گدھا اور خرگوش
ایک گاؤں میں ایک کسان کے گھر ایک گدھا اور ایک خرگوش رہتے تھے۔ گدھا برسوں سے اس گھر کا حصہ تھا۔ کسان جب بھی کہیں جاتا، گدھے ہی پر سوار ہو کر جاتا۔ کھیتوں کا بوجھ اٹھانا ہو، منڈی جانا ہو یا دور دراز سفر، ہر مشکل کام گدھے ہی کے ذمے ہوتا۔ اسی وجہ سے گھر میں سب اس کی عزت کرتے تھے، مگر سب سے زیادہ خدمت اگر کوئی کرتا تھا تو وہ خرگوش تھا۔ شام کو گدھا تھکا ہارا واپس آتا تو خرگوش اس کے لیے پانی لاتا، اس کے گرد منڈلاتا، اس کی کمر سے گرد جھاڑتا اور خوب خاطر مدارت کرتا۔ایک دن خرگوش حسبِ معمول پڑوسی کے کھیت میں گاجریں کھانے جا پہنچا۔ ابھی چند ہی گاجریں کھائی تھیں کہ کھیت کے رکھوالے کتوں نے اسے دیکھ لیا۔ پھر کیا تھا، پورا جھنڈ اس کے پیچھے لگ گیا۔ خرگوش اپنی پھرتی کی وجہ سے…
“نیت کی سچائی اور غیب سے مدد”
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…
کچھ محبتیں طوفان میں ماند نہیں پڑتیں
1917ء کے خزاں میں، نیویارک جانے والا ایک مسافر بردار جہاز بحرِ اوقیانوس کی ہولناک طوفانی لہروں سے نبرد آزما تھا۔ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا—سینکڑوں مہاجر ایک بہتر مستقبل کے خواب لیے اس سفر پر نکلے تھے۔ انہی میں اٹلی کا اٹھائیس سالہ بڑھئی انتونیو روسو بھی تھا، جس کی گود میں اس کی پانچ سالہ بیٹی ماریا تھی۔ انتونیو کے لیے یہ سفر محض ہجرت نہیں، آخری امید تھا۔ اس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا چکی تھی، غربت نے سانس لینا دشوار کر دیا تھا، اور وہ اپنی بچی کے لیے ایک محفوظ زندگی چاہتا تھا۔ رات دو بجے کے کچھ بعد، دیوقامت موجوں نے جہاز کو گھیر لیا۔ نچلے ڈیک—جہاں تیسری کیٹیگری کے مسافر سو رہے تھے—پانی سے بھرنے لگے۔ اندھیرا، چیخیں، دعائیں، اور خوف… سب ایک ساتھ ٹوٹ پڑے۔ انتونیو چیخوں سے جاگا، جہاز تیزی سے ایک طرف جھک رہا تھا۔…
سب سے بڑی طاقت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، اتنی پرانی کہ جب درخت ابھی جوان تھے اور پہاڑ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے تھے۔ غانا کی سرزمین پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تھا “کوفی آنا” یعنی وہ جگہ جہاں روحیں آرام کرتی ہیں۔ اس گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام کوامے تھا۔ کوامے غریب نہیں تھا، امیر بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی جو پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہ تھی — اس کی آواز۔ جب کوامے بولتا تھا تو لگتا تھا جیسے بارش کا پہلا قطرہ خشک زمین پر گرا ہو۔ جب وہ کہانی سناتا تھا تو بوڑھے رو دیتے تھے اور بچے سانس روک لیتے تھے۔ وہ Griot تھا یعنی قبیلے کا کہانی کار، حافظہ، اور ضمیر۔ اس کی ایک بیٹی تھی آبینا۔ آبینا نام کا مطلب ہوتا ہے: “منگل کے روز پیدا ہونے والی لڑکی۔” لیکن آبینا کو لوگ اس…
کھوٹے سکوں والا نانبائی
بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…
وحشی گھوڑا اور دانا سوار
ایک زمانے میں ایک عظیم بادشاہ تھا، جس کے اصطبل مں ایک نہایت شاندار، طاقتور اور خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی چال میں غرور، آنکھوں میں آگ، اور جسم میں بجلی سی تیزی تھی۔ مگر ایک مسئلہ تھا… وہ گھوڑا مکمل طور پر بے قابو تھا۔ کوئی شخص اسے قابو میں نہ لا سکا۔ بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کروا دیا: “جو شخص میرے اس جنگلی گھوڑے کو رام کر لے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا!” یہ سنتے ہی بہادر سپاہی، ماہر سوار، طاقتور پہلوان اور گھڑسواری کے استاد محل میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے دل میں انعام کی خواہش اور فتح کا جذبہ تھا۔ ایک ایک کر کے سب نے کوشش کی۔ کوئی لگام کھینچتا، کوئی زور آزمائی کرتا، کوئی اسے ڈرانے کی کوشش کرتا، کوئی طاقت سے جھکانا چاہتا… مگر گھوڑا ہر بار پہلے سے زیادہ بپھر جاتا۔ وہ کسی کو زمین…
“نیت کی سچائی اور غیب سے مدد”
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…
چالاک ملازم، کنجوس سیٹھ اور بولنے والا طوطا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں حاجی کریم بخش نام کا ایک بہت بڑا تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بڑی دکانیں، کئی نوکر، اور سونے چاندی سے بھرے صندوق تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بے حد کنجوس تھا۔ وہ اپنے نوکروں کو اتنی کم تنخواہ دیتا کہ بیچارے آدھی روٹی کھا کر کام کرتے۔ اگر کوئی ملازم ایک منٹ دیر سے آتا تو آدھے دن کی مزدوری کاٹ لیتا۔ اس کی دکان پر ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم غریب ضرور تھا مگر بہت ذہین اور خوش مزاج تھا۔ وہ ہر مشکل میں بھی ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک دن حاجی صاحب نے دیکھا کہ دکان میں چوہے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی کپڑے کتر دیتے، کبھی خشک میوہ خراب کر دیتے۔ حاجی صاحب غصے سے چیخا:“اگر یہ چوہے ختم نہ ہوئے تو سب کی تنخواہ کاٹ…
اونٹ اور ستارے
صحرا کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔سنہری ریت دن بھر سورج کی آگ سہنے کے بعد اب چاندنی کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش پڑی تھی۔ دور دور تک سکوت کا راج تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے ریت کے ذروں سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ایک بدوی اپنے وفادار اونٹ کے ساتھ ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ قریب ہی آگ کی ننھی سی لو جھلملا رہی تھی اور آسمان ستاروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے سیاہ مخمل پر چاندی کے ہزاروں موتی ٹانک دیے ہوں۔بدوی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے اونٹ سے کہا:“اے صحرا کے جہاز! کیا تم جانتے ہو کہ یہ ستارے کیا ہیں؟”اونٹ نے گردن ہلائی، ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولا:“ہاں، یہ میرے قدموں کے نشان ہیں۔”بدوی چونک گیا۔“تمہارے قدموں کے نشان؟”اونٹ نے فخر سے سر اونچا کیا۔“جی…
مکافات عمل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کرم دین نام کا ایک بوڑھا بڑھئی رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لکڑی کا کام کر کے اپنے اکلوتے بیٹے ساجد کو پڑھایا لکھایا اور بڑا آدمی بنایا۔ جب بیٹا جوان ہو گیا اور اس کی اچھے گھر میں شادی ہو گئی، تو اس نے بوڑھے باپ کو ایک بوجھ سمجھنا شروع کر دیا۔ باپ کے ہاتھ کانپتے تھے، اس لیے روٹی کھاتے وقت اکثر برتن گر کر ٹوٹ جاتا۔ بہو اور بیٹے نے تنگ آ کر باپ کو مٹی کا ایک سستا سا پیالہ لا دیا اور اسے گھر کے ایک کونے میں بٹھا دیا۔بوڑھا باپ خاموشی سے اس مٹی کے پیالے میں روٹی کھاتا اور اپنی قسمت پر روتا۔ ایک دن کرم دین کا سات سال کا پوتا صحن میں بیٹھ کر لکڑی کے ایک ٹکڑے کو چھری سے چھیل رہا تھا۔ ساجد دکان…
ایک کنجوس شخص کی کہانی
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر پر مغلوں کی حکومت تھی۔ انہی دنوں ایک شہر میں ایک ایسا دولت مند شخص رہتا تھا جس کی دولت کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے خزانوں میں اتنا سونا اور چاندی ہے کہ اگر کئی نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں تو ختم نہ ہو۔ اس کی تجارت دور دراز ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے قافلے شہروں اور صحراؤں سے گزرتے تھے، اور اس کی حیثیت اس قدر بلند تھی کہ مغل بادشاہ کے دربار تک اس کی رسائی تھی۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی بے پناہ دولت رکھنے کے باوجود وہ انتہا درجے کا کنجوس تھا۔ وہ قیمتی لباس خرید سکتا تھا مگر پرانے اور پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا۔ گھوڑوں اور بگھیوں کے اصطبل بھر سکتا تھا مگر میلوں پیدل چلتا تھا تاکہ سواری پر خرچ نہ آئے۔…
ڈاکٹر کی قربانی
ڈاکٹر کی وہ قربانی جس نے ایک باپ کو رُلا دیا…ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ایک مشہور ڈاکٹر صبح سویرے ہسپتال پہنچا۔ آج ایک انتہائی نازک آپریشن ہونا تھا۔ مریض ایک کم عمر لڑکا تھا جس کی جان خطرے میں تھی۔ آپریشن تھیٹر کی طرف جاتے ہوئے ڈاکٹر کی نظر ایک پریشان حال شخص پر پڑی جو راہداری میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ لڑکے کا باپ تھا۔ جیسے ہی اس نے ڈاکٹر کو دیکھا، تیزی سے اس کے پاس آیا اور قدرے ناراضی سے بولا: “ڈاکٹر صاحب! آپ کو آنے میں اتنی دیر کیوں ہوئی؟ کیا آپ جانتے ہیں میرا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے؟ اگر آپ کا اپنا بیٹا اس حالت میں ہوتا تو کیا آپ اتنے پرسکون رہتے؟” ڈاکٹر نے تحمل سے اس کی بات سنی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کس…
لومڑی کا انصاف
ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…
سکون کی زندگی
ایک دن ایک نہایت امیر تاجر سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی زندگی مسلسل مصروفیت، منصوبوں، کاروباری سودوں اور دولت بڑھانے کی جدوجہد میں گزرتی تھی۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ اگلا ہدف، اگلا منافع اور اگلی کامیابی گردش کرتی رہتی تھی۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی چھوٹی سی کشتی کے قریب ریت پر لیٹا ہوا سکون سے دھوپ سینک رہا تھا۔ قریب ہی چند تازہ مچھلیاں پڑی تھیں جو بظاہر ابھی ابھی پکڑی گئی تھیں۔ تاجر کو حیرت ہوئی۔ وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا: “ابھی تو دن کا آغاز ہے، تم نے مچھلیاں پکڑنا کیوں بند کر دیا؟” ماہی گیر نے اطمینان سے جواب دیا: “آج کے لیے جتنی ضرورت تھی، اتنی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔” تاجر نے حیرانی سے سر ہلایا اور بولا: “یہ تو بہت بڑی غلطی ہے! تم مزید مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔…
شیخ چلی کا اڑتا گدھا
نورپور ایک ایسا گاؤں تھا جہاں کی صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے نہیں، بلکہ اکثر و بیشتر شیخ چلی کے کسی نئے اور انوکھے کارنامے کی گونج سے شروع ہوتی تھیں۔ گاؤں کے لوگ دل کے برے نہیں تھے، مگر شیخ چلی کی روز روز کی خیالی پلواؤ پکانے کی عادت سے سبھی واقف تھے۔ شیخ چلی کا ایک ہی ساتھی تھا، اس کا وفادار اور سست رفتار گدھا، جس کا نام اس نے بڑے پیار سے “چونچو” رکھا تھا۔ چونچو بھی اپنے مالک کی طرح دنیا و مافیہا سے بے خبر، بس اپنے چارے اور نیند میں مست رہتا تھا۔اس دن بھی کچھ الگ نہیں تھا۔ شیخ چلی اپنے کچے مکان کے صحن میں کھٹیا پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی نظریں آسمان پر اڑتے ہوئے عقابوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کے دماغ میں خیالات کے گھوڑے نہیں، بلکہ گدھے دوڑ رہے تھے۔“اگر اللہ نے عقاب کو…
*تین سوال*
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیںوزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔ سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟…سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل…
خود کی تعریف
جنگل میں نعمتوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کہیں پھلوں کے ڈھیر لگے رہتے، کہیں اناج بکھرا پڑا ہوتا اور کہیں جانور دعوتوں میں مصروف نظر آتے۔ ہر جانور اپنی جسامت اور ضرورت کے مطابق کھاتا پیتا اور خوش رہتا، مگر ایک چونٹی تھی جس کے دل میں ہمیشہ ایک حسرت مچلتی رہتی تھی۔وہ جب ہاتھی کو ڈھیروں گھاس کھاتے دیکھتی، بھینس کو گھنٹوں جگالی کرتے دیکھتی یا ریچھ کو شہد کے چھتے صاف کرتے دیکھتی تو دل ہی دل میں سوچتی، “کاش میں بھی اتنا کھا سکتی”۔ اسی حسرت نے اسے ایک عجیب عادت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ خود تو ایک دانہ کھا کر سیر ہو جاتی، مگر بات ہمیشہ دیگوں کی کرتی۔وہ جب بھی کسی سے ملتی، کھانے کا ذکر ضرور چھیڑ دیتی۔اگر کوئی پوچھتا، “چونٹی بہن! کہاں سے آ رہی ہو؟”تو وہ گردن اکڑا کر جواب دیتی،“ارے مت پوچھو! لومڑی کے ہاں دعوت تھی۔ ایک…
حاضر دماغ کسان اور بادشاہ…..
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…
شاہی چھتری۔۔۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنے جنگل میں شیر بادشاہ کے محل میں ایک خاص نوکری نکلی۔ کام یہ تھا کہ بادشاہ کے تخت کے پیچھے کھڑے ہو کر شاہی چھتری سنبھالنی تھی۔ یہ ایک باعزت عہدہ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہر وقت بادشاہ کے قریب رہنے کا موقع ملتا تھا۔ جنگل بھر سے جانور آئے۔ان میں ایک چھوٹا سا خرگوش بھی تھا۔ وہ ذہین تھا، تیز تھا، آداب جانتا تھا اور ہر لحاظ سے اس نوکری کا اہل تھا۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو اسے صرف اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ اس کا قد بہت چھوٹا تھا۔لومڑی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: “بادشاہ کی شاہی چھتری اتنی اونچی ہے کہ تم اسے سنبھال ہی نہیں سکتے۔”آخرکار یہ نوکری ایک لمبے قد والے ہرن کو مل گئی۔خرگوش کا دل ٹوٹ گیا۔جب بھی وہ محل کے قریب سے گزرتا اور ہرن کو شاہی لباس میں…
بلاعنوان
ایک بھائی صاحب بیوٹی پارلر کے ویٹنگ روم میں بیٹھے میگزین پڑھ رہے تھے۔ 😌📖 بیوی اندر میک اپ اور فیشل کروانے گئی ہوئی تھی، اور بھائی صاحب سوچ رہے تھے کہ “بس پانچ منٹ کی بات ہو گی…” 😅 لیکن ایک گھنٹہ گزر گیا… پھر دوسرا… 😂 اتنے میں ایک خوبصورت عورت آئی، آہستہ سے ان کے کندھے کو دبایا اور بولی:“آئیے… چلتے ہیں!” 😳💕 بھائی صاحب کے تو پسینے چھوٹ گئے۔ 😰جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں دیکھ رہا۔ 😂 پھر ہکلاتے ہوئے بولے: “میں شادی شدہ ہوں… اور یہاں پارلر میں بیوی بھی ساتھ ہے!” 😭🤣 عورت نے ماتھا پکڑا، ہلکا سا غصے سے بولی: “ارے جناب! 😒 اتنی دیر میں میری شکل ہی بھول گئے؟ ذرا غور سے دیکھو…” “میں ہی ہوں!” 🤣🤣 منقول