Category Archives: Urdu Stories

حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک کا نام قابیل اور دوسرے کا ہابیل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دونوں اپنی اپنی قربانی پیش کریں۔ ہابیل نے اپنی بہترین بکری قربان کی، جبکہ قابیل نے کم درجے کی چیزیں پیش کیں۔ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کی قبول نہ کی۔ قابیل حسد اور غصے میں ہابیل کو قتل کرنے لگا۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا یہ زمین پر پہلا قتل تھا۔ بعد میں اسے سخت پشیمانی ہوئی، لیکن اس کا قتل اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اللہ نے اس واقعہ کے ذریعے انسانوں کو سکھایا کہ قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اور کہ ہر انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ حوالہ جات قرآن کریم سے: · سورۃ المائدہ، آیت ۲۷ تا ۳۲ترجمہ: ”اور انہیں آدم…

Read more

یہ ایک بہت ہی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے جو وفاداری، قربانی اور انسانی (یا حیوانی) فطرت کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے۔کسی کو بچانے کی قیمت، اپنا ہی دل تڑپانا ہے…لنگور کوئی بڑا یا اہم جانور بن کر نہیں آیا تھا، وہ ایک فقیر بن کر آیا تھا۔ اپنی مالی تباہی اور سماجی ذلت کے خوف سے—جس کی وجہ سے اس کی بیٹی کی شادی میں رسوائی کا خطرہ تھا—وہ بندریا کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔ اس نے التجا کی، “میری عزت بچا لو! مجھے ایسی شان و شوکت کا لباس پہنا دو کہ میرے دوست مجھ پر ہنس نہ سکیں۔”اس کی بے بسی دیکھ کر بندریا کا دل پگھل گیا۔ اس نے اپنی روح کا خون جلا کر سونا بنایا۔ چالیس دن تک وہ ایک ایسا آسمانی چمک والا لباس بنتی رہی جو محض ایک کپڑا نہیں تھا، بلکہ لنگور کی مفلسی کو چھپانے والا…

Read more

ایک لڑکا رشتہ دیکھنے گیا…بڑا تیار ہو کر گیا…لڑکی والوں نے پوچھا:“بیٹا کیا کرتے ہو؟”لڑکا بولا:“جی… سیلف میڈ ہوں!”ابو نے فوراً کھانسی ماری…لڑکی کے ابو بولے:“ماشاءاللہ… کیا بزنس ہے؟”لڑکا تھوڑا ہچکچایا…پھر بولا:“جی… آن لائن کام کرتا ہوں…”سب متاثر ہو گئے…چائے آئی… سموسے آئے…لڑکی کی امی نے پیار سے پوچھا:“بیٹا انکم کتنی ہے؟”لڑکا مسکرایا:“جی… کبھی 500… کبھی 1000…”ابو نے فوراً کہا:“روپے نہیں… لائکس کی بات کر رہا ہے!”پورا کمرہ خاموش…لڑکی نے آہستہ سے پوچھا:“تو خرچہ کیسے چلتا ہے؟”لڑکا بولا:“جی… ابو چلا رہے ہیں… میں تو برانڈ بنا رہا ہوں!” 😂 #منقول

برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک ٹوپی فروش رہتا تھا۔ اس کا نام پیڈرو تھا۔ وہ ہر روز شہر جاتا، بازار میں اپنی ٹوپیاں بیچتا، اور شام کو واپس آ جاتا۔ اس کا کاروبار چھوٹا تھا، لیکن وہ خوش تھا۔ ایک دن اس نے سوچا: “کیوں نہ شہر سے آگے کے گاؤں میں چلا جاؤں؟ وہاں لوگ کم آتے ہیں، شاید میری ٹوپیاں اچھے داموں بک جائیں۔” اس نے اپنی ساری ٹوپیاں ایک بڑے تھیلے میں رکھیں، تھیلا سر پر رکھا، اور چل پڑا۔ وہ گھنٹوں چلتا رہا۔ سورج سر پر آیا، راستہ مشکل تھا۔ وہ تھک گیا۔ اس نے ایک بڑے درخت کے نیچے آرام کرنے کا سوچا۔ درخت بہت بڑا تھا، اس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں، گھنی چھاؤں تھی۔ پیڈرو نے تھیلا نیچے رکھا، ایک پتھر سرہانے رکھا، اور آنکھ بند کر لی۔ وہ سو گیا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ اس درخت پر بندروں…

Read more

ایک دفعہ کی بات ہے۔ دیہات میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ایک پرانے درخت کے نیچے اپنے بل میں رہتا تھا۔ اس کے پاس کھانے کو اناج تھا، جڑی بوٹیاں تھیں، اور کبھی کبھی کسان کے کھیت سے گری ہوئی فصل مل جاتی تھی۔ اس کی زندگی سادہ تھی، لیکن وہ مطمئن تھا۔ شہر میں اس کا ایک دوست رہتا تھا شہر کا چوہا۔ وہ ایک بڑے گھر میں رہتا تھا، جہاں ہر روز دعوتیں ہوتی تھیں، میز پر طرح طرح کے کھانے سجے ہوتے تھے۔ ایک دن شہر کا چوہا دیہات میں اپنے دوست سے ملنے آیا۔ دیہاتی چوہا بہت خوش ہوا۔ اس نے اپنے دوست کی خاطر مدارت کی اناج کے دانے نکالے، کھیت سے تازہ جڑی بوٹیاں لایا، بلوط کے پھل رکھے۔ شہر کے چوہے نے کھانا کھایا، لیکن اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ اس نے کہا: “دوست! تم یہاں کیسے رہتے ہو؟ یہ کھانا…

Read more

یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک گہرے پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ لوگ مدد کیوں نہیں کرتے؟(چاہے وہ جانتے ہوں کہ آپ کو ضرورت ہے)ایک بوڑھا ملاح اپنی ہمدردی کی وجہ سے مشہور تھا؛ وہ واحد انسان تھا جو جانوروں کو گہرے دریا کے پار لے جاتا تھا۔ وہ برسوں سے یہ کام کر رہا تھا—بغیر کسی دکھاوے کے اور بغیر کسی معاوضے کے—کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ جانوروں کو بھی کسی ایسے فرد کی ضرورت ہے جو ان کا خیال رکھے۔ایک موسم، ایک شیر نے اس سے دریا پار کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ دوسری طرف موجود اپنے گروہ (کچھار) تک پہنچ سکے۔ ملاح اسے لے کر چل پڑا۔ جب وہ دریا کے بیچ و بیچ پہنچے، تو شیر جھکا اور آہستہ سے بولا:“میں اسی وقت تمہارا کام تمام کر سکتا ہوں اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں…

Read more

“سچ وہی دیکھتا ہے… جو وہاں سے گزرا ہو”کبھی آپ نے غور کیا ہے…کہ آپ کی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں، سب سے زیادہ رائے دینے والے وہ لوگ ہوتے ہیں…جو کبھی اُس راستے سے گزرے ہی نہیں؟ایک تاریک، تنگ اور خاموش تہہ خانے میں دو چوہے رہتے تھے۔باہر کی دنیا کے لیے وہ صرف “چوہے” تھے…مگر اپنے دائرے میں، وہ ایک دوسرے کی پوری دنیا تھے۔ایک دن، ان کے بل کے قریب شور ہوا۔انسانوں نے زہر رکھ دیا تھا… جال بچھا دیے تھے…خطرہ ہر طرف پھیل چکا تھا۔پہلا چوہا گھبرا گیا۔اس نے کہا:“ہم ختم ہو گئے… کوئی راستہ نہیں… سب کچھ ختم ہونے والا ہے!”دوسرا چوہا خاموش رہا۔اس نے آہستہ سے کہا:“یہ پہلی بار نہیں ہے… میں اس سے پہلے بھی بچ نکلا ہوں۔”اسی لمحے، اوپر سے ایک آواز آئی۔کچھ انسان کھڑے بات کر رہے تھے۔“بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے… آسانی سے حل ہو جائے گا…”انہوں نے…

Read more

حسد نہیں، دعا کیجیے!روایت ہے کہ ایک غریب دیہاتی اپنی معاشی تنگی کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ کسی خیر خواہ نے اسے مشورہ دیا کہ “تم شہنشاہ اکبر کے پاس جاؤ، اس کے پاس بے شمار دولت ہے اور وہ ہر سائل کی جھولی بھر دیتا ہے۔ وہ تمہیں بھی ضرور کچھ عطا کرے گا اور تمہاری مفلسی دور ہو جائے گی۔”دیہاتی نے برجستہ سوال کیا: “اکبر بادشاہ کو یہ سب کس نے دیا ہے؟”جواب ملا: “اللہ نے!”یہ سن کر دیہاتی کے ایمان کو ایک نئی جلا ملی اور اس نے کہا: “اگر اسے دینے والا اللہ ہے، تو پھر میں براہِ راست اسی سے کیوں نہ مانگوں؟ میں اکبر کے در پر کیوں جاؤں؟”اس کے بعد وہ اپنے گھر سے نکلا اور ایک ویران جنگل کی طرف چل دیا تاکہ یکسوئی سے اپنے رب کو پکار سکے۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنا بوسیدہ سا کپڑا زمین…

Read more

ایک دن ہوا اور سورج آپس میں بحث کر رہے تھے۔ دونوں میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا کہ میں زیادہ طاقتور ہوں۔ ہوا بولی: “میں اتنی طاقتور ہوں کہ درخت اکھاڑ سکتی ہوں، چھتیں اڑا سکتی ہوں، سمندر میں لہریں کھڑی کر سکتی ہوں۔” سورج بولا: “طاقت صرف تباہ کرنے میں نہیں ہوتی۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقتور ہے۔” اتنے میں انہوں نے نیچے ایک مسافر کو دیکھا۔ وہ گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چادر اوڑھے چلا جا رہا تھا۔ سورج بولا: “دیکھ، وہ مسافر چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ جو اس کی چادر اتار دے، وہ زیادہ طاقتور۔” ہوا بولی: “یہ تو بہت آسان ہے۔ پہلے میں کوشش کرتی ہوں۔” ہوا زور سے چلنے لگی۔ اس نے تیز جھونکے بھیجے۔ مسافر کی چادر اڑنے لگی۔ اس نے چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہوا نے اور زور کیا۔ مسافر نے چادر کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔…

Read more

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔” اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟” وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔” بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔ ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔ بادشاہ نے کہا: “تم بہت…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔ جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔ ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔ کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟” عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ…

Read more

ایک نوجوان تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، بہت ہوشیار تھا۔ لوگ اس کی عقل کی تعریف کرتے تھے، اس کی چالاکی کی داد دیتے تھے۔ وہ ہر مسئلہ حل کر لیتا، ہر مشکل سے نکل جاتا، ہر جگہ کامیاب ہو جاتا۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ رات کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن اس کے دل میں خلاء تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، لیکن اس کی روح میں اندھیرا تھا۔ ایک دن وہ شہر سے باہر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ یوسف اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا: “مجھے سکون چاہیے۔ میں نے سب کچھ پا لیا، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔” درویش نے کہا: “بیٹا! تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے جو تجھے سکون نہیں لینے دیتی؟” یوسف نے کہا: “آواز؟ کون سی آواز؟” درویش نے…

Read more

جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مجسمہ ساز رہتا تھا۔ وہ بہت مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مجسمے بنوانے آتے تھے۔ وہ دیوتاؤں کے مجسمے بناتا، بادشاہوں کے مجسمے بناتا، جنگجوؤں کے مجسمے بناتا۔ لیکن اس کی سب سے مشہور تخلیق ایک مجسمہ تھا  ہنستا ہوا بدھ۔ وہ مجسمہ اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ اسے دیکھ کر خود بخود مسکرا دیتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ کہہ رہا ہو: “سب ٹھیک ہے۔ فکر مت کرو۔” ایک دن شہر کا امیر ترین آدمی آیا۔ اس نے مجسمہ ساز سے کہا: “میرے لیے بھی ویسا ہی مجسمہ بنا دو۔ میں دگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں ویسا ہی نہیں بنا سکتا۔ ہر مجسمہ الگ ہوتا ہے۔” امیر آدمی نے کہا: “تو پھر اس سے بھی خوبصورت بنا دو۔ تگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں کوشش…

Read more

ایک دن جحا (ملا نصر الدین) اپنے گدھے پر سوار ہو کر بازار جا رہا تھا کہ ایک اجنبی نے مذاق اڑانے کے لیے اسے روکا اور پوچھا:اجنبی: “اے جحا! میں نے تمہارے گدھے کو تو پہچان لیا، لیکن تمہیں نہیں پہچانا، تم کون ہو؟”جحا نے مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے جواب دیا:جحا: “بھائی! اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں، گدھے ایک دوسرے کو فوراً پہچان لیتے ہیں، انسانوں کو پہچاننے میں انہیں ذرا وقت لگتا ہے!” #جحا_کے_قصے#اردو_مزاح#عقلمند_جواب

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہےسوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔“اے…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔ وہ تین سوال تھے: 1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟3. سب سے اہم کام کیا ہے؟ اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔ بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔ کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔” دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”کسی نے کہا: “پادری۔”کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”کسی…

Read more

140/740
NZ's Corner