کہانی اور حقیقت –
گاؤں میں بشیر اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔اس کے ابو کا انتقال ہو چکا تھا۔بشیر کی ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔بشیر بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔اس کے اسکول کے استاد اس سے نالاں رہتے تھے۔ایک دن بشیر کی والدہ اسکول آئیں اور استاد جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی۔استاد جی تو بھرے بیٹھے تھے۔بشیر کی ماں کو بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی سے غیر دلچسپی کی داستانیں سنانے لگے،کیونکہ وہ ہر کام ہی غلط کرتا ہے۔بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ماں گاؤں چھوڑ کر بیٹے کو لے کر شہر چلی گئی۔وقت گزرتا گیا گاؤں ترقی کر کے قصبہ بن گیا۔25 سال گزر گئے۔اسکول میں استاد جی ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ہیڈ ماسٹر صاحب کو اچانک ایک دن دل میں شدید درد محسوس ہوا۔اسپتال میں داخل کرایا،مگر درد بڑھتا گیا۔مقامی ڈاکٹر نے شہر کے بڑے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ڈاکٹر…
بلاعنوان 😂
ایک آدمی کا ایک ہاتھ نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتا تھا۔ ایک دن وہ اپنی اس کمی سے اتنا تنگ آ گیا کہ اس نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پہاڑ سے کودنے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں بازو نہیں تھے، لیکن وہ خوشی سے ناچ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اس نے خود کو ملامت کی۔ “اس شخص کے تو دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی یہ کتنا خوش ہے، اور میرے پاس ایک ہاتھ تو ہے، پھر بھی میں ناشکری کر رہا ہوں اور اپنی جان لینے جا رہا ہوں۔” اس نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا اور اس شخص کے پاس جا کر بولا: “بھائی! آپ کے دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی آپ اتنی خوشی سے…
پانچ ہزار کا نوٹ
ایک شخص سڑک سے گزر رہا تھا۔اچانک اس کی نظر پانچ ہزار کے نوٹ پر پڑی جو سڑک کی ایک طرف کھڑی گاڑی کے ٹائر کے نیچے دبا تھا۔ اس نے گاڑی کے آس پاس دیکھا کہ کوئی ہے تو نہیں،پھر گاڑی کے ٹائر کے پاس بیٹھ کر نوٹ نکالنے کی بہت کوشش کی ،مگر نوٹ نہیں نکلا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی،مگر وہ لاک تھا۔گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کی،لیکن گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔تھک ہار کر وہ سڑک پار کرکے سامنے ایک اوپن ایئر کیفے میں بیٹھ گیا،جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس نے کرسی اس زاویہ پر رکھی کہ گاڑی پر نظر رہے۔اچانک ایک فٹ بال اُچھلتی ہوئی ٹائر کے پاس آکر رک گئی۔وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کرسی پر پہلو بدلنے لگا۔ایک لڑکا جس کی وہ فٹ بال تھی،آیا اس نے کک لگائی اور وہ جا وہ جا۔اس…
جینو چوہا
یک چوہا تھا۔اس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اورسست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :”بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ۔تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو۔یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے۔ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا۔ زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا اپنا دھیان رکھنا۔“جینو بہت اداس ہوگیا۔ مگر اسے جانا ہی پڑا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا ملا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش…
خرگوش اور مگرمچھ
بہت عرصہ گزرا۔ایک خرگوش ایک جزیرے پر رہتا تھا۔اُس کی دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے سمندر کا پانی عبور کر کے جائے اور وہاں بنی ہوئی تاریخی عمارتیں دیکھے۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا اسی بارے میں سوچ رہا تھا اور اُس کی لمبی اور گھنی دُم اِدھر اُدھر ہل رہی تھی۔یہ تب کی بات ہے جب خرگوشوں کی دُمیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔مگرمچھوں کا بادشاہ وہاں نزدیک ہی تیر رہا تھا۔اس کی نظر خرگوش پر پڑی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:”اوں! کس قدر مزے کی شے اتنی نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔“ پھر وہ تیرتا ہوا ساحل کے پاس پہنچا اور خرگوش سے بولا:”صبح بخیر ننھے خرگوش!“خرگوش نے اُسے دیکھا اور اہمیت نہ دیتے ہوئے بولا:”میں صرف ننھا خرگوش نہیں ہوں اور مجھے مخاطب کرنا ہے تو بادشاہ سلامت کہو۔“ مگرمچھ کی ہنسی…
😂 توپ کا لائسنس 😂💁♂️
عدالت میں ایک عجیب مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔ ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ خبر پھیلی تو عدالت میں میڈیا اور تماشائیوں کا رش لگ گیا۔ 😳👀 جج نے حیران ھو کر پوچھا: “تم نے واقعی توپ کے لائسنس کی درخواست دی ھے؟” 😕😯 دیہاتی بولا: “جی ہاں، پورے ھوش و حواس میں!” 😤💯 جج نے پوچھا: “آخر توپ کا کیا کرو گے؟ کسی جنگ کی تیاری ھے؟” 🤔🙄 دیہاتی مُسکرایا اور بولا: “جج صاحب! پچھلے سال میں نے 1 لاکھ روپے کے قرض کی درخواست دی تھی، منظور ھوئے صرف 10 ہزار۔” “بہن کی شادی کے لیے 100 کلو چینی مانگی، ملی صرف 10 کلو۔” “سیلاب میں فصل تباہ ھوئی تو 50 ہزار معاوضے کا وعدہ ھوا، اکاؤنٹ میں آئے صرف 5 ہزار۔” پھر دیہاتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “اب سرکاری نظام اچھی طرح سمجھ چکا ھوں!” 😕😒 “اصل میں مُجھے تو…
😂 جادوئی مشین 😂🙆♂️
ایک دیہاتی ابا پہلی بار اپنے بیٹے کے ساتھ شہر کے ایک بڑے شاپنگ مال گئے۔ گھومتے گھومتے دونوں ایک عجیب سی چیز کے سامنے جا کھڑے ھوئے۔ 😳 بیٹا بولا: “ابا جی! یہ کیا ھے؟” 🤔 ابا نے غور سے دیکھا، پھر کھنکار کر بولے: “پُتر! میں نے اپنی ساری زندگی میں یہ چیز پہلی بار دیکھی ھے مجھے بھی نہیں پتا!” 😅 دونوں کھڑے ھو کر تماشا دیکھنے لگے۔ 👀 اتنے میں ایک کمزور سی بڑھیا ویل چیئر پر آئی۔ 👩🦼 اس نے ایک بٹن دبایا… سامنے چمکتی ھوئی دیواریں کھل گئیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نظر آیا۔ بڑھیا اندر چلی گئی اور دروازہ بند ھو گیا۔ 😳 ابا اور بیٹا حیرت سے دیکھتے رھے۔ 😮 اوپر نمبر چلنے لگے: 1️⃣…2️⃣…3️⃣…4️⃣…5️⃣…6️⃣ چند لمحوں بعد نمبر واپس الٹے چلنے لگے: 6️⃣…5️⃣…4️⃣…3️⃣…2️⃣…1️⃣ پھر دروازہ کھلا… اور باہر ایک خوبصورت نوجوان لڑکی اسٹائل سے چلتی ھوئی نکلی۔ 😍✨ ابا جی…
خزانہ کہاں گیا –
ایک زمانے میں ایک بوڑھی عورت تھی اس کے گھر کے مچان کو صفائی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا وہ اوپر گئی اور فرش پر جھاڑو دینے لگی۔ اس کو وہاں دس سونے کے سکے ملے!وہ بہت حیران اور خوش ہوئی۔ مجھے جاکر اپنے تمام پڑوسیوں کو بتانا چاہیے۔ اس نے کہا۔ لہٰذا اس نے سونے کے سکے باورچی خانے میں رکھے اور اپنی سہیلیوں کو بتانے کے لئے باہر بھاگی۔وہ کنوئیں کے پاس گئی جہاں گاؤں کی خواتین پانی بھر رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔ میری بات سنو!وہ چلائی مجھے اپنے مچان میں سے خزانہ ملا ہے!تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔ اچھا اچھا ہر لڑکی نے کہا یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ تمہیں ان کو حفاظت سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اس خزانے کی چوری ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ویسے تم نے ان کو کہاں رکھا ہے؟اوہ ان کو تو میں باورچی خانے میں چھوڑ آئی…
مفت کی نعمت
ایک گاؤں میں ایک غریب گدھا رہتا تھا۔ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا، ڈانٹ کھاتا، کبھی سوکھی گھاس ملتی تو کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔“بس! اب نہیں، ایسی زندگی سے تو جنگل اچھا ہے۔”رات کے اندھیرے میں وہ رسی تڑوا کر بھاگا اور کئی میل چلنے کے بعد ایک بڑے جنگل میں پہنچ گیا۔ بھوک سے اس کا برا حال تھا۔چلتے چلتے اسے ایک خوبصورت دکان جنگل میں نظر آئی۔دکان پر ایک بندر بیٹھا تھا۔ گدھا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔بندر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا، “فرمائیے، کیا چاہیے؟”گدھا تو کئی دن کا بھوکا تھا۔وہ ایک ایک کر کے بولنے لگا،“گاجریں دے دو، کچھ گھاس بھی، تھوڑے سیب، وہ سامنے والی مولیاں بھی اور اگر ممکن ہو تو وہ گنے بھی رکھ دو” دکاندار بندر خاموشی سے سب چیزیں تھیلے میں بھرتا گیا۔جب تھیلا بھر گیا تو اس…
صبر و شکر اور لالچ –
کسی گاؤں میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔اس کے تین بچے، ایک بیوی اور دو بوڑھے ماں باپ تھے۔مچھیرا بہت غریب تھا۔وہ دن بھر سمندر میں مچھلی پکڑنے جاتا۔کبھی اسے شکار ملتا، کبھی نہیں اور جب شکار ملتا تو سب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور جب شکار نہ ملتا تو صبر کر کے سو جاتے۔گھر کے سب لوگ صبر و شکر والے تھے۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات پسند آئی۔ایک دن وہ مچھیرا معمول کے مطابق سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گیا کہ اچانک سمندر میں ایک طوفان سا آ گیا۔مچھیرا طوفان دیکھ کر ڈر گیا۔طوفان ختم ہوا تو اچانک سمندر سے ایک جل پری نکل آئی۔مچھیرا اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔جل پری نے کہا:”ڈرو مت! مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی صبر و شکر کرنے والی عادت بہت پسند آئی ہے، اسی لئے مجھے تمہاری…
اندر کا خوف
میں اور حمزہ ضلع ایبٹ آباد کے ”روپڑ“ نامی علاقے کے ایک مدرسے کے طالب علم تھے۔ہمارے لئے یہ علاقہ بالکل نیا تھا۔میرپور سے صرف میں اور حمزہ ہی یہاں اجنبی تھے۔باقی تمام طلبہ مقامی تھے۔قاری صاحب نے مدرسے کے ایک گوشے میں ہمیں ایک کمرے کی جگہ دے دی تھی۔یہ پہاڑی علاقہ تھا۔پہاڑوں پر اونچے نیچے اور گھنے گھنے درخت تھے۔قریب ہی ایک گھنا جنگل بھی تھا۔ہم نے سن رکھا تھا کہ یہاں راتوں کو اکثر ریچھ اور ببر شیر جنگل سے نکل کر آبادی کا رُخ کرتے ہیں۔اس لئے میں اور حمزہ زیادہ باہر نہیں نکلتے تھے،رات کو تو بالکل بھی نہیں۔ایک دن رات گیارہ بجے کا وقت تھا۔میں اور حمزہ کمرے میں بیٹھے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔”دو آدم خوروں کی علاقائی قبرستان میں ایک قبر کھودنے کی کوشش۔“حمزہ نے سرخی پڑھ کر اخبار میں سے نظریں ہٹا کر حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھا۔اس سے…
ملا نصیر الدین کے کار نامے
مُلّا کی جب شادی ہورہی تھی اُنہیں بڑے اہتمام سے دُولہا بنا کر جب گھوڑے پر بٹھایا تو وہ فرار ہو گئے ،سب براتی پریشان ہو گئے کوئی دو گھنٹے بعد مُلّا واپس تشریف لائے براتیوں نے پوچھا کہ وہ فرار کیوں ہوگئے تھے ؟اس پر مُلّا نے معصومیت سے کہا یہ دو لہا کیلئے آخری موقعہ ہوتا ہے مگر میں اس خیال سے آگیا کہ آپ کو کھانا نہیں ملے گا اور آپ بھوکے رہو گے سبھی براتی مُسکرانے لگے۔ ایک بار مُلّا اپنے سسرال گئے ۔اُن کی ساس محترمہ خود کو بہت چالاک سمجھتی تھیں ،اُس نے مُلّا سے کہا بیٹا آپ کدو شرف کھاؤگے یا بھنڈی مبارک پکالوں یا پالک پاک پکالوں ؟اِس پر مُلّا نے مسکین سی صورت بنا کر کہا میں گناہگار بند ہ ہوں اور میرا وضو بھی نہیں جو اِن مقدس سبزیوں کے نام بھی لوں ۔ آپ کو ئی بد معاش‘نافرمان اور…
راجہ کی رانی –
بہت ہی دور ایک جنگل میں ایک بہت بے وقوف اور سُستی کا مارا راجہ رہتا تھا۔دنیا میں شاید ہی کوئی جانتا تھا کہ اُس کی سلطنت کہاں واقع ہے۔وہ سارا دن اپنے تخت پر لیٹا رہتا اور اُس کے ملازم مور کے پروں سے بنے پنکھوں سے اُسے ہوا کرتے رہتے۔ایک دن اُس نے فیصلہ کیا کہ اُسے بھی شادی کر لینی چاہئے۔ اُس نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو دنیا کے ہر کونے میں بھیجا۔اُس کے وزیر اور مشیر بھی اُسی کی طرح کے عقل مند تھے۔اُس نے وزیروں کو کہہ کر بھیجا تھا کہ اُس کی بیوی ایسی ہو جو زمین پر بھی چل سکے اور ہوا میں بھی اُڑ سکے۔جس کی شکل انسانوں جیسی ہو لیکن وہ انسان نہ لگتی ہو۔اُس کے چار بازو اور چار ٹانگیں ہوں بے چارے وزیر اور مشیر سخت پریشانی کے عالم میں دنیا بھر میں مارے مارے پھر رہے تھے۔…
نوے اور پانچ سو
ایک بار ایک دیہاتی شہر گیا وہ اس شہر کے بازار میں آیا اور زور زور سے پکارا”نوے اور پانچ سو“․․․․․نوے اور پنچ سو․․․․نوے اور پانچ سو․․․․․جو بھی دیہاتی کا یہ حساب سنتا وہ ہنس دیتا ایک شہری دیہاتی کے پاس آیا اور بولا”بھائی نوے اور پانچ سو نہیں ہوتے بلکہ نوے اور دس سو ہوتے ہیں مگر دیہاتی الٹا شہری کو غلط کہتے ہر بہ ضد تھا ادھر شہری کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا دونوں کی آپس میں نوے اور پانچ سو کی تکرار ہو رہی تھی۔ جب دونوں ہی اپنی اپنی ضد پر قائم رہے تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے کہ دیکھیں نوے اور پانچ سو والا کیا معاملہ ہے آخر وہ شہری ہار مانتے ہوئے بولا”اچھا پانچ تمہیں معاف کیے لاؤ پچانوے روپے ہی دے دو،دیہاتی یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا جس پر لوگ اسے طعنے دینے لگے…
سونے کا سفید انڈا –
پرانے زمانے کی بات ہے کسی گاؤں کا چودھری بڑا لالچی تھا۔لالچ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا اور کردار و اخلاق انتہائی پست ہو گیا تھا۔وہ گاؤں کے کسی بھی شخص کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز دیکھتا تو اسے کسی بھی طریقے ہتھیا لیتا۔گاؤں والے اس کے رویے سے تنگ آ چکے تھے۔انھوں نے کئی بار گاؤں کے قاضی اور مسجد کے پیش امام سے بھی شکایتیں کیں جن کی باتیں چودھری بڑے غور سے سنتا تھا، لیکن ان کو ماننے اور عمل کرنے پر بالکل تیار نہ ہوتا تھا۔اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کسی کے پاس اچھی نسل کی گائیں، بھینس یا بکری، یہاں تک کہ مرغی ہی کیوں نہ ہو، وہ بے چارہ اس سے محروم ہو جاتا۔گاؤں والے اپنے اچھے سے اچھے جانور میں بھی کوئی نہ کوئی عیب نکالتے اور اسے سارے گاؤں میں مشہور کر دیتے تھے، تاکہ ان…
کھانا اور ڈنڈا
کسی گاؤں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز تھے۔ان کے گاؤں میں کوئی مہمان آجائے تو بہت آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کے گاؤں میں ایک مہمان آیا۔گاؤں والوں نے اس کے آگے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر چُن دیے۔ساتھ ہی ایک بڑا سا ڈنڈا رکھ دیا۔مہمان کھانے دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔میزبانوں سے پوچھا:یہ ڈنڈا کیوں رکھا ہے؟“انھوں نے کہا:”یہ ہماری روایت ہے۔آپ ڈریں نہیں اور کھانا شروع کریں۔“مہمان اَڑ گیا کہ پہلے مجھے ڈنڈے کی حقیقت سے آگاہ کریں۔میزبان لاکھ قسمیں کھائیں کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا،لیکن مہمان نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔دل ہی دل میں وہ ڈر رہا تھا کہ کھانا کھلانے کے بعد یہ لوگ میری درگت بنائیں گے۔ مہمان کا کھانا کھانے سے انکار سن کر پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ایک بزرگ کو مہمان کے پاس لایا گیا کہ…
سو پیاز
عربوں کے دلچسپ واقعات میں سے : “عورتوں کا کہنا نہ مانو “ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کوئی جرم کیا تو قاضی نے اسے تین سزاؤں میں سے ایک چننے کو کہا:پہلی سزا: سو پیاز کھانادوسری سزا: سو کوڑے کھاناتیسری سزا: سو دینار ادا کرنا اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “پیاز کھا لو، یہ تو شہد کے برابر ہے۔”آدمی نے پیاز چن لیا، مگر پینسٹھویں پیاز کے بعد اس کی آنکھیں باہر آ گئیں اور اس نے اعلان کیا کہ وہ مزید نہیں کھا سکتا۔اس نے دوبارہ اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “اگر پیاز نہیں کھا سکتے تو ایک گھنٹے کا درد بہتر ہے روز روز کے درد سے۔”آدمی نے کوڑے چن لئے ۔جب کوڑے کی تعداد 72 تک پہنچی تو اس کے گھٹنے کانپنے لگے اور وہ چیخنے لگا: “بس کرو، میں مزید برداشت نہیں کر…
ہتھنی اور کتیا
ایک ہتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟” ہتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔…
بلاعنوان 😂
کہتے ہیں ایک استاد کے پاس ایک شادی شدہ شاگرد پڑھتا تھا۔ 🙂💁♂️ استاد کی دو شادیاں تھیں، شاگرد کی ایک۔ استاد روز فخر سے کہتا:“ایک شادی میں کیا رکھا ھے؟ اصل مزہ تو دوسری شادی میں ھے!” 😏✌️ آخر شاگرد بھی استاد کی باتوں میں آ گیا اور دوسری شادی کر لی۔ 😄🙄 شادی کی پہلی رات دوستوں میں بیٹھا ذرا دیر سے گھر پہنچا۔ نئی دلہن نے دروازہ ھی نہ کھولا:“جاؤ! جہاں اتنی دیر بیٹھے تھے وھیں جاؤ!” 😒🙎 بیچارہ پہلی بیوی کے پاس گیا۔ وہاں سے جواب آیا:“جو نئی دلہن لائے ھو، اسی کے پاس جاؤ!” 😏😒 اب دونوں گھروں سے نکالا ھوا شاگرد سرد رات میں مسجد جا پہنچا۔ اندھیرے میں ایک صف پر کسی کے لیٹے ھونے کا احساس ھوا۔ 😳🤔 شاگرد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:“کون ھے؟” آواز آئی: “اوئے شیدیا… میں تیرا استاد آں!” 😄 شاگرد حیران:“استاد جی! تسی ایتھے؟” استاد نے لمبی آہ…
عقل مند قاضی اور اصلی چور
پرانے زمانے میں بخارا شہر میں ایک نہایت دانا اور انصاف پسند قاضی رہتے تھے، جنہیں لوگ محبت سے “قاضی فہیم” کہتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شور، سختی یا ظلم کے بغیر صرف اپنی عقل و حکمت سے بڑے بڑے معاملات حل کر لیتے تھے۔ اسی لیے دور دراز سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اُن کے پاس آتے اور مطمئن ہو کر واپس جاتے۔اُسی زمانے میں بخارا کا بازار تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دور دراز سے تاجر اپنی قیمتی اشیاء لے کر آتے، لیکن کچھ عرصے سے بازار میں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔کسی نہ کسی تاجر کی رقم، زیورات یا قیمتی سامان غائب ہو جاتا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔لوگ خوفزدہ تھے، ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا تھا، اور بازار کی رونق…