Category Archives: Urdu Stories

ستر سال کا بابا مچھلی پکڑ رہا تھا کہ اچانک پانی سے آواز آئی… 😳🐸 “مجھے باہر نکالو!” بابا نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ چند لمحوں بعد پھر وہی آواز آئی: “ارے بابا! مجھے باہر نکالو!” 😄 اس بار بابا نے پانی میں جھانکا تو ایک مینڈک اسے گھور رہا تھا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا: “اوئے! کیا واقعی تم بول رہے ہو؟” 🤔 مینڈک بولا: “ہاں! بس مجھے باہر نکالو، پھر ایک بوسہ دو، میں فوراً دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی، اور تمہاری بیوی بن جاؤں گی!” 😍✨ بابا نے آرام سے مینڈک کو اٹھایا… اور سیدھا اپنی جیب میں ڈال لیا۔ 😅 مینڈک نے غصے سے کہا: “ارے! تم نے میری بات سنی نہیں؟ میں حسین لڑکی بن جاؤں گی!” 😳 بابا نے عینک سیدھی کی، مسکرایا اور ایسا جواب دیا کہ مینڈک بھی خاموش ہو گیا… 😂👇 “بیٹا… میری…

Read more

بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ مامون الرشید نے ایک نصرانی شخص کو پانچ سو درہم کے مطالبے میں قید کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ایک سوار کو روانہ کیا۔ راستے میں سوار کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کے سر پر گھاس کا ایک بڑا گٹھا تھا اور وہ ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ سوار نے آگے بڑھ کر اس گٹھے کو سیدھا کیا، لیکن وہ دوسری طرف جھک گیا۔ اس پر سوار کی زبان سے بے اختیار نکلا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» یعنی: “اللہ بلند و عظیم کے سوا نہ کسی میں طاقت ہے اور نہ قوت۔” نصرانی نے یہ کلمہ سنا تو اس کی عظمت کا اظہار کرنے لگا۔ سوار نے حیرت سے پوچھا: “جب تم اس کلمے کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو اور اسے اتنا بزرگ سمجھتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟”…

Read more

Read more

ایک مرتبہ ایک حاملہ ہرن کو اپنے بچے کی پیدائش کا وقت قریب محسوس ہوا تو وہ دریا کے کنارے موجود جنگل کی طرف چلی گئی، تاکہ کسی محفوظ جگہ اپنے بچے کو جنم دے سکے۔ مگر اچانک حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ ہر طرف خطرات ہی خطرات دکھائی دینے لگے۔ آسمان پر بجلی کڑکی اور جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ تیزی سے پھیلنے لگی تو ہرن گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ ایک طرف شکاری بندوق لیے نشانہ باندھے کھڑا تھا، دوسری طرف ایک خوفناک شیر موجود تھا، جبکہ پیچھے جنگل کی آگ پھیل رہی تھی اور سامنے دریا تھا۔ ہرن کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ اگر آگ کی طرف جاتی تو جل جاتی…دریا کی طرف جاتی تو ڈوبنے کا خطرہ تھا…شکاری اسے مار سکتا تھا…اور شیر اسے اپنا نوالہ بنا سکتا تھا۔ وہ سوچنے لگی: “میں کس طرف جاؤں؟ ہر طرف موت کھڑی…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…

Read more

کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک سمندر کا مینڈک کنویں میں گر گیا تھا۔ وہاں اسکی ملاقات کنویں کے مینڈکوں سے ہوئی اور وہ ان سے کافی گھل مل گئی اور محض کچھ لمحوں میں انکی دوستی ہو گئی۔۔۔ کنویں کا مینڈک اس سے پوچھتا ہے کہ یار یہ “سمندر” آخر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ سمندر بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے….. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کا ایک لمبا چکر لگاتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بڑا اور بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس پر وہ کنویں کا مینڈک کنویں میں پہلے سے “بہت بڑا” چکر لگا دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے…. یہ سن کر وہ کنویں…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…

Read more

میں نے ایک بار اپنے دادا سے پوچھا، جن کی شادی کو 60 سال سے زیادہ ہو چکے تھے:“پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت کرتے رہنے کا راز کیا ہے؟”مجھے امید تھی کہ وہ بات چیت، بھروسے یا معاف کرنے جیسی کوئی بات کہیں گے۔اس کے بجائے، انہوں نے کمرے میں دوسری طرف بیٹھی میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:“تم پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت نہیں کرتے۔”اس جواب نے مجھے دنگ کر دیا۔پھر انہوں نے بات جاری رکھی:“وہ ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے۔ اور اگر تم یہ نہیں سیکھتے کہ جو انسان وہ بن رہی ہے اس سے محبت کیسے کی جائے، تو تم بالآخر اسے کھو دو گے۔”“جس عورت سے میں نے اپنے بیس کی دہائی کے شروع میں شادی کی تھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ تیس کی عمر میں بنی۔ ماں بننے نے اسے بدل دیا۔ مشکل ادوار نے…

Read more

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک لائق، تجربہ کار اور جنگ میں بہادری کے لیے مشہور فوجی کمانڈر تھا۔ اپنی ایک شاندار فتح کے بعد، بادشاہ نے محل میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں کھانے پینے کی فراوانی تھی اور جشن دیر رات تک جاری رہا.جشن ختم ہونے کے کافی دیر بعد، کمانڈر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ اندھیرا تھا اور تقریباً سنسان تھا۔ جب وہ ایک موڑ کے قریب پہنچا تو اس نے اچانک دیکھا کہ جھاڑیوں میں ایک چیتا گھات لگائے بیٹھا ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ جانور ابھی چھلانگ لگانے ہی والا ہے۔شراب کے نشے میں دھت ہونے کے باوجود، اس کی برسوں کی تربیت کام آئی۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کمانڈر نے اپنا کمان نکالا، ترکش سے ایک تیر نکالا، پوری طاقت سے ڈور کھینچی اور تیر چلا دیا۔تیر اپنے نشانے پر جا لگا۔یہ یقین کرتے ہوئے کہ اس نے چیتے کو مار…

Read more

ایک بادشاہ اپنے عقل مند وزیر کے ساتھ اکثر سفر پر جایا کرتا تھا۔ وزیر ہر معاملے میں دانائی سے مشورہ دیتا اور آخر میں ایک جملہ ضرور کہتا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ کو کبھی کبھی یہ بات بہت ناگوار گزرتی۔ ایک دن دونوں شکار کے لیے جنگل گئے۔ اچانک جنگلی جانوروں نے حملہ کر دیا۔ کئی محافظ مارے گئے اور بادشاہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک انگلی کٹ گئی۔ وزیر نے بادشاہ کو دیکھا اور حسبِ معمول کہا: “بادشاہ سلامت، جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔ “میری انگلی کٹ گئی، میں درد سے تڑپ رہا ہوں، اور تم کہتے ہو یہ بہتر ہے؟!” غصے میں بادشاہ نے وزیر کو ایک گہرے کنویں میں دھکا دے دیا اور اکیلا آگے بڑھ گیا۔ وزیر کنویں سے بھی یہی کہتا رہا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” کچھ…

Read more

ایک لڑکے کو ڈاکٹر پسند آ گئی… اب جناب کیا کرتے…؟ وہ اپنے بزرگ والد کو روز کسی نہ کسی بہانے ہسپتال لے جانے لگا۔والد بیچارے سمجھتے رہے کہ بیٹا کتنا خیال رکھتا ہے… اصل میں معاملہ کچھ اور ہی تھا! جس ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ انتہائی خوش اخلاق بھی تھی۔ہر مریض سے پیار سے بات کرتی، خاص طور پر اس لڑکے کے والد کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر نے والد صاحب کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے کہا:“آپ دوائیاں وقت پر نہیں لیتے، اپنا خیال نہیں رکھتے!” یہ سن کر لڑکے کے دل میں لڈو پھوٹے…اس نے آہستہ سے اپنے والد کے کان میں کہا: “ابا… اگر یہ ڈاکٹر ہمارے گھر آ جائے نا… تو آپ کا کتنا خیال رکھے گی!” والد صاحب نے ایک لمحہ سوچا… پھر بولے: “بیٹا بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے…ابھی میری عمر ہی کیا ہے،…

Read more

ایک چینی بزنس مین کی کمپنی ایک عرصے تک سعودی عرب میں کام کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمپنی کا انتظام اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور خود چین واپس آ گیا۔اس کی خواہش تھی کہ زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن کے پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔ایک روز وہ چین کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی۔ وہ ایک معذور بزرگ خاتون کو ویل چیئر پر بٹھا کر لے جا رہی تھی۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود دونوں نے اپنے سروں اور جسم کو پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔یہ منظر دیکھ کر بزنس مین رک گیا۔اس نے قریب جا کر ان کا حال پوچھا اور حیرت سے پوچھا:“اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں نے پلاسٹک کی بوریاں…

Read more

ایک سلطنت کا بادشاہ بہت عقل مند مشہور تھا۔وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں سے ایسے سوال پوچھتا جن کا جواب صرف کتابوں میں نہیں، عقل میں چھپا ہوتا تھا۔ایک دن بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:“جو شخص مجھے یہ بتا دے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔کسی نے کہا، “لالچ۔”کسی نے کہا، “غصہ۔”کسی نے کہا، “غرور۔”بادشاہ کسی جواب سے مطمئن نہ ہوا۔اگلے دن ایک بوڑھا شخص دربار میں حاضر ہوا۔اس نے کہا:“بادشاہ سلامت! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھنا ہے کہ وہ ہمیشہ درست ہے۔”بادشاہ نے پوچھا،“تم ایسا کیوں کہتے ہو؟”بوڑھے نے جواب دیا:“کیونکہ جو شخص اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں غلط فیصلے کر سکتا ہے۔”بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا اور کہا:“آج سے میرے…

Read more

ایک مالدار تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اسے چند ایسے لڑکوں کی صحبت مل گئی جو سارا دن آوارہ گردی، عیش و عشرت اور دوسروں کے پیسوں پر موج اڑانے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ روز اسے اپنے ساتھ لے جاتے اور اس کی جیب سے اچھی خاصی رقم خرچ کروا دیتے۔ تاجر کئی دن خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے کہا: “بیٹا! انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ اچھی صحبت انسان کو سنوار دیتی ہے اور بری صحبت اسے برباد کر دیتی ہے۔” بیٹا مسکرا کر بولا: “ابا جان! آپ میرے دوستوں کو نہیں جانتے۔ وہ میرے سچے دوست ہیں۔ اگر کبھی مجھ پر مشکل وقت آیا تو وہ سب سے پہلے میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” تاجر نے کچھ دیر بیٹے کو دیکھا، پھر کہا:…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت پر ایک نیک دل، بہادر اور انصاف پسند راجا حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اپنے راجا سے بہت خوش تھی، کیونکہ اس کے دور میں ہر طرف امن، خوشحالی اور انصاف کا بول بالا تھا۔ راجا کے چار بیٹے تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بعد تخت پر وہی بیٹا بیٹھے جو واقعی ایک اچھا حکمران بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک دن راجا نے چاروں راجکماروں کو دربار میں بلایا اور کہا: “میرے بچو! میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے جانشین کا انتخاب کروں۔ لیکن میں یہ فیصلہ عمر یا پیدائش کی بنیاد پر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو سب سے زیادہ سمجھدار، سچا اور قابل ثابت ہوگا، وہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا۔” چاروں راجکمار حیرت سے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کے دو خاص مصاحب تھے، مگر دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دن موقع پا کر ایک مصاحب نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے: “حضور! آپ کا دوسرا مصاحب بہت منحوس ہے۔ اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر اس کا چہرہ دیکھ لے تو اسے پورا دن کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ میں نے خود کئی بار یہ بات آزمائی ہے۔ ایسا شخص آپ کی قربت کے قابل نہیں۔” بادشاہ نے مسکرا کر کہا: “اگر تم نے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد کسی دن کھانا نہیں کھایا تو اس میں اس بے چارے کا کیا قصور؟ ممکن ہے اس دن تم کام میں ایسے مصروف رہے ہو کہ کھانے کا وقت ہی نہ ملا ہو۔” چغل خور نے فوراً کہا: “حضور! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر آپ کو یقین نہیں…

Read more

واٹسن نامی ایک لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک بھوکے بوڑھے نے آکر سوال کیا۔ سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھانا ہو تو خُدا کی راہ میں دلوا دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دوزخ کو بھر لوں۔ “ واٹسن نے نہایت کراہت سے کہا۔ ”احمق بوڑھے ! یہ نانبائی کی دکان نہیں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ”کچھ پیسے ہی دے دیجیے کہ بازار سے روٹی خرید لوں۔“ واٹسن بولا۔ بس اب تقریر بازی ختم کر کے فوراً دفع ہو جاؤ۔ ورنہ ابھی کتا مزاج پرسی کرے گا۔“ غریب خاموش ہو کر نہایت بے دلی کے ساتھ چلا گیا۔ لیکن واٹسن جوں ہی میز پر بیٹھا اُسے معلوم ہوا کہ کسی بے احتیاطی سے چائے مکھن اور میوے کو مٹی کا تیل لگ گیا ہے اور سب چیزوں…

Read more

کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو اوپر کے پورشن میں ایک اور فیملی رہتی ہے۔۔ پتا چلا کہ وہ دوسری کالونی میں شفٹ ہو رہے ہیں اور یہ مکان چھوڑ دیں گے۔۔کافی اچھے اور معقول لوگ ہیں۔۔ لیکن کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ بندے کا انداز کافی سیریس سیریس سا تھا۔۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے میں دن میں کپڑے دھو کر تار پر ڈال رہا تھا تو وہ بندہ اوپر سے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔۔ میں نے سلام کیا تو وہ رک گیا اور روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔ میں نے مکان کی شفٹنگ کا پوچھا تو بولا۔۔ “ہاں جا رہے ہیں ایک آدھ دن میں”۔۔ میں نے اس کے خشک لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کچھ ناراض ناراض سے لگتے ہیں، کوئی ایشو ہے کیا۔۔؟ کہنے لگا۔۔”ہاں جی ایشو ہے”۔۔ میں نے کہا۔۔ “آپ مجھے بتانا پسند کریں گے”..…

Read more

بشار بن برد کا ایک گدھا مر گیا تو اس نے کہا:’’میرا گدھا قاضیوں سے بھی زیادہ سمجھ دار تھا؛ نہ اس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی اور نہ کوئی خطا۔ اچانک، جب کہ کسی کو اس کے بیمار ہونے کا گمان بھی نہ تھا، وہ بیمار پڑا اور مر گیا۔پھر میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے کہا: کیا میں تیرے لیے جو صاف نہ کیا کرتا تھا؟ اور تیرے لیے پانی ٹھنڈا نہیں کرتا تھا؟ پھر تیری موت کا سبب کیا ہوا؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب تم مجھے دوا فروش، یعنی عطار، کے پاس لے کر کھڑے ہوئے تھے؟میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: اسی وقت ایک گدھی وہاں سے گزری، تو میں اس پر فریفتہ ہوگیا اور اس کی محبت میں مر گیا۔بشار نے کہا: میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس بارے میں کچھ شعر بھی کہے تھے؟اس…

Read more

180/1804
NZ's Corner