Category Archives: Urdu Stories

یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا آپ کو ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اس کے حقدار نہیں؟ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نکیمی فونا نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اس قدر کنجوس تھا کہ کوئی کتا بھی اس کے پیچھے نہ جاتا تھا اور نہ ہی کبھی کسی مرد یا عورت نے اسے “شکریہ” کہا تھا۔اور ہر کنجوس کی طرح، اسے اپنے لالچ پر کوئی قابو نہ تھا۔ اسے تقریبات میں شرکت کرنا بہت پسند تھا لیکن اس نے کبھی کسی میزبان کی ایک کوڑی سے بھی مدد نہ کی تھی۔ جب بھی وہ گاؤں کے چوک سے گزرتا، لوگ اس کے بارے میں کہتے:“یہ وہ شخص ہے جو کبھی دیتا نہیں، لیکن ہمیشہ لینے کی توقع رکھتا ہے۔”ایک بدقسمت دن، نکیمی فونا ایک شادی کی تقریب میں جا رہا تھا کہ وہ ایک گہرے گڑھے میں گر…

Read more

پڑھیے گا ضرور…ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:**”جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا”۔**جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟* *پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے، جنگل کے بیچوں بیچ ایک بندر رہتا تھا جو چالاک تو تھا مگر بہت لالچی بھی تھا۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ کوئی جال اسے پکڑ نہیں سکتا تھا۔ تمام جانور اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ جب بھی کھانا بانٹا جاتا، وہ اپنے حصے سے زیادہ لیتا۔ جب بھی پھل پکتے، وہ اتنے توڑ لیتا کہ خود کھا بھی نہ پاتا۔ایک موسم میں آم کے درخت پھلوں سے لد گئے تھے۔ بندر نے اتنے آم جمع کر لیے کہ اس کے درخت کے نیچے ڈھیر لگ گیا۔ آدھے آم دھوپ میں گل سڑ گئے جبکہ طوطے اور گلہریاں بھوک سے انہیں دیکھتی رہتیں، مگر وہ پھر بھی انہیں بھگا دیتا اور چلاتا، “یہ میرے ہیں! سب میرے ہیں!”جنگل کے دوسرے جانور اس سے ناراض تھے۔انہوں نے کہا، “بندر میاں! لالچ تمہیں لے ڈوبے گا۔ یہ لالچ ہی تمہیں کسی دن پھنسائے گا۔”بوڑھے کچھوے نے، جس…

Read more

ایک بادشاہ تھا،جس کے پاس دولت، طاقت، شان و شوکت سب کچھ تھامگر ایک کمی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی…اس کے ہاں بیٹا نہیں تھا۔ اس کی سات بیٹیاں تھیں،مگر وہ معاشرے کی سوچ کے زیرِ اثربیٹے کی خواہش میں ہمیشہ پریشان رہتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ ایک گاؤں سے گزر رہا تھاکہ اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑیجو ایک درخت کے نیچے بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا،اور اس کے قریب جا کر نرمی سے پوچھا:“بابا! تم کیوں رو رہے ہو؟” بوڑھا شخص کانپتی آواز میں بولا:“بادشاہ سلامت… میں بہت غریب ہوں۔میرے سات بیٹے ہیں،مگر انہیں کوئی کام دینے کو تیار نہیں۔گھر میں بیوی بیمار ہے،کھانے کو ایک دانہ نہیں…علاج کرواؤں تو کہاں سے؟” بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا:“ایسا کیوں؟ تمہارے بیٹے کیا کام نہیں کر سکتے؟” بوڑھا بولا:“جناب! میرے بیٹے تو ہر کام…

Read more

حضرت عیسیٰ ؑ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے، ایک آدمی نے بلند آواز سے پکار کر کہا، اے خدا کے رسول ؑ ! اس وقت آپ ؑکہاں تشریف لے جا رہے ہیں،تیز چلنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ ؑکے پیچھے کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا: میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں،تو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔اس آدمی نے کہا: اے حضرت آپ مسیحا ؑ نہیں ہیں؟جن کی برکت سے مریض شفایاب ہو جاتے ہیں،اندھے اور بہرے کو صحت مل جاتی ہے۔آپؑ نے فرمایا: ہاں میں وہی نبیؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہی بادشاہ نہیں ہیں جو مردے پر اللہ کا کلام پڑھتا ہے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے؟آپ ؑ نے فرمایا : ہاں میں وہی پیغمبرؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہ نہیں ہیں جو مٹی کو پرندے بنا کر ان پر…

Read more

کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔” حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔” الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے…

Read more

ایک مغرور شخص ایک درویش کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور اسے دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا، بھلا آگ آگ کو کیسے جلا سکتی ہے؟ درویش نے خاموشی سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اس شخص کے سر پر مار دیا۔وہ شخص چیخا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کیوں مارا؟ میرا سر درد کر رہا ہے۔ درویش نے پوچھا کہ کیا تمہیں درد نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ درویش نے کہا کہ جیسے درد نظر نہیں آتا مگر محسوس ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کی قدرت بھی ہے۔ اور رہی بات آگ کی، تو تم مٹی سے بنے ہو لیکن مٹی کے ڈھیلے نے تمہیں تکلیف دی، اسی طرح اللہ آگ سے بنے شیطان کو آگ سے ہی سزا دے گا۔سبق: قدرت کے نظام پر شک کرنے کے بجائے…

Read more

ﻣُﻼ ﻧﺼﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮓ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺐ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ انہیں دیگ واپس کی اور ساتھ میں اپنی ایک چھوٹی دیگچی بھی بھجوا دی۔۔!!ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﻣُﻼ ﻧﺼﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، “ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺌﯽ! ﯾﮧ دیگچی ساتھ میں کیوں دے رہے ہو۔۔۔؟”ﻣُﻼ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ “جناب! ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﻧﮯ ﺑﭽﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔۔۔!” ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺗﻦ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮯ۔ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮓ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ، ﭘﮭﺮ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﯽ۔ مگر ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻣﻼ ﻧﺼﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺗﻘﺎضا ﮐﯿﺎ۔ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩُﮐﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ “ﺟﻨﺎﺏ! ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝِ ﭘُﺮ ﻣﻼﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔!”ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، “کیوں ملا! ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ، کیا کبھی دیگ کا بھی انتقال ہو…

Read more

راجستھان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کا نام تارا تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن بہت مہمان نواز تھا۔ اس کے پاس جو کچھ تھا، وہ دوسروں کے ساتھ بانٹ دیتا تھا۔ ایک دن ایک مسافر اس کے گھر آیا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاؤں زخمی تھے۔ تارا نے اسے اندر بٹھایا، اسے کھانا کھلایا، اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ رات کو مسافر نے تارا سے کہا: “تم بہت غریب ہو، پھر بھی مہمان نوازی کرتے ہو۔ تمہارے پاس کیا ہے جو دوسروں کو دیتے ہو؟” تارا نے کہا: “میرے پاس کھیت ہے، دو وقت کی روٹی ہے، ایک چھوٹا سا گھر ہے، اور بیوی بچے ہیں۔ بس اتنا ہی ہے۔” مسافر نے کہا: “کل صبح تمہیں ایک تحفہ ملے گا۔” صبح جب تارا اٹھا تو مسافر جا چکا تھا۔ اس کی چارپائی…

Read more

ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ہے فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا پیر و مرشد یہ سب کیا ہے ؟ میں تو آپ کے زہد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں درویش نے ہنس کر کہا میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا میں اپنا کشکول تو آپ…

Read more

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا اے فرعون ! تو اسلام قبول کر لے اس کے عوض تیری آخرت تو بہتر ہو ہی جائے گی مگر دنیا میں بھی تجھے چار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ تو علی الاعلان اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خدا نہیں وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا پستی میں جن وانس شیاطین اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور بیابانوں کا بھی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت غیر محدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص و ہر مکان کا نگہبان ہے۔ عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا محافظ ہے نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا سرکشوں پر حاکم اور ان کی سرکوبی کرنے والا…

Read more

جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا نام ایچیرو تھا۔ وہ ہر روز جنگل جاتا، درخت کاٹتا، لکڑی بیچتا، اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالتا۔ ایک دن جنگل میں اس نے دیکھا کہ ایک سارس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ بے حال تڑپ رہی تھی۔ ایچیرو نے اس پر رحم کھایا۔ اس نے شکنجہ کھول دیا۔ سارس اڑ گئی۔ اس رات جب ایچیرو گھر واپس آیا تو اس کے گھر میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عورت نے کہا: “میں وہی سارس ہوں جسے تم نے آج بچایا۔ شکریہ۔ میں تمہیں تین خواہشیں پوری کروں گی۔” ایچیرو نے بیوی سے مشورہ کیا۔ بیوی بولی: “نیا گھر چاہیے۔ یہ پرانا گھر گرنے کو ہے۔” ایچیرو نے کہا: “پہلی خواہش  نیا گھر۔” اتنا کہنا تھا کہ پرانا گھر غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا خوبصورت گھر تھا۔ اگلے…

Read more

بہت پرانی بات ہے، حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نام کا ایک سنار رہتا تھا۔ یوسف اپنے کام کا ماہر تھا، اس کے بنائے ہوئے زیورات پورے شام میں مشہور تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد لالچی اور کنجوس بھی تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب سے اہم چیز ‘وقت’ نہیں بلکہ ‘سونا’ ہے، اور وہ اپنا ہر لمحہ صرف سونا جمع کرنے میں صرف کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک بوڑھا، درویش صفت آدمی رہتا تھا، جسے لوگ خاموشی سے ‘الحکیم’ (دانا) کہتے تھے۔ الحکیم اکثر یوسف کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا: “یوسف! سونا تو مٹی ہے، وقت کا دھاگا سنبھالو، یہ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا۔” لیکن یوسف اس کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتا۔ ایک دن، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے ڈھل رہا تھا، یوسف کی دکان پر ایک پرسرار اجنبی…

Read more

ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک بوڑھا موم بتی ساز رہتا تھا۔ اس کا نام لارس تھا۔ وہ ساری زندگی موم بتیاں بناتا رہا تھا  لمبی، چھوٹی، موٹی، پتلی۔ اس کے ہاتھ موم سے سیاہ ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، لیکن اس کا دل اب بھی نرم تھا۔ ایک دن اس نے دو موم بتیاں بنائیں۔ دونوں بالکل ایک جیسی تھیں — لمبی، سفید، صاف۔ پہلی موم بتی اس نے شہر کے امیر آدمی کو دے دی۔ دوسری موم بتی اس نے گاؤں کی ایک غریب عورت کو دے دی جو تنہا رہتی تھی۔ امیر آدمی نے موم بتی کو سونے کے شمع دان میں رکھا۔ اس نے کہا: “یہ موم بتی میرے کھانے کے کمرے میں جلے گی۔ مہمان آئیں گے، روشنی ہو گی، سب دیکھیں گے کہ میرے پاس کتنی خوبصورت چیز ہے۔” موم بتی جلنے لگی۔ اس کی لو سیدھی اوپر…

Read more

گاؤں میں خدا بخش کا ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر تھا۔ وہ کسان تھا۔ اس کا ایک باغ تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا۔ بے چارہ کسان پانی اوپر کھینچتا اور پھر اس کو باغ کے پودوں میں ڈالتا تھا۔ ایک سال بالکل بارش نہیں ہوئی۔ سورج بہت گرم تھا۔ کسان نے اپنے باغ کی طرف دیکھا اور کہا: ”اگر پانی نہ ملا تو میرے پودے مر جائیں گے۔ مجھے ان کو پانی ضرور دینا چاہیے، لیکن پانی تو اب بہت گہرائی میں اتر گیا ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور موٹا بھی۔ بہت محنت کا کام ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟“ یہ سوچتا ہوا وہ سڑک کے کنارے بنی ہوئی چار دیواری تک آ گیا۔ وہ تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہی تھا کہ اس کے کان میں کھسر پھسر کی آواز آئی۔ کوئی اس کا نام لے رہا…

Read more

اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگوں نے ایک بہت اونچا مینار بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مینار اتنا اونچا ہو گا کہ پورے علاقے میں سب سے اونچا ہو گا۔ شہر کے بڑھئی، معمار، سنگ تراش، سب جمع ہوئے۔ انہوں نے نقشہ بنایا، پتھر تراشے، مٹی گوندھی، اور کام شروع کر دیا۔ پہلے مہینے میں مینار کی بنیاد بنی۔ بنیاد بہت مضبوط تھی، پتھر بہت بڑے تھے۔ دوسرے مہینے میں دیواریں اٹھنے لگیں۔ تیسرے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو سیڑھیاں لگانی پڑیں۔ چوتھے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو رسیاں باندھنی پڑیں۔ پانچویں مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ نیچے سے اوپر نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے مینار اونچا ہوتا گیا، لوگوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ پتھر تراشنے والے کہنے لگے: “یہ مینار ہماری محنت سے بن رہا ہے۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”…

Read more

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔ بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔ لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔” وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔” ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو…

Read more

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔ پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔” ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔” ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔” پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ“میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے، اسے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔” بادشاہ کا حکم تھا، اس پر عمل ہوا اور بے وقوف کے نام پر سینکڑوں لوگ دربار میں پیش کر دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کا امتحان لیا اور آخرکار فائنل راؤنڈ میں ایک شخص کو “کامیاب بے وقوف” قرار دے دیا۔ بادشاہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتارا اور اس شخص کے گلے میں ڈال دیا۔ وہ شخص یہ عجیب سا اعزاز لے کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے۔جب وہ محل پہنچا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مرضِ الموت میں ہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ وہ شخص حاضر ہوا اور بولا:“بادشاہ…

Read more

120/740
NZ's Corner