل جلتا رہتا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ دو تین روز کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ دوں، شاید اس طرح ان واقعات کو دیکھنے سے محفوظ رہوں جو مجھ سے نہیں دیکھے جاتے۔”دوسرے نے کہا— “مجھے بھی یہی دکھ ستاتا تھا اور اسی لیے میں نے بھی اپنا وطن چھوڑ دیا۔”تیسرے نے کہا— “تم دونوں میری ہی طرح ایک سا دکھ رکھتے ہو۔ میں بھی اسی جلن میں جنگل کی طرف نکلا تھا۔”جب اُنہیں یہ معلوم ہوا کہ وہ…
بلاعنوان
ایمرجنسی کے زمانے میں، میں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ‘سرکار چور ہے’۔دوسرے دن پولیس اسٹیشن سے بلاوا آ گیا۔افسر نے مجھ سے پوچھا: ‘آپ نے کل رات کہا کہ سرکار چور ہے؟’میں نے کہا: ‘جی ہاں، بالکل کہا ہے۔’افسر نے کہا: ‘تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟’میں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا: ‘جناب، میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہندوستان کی سرکار چور ہے… کہ پاکستان کی سرکار چور ہے، امریکہ کی سرکار چور ہے یا برطانیہ کی سرکار چور ہے!’افسر مسکرایا، میری طرف دیکھا اور بولا: ‘اچھا! تم ہمیں بیوقوف سمجھتے ہو؟ ہمیں معلوم نہیں ہے کیا کہ سرکار کہاں کی چور ہے!’”- راحت اندوری.
نیکی کا عجیب معجزہ
پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…
سونے کی چابی اور غریب لکڑہارا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ بستی کے اردگرد گھنے جنگلات تھے، جہاں صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں گونجتیں اور شام ہوتے ہی دھند پہاڑوں کو اپنی سفید چادر میں چھپا لیتی۔ اسی بستی میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا گھر تھا، جس کی چھت جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ حامد روزانہ صبح سویرے کلہاڑی کندھے پر رکھتا اور جنگل کی طرف نکل جاتا۔ دن بھر لکڑیاں کاٹتا، شام کو انہیں بازار میں فروخت کرتا اور جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، ان سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا: > “رزق کم ہو تو کوئی بات نہیں، مگر حرام کا ایک سکہ بھی گھر میں نہیں آنا چاہیے۔” ایک دن سردیوں کی صبح حامد معمول کے مطابق جنگل میں گیا۔ اس…
موت سے فرار
ایک رات ایک بادشاہ نے نہایت عجیب اور خوفناک خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ سایہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور خاموشی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ بادشاہ خوف کے مارے کانپنے لگا۔ سائے نے دھیمی آواز میں کہا: ”گھبراؤ مت! میں تمہیں خوف زدہ کرنے نہیں، بلکہ ایک خبر دینے آیا ہوں۔“ بادشاہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا: ”تم کون ہو؟“ سایہ مسکرایا اور بولا: ”میں تمہاری موت ہوں۔ کل سورج غروب ہوتے ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آؤں گا۔“ یہ سنتے ہی بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا پورا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ ایک خواب تھا، لیکن اس خواب نے اس کے دل میں ایسا خوف بٹھا دیا کہ وہ دوبارہ سکون سے سو نہ سکا۔ 🌅 صبح ہوتے ہی بادشاہ نے اپنی…
اللہ پر توکل
شدید بارش کے سبب چنانچہ ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا۔۔۔!“ماڈل کالونی چلو گے۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “جی بالکل حضور۔۔۔!”“کتنے پیسے لو گے۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “جو دل کرے دے دینا سرجی۔۔۔۔!”“پھر بھی۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔ پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے، وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔۔۔!”اس ٹیکسی والے کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔خیر میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا، ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ مسجد دکھائی دی۔ٹیکسی والا: “سر جی! نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کیا خیال ہے۔۔۔؟” اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی۔ٹیکسی والا: “آپ نماز ادا کریں گے۔۔۔؟”“کس مسلک کی مسجد ہے یہ۔۔۔؟”میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا، “باؤ جی!…
زمینی اور آسمانی آفت
ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر…
رحم انصاف اور نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی
سمندر کے نیلگوں پانیوں کے کنارے ایک بلند و بالا پہاڑی تھی، جس کی چوٹی پر چیونٹیوں کی ایک خوش حال سلطنت آباد تھی۔ پہاڑی کی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے گھر ایسے ترتیب سے بنے تھے جیسے کسی ماہر معمار نے اپنی انگلیوں سے پتھر پر نقش و نگار تراش دیے ہوں۔ کہیں پھولوں کی خوشبو بکھری رہتی، کہیں سبزہ لہراتا اور کہیں پہاڑی کے دامن میں ٹکراتی سمندری لہریں ایسا نغمہ سناتیں کہ سننے والا دنیا کے تمام غم بھول جاتا۔ صبح سورج کی پہلی کرن جب سمندر کی سطح پر پڑتی تو پانی سونے کی چادر اوڑھ لیتا، اور شام کو ڈوبتا سورج آسمان پر سرخی بکھیرتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے قدرت نے اپنے ہاتھوں سے افق پر کوئی شاہکار بنا دیا ہو۔ اسی پہاڑی کی بلند ترین جگہ پر چیونٹیوں کے بادشاہ کا محل تھا، جس کے گرد اس کی رعایا کے گھر آباد تھے۔ بادشاہ…
انوکھا نکاح
مصر کے ایک شاہی قلعے میں اٹھارہ سالہ نوجوان قید تھا۔ اگلی صبح اُسے پھانسی دی جانی تھی، مگر اُس کے چہرے پر خوف کے بجائے عجیب سا سکون تھا۔ سلطان نے آخری خواہش پوچھی تو نوجوان نے دھیمی آواز میں کہا: ”حضور! میں مرنے سے پہلے نکاح کرنا چاہتا ہوں، تاکہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کوئی میرے لیے دعا کرنے والا ہو۔“ یہ سن کر پورا دربار حیران رہ گیا۔ سلطان نے اعلان کیا کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کرے گا، اُسے انعام دیا جائے گا۔ مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔ آخر ایک بوڑھا شخص اپنی بیٹی کے ساتھ سامنے آیا۔ اُس نے نوجوان کی بے بسی دیکھ کر نکاح کی رضامندی دے دی۔ یوں اسی رات سادگی سے نکاح ہوگیا۔ نوجوان نے اپنی دلہن سے صرف اتنا کہا: ”میرے لیے دعا کرنا، شاید اللہ میری مشکل آسان فرما دے۔“ رات عبادت…
ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
ایک نیک دل بادشاہ کو ایک غریب اور یتیم لڑکے پر رحم آیا، تو اُس نے اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔ وقت گزرتا گیا، مگر لڑکے کے دل میں بادشاہ کے لیے عزت اور شکرگزاری ہمیشہ قائم رہی۔ بادشاہ کی عادت تھی کہ جب بھی کوئی لذیذ کھانا یا قیمتی پھل آتا، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو پیش کرتا۔ ایک دن بادشاہ نے اُسے ایک خوبصورت پھل دیا۔ لڑکا خاموشی سے اُسے کھا گیا اور مسکرا کر بولا: ”حضور! بہت مزیدار ہے۔“ جب بادشاہ نے خود وہ پھل چکھا تو فوراً بول اٹھا: ”ارے! یہ تو بے حد کڑوا ہے! تم نے اسے بغیر شکایت کیے کیسے کھا لیا؟“ لڑکے نے ادب سے سر جھکایا اور کہا: ”حضور! جس ہاتھ سے ہمیشہ محبت، عزت اور مٹھاس ملی ہو، اگر اُسی ہاتھ سے ایک دن کڑوا پھل بھی مل جائے، تو شکایت کیسی؟“ یہ سن کر بادشاہ…










