Category Archives: Urdu Stories

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ عجیب و غریب سوالات کے جوابات دریافت کیے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے نہایت حکمت سے یوں رہنمائی فرمائی: سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ بولتی ہے؟جواب: وہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:هَلِ امْتَلَأْتِ“کیا تو بھر گئی؟”تو وہ کہے گی:هَلْ مِنْ مَزِيدٍ“کیا کچھ اور بھی ہے؟” سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ دوڑتی ہے؟جواب: وہ عصائے موسیٰ ہے، جو سانپ بن کر دوڑنے لگتا تھا۔ سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ سانس لیتی ہے؟جواب: وہ صبح ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ“قسم ہے…

Read more

ہر آنسو ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا ، کچھ جال ہوتے ہیںجنگل میں وہ چاندی کا واحد پیالہ بندر کی ملکیت تھا۔وہ ہر شام بلا ناغہ ندی پر جاتا اور اپنے بوڑھے والدین کے لیے پانی لاتا، جن کے ہاتھ اب اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ ایک لوٹا تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ وہ پیالہ کوئی دکھاوا یا غرور کی چیز نہیں تھی، بلکہ وہ ایک خاموش روزمرہ کی خدمت تھی جس نے دو ضعیف زندگیوں کو سہارا دے رکھا تھا۔وہ پیالہ دراصل زندگی کی بقا تھا۔ایک دوپہر لنگور (ببون) بھاگتا ہوا آیا۔ اس کے بال گرد آلود تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز اس قدر کانپ رہی تھی کہ الفاظ بمشکل ادا ہو رہے تھے۔“میرا اکلوتا بیٹا پیاس سے مر رہا ہے،” وہ چلایا۔ “مجھے اپنا پیالہ ادھار دے دو۔ میں اپنے باپ کی قبر کی قسم کھاتا ہوں، سورج ڈھلنے سے پہلے واپس کر دوں گا۔”بندر…

Read more

چین کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا پانی بھرنے والا تھا۔ وہ ہر روز دریا سے پانی بھرتا اور گاؤں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے پاس دو بڑے گھڑے تھے، جو ایک لمبی چھڑی کے دونوں سروں پر لٹکائے جاتے تھے۔ ایک گھڑا بالکل ٹھیک تھا۔ اس میں دریا سے لے کر گاؤں تک سارا پانی سلامت رہتا۔ دوسرے گھڑے میں دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ جب بوڑھا پانی بھر کر چلتا تو اس میں سے آدھا پانی راستے میں ٹپک جاتا۔ دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بوڑھا ہر روز پانی بھرتا، دو گھڑے لٹکاتا، اور گھر واپس آتا تو ایک گھڑا بھرا ہوتا، دوسرا آدھا خالی۔ ٹھیک گھڑا اپنے کام پر فخر کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ مکمل ہے، کامل ہے۔ پھٹے ہوئے گھڑے کو بہت شرم آتی۔ وہ اپنی کمزوری پر پچھتانا۔ وہ سوچتا: “میں صرف آدھا پانی لا پاتا ہوں۔ میری وجہ سے بوڑھے…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی  شہزادی، بہت خوبصورت، بہت نرم مزاج۔ بادشاہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ایک دن شہزادی بیمار ہو گئی۔ بخار تھا، کمزوری تھی، وہ بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ بادشاہ نے ملک کے سب ڈاکٹر بلوائے۔ ہر ڈاکٹر نے کچھ نہ کچھ دوا دی، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شہزادی کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ بادشاہ پریشان تھا۔ اس نے کہا: “جو میرے بیٹی کا علاج کر دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔” دور دراز سے حکیم آئے، جادوگر آئے، پیر آئے۔ سب نے کچھ نہ کچھ کیا، لیکن شہزادی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ آخر ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا: “بادشاہ! تمہاری بیٹی کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز ہے  کوئی ایسا شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہو، اس کے لیے اپنی…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی چار بیویاں تھیں۔ وہ ان سے مختلف انداز میں محبت کرتا تھا۔ پہلی بیوی سب سے زیادہ قریب تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہر وقت رہتا، ہر بات کرتا، ہر خوشی بانٹتا۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔ دوسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلی سے۔ وہ اس کے ساتھ بھی وقت گزارتا، لیکن کبھی کبھار۔ تیسری بیوی کو وہ کبھی کبھی یاد کرتا۔ اس سے اس کی ملاقات کم ہوتی تھی، لیکن وہ اس کی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔ چوتھی بیوی سب سے زیادہ دور تھی۔ وہ اس پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا بھی کم تھا۔ لیکن وہ بیوی بہت وفادار تھی۔ وہ ہر کام کرتی، ہر تکلیف سہتی، اور کبھی شکایت نہیں کرتی۔ ایک دن بادشاہ بیمار ہو گیا۔ وہ مرنے لگا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری بیوی …

Read more

سچائی اور محدود بصیرت: الو کی کہانی کچھ لوگ سچائی کو اس لیے رد نہیں کرتے کہ وہ غلط ہے، بلکہ وہ اسے اس لیے ٹھکراتے ہیں کیونکہ وہ ان کے محدود مشاہدے میں نہیں آتی۔ایک قدیم جنگل میں، الو کو سب سے دانا مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اس کی عنبر جیسی آنکھیں گہرے اندھیرے کو چیر سکتی تھیں۔ رات کے سائے میں کوئی چوہا اس سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ الو کے لیے اندھیرا خوفناک نہیں بلکہ جانا پہچانا اور یقینی تھا؛ یہی وہ دنیا تھی جسے وہ سمجھتا تھا۔لیکن جیسے ہی صبح ہوتی، سب کچھ بدل جاتا۔ 🌿جیسے ہی روشنی کی پہلی کرن پتوں سے چھن کر آتی، الو درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپ جاتا اور درد کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیتا۔ الو کے لیے دن کی روشنی خوبصورتی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اندھیر کرنے والا خلا تھا جو ان تمام چیزوں کو مٹا…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت ظالم تھا۔ اس نے لوگوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے، ان کا مال چھین لیا تھا، انہیں جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، اس کا خزانہ بھرا ہوا تھا، لیکن اس کا دل خالی تھا۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ کوئی اس کے سامنے سچ نہیں بول سکتا تھا۔ ایک دن بادشاہ کے وزراء نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی طاقت بے پناہ ہے۔ لیکن آپ کے پاس وہ چیز نہیں جو سب سے بڑی طاقت ہے۔” بادشاہ نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” وزیر نے کہا: “سچ۔” بادشاہ ہنسا۔ “سچ؟ میں سچ نہیں جانتا؟ میں بادشاہ ہوں۔ جو میں کہوں وہ سچ ہے۔” وزیر نے کہا: “نہیں، بادشاہ سلامت۔ آپ جو کہتے ہیں وہ حکم ہے، سچ نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا، آپ کے بعد بھی رہے گا۔ سچ کا حکم کوئی نہیں…

Read more

ہندوستان کے ایک گاؤں میں چار بوڑھے رہتے تھے۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا، ایک ساتھ کھایا، ایک ساتھ باتیں کیں۔ اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے، بال سفید ہو گئے تھے، ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ ایک دن وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کی باتیں چل رہی تھیں۔ پہلا بوڑھا بولا: “ہم نے ساری زندگی کام کیا، لیکن کبھی آرام نہیں کیا۔ اب مرنے سے پہلے کچھ ایسا کریں جو یاد رہے۔” دوسرے نے کہا: “کیا کریں؟ ہم بوڑھے ہیں، ہاتھ نہیں چلتے، ٹانگیں نہیں چلتیں۔” تیسرے نے کہا: “ہماری عقل تو چلتی ہے۔ عقل سے کچھ کریں۔” چوتھے نے کہا: “چلو، اس درخت کو دیکھو۔ یہ بہت پرانا ہے، بہت بڑا ہے۔ لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے بچائیں۔” انہوں نے سوچا: “لوگوں کو کیسے بتائیں کہ یہ درخت خاص ہے؟” پہلے بوڑھے نے کہا: “میں جاؤں گا…

Read more

ایک وسیع و عریض سلطنت میں، لوگ ہر چند سال بعد ایک قدیم درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے جسے “صداؤں کا درخت” کہا جاتا تھا۔ وہاں وہ اپنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تھے جو “قیادت کا تاج” پہنے۔ لیکن وہ تاج کوئی عام زیور نہ تھا—وہ لوگوں کی امیدوں، پسینے اور قربانیوں سے چمکتا تھا۔ ہر شخص ایک حقیقت جانتا تھا: یہ تاج کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادھار دیا جاتا ہے۔جب کسی رہنما کا انتخاب ہوتا، تو بزرگ کہتے: “اسے ہلکا محسوس کرتے ہوئے پہننا، کیونکہ یہ بہت سے لوگوں کی مرضی پر ٹکا ہوا ہے۔”شروع میں، ہر نیا حکمران عاجزی سے چلتا۔ وہ کسانوں، تاجروں، اساتذہ اور بچوں کی بات سنتے۔ وہ احتیاط سے حکومت کرتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو تاج واپس لیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت دلوں کو بدلنے کا ہنر جانتا تھا۔ایک حکمران،…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…

Read more

‏یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو ‏محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ‏جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی…

Read more

ناقابلِ تسخیر گرہ: کیوں آپ کی منطق آپ کے راستے کی رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ایک قدیم شہر میں، ایک افسانوی گرہ نے ایک رتھ کو مندر کے ستون سے جکڑ رکھا تھا۔ یہ درخت کی چھال سے اس قدر الجھا کر بنائی گئی تھی کہ کوئی بھی—یہاں تک کہ بڑے بڑے ذہین دماغ بھی—اس کا سرا تلاش نہ کر سکے۔ مشہور روایت تھی: “جو اس گرہ کو کھولے گا، وہی پورے ایشیا پر راج کرے گا۔”صدیوں تک دنیا کے قابل ترین علماء اور ماہرینِ منطق نے اپنی قسمت آزمائی۔ وہ تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتے رہے، گرہ کے ہر پیچ و خم اور ہر پوشیدہ خلا کا تجزیہ کرتے رہے۔نتیجہ؟ مکمل ناکامی۔ وہ گرہ انسانی عقل کے لیے ایک چیلنج بنی رہی، اور ہر کوئی تھک ہار کر شکست تسلیم کر گیا۔ 🗡️پھر اپنی فوج کے ساتھ ایک نوجوان فاتح وہاں پہنچا۔ اس “ناقابلِ حل” پہیلی کا سامنا کرتے ہوئے،…

Read more

صحیح وقت سے پہلے بڑا بننے کی قیمتکچھ چیزیں اس لیے نہیں بکھرتیں کہ وہ کمزور ہوتی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنی برداشت سے زیادہ تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک پرسکون دلدل میں، ایک چھوٹے سے مینڈک نے کنارے پر چرتی ہوئی ایک گائے کو دیکھا۔  گائے اتنی بڑی، مضبوط اور پر اثر نظر آ رہی تھی کہ مینڈک کے دل میں بھی اس جیسا بڑا بننے کی خواہش جاگ اٹھی۔چنانچہ مینڈک نے پانی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا، اپنا پیٹ پھلایا اور دوسرے مینڈکوں سے پوچھا:“کیا میں ابھی تک اس گائے جتنا بڑا ہوا ہوں؟”دوسروں نے دیکھا اور جواب دیا: “قریب قریب بھی نہیں!”لیکن مینڈک نے رکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مزید پانی پیا، خود کو مزید کھینچا اور بار بار اپنے جسم کو پھلاتا گیا، کیونکہ وہ جلد از جلد بڑا بننے کی ٹھان چکا تھا۔ ہر بار…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔ چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اس کی ساری دولت تھی۔ وہ اس گھوڑے سے کھیت جوتتا، فصل اُگاتا، اور اپنی گزر بسر کرتا۔ ایک دن گھوڑا بھاگ گیا۔ پڑوسی دوڑے دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا گھوڑا چلا گیا۔ اب تم کھیت کیسے جوتو گے؟ تم کیا کھاؤ گے؟ یہ تو بہت برا ہوا۔” بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟” پڑوسی حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ کچھ دن بعد گھوڑا واپس آیا۔ اور وہ اکیلے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ پڑوسی پھر دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی خوش قسمتی ہے! تمہارا گھوڑا واپس آیا اور دو اور گھوڑے بھی ساتھ لایا۔ اب تم بہت امیر ہو گئے۔” بوڑھے کسان نے کہا: “اچھا؟ برا؟ کون جانتا…

Read more

افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔ وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی…

Read more

مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔ اسلم نے ادب سے عرض کیا:“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔” حضرت عمر نے محبت سے اس کی…

Read more

ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…

Read more

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، “چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔”سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے…

Read more

160/740
NZ's Corner