Category Archives: Urdu Stories

قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کاشہر ’’حجر‘‘ کی رنگین ،مدہوش اور پُرتعیش رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ موج مستی، رقص و سُرود، شراب و کباب کی محفلیں عروج پر تھیں۔ محلّات سے بازاروں تک، گھروں سے گلی کُوچوں تک، صحرائوں سے میدانوں تک غیراخلاقی حرکات اور مکروہ دھندوں نے احترامِ آدمیت کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی تھیں۔ مال و دولت کی فراوانی اور نعمتِ خداوندی کی کثرت نے شہر کے باسیوں کو اللہ سے غافل کردیا تھا اور شیطان اُن کی حیوانی خصلتوں پر قابض ہوچکا تھا۔ یہ اُن کا روز و شب کا معمول تھا، حکم عدولی اور نافرمانی اُن کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ہاں، اگر کوئی نئی بات تھی، تو وہ اللہ کے نبی، حضرت صالح علیہ السلام کا یہ فرمان تھا کہ ’’اے میری قوم! تمہارے پاس عیش و عشرت کے لیے صرف تین دن بچے…

Read more

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ  حکمرانی کرے، سب سے بڑا شیر بھی آخر کار ایک خاموش اور بے بس انجام کو پہنچتا ہے۔ یہی اس دنیا کی حقیقت ہے۔اپنے عروج پر شہر جنگل کی بادشاہی کرتا ہے — تعاقب کرتا، فتح پاتا،اپنے شکار کو نگل جاتا، اور صرف ہڈیوں کے ٹکڑے پیچھے چھوڑتا ہے۔ طاقت اس کی پہچان ہوتی ہے۔اقتدار اسے گھیرے رکھتا ہے۔ خوف اس کے پیچھے چلتا ہے۔مگر وقت بڑا تیزی سے گزرتا ہے۔عمر اسے کمزور کر دیتی ہے جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔ وہی شیر جو ایک زمانے میں بآسانی شکار کرتا تھا، اب نہ تعاقب کر سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے۔ وہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے، خالی پن میں دھاڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قسمت اسے آ دھرتی ہے۔ جنہیں اس نے ایک زمانے میں نظر انداز کر دیا تھا، آج وہی اسے گھیر لیتے…

Read more

13ویں صدی کا اختتام… اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک بزرگ درویش ‘شیخ ادیبالی’ کے حجرے میں سویا ہوا ایک نوجوان جنگجو اچانک پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور حیرت تھی۔ اس نے ابھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس میں آنے والی چھ صدیوں اور تین براعظموں کی تاریخ چھپی تھی۔ خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ درویش کے سینے سے ایک چاند نکلا اور اس نوجوان کے سینے میں سما گیا۔ پھر اسی جگہ سے ایک عظیم الشان درخت اگا، جس کی شاخیں اتنی پھیلیں کہ انہوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ اس درخت کے سائے میں دنیا کے چار بڑے پہاڑ (کوہِ قاف، اطلس، طور اور بلقان) اور چار بڑے دریا (دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب) بہہ رہے تھے۔ جب اس نے یہ خواب درویش کو سنایا، تو بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مبارک…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﻟﻮﮔﻮﮞ کو ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼﺟﺐ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﮨﯿﺒﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮگئی، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﮭﺴﻞ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺁﮒ ﺑﮕﻮﻟﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺩﯾﺎﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻃﯿﺶ ﺩﯾﮑﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ۔ﺗﻮ ﺭﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺳﺎﺭﺍ ﺷﻮﺭﺑﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺎ ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﺮﺍﮐﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺍﺭﮮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮨﻮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟ﺧﺎﺩﻡ ﻧﮯ ﻋﺎﺟﺰﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ:ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ!  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭﺷﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯽ ﮨﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:ﻣﺠﮭﮯ…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

تیزی ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتیرفتار متاثر کن ضرور لگتی ہے، لیکن بقا اکثر اس کا مقدر بنتی ہے جو خطرے کو سب سے پہلے بھانپ لے۔تپتے ہوئے صحرا کے وسیع و عریض ٹیلوں کے درمیان، اونٹوں کا ایک قافلہ چلچلاتی دھوپ میں آگے بڑھ رہا تھا۔ قافلے کے سب سے آگے ایک نوجوان اونٹ تھا، جو طاقتور، توانا، لمبی ٹانگوں اور پر اعتماد قدموں والا تھا۔ جبکہ سب سے پیچھے ایک بوڑھا اونٹ تھا، جس کا ڈھانچہ دبلا پتلا اور رفتار سست تھی۔ وہ کبھی کبھار رک کر افق کی جانب نظریں جما لیتا یا اردگرد کی خشک ہوا کا جائزہ لیتا۔نوجوان اونٹ نے پیچھے مڑ کر اس کا مذاق اڑایا:“تم اب بوڑھے ہو چکے ہو۔ تمہاری ٹانگیں کمزور اور آنکھیں تھک گئی ہیں، اسی لیے تم اتنا آہستہ چلتے ہو۔ اگر تم یونہی رک کر ادھر ادھر دیکھتے رہے تو ہم نخلستان کب پہنچیں گے؟ مجھے دیکھو، رفتار ہی…

Read more

معصوم اور مہربان لوگ زندگی میں آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں (یا انہیں تکلیف پہنچتی ہے) کیونکہ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں… اس لیے احتیاط کریں کہ آپ اپنا وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔تفصیلی وضاحتاس تصویر اور تحریر کے ذریعے زندگی کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے:فطرت کا فرق: تصویر میں ایک ننھا چوزہ اور ایک سانپ آمنے سامنے ہیں۔ چوزہ معصومیت کی علامت ہے جو سانپ کو بھی اپنا دوست سمجھ کر اس کے قریب جا رہا ہے، جبکہ سانپ اپنی فطرت کے مطابق شکاری ہے اور کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بھروسہ اور سادگی: نیک دل لوگ اکثر دوسروں کو بھی اپنے جیسا ہی مخلص سمجھتے ہیں۔ وہ سامنے والے کے ظاہری رویے سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ پاتے کہ دوسرے کے دل میں کیا چھپا ہے۔غلط صحبت کا اثر: تحریر ہمیں خبردار کرتی ہے…

Read more

ہندوستان کا بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے برق رفتار ہرن کا تعاقب کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ سخت گرمی کا زمانہ تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ شاہجہاں نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کدھر جائے۔ گھوڑا بھی گرمی کی شدت سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کسی بستی کے آثار نظر نہ آئے، البتہ بہت دور کچھ جانور چرتے نظر پڑے اور بانسری کی آواز بھی تیز جھونکوں کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کی باگ موڑ دی۔ چند میل چلنے…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصہر کا بیٹا تھا۔وہ نہایت شکیل اور خوبصورت انسان تھا، اسی وجہ سے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اسے “منور” کہا کرتے تھے۔صرف یہی نہیں، بلکہ وہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا عالم، نہایت ملنسار اور بااخلاق شخصیت کا مالک بھی تھا، اسی لیے لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن جب بے شمار دولت اس کے ہاتھ آئیتو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔وہ سامری کی طرح منافق ہو گیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سخت دشمن بن گیااور تکبر و غرور میں ڈوب گیا۔ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہواتو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے وعدہ کیاکہ وہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ میں دے گا۔مگر جب اس نے اپنے مال کا حساب لگایاتو زکوٰۃ کی رقم بہت زیادہ نکلی۔ یہ دیکھ کر اس پر حرص اور بخل…

Read more

خاموشی ہمیشہ تاخیر نہیں ہوتیایک دھوپ سے بھرے باغ میں، ایک چھوٹی چیونٹی کو اپنی مصروفیت پر بڑا ناز تھا۔ وہ روزانہ اپنے جسم سے بڑے ٹکڑے اٹھائے ادھر ادھر دوڑتی رہتی۔ چیونٹی کے نزدیک حرکت ہی ترقی تھی اور بھاگ دوڑ ہی زندگی کا مقصد۔ اس کا ماننا تھا کہ اگر کوئی چیز حرکت میں نہیں ہے، تو وہ پیچھے رہ گئی ہے۔ایک دوپہر، ایک گلابی پتے کے نیچے، چیونٹی کی نظر ایک خاکستری رنگ کے ککون (خول) پر پڑی جو خاموشی سے ٹہنی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ وہ خشک، بے آواز اور بالکل عام سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کوئی حرکت، نہ زندگی کا کوئی نشان۔ چیونٹی قریب آئی اور حقارت سے بولی:“اپنی حالت تو دیکھو! میں سفر کر رہی ہوں، کام کر رہی ہوں اور نتائج حاصل کر رہی ہوں، جبکہ تم یہاں بس بیکار لٹکے ہوئے ہو۔ کتنی ضائع شدہ زندگی ہے تمہاری۔”ککون خاموش…

Read more

ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا استاد رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لوگوں کو راستہ دکھایا تھا، لوگوں کو سچ سکھایا تھا، لوگوں کو خود کو پہچاننے کا فن سکھایا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے آتے تھے، اس کے پاس بیٹھتے تھے، اس کی باتیں سنتے تھے، اور اپنی زندگی بدل لیتے تھے۔ لیکن استاد اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کے بال سفید ہو گئے تھے، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی موت قریب ہے۔ ایک دن اس نے اپنے شاگردوں کو بلایا۔ بہت سے شاگرد تھے  کچھ بوڑھے تھے، کچھ جوان تھے، کچھ نئے آئے تھے، کچھ پرانے تھے۔ سب استاد کے سامنے بیٹھ گئے۔ استاد نے کہا: “میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ سونا ہے، نہ…

Read more

بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں  بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔ ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔” اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔ عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں…

Read more

ایک شہر میں ایک قاضی صاحب رہتے تھے۔ بظاہر نہایت سنجیدہ، باوقار اور دیانتدار شخصیت کے مالک… مگر ایک معاملے میں انہوں نے ایسی راہ اختیار کر لی جو آگے چل کر ان کے لیے آزمائش بن گئی۔ انہوں نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی…مگر پہلی بیگم کو اس کا علم نہ ہونے دیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ پہلی بیگم نہ صرف سمجھدار تھیں بلکہ ایک مضبوط خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر بات کھل جاتی، تو صرف گھر نہیں بلکہ پورا خاندان میدان میں آ جاتا۔ وقت گزرتا گیا…مگر انسان چاہے جتنا بھی راز چھپائے، رویے بدل ہی جاتے ہیں۔ بیگم نے محسوس کیا کہ قاضی صاحب کے انداز، ان کی باتوں کا لہجہ، ان کی مصروفیات سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔شک نے جنم لیا… اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے: باتوں سے بحث،بحث سے تکرار،اور تکرار سے جھگڑا۔ قاضی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی…

Read more

کوریا کے ایک گاؤں میں یون اوک نامی ایک نوجان عورت رہتی تھی۔ اس کا شوہر جنگ سے واپس آیا تو وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، وہ چپ رہتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ یون اوک نے بہت کوشش کی، لیکن اس کا شوہر اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔ ایک دن وہ ایک بوڑھے بابا کے پاس گئی۔ بابا نے کہا: “جنگل میں ایک شیر رہتا ہے۔ اگر تم اس شیر کی مونچھ لا سکو تو تمہارا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہو جائے گا۔” یون اوک شیر کی مونچھ لینے کے لیے نکلی۔ وہ ہر روز شیر کی غار کے پاس جاتی، اس کے لیے کھانا رکھتی، اور دور بیٹھ کر اسے دیکھتی۔ پہلے دن شیر بھونکا، دوسرے دن غرایا، تیسرے دن اس نے کھانا کھایا — پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آنے لگا۔ چھ مہینوں کی…

Read more

حضرت ذوالنون مصریؒ ایک دن دریا کے کنارے خاموشی سے بیٹھے مراقبے میں مشغول تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک کچھوا نمودار ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوا اور کچھوا اسے دریا کے دوسرے کنارے لے گیا۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر حضرت ذوالنون مصریؒ حیران رہ گئے کہ آخر ایک زہریلے جانور کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا انتظام فرمایا ہے؟ آپ بھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درخت کے سائے تلے گہری نیند میں سو رہا ہے، اور ایک کالا سانپ اس کے قریب پہنچ چکا ہے، جیسے ہی وہ اسے ڈسنے والا تھا— اسی لمحے وہی بچھو وہاں پہنچا اور اس نے سانپ کو ڈنک مار دیا۔ سانپ تڑپ کر مر گیا اور بچھو خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ جب نوجوان کی آنکھ کھلی…

Read more

قدیم یونان کے شہر ایتھنز میں ایک ایسا شخص گزرا ہے جس کے ہاتھوں میں جادو تھا۔ اس کا نام تھا ڈیڈیلس۔ وہ لکڑی، پتھر اور دھات کا ایسا ماہر تھا کہ لوگ کہتے تھے: “دیوتاؤں نے اسے خاص تحفہ دیا ہے۔” وہ پہلا شخص تھا جس نے چیزوں کو گوند سے جوڑنا سیکھا۔ اس نے مجسمے بنائے جو خود چلتے پھرتے تھے، اس نے ایسی مشینیں بنائیں جو پانی اٹھا لے جاتی تھیں، اس نے تعمیر کے ایسے راز دریافت کیے جو آج بھی معماروں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ایتھنز کے لوگ اسے “عظیم کاری گر” کہتے تھے۔ بادشاہ اسے اپنے محل بلاتا، شہزادے اس سے فن سیکھتے، اور عام لوگ اس کے کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ ڈیڈیلس کو اپنی مہارت پر بہت فخر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ ڈیڈیلس کی ایک بہن تھی جس کا نام تھا پولی کاسٹی۔ اس…

Read more

اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی — خوبصورت بھی اور ذہین بھی۔ جب وہ بچی تھی تو ایک پری نے اسے عقل اور خوبصورتی کا تحفہ دیا تھا۔ ایک دن کسان کو جنگل میں سونے کا ایک طشت (مٹکا) ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ لیکن بیٹی نے کہا: “باپ! ایسا مت کرو۔ بادشاہ یہ سوچے گا کہ اس طشت کے ساتھ اس کا موصل (چمچہ) بھی ہونا چاہیے۔ جب وہ نہیں ملے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔” کسان نے اپنی بیٹی کی بات نہیں مانی اور طشت بادشاہ کو دے دیا۔ جیسا کہ لڑکی نے کہا تھا، بادشاہ نے پوچھا: “اس کا موصل کہاں ہے؟” کسان نے کہا کہ نہیں ملا۔ بادشاہ ناراض ہو گیا، لیکن جب اس نے سنا کہ…

Read more

140/797
NZ's Corner