Category Archives: Urdu Stories

جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال…

Read more

ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔ محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔…

Read more

بہت عرصہ پہلے قازقستان کے ایک طاقتور خان (بادشاہ) نے محسوس کیا کہ اس کا آخری وقت قریب ہے۔ اس کے تین بیٹے تھے، اور وہ چاہتا تھا کہ تخت اس کو ملے جو سب سے زیادہ سمجھدار ہو۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا:“میرے بیٹوں! اس وسیع میدان میں جاؤ اور میرے لیے سب سے قیمتی چیز لے کر آؤ۔ جو سب سے نایاب تحفہ لائے گا، وہی میرا جانشین ہوگا۔”شہزادوں کا سفربڑا شہزادہ: ایک دور دراز شہر گیا اور وہاں سے سونے اور ہیروں سے جڑا ایک خنجر لے آیا۔ اس کا خیال تھا کہ طاقت اور دولت سے بڑی کوئی چیز نہیں۔دربانی شہزادہ: ریشم کے تاجروں کے پاس گیا اور دنیا کا نفیس ترین لباس اور قالین لے آیا۔ اس کا ماننا تھا کہ شان و شوکت ہی بادشاہی کی علامت ہے۔سب سے چھوٹا شہزادہ: وہ گھوڑے پر سوار ہو کر دور دراز کے دیہاتوں…

Read more

قدیم زمانے کی بات ہے جب عظیم جرنیل اور عادل حکمران سلطان صلاح الدین ایوبی اسلامی دنیا کے بڑے سلطان تھے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپاہی تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی قدر دان تھے۔ دور دور سے لوگ ان کے دربار میں سوالات اور مسائل لے کر آتے اور وہ ہمیشہ دلیل اور دانائی سے جواب دیتے۔ایک دن چار مشہور یہودی عالم سلطان کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ بڑے پڑھے لکھے اور بحث و مباحثے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ دربار میں آنے کے بعد انہوں نے سلطان سے کہا:“اے سلطان! ہم نے اسلام کے بہت سے احکام سنے ہیں۔ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔”سلطان نے مسکرا کر کہا،“پوچھو، علم سوال کرنے سے ہی بڑھتا ہے۔”ان میں سے ایک عالم بولا:“آپ لوگ بکرے اور دنبے کو حلال کہتے ہیں مگر خنزیر کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اگر خنزیر اتنا ہی ناپاک اور غلیظ ہے…

Read more

وہ زمانہ بادشاہوں کا تھا۔ شہر بغداد اپنی رونقوں میں اپنی مثال آپ تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے بسا یہ شہر علم و حکمت کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ اُس وقت خلافت کی باگ ڈور ایک عادل اور درویش صفت بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ ہارون الرشید۔ بادشاہ کا نام سن کر لوگ عقیدت سے سر جھکا دیتے۔ لیکن بادشاہ خود عوام کے دکھوں سے بے خبر نہیں رہنا چاہتے تھے۔ وہ اکثر رات کی تاریکی میں اپنے وفادار وزیر، قاضی صاحب سے مشورہ کرتے۔ ایک رات، چاند اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔ بادشاہ نے قاضی سے کہا، “اے قاضی، یہ محل کی دیواریں مجھے حقیقت سے دور کر رہی ہیں۔ میں آج بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکلنا چاہتا ہوں۔ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری رعایا کیسے زندگی بسر کر رہی ہے۔” قاضی صاحب نے سر جھکا کر منظور کیا۔ دونوں نے سادہ گندم…

Read more

ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ سادہ مزاج اور محنتی انسان تھا۔ دن بھر جنگل میں لکڑیاں کاٹتا اور شام کو تھکا ہارا اپنے جھونپڑے میں لوٹ آتا۔ ایک دن اس کی دوستی ایک بندر سے ہو گئی۔ بندر نہایت خوش مزاج اور وفادار تھا، مگر ایک مسئلہ تھا — وہ بہت نادان تھا۔ لکڑہارا اکثر بندر کے ساتھ وقت گزارتا، اسے کھانا کھلاتا اور اس کی معصوم حرکتوں پر ہنستا۔ بندر بھی لکڑہارے سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہر وقت اس کی خدمت میں رہتا۔ ایک دن لکڑہارا سخت محنت کے بعد درخت کے نیچے سو گیا۔ بندر اس کے پاس بیٹھا اس کی رکھوالی کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک مکھی آ کر لکڑہارے کے چہرے پر بیٹھ گئی۔ بندر نے ہاتھ سے مکھی کو اڑانے کی کوشش کی، مگر مکھی بار بار واپس آ جاتی۔ بندر کو غصہ آ گیا۔ اس…

Read more

ایک شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک اندھا آدمی رہتا تھا۔ وہ سادہ دل اور نرم مزاج تھا۔ لوگ اسے جانتے تھے اور اس کی مدد بھی کرتے تھے، مگر وہ اپنی زندگی خود گزارنے کا عادی تھا۔ ایک رات وہ کسی کام سے باہر نکلا۔ جاتے وقت اس کے ایک دوست نے اسے ایک جلتا ہوا چراغ دے دیا۔ اندھے آدمی نے حیران ہو کر پوچھا:“میں تو دیکھ نہیں سکتا، یہ چراغ میرے کس کام کا؟” دوست نے مسکرا کر کہا:“یہ چراغ تمہارے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے ہے… تاکہ وہ تمہیں دیکھ سکیں اور تم سے ٹکرائیں نہیں۔” اندھا آدمی چراغ لے کر چل پڑا۔ وہ آہستہ آہستہ گلیوں میں چل رہا تھا۔ چراغ کی روشنی اس کے اردگرد پھیل رہی تھی۔ لوگ دور سے اسے دیکھ لیتے اور راستہ بدل لیتے۔ کچھ دیر بعد اچانک ایک آدمی اس سے آ کر ٹکرا گیا۔ اندھا…

Read more

ایک گاؤں کے قریب ایک وسیع چراگاہ تھی، جہاں ایک نوجوان چرواہا اپنی بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔ شروع میں وہ ایک سیدھا سادہ لڑکا تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ اکیلے پن اور بوریت کا شکار ہو گیا۔ روزانہ کا ایک ہی معمول — بھیڑیں چرانا، خاموش میدان، اور لمبا دن — اسے بے زار کرنے لگا۔ ایک دن اس کے ذہن میں ایک شرارتی خیال آیا۔ وہ زور زور سے چیخنے لگا:“بھیڑیا آ گیا! بھیڑیا آ گیا! بچاؤ!” گاؤں والے اپنی لاٹھیاں اور ہتھیار لے کر دوڑتے ہوئے آئے۔مگر جب وہ پہنچے تو وہاں کوئی بھیڑیا نہ تھا۔ چرواہا زور زور سے ہنسنے لگا۔ گاؤں والوں نے اسے سختی سے ڈانٹا اور واپس چلے گئے۔ کچھ دن بعد اس نے دوبارہ یہی مذاق کیا۔ “بھیڑیا آ گیا! بھیڑیا آ گیا!” لوگ پھر دوڑے آئے… اور پھر وہی نتیجہ — کوئی بھیڑیا نہیں۔ اب گاؤں والے ناراض ہو گئے۔ انہوں…

Read more

مصر کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب لوہار رہتا تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ دن بھر بھٹی کے سامنے پسینہ بہاتا، لوہا پیٹتا اور بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔ مگر وقت بدل گیا۔ شہر میں کام کم ہونے لگا، لوگ نئے ہنر سیکھنے لگے، اور یوسف کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ اس کے گھر میں چولہا بھی نہ جلتا۔ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے سوچا، “لوگ بیماریوں سے بہت پریشان رہتے ہیں، کیوں نہ میں حکمت سیکھ کر دواخانہ کھول لوں؟” حالانکہ اسے حکمت کا کوئی تجربہ نہ تھا، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔اگلے ہی دن اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور اس پر لکھ دیا:“حکیم یوسف — ہر بیماری کا علاج”شروع میں لوگ ہچکچاتے رہے، مگر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سانپ نے ایک جگنو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا جو گھاس کے اوپر نیچی پرواز کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد، تھکے ہوئے جگنو نے رک کر سانپ سے کہا:“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟”سانپ نے جواب دیا: “ہاں، پوچھ سکتے ہو۔”جگنو نے پہلا سوال کیا:“کیا میں آپ کی خوراک کا حصہ ہوں (یعنی کیا آپ مجھے اپنی غذا کے لیے کھاتے ہیں)؟”سانپ نے جواب دیا: “نہیں۔”جگنو نے دوسرا سوال کیا:“کیا میں نے کبھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہے؟”سانپ نے کہا: “نہیں۔”جگنو نے تیسرا سوال کیا:“پھر آپ مجھے کیوں کھانا چاہتے ہیں؟”سانپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا:“کیونکہ میں تمہاری روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔”کہانی کا سبق:کبھی کبھی آپ کی روشنی—آپ کی خوشی، آپ کا سکون، آپ کی کامیابی، یا آپ کی فطری خوبصورتی—دوسروں کے لیے چڑ کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں سخت خشک سالی رہی   وادی کے خشک اور بے چین ہونے سے بہت پہلے، زمین کے تمام  جانوروں نے ایک عظیم باؤباب (Baobab) درخت کے نیچے جمع ہو کر اپنے مشترکہ سرمایے کے لیے محافظوں کا انتخاب کیا۔ندیاں سب کی تھیں۔سبزہ زار سب کے تھے۔اناج کے گودام اور پھلوں کے باغات سب کے تھے۔لیکن جانوروں کا خیال تھا کہ ایسے خزانوں کو محافظوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی نگرانی کے لیے ایک کونسل کا انتخاب کیا—ایسے چالاک جاندار جنہوں نے دانائی، نظم و ضبط اور خوشحالی کا وعدہ کیا۔لکڑ بگھوں نے جوش و خروش سے اپنی خدمات پیش کیں۔“ہم طاقتور ہیں،” انہوں نے کہا۔“ہم ذہین ہیں۔”اور سب سے اہم بات، انہوں نے پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا، “ہم ‘مستقبل’ کی حفاظت کریں گے۔”جانوروں نے تالیاں بجائیں۔بکریاں، جو وادی کا سب سے بڑا حصہ تھیں، سب سے زیادہ شور…

Read more

صرف محنت کافی نہیں: بدلتے حالات اور صحیح مہارتاکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار صرف “مزید سخت محنت” پر ہے۔ لیکن کبھی کبھی اصل مسئلہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔اپنی انا اور تکبر کی وجہ سے ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد، خرگوش اس ہار کو تسلیم نہ کر سکا۔ اس نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا اور دن رات سخت ٹریننگ شروع کر دی۔ وہ اپنی پہلے سے تیز رفتار ٹانگوں کو مزید مضبوط اور توانا بنانے کے لیے جی توڑ محنت کرتا رہا۔ جب اسے لگا کہ اب اسے کوئی نہیں ہرا سکتا، تو وہ کچھوے کے پاس گیا اور اسے دوبارہ مقابلے کا چیلنج دیا۔کچھوا، جو ہمیشہ کی طرح پرسکون اور دانا تھا، مسکرایا اور بولا:“ٹھیک ہے، لیکن تمہاری اس کڑی محنت کا حق ادا کرنے کے لیے، اس بار راستے کا انتخاب میں کروں گا۔”خرگوش اپنی رفتار پر اتنا مغرور…

Read more

ایک پرسکون وادی میں، جہاں کی زمین بہت زرخیز تھی، دانُو نامی ایک کسان رہتا تھا۔ نسلوں سے اس کا خاندان اسی زمین پر کاشتکاری کر رہا تھا۔ زمین ان کی محنت کا صلہ فصلوں کی شکل میں دیتی تھی، اور اس کے گھر کا گودام ہمیشہ اناج سے بھرا رہتا تھا۔لیکن ایک سال بارشیں دیر سے ہوئیں اور فصل معمول سے کم ہوئی۔ دانُو کو اپنی ظاہری شان و شوکت کھونے کا ڈر ستا رہا تھا۔ جب لوگ اس کے گھر آتے تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اس کی تنگی کا اندازہ ہو۔چنانچہ اس نے ایک غلط فیصلہ کیا۔پہلے تو اس نے اپنی زمین کا ایک حصہ سوداگروں کو بیچ دیا۔ جو رقم ملی، اس سے اس نے عمدہ گوشت، شراب اور قیمتی کپڑے خریدے۔ اس نے اتنی بڑی دعوت دی کہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ ڈھول بجے، قہقہے لگے اور دانُو…

Read more

جو چیز شروع میں ایک نعمت لگتی ہے، وہ خاموشی سے آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ✨ایک پرانی لکڑی کی میز پر شہد کا جار اتفاقاً الٹ گیا، جس کی چمکتی ہوئی رنگت اور دلکش خوشبو نے فضا کو بھر دیا۔ مکھیوں کے ایک غول نے فوراً اس مٹھاس کو بھانپ لیا اور اس کی طرف لپکیں۔ شروع میں وہ کنارے پر رہیں اور تھوڑا سا چکھا۔ ذائقہ اتنا لاجواب تھا کہ وہ بار بار مزید کے لیے واپس آتی رہیں۔رفتہ رفتہ، وہ ایک اور گھونٹ کی چاہ میں اس چپکنے والے شہد کے بیچوں بیچ پہنچ گئیں۔لیکن جب وہ بہت زیادہ آگے بڑھ گئیں، تو ان کی ننھی ٹانگیں اب آزاد نہیں رہی تھیں۔ وہ گاڑھے شہد میں دھنس چکی تھیں۔ جب انہیں خطرے کا احساس ہوا اور انہوں نے اڑنے کی کوشش کی، تو ان کے پر شہد سے بھر کر بھاری ہو…

Read more

*حضرت آدمؑ کی پیدائش سے پہلے دنیا میں کیا تھا، اس بارے میں اسلامی تعلیمات، قرآنِ مجید اور احادیث کی روشنی میں علماء نے مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔*قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کائنات اور زمین کو حضرت آدمؑ کی تخلیق سے بہت پہلے پیدا فرمایا تھا۔ زمین ابتدا میں ایک خام اور غیر منظم حالت میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں پہاڑ، دریا، سمندر اور نباتات پیدا کیے۔ سورۂ بقرہ میں جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والے ہیں تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ کیا آپ وہاں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو فساد پھیلائے اور خونریزی کرے؟ مفسرین اس آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت آدمؑ سے پہلے بھی زمین پر کسی نہ کسی قسم کی مخلوق موجود تھی جس نے فساد کیا تھا، اسی لیے فرشتوں نے ایسا سوال کیا۔ اسلامی روایات…

Read more

جس شخص نے بھی یہ تحریر لکھی ہے، اس نے دراصل ایک پڑھے لکھے اور دردِ دل رکھنے والے پاکستانی کے دل کی کیفیت بیان کر دی ہے۔ سنگاپور 1965ء تک ملائیشیا کا ایک انتہائی پسماندہ علاقہ تھا۔زمین دلدلی، ویران اور بنجر تھی۔ لوگ سست، بے کار اور نااہل سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ صرف تین کام کرتے ہیں: بحری جہازوں سے سامان اتارتے ہیں، چوری چکاری کرتے ہیں اور بحری جہازوں سے چوہے پکڑ کر کھاتے ہیں۔ ملائیشیا ان سے بہت تنگ آ چکا تھا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ تنکو عبد الرحمن کے دور میں جب سنگاپور نے آزادی کا مطالبہ کیا تو پارلیمنٹ کے کل 126 ارکان نے سنگاپور کے حق میں ووٹ دے دیا۔ اس بل کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں تھا۔ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ہم ان بے کار لوگوں اور دلدلی زمین کو اپنے پاس رکھ…

Read more

ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک نہایت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا۔ پورے گاؤں میں اس گھوڑے کی مثال دی جاتی تھی۔ ایک دن وہ گھوڑا اچانک بھاگ گیا اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔ گاؤں والے جمع ہو کر کہنے لگے:“کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا سب سے قیمتی گھوڑا چلا گیا!” بوڑھا کسان سکون سے بولا:“شاید… یہ بدقسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” چند دن بعد وہی گھوڑا واپس آیا، مگر اکیلا نہیں — اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ اب گاؤں والے خوش ہو کر کہنے لگے:“واہ! یہ تو بہت بڑی خوش قسمتی ہے!” بوڑھا پھر مسکرا کر بولا:“شاید… یہ خوش قسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” کچھ دن بعد کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ گر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ لوگ افسوس کرتے ہوئے کہنے…

Read more

ایک انگریز کو پنجابی سیکھنےکا بہت شوق تھا کسی نےاسے بتایاکہ چک نمبر 136کےقدیم بزرگ بابا بخشی پنجابی کی بہترین تعلیم دیتےہیںانکے پاس چلےجاؤ.انگریز نےبس پر سوار ہو کر 136چک کی راہ لی بس نےاسےجس جگہ اتارا چک وہاں سےایک گھنٹےکی پیدل مسافت پرتھا‏انگریز بس سےاترکر چک نمبر136 کی طرف پیدل چل پڑا ابھی تھوڑی دور ہی گیاتھا کہ اس نےدیکھا کہ ایک شخص چارپائی کا بان بنا رہاتھاانگریز نے پوچھاoh man تم یہ کیا کرتا؟اس آدمی نےجواب دیا:گورا صاب!میں وان “وٹ” رہا ہوں انگریز نےحساب لگایا کہ ٹوئسٹ کرنا کو پنجابی میں “وٹ” کہتے ہیں‏انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگےچلا تو کیا دیکھتا ہےکہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہےانگریز نے پوچھا:oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟دکاندار بولا: گورا صاب.! سویر دا کج وی نئیں”وٹیا” انگریز سوچ میں پڑگیا کہ پنجابی میں پیسےکمانے کو “وٹ” کہتےہیں😕خیر انگریز کچھ اور آگےچلا تو ایک شخص کو‏دیکھا, جو پریشانی کےعالم میں آسمان…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

(ایک افریقی لوک کہانی جو اس کہاوت سے ماخوذ ہے: “اکیلے چلنے والے سانپ کو ہی کلہاڑی سے مارا جاتا ہے”)بہت پہلے کی بات ہے، گھنے جنگل اور لمبی گھاس سے گھرے ایک گاؤں میں ادیوالے نامی ایک نوجوان شکاری رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور، تیز رفتار اور اپنی تیر اندازی کی مہارت پر فخر کرنے والا تھا۔ہر صبح، گاؤں کے شکاری جنگل میں داخل ہونے سے پہلے اکٹھے ہوتے تھے۔ وہ چھوٹے گروہوں میں مل کر چلتے، پانی اور کھانا بانٹتے اور ایک دوسرے کی حفاظت کرتے۔ بڑے بوڑھے ہمیشہ انہیں خبردار کرتے تھے:“جنگل میں کبھی اکیلے مت چلو۔ جھاڑیوں میں بہت سی چیزیں چھپی ہوتی ہیں۔”لیکن ادیوالے کا ماننا تھا کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور طاقتور ہے۔ وہ اکثر فخر سے کہتا: “ایک شکاری پانچ سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ جب آپ اکیلے چلتے ہیں، تو تمام کامیابی کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔”ایک…

Read more

200/740
NZ's Corner