Category Archives: Urdu Stories

ایک سرسبز اور پُراسرار جنگلات میں، جہاں قدیم درخت اپنی شاخوں سے آسمان کو چھوتے تھے، رنگ برنگے پرندے صبح کی ہوا میں نغمے بکھیرتے تھے، اور شام ڈھلے ہر سمت خاموشی کا جادو اتر آتا تھا، وہیں ایک ننھا سا چمگادڑ اور ایک عظیم الشان عقاب آباد تھے۔دونوں آسمان کے مسافر تھے، مگر ان کی دنیائیں الگ الگ تھیں۔عقاب طلوعِ آفتاب کے ساتھ اپنے طاقتور پروں کو پھیلاتا، بادلوں سے بلند پرواز کرتا اور روشن دن کا بے تاج بادشاہ دکھائی دیتا۔ اس کی نگاہ میلوں دور تک ہر جنبش کو دیکھ لیتی۔دوسری طرف، چمگادڑ سورج کے غروب ہوتے ہی اپنی آرام گاہ سے نکلتا۔ رات کی خاموش فضاؤں میں وہ نہایت مہارت سے اڑتا، تاریکی اس کی ساتھی تھی اور چاندنی اس کی راہنما۔ایک دن اتفاق سے صبح اور شام کے سنگم پر دونوں کی ملاقات ہو گئی۔عقاب نے اپنے رعب دار لہجے میں پوچھا:“اے ننھے چمگادڑ! تم…

Read more

بہلول نامی ایک بزرگ غزنی کے رہنے والے تھے۔ یہ اکثر ایسی حرکتیں اور ایسی باتیں کر دیا کرتے تھے جو بظاہر سمجھ میں نہ آتی تھیں۔بھوک لگتی تو بھری مجلس میں کچھ لے کر کھانا شروع کر دیتے۔ نیند آتی تو چاہے کوئی امیر یا غریب پاس بیٹھا ہو یہ پاؤں پھیلا کر لیٹ جاتے۔ ان باتوں سے بعض لوگ انہیں بہلول دیوانہ کہتے تھے اور بعض بہلول دانا۔ ایک دفعہ کسی نے ہنسی سے کہا۔ ’’بہلول! آپ کو بادشاہ نے گدھوں کا حاکم مقرر کر دیا ہے۔‘‘فرمایا۔ ’’پھر یہیں بندھے رہو۔یعنی تم بھی گدھے ہو۔‘‘ایک مرتبہ کسی نے کہا۔ بہلول! بادشاہ نے تمہیں پاگلوں کی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ فرمایا۔ ’’اس کے لیے تو ایک دفتر درکار ہوگا۔ ہاں دانا گننے کا حکم ہو تو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔‘‘ ایک دن آپ بادشاہ کے پاس گئے۔ جو اس وقت کچھ سوچ رہا تھا۔ آپ…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جو اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے دور دور تک بدنام تھا۔ اس کی رعایا اس سے شدید خوفزدہ رہتی تھی۔ مظلوم لوگ دن رات اس کی موت کی دعائیں مانگتے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو کرتے تھے۔ ظلم کی داستانیں ہر زبان پر تھیں، مگر بادشاہ اپنی سرکشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی پرانی روش ترک کر رہا ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کسی کا حق مارا جائے گا۔ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ ابتدا میں کسی نے یقین نہ کیا۔ لوگوں نے اسے محض ایک دکھاوا سمجھا، مگر وقت گزرتا گیا اور بادشاہ واقعی اپنے وعدے پر قائم رہا۔…

Read more

اس شہر میں ایک کنواں تھا… مگر لوگ کہتے تھے، اس میں پانی سے زیادہ سچ دفن ہے۔”شہر کے بوڑھے اکثر بچوں کو اس کنویں سے دور رکھتے تھے۔جب بھی کوئی پوچھتا…“آخر اس میں ایسا کیا ہے؟”وہ صرف ایک جملہ کہتے۔“یہ کنواں پیاس نہیں بجھاتا… انسان کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے۔”سال گزر گئے۔ایک نوجوان، جو ہر بات پر سوال کرتا تھا، ایک صبح اکیلا اس کنویں تک پہنچ گیا۔وہ جھکا…پانی بالکل صاف تھا۔اس نے اپنا چہرہ دیکھا…مگر چند لمحوں بعد پانی میں اس کا عکس بدلنے لگا۔اسے ایک ایسا انسان نظر آیا…جو ہر موقع پر سچ کی بات کرتا تھا…مگر جب سچ اس کے اپنے خلاف جاتا…تو خاموش ہو جاتا تھا۔وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔اسی وقت ایک بوڑھا شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا۔نوجوان نے بےچینی سے پوچھا:“یہ کنواں جادو کرتا ہے؟”بوڑھا مسکرایا۔“نہیں…”“یہ صرف وہی دکھاتا ہے جسے تم ساری زندگی دوسروں سے چھپاتے رہے ہو۔”نوجوان نے پھر پانی…

Read more

بہت سی سلطنتیں فتح کرنے کے بعد، جب سکندر وطن واپس لوٹ رہا تھا تو راستے میں وہ بیمار پڑ گیا اور اس کی بیماری اسے موت کے بستر تک لے آئی۔ بسترِ مرگ پر اس کی خواہش تھی کہ مرنے سے پہلے وہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کی بیماری اسے اپنے دور دراز وطن تک پہنچنے کا وقت نہیں دے گی۔ اسی لمحے سکندر کو ایک بات کا احساس ہوا۔ چنانچہ موت کا بے بسی سے انتظار کرتے ہوئے اس نے اپنے جرنیلوں کو بلایا۔ جب جرنیل اس کے پاس آئے تو اس نے کہا، “میری تین خواہشات ہیں۔ میرے مرنے کے بعد انہیں ضرور پورا کرنا۔” سکندر نے کہا، “میری پہلی خواہش یہ ہے کہ… میرا تابوت صرف میرے طبیب ہی اٹھائیں۔” “دوسری یہ کہ، قبرستان تک جانے والا راستہ ان تمام ہیروں اور قیمتی پتھروں سے بھر دیا جائے جو…

Read more

ایک نوجوان ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور ویٹر سے بولا “چھ پلیٹ مرغی، چار پلیٹ دال، آٹھ پلیٹ سبزی، پانچ پلیٹ قورمہ، ایک بڑی ڈش پلاؤ اور پچاس روٹیاں لے آؤ!” ویٹر نے حیرت سے اسے دیکھا، مگر آرڈر کچن میں پہنچا دیا۔ تھوڑی دیر بعد کھانوں کا ڈھیر اس کے سامنے لگا دیا گیا۔ نوجوان نے آستینیں چڑھائیں اور ایسے ٹوٹ پڑا جیسے کئی دنوں سے بھوکا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری دیگیں اور روٹیاں صاف ہوگئیں۔ اتفاق سے ایک سرکس کا مالک بھی وہاں بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ فوراً نوجوان کے پاس آیا اور بولا: “بھائی، سرکس میں کام کرو گے؟” نوجوان نے پوچھا: “کام کیا کرنا ہوگا؟” مالک مسکرایا: “بس وہی جو تم ابھی کر رہے تھے!” نوجوان نے فوراً ہامی بھر لی۔ چند دن بعد سرکس میں اس کا پہلا شو ہوا۔ نوجوان کے سامنے…

Read more

ایک پہلوان کی ایک ٹانگ اچانک نیلی ہو گئی۔ وہ فوراً حکیم کے پاس گیا۔ حکیم: “زہر پھیل چکا ہے، ٹانگ کاٹنی پڑے گی!” مجبوراً ٹانگ کاٹ دی گئی۔ تین دن بعد دوسری ٹانگ بھی نیلی ہو گئی۔ حکیم: “افسوس! زہر مزید پھیل گیا ہے، یہ ٹانگ بھی کاٹنی پڑے گی!” سو وہ بھی کاٹ دی گئی، اور پہلوان کو لکڑی کی ٹانگیں لگوا دی گئیں۔ آٹھ دن بعد حیرت انگیز طور پر لکڑی کی ٹانگیں بھی نیلی ہو گئیں! حکیم نے غور سے دیکھا، سر کھجایا اور بولا: “اوہ! اب سمجھ آیا… زہر نہیں پھیلا تھا، تمہاری دھوتی کا رنگ اترتا ہے!” “پریشانی کی کوئی بات نہیں!” 😂

نقل ہے کہ ایک ڈاکو آدمی ایک امیر کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا، اس دسترخوان پر بھنے ہوئے دو چکور رکھے تھے۔ ڈاکو نے ایک چکور اٹھا کر ہنسا۔ امیر نے اس سے ہنسنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:“میں نے ایک مرتبہ ایک تاجر پر ڈاکہ ڈالا، جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے مجھ سے گریہ و زاری کی لیکن میں نے اسے قبول نہ کیا۔ جب اس نے مجھ سے پختگی اور ہٹ دھرمی دیکھی تو دوسری طرف متوجہ ہوا اور ایک پہاڑ پر دو چکور دیکھے، اب اس نے ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں میرے گواہ رہو کہ یہ مجھے ظلم سے قتل کرتا ہے۔ پھر میں نے اسے مار ڈالا۔ اس وقت میں نے ان دونوں چکوروں کو دیکھا تو اس تاجر کی وہ حماقت مجھے یاد آئی جو اس نے ان دونوں پرندوں کو مجھ پر گواہ بنایا…

Read more

قدیم مصر کی سرزمین پر دو ہرمس کھڑے تھے۔ ایک زمانے کی گرد میں بھی اپنی اصل شان برقرار رکھے ہوئے تھا، اور دوسرا اسی کی نقالی میں تراشا گیا ایک فریب تھا۔ دونوں کی صورت ایسی ملتی تھی کہ دیکھنے والوں کی نگاہ دھوکا کھا جاتی، اور عقل فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی۔ایک روز فرعون نے دربار سجایا اور دونوں ہرمسوں کو اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ دربار خاموش تھا، سانسیں تھمی ہوئی تھیں۔فرعون نے پُر جلال لہجے میں پوچھا:“تم دونوں میں سے اصل کون ہے؟”پہلا ہرمس فوراً بولا:“میں ہی اصلی ہوں، دوسرا محض ایک جعل سازی ہے۔”دوسرا بھی سکون سے گویا ہوا:“اصل میں ہوں، اور جعلی وہ ہے۔”فرعون چند لمحے سوچتا رہا۔ دونوں کے دعوے ایک جیسے تھے، دونوں کے چہرے خاموش مگر پُراسرار۔“جب دونوں ایک ہی بات کہتے ہو،” فرعون نے کہا، “تو میں حق اور باطل میں فرق کیسے کروں؟”پہلا ہرمس سینہ تان کر بولا:“میں ابھی…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، جب پکے مکانوں کی جگہ مٹی کے بنے ہوئے کچے اور خوبصورت گھر ہوا کرتے تھے، جہاں سانجھی دیواریں اور دل کھلے ہوتے تھے۔ اسی دور کے ایک خوبصورت، ہرے بھرے گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا جسے دنیا “شیخ چلی” کے نام سے جانتی تھی۔ شیخ چلی دل کا برا نہیں تھا، نہ ہی وہ چور اچکا تھا، بس اس میں ایک ہی سب سے بڑی خامی تھی، اور وہ تھی “جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا”۔وہ سارا دن گاؤں کی گلیوں میں گھومتا، کبھی کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا تو کبھی کسی کچی دیوار کا سہارا لے کر آسمان کی طرف گھورنے لگتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایسی کھچڑی پکتی رہتی جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ ہوتا۔ گاؤں کے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی اس کی اس عادت سے واقف تھے اور اکثر اس کا مذاق…

Read more

ایک بار دو خچر ایک تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔ایک خچر پر سونے کے سکوں سے بھرے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے بوجھ پر بڑا ناز تھا۔ وہ سر اٹھا کر چلتا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار ہر طرف سنائی دے۔ گویا وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ کتنا قیمتی اور اہم ہے۔دوسرا خچر اناج کے سادہ تھیلے اٹھائے خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ نہ کوئی شور، نہ نمائش، نہ کسی کو متاثر کرنے کی خواہش۔راستے میں اچانک جھاڑیوں سے چند ڈاکو نکل آئے۔ان کی نظریں فوراً سونے سے لدے خچر پر جا ٹھہریں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، بری طرح مارا پیٹا اور اس کے تھیلے پھاڑ کر سارا سونا لوٹ لیا۔ وہ زخمی اور بے بس سڑک کنارے پڑا درد سے کراہ رہا تھا۔جبکہ اناج والا خچر محفوظ رہا۔ کسی نے…

Read more

استاد جی کلاس میں داخل ھوئے اور بولے: “آج ذہانت کا ٹیسٹ ھو گا جو صحیح جواب دے گا، اسے آدھی چھٹی پہلے مل جائے گی!” پوری کلاس خوش ھو گئی۔ 🎉 پہلا سوال: “دنیا کا پہلا انسان کون تھا؟” ایک بچے نے فوراً جواب دیا: “حضرت آدمؑ!” “شاباش… تم جا سکتے ھو۔” 👏 دوسرا سوال: “وہ کون سی چیز ھے جو گرمی ھو یا سردی ھمیشہ ٹھنڈی رہتی ھے؟” دوسرا بچہ بولا: “برف!” “بہت خوب… تم بھی جا سکتے ھو۔” ❄️ اب کلاس میں صرف بھولا رہ گیا۔ استاد نے سوچا: “اب اس سے ایسا سوال پوچھتا ھوں جس کا جواب نہ دے سکے!” 😏 انہوں نے پوچھا: “بھولے! بتاؤ… بجلی کہاں سے آتی ھے؟” بھولا بغیر سوچے بولا: “سر! ہمارے ماموں کے گھر سے!” استاد غصے سے بولے: “یہ کیسا جواب ھے؟ بجلی تمہارے ماموں کے گھر سے کیسے آ سکتی ھے؟” بھولا معصومیت سے بولا: “سر! جب…

Read more

بہت پرانی بات ہے، دنیا کے آغاز میں، پانچ خاندان رہتے تھے جو ایک پرامن اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔خدا نے انہیں وہ سب کچھ دے رکھا تھا جس کی انہیں واقعی ضرورت تھی۔ان کے پاس کھانے کے لیے کھانا تھا۔رہنے کے لیے گھر تھا۔محبت تھی۔اور تحفظ تھا۔وہ نہ تو کسی تنگی سے واقف تھے اور نہ ہی کسی محتاجی سے۔لیکن ایک دن، وہ خدا کے حضور حاضر ہوئے اور کہنے لگے:“اے مالک! تو نے ہمیں ہر اس چیز سے نوازا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے، اور ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ لیکن نہ جانے کیوں… زندگی کچھ عام سی لگتی ہے۔ ہم کچھ اور چاہتے ہیں۔”خدا مسکرایا۔“تم لوگ کیا ڈھونڈ رہے ہو؟”ان میں سے ایک نے جواب دیا:“ہماری خواہش ہے کہ ہر خاندان کے پاس کوئی انوکھی چیز ہو—کچھ ایسا خاص جو کسی دوسرے کے پاس نہ ہو۔ تب زندگی زیادہ پرجوش ہو جائے گی۔”خدا نے فرمایا:“بہت…

Read more

ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر […] سبق آموز۔۔۔! عقاب اور مکڑی۔۔۔! Instructive:An Eagle and a Spider 🕷

🔥😂 نصیر بھائی نے چور کو بے وقوف بنانے کی کوشش 🤣💁‍♂️ ایک دن نصیر بھائی کو کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ ان کے پاس 5 لاکھ روپے نقد تھے۔ پورا راستہ ایک ھی فکر: “کہیں ٹرین میں کوئی چور پیسے نہ لے اُڑے!” 😰 کافی سوچ بچار کے بعد ایک زبردست ترکیب سوجھی۔ انہوں نے سارے پیسے ایک لفافے میں رکھے، اوپر ایک پرچی چپکائی جس پر لکھا تھا: “⚠️ اس میں صرف پرانے اخبارات ھیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں۔” 📰 نصیر بھائی دل ھی دل میں مسکرائے: “اب کوئی چور اتنا بیوقوف تو ھو گا نہیں!” 😎 تھوڑی دیر بعد وہ آرام سے سو گئے اور ایسے خراٹے مارنے لگے جیسے ٹرین انہی کی ھع۔ 😴💤 صبح آنکھ کھلی تو… 😳 لفافہ غائب تھا! صرف ایک پرچی پڑی تھی… کانپتے ہاتھوں سے پرچی کھولی تو اس پر لکھا تھا: «”بھائی صاحب! میں چور نہیں،…

Read more

ایک لڑکی کافی دیر سے میڈیکل اسٹور کے باہر کھڑی تھی۔ 🙂💁‍♂️ ہاتھ میں پرس… چہرے پر شرمندگی… اور بار بار اندر جھانک رھی تھی کہ شاید رش کم ہو جائے۔ 👀 کافی دیر بعد جب اسٹور خالی ھوا تو وہ آہستہ آہستہ اندر گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے پرس کھولا… ایک تہہ کی ہوئی پرچی نکالی… کاؤنٹر پر رکھی… اور نظریں جھکاتے ھوئے بولی: “بھائی صاحب! میں ایک اسکول ٹیچر ھوں، میری منگنی ایک ڈاکٹر سے ھوئی ھے…” 😊 میڈیکل اسٹور والا بھی پوری توجہ سے سننے لگا۔ لڑکی نے شرماتے ہوئے بات مکمل کی: “آج اُن کا پہلا خط آیا ہھے…” دکاندار مسکرایا: “ماشاءاللہ… پھر؟” لڑکی نے وہ پرچی اس کی طرف بڑھائی اور آہستہ سے بولی: “ذرا یہ پڑھ کر بتا دیں، اِس میں لکھا کیا ھے؟” 😅 کیونکہ… ڈاکٹر صاحب کی لکھائی آج بھی صرف میڈیکل اسٹور والوں کی سمجھ میں آتی ھے! 😁🤣🤣 😂 اگر یہ…

Read more

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک عبرتناک واقعہ نقل کرتے ہیں: انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا پورا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ وہ راستے میں لوگوں کو روک روک کر کہہ رہا تھا: “مجھے دیکھو اور عبرت حاصل کرو… کبھی کسی پر ظلم مت کرنا!” علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے قریب گئے اور پوچھا: “بھائی! تمہارے ساتھ یہ سب کیسے ہوا؟” یہ سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں، اور لرزتی آواز میں اس نے اپنی داستان سنانی شروع کی: “میری کہانی بہت عجیب ہے… میں خود شاید بڑا ظالم نہ تھا، لیکن ظالموں کا ساتھ ضرور دیتا تھا۔” ایک دن میں نے ایک غریب مچھیرے کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی خوبصورت مچھلی تھی۔ مچھلی دیکھتے ہی میرے دل میں لالچ آ گیا۔ میں نے کہا: “یہ مچھلی مجھے دے دو!” مچھیرے نے عاجزی سے جواب دیا: “یہ میرے بچوں کا…

Read more

اصمعی ایک اعرابی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ واقعہ سنایا:میں اپنی بستی سے یہ سوچ کر نکلا کہ سب لوگوں سے زیادہ بدبخت اور نیک بخت فرد کے بارے میں معلومات حاصل کروں اور اسے تلاش کروں۔ میں بستی بستی، نگر نگر بدبخت اور نیک بخت ڈھونڈتا رہا۔ ایک بستی سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھے شخص کی گردن میں ایک رسی بندھی ہوئی ہے اور اس رسی کے ساتھ ایک بڑی سی بالٹی لٹک رہی ہے، اس کے پیچھے ایک نوجوان تھا جو اس رسی کو کھینچ رہا تھا جو بوڑھے کی گردن سے بندھی ہوئی تھی، ساتھ ساتھ وہ اسے چابک سے مارتا بھی جا رہا تھا۔میں نے نوجوان سے کہا: “اس بوڑھے اور کمزور شخص کے بارے میں تجھے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے؟ اس کی گردن میں پہلے ہی ایک رسی اور بڑی بالٹی لٹک…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر تھا جس کے پاس دو جانور تھے۔ ایک مضبوط بیل، جو دن بھر کھیت جوتتا تھا، اور ایک گدھا، جو صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان ڈھوتا رہتا تھا۔ دونوں کی زندگی مسلسل مشقت میں گزرتی تھی۔صبح سورج نکلنے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلے جا کر ختم ہوتا۔ لیکن ایک بات دونوں میں مشترک تھی۔ بیل جب ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل ہی دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہوگا۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہی تو ہوتا ہے۔” ادھر گدھا جب بھاری بوجھ کے نیچے پسینہ بہاتا تو اس کے دل میں خیال آتا:“بیل تو کھیت میں کھلی ہوا میں گھومتا رہتا ہوگا۔ اصل مصیبت تو میری ہے۔” یوں دونوں اپنی اپنی آزمائش کو سب سے بڑی اور دوسرے کی زندگی کو سب سے آسان…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم بادشاہ تھا جس کی بہادری کے چرچے دور دور تک تھے۔ اس کی سلطنت روز بروز پھیلتی جا رہی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ریاست سے ملحق ایک نہایت خوبصورت، سرسبز اور خوشحال علاقہ فتح کیا۔ وہ علاقہ اتنا قیمتی تھا کہ بادشاہ نے سوچا، “یہ میرے بڑے شہزادے کے لیے بہترین تحفہ ہوگا۔” چنانچہ اس نے وہ علاقہ اپنے شہزادے کے سپرد کر دیا اور اسے وہاں کا حاکم مقرر کر دیا۔مگر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ ہمسایہ ریاست نے حملہ کر دیا۔ شہزادہ میدانِ جنگ میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ اس نے جان بچانے ہی میں عافیت سمجھی اور دارالحکومت واپس آ گیا۔ بادشاہ نے خود لشکر لے کر دوبارہ وہ علاقہ فتح کر لیا۔کچھ عرصے بعد اس نے پھر وہی علاقہ شہزادے کے حوالے کر دیا۔لیکن تاریخ خود کو دہرا گئی۔دوبارہ حملہ ہوا، اور شہزادہ پھر…

Read more

140/1291
NZ's Corner