Category Archives: Urdu Stories

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی نعمت تھی جو خریدی نہ جا سکتی ہو۔ محل سنگِ مرمر سے بنا تھا، فرشوں پر ریشم بچھا تھا، خواب گاہ میں نرم ترین بستر، خوشبودار عطر، قیمتی پردے اور ہر وہ آسائش موجود تھی جسے انسان سکون کا نام دے سکتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی محل میں ایک ایسی چیز نہیں تھی جس کے لیے بادشاہ ترس رہا تھا: نیند۔ رات آتی تو محل کی روشنیاں بجھ جاتیں، پہرے دار اپنی جگہ سنبھال لیتے، خادم خاموشی سے دروازے بند کر دیتے، مگر بادشاہ کی آنکھوں سے نیند کو جیسے کوئی پرانی دشمنی تھی۔ وہ کروٹ بدلتا، پھر دوسری کروٹ، کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول دیتا۔ کبھی نرم تکیے پر سر رکھتا، کبھی بستر بدلوا دیتا۔ کبھی طبیب بلاتا، کبھی حکیم، کبھی دور دراز کے ملکوں سے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

Read more

ایک انگریز کو بچپن سے ہی عجیب سا خوف تھا کہ جب بھی وہ سوتا ہے، اس کے بیڈ کے نیچے کوئی نہ کوئی ضرور چھپا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، وہ بڑا ہوگیا، مگر اس کا خوف ختم نہ ہوا۔ آخرکار تنگ آ کر وہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس پہنچا اور بولا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی علاج کریں، ورنہ میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤں گا!” ماہرِ نفسیات نے کہا:“بالکل علاج ہو سکتا ہے۔ ہفتے میں تین دن میرے پاس آنا ہوگا، ایک سال میں آپ کا مسئلہ گارنٹی کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔” انگریز نے پوچھا:“فیس کتنی ہوگی؟” ڈاکٹر نے کہا:“200 ڈالر فی وزٹ۔” انگریز بولا:“ٹھیک ہے، میں سوچ کر بتاتا ہوں۔” تقریباً ایک سال بعد ایک تقریب میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔ ماہرِ نفسیات نے حیرت سے پوچھا:“ارے! تم میرے پاس علاج کے لیے آئے ہی نہیں؟” انگریز مسکرا کر بولا:“میرا مسئلہ تو میرے ایک…

Read more

ایک غریب آدمی کو کسی ضروری کام سے کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ غریب نے ساہوکار پر بھروسہ کیا، اس لیے نہ کوئی رسید لی اور نہ کسی کو گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد جب وہ واپس آیا تو سیدھا ساہوکار کی دکان پر پہنچا۔ اس نے کہا:“سیٹھ جی! میری امانت واپس کر دیں۔” ساہوکار نے حیرت کا ڈرامہ کرتے ہوئے کہا:“کون سی امانت؟ میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ منت سماجت کرتا رہا:“سیٹھ جی! اللہ کے واسطے، میرے ایک ہزار روپے واپس کر دیں۔ میں نے آپ ہی کے پاس رکھوائے تھے۔” مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ غریب کئی دن تک اس کی دکان کے چکر لگاتا رہا، مگر ہر بار…

Read more

ایک پہلوان ٹرین میں سوار ہوا، مگر بدقسمتی سے اسے بیٹھنے کے لیے کہیں جگہ نہ ملی۔ کافی دیر تلاش کرنے کے بعد اسے ایک سیٹ نظر آئی، جس پر ایک انگریز بڑھیا بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ اس کا کتا بھی سیٹ پر براجمان تھا۔ پہلوان نے مؤدبانہ انداز میں کہا: “محترمہ! اگر آپ اپنے کتے کو نیچے اتار دیں تو میں بھی بیٹھ جاؤں گا۔” بڑھیا غصے سے بولی: “میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے پوری ٹرین کا ایک چکر لگایا، مگر کہیں بھی جگہ نہ ملی۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اسی سیٹ کے پاس آیا اور بولا: “محترمہ! براہِ کرم اپنے کتے کو نیچے اتار دیجیے، مجھے واقعی بیٹھنے کی جگہ چاہیے۔” بڑھیا پہلے سے زیادہ غصے میں بولی: “میں نے کہا نا، میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان نے کچھ نہیں کہا۔ وہ سکون سے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گرم اور ریتلے علاقے میں رہنے والا ایک غریب آدمی اپنے بادشاہ کی سخاوت کے قصے اکثر سنتا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا: “اگر میں بھی بادشاہ کے لیے کوئی تحفہ لے جاؤں تو شاید وہ میری قدر کرے۔” لیکن سوال یہ تھا کہ وہ تحفہ کیا لے جائے؟ اس علاقے میں پانی بہت قیمتی تھا۔ دور دور تک نہ دریا تھا، نہ کنواں۔ بارش کے بعد تالابوں میں جمع ہونے والا پانی ہی لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا تھا۔ غریب آدمی نے سوچا، “میں بادشاہ کے لیے پانی کا ایک گھڑا لے جاؤں گا۔ میرے علاقے میں اس سے قیمتی تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟” اس نے ایک گھڑا صاف پانی سے بھرا اور کئی دنوں کا طویل سفر طے کرکے بادشاہ کے شہر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ بادشاہ دریا کے…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…

Read more

ایک شہزادے کو خوبصورت اور قیمتی لباس پہننے کا بہت شوق تھا۔ وہ روز نئے نئے کپڑے بنواتا، قیمتی پوشاک پہنتا اور پھر گھوڑے پر سوار ہو کر سیر و شکار کے لیے نکل جاتا۔ ایک دن بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! تم شہزادے ہو۔ تمہیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو ہر کسی کے نصیب میں نہ ہو۔ یہ قیمتی کپڑے جن پر تم اتنا فخر کرتے ہو، دنیا کا کوئی بھی امیر شخص بنوا سکتا ہے۔” شہزادے نے حیرت سے پوچھا: “پھر وہ کون سا لباس ہے جو ہر کسی کو نہیں مل سکتا؟” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وہ نیکی، عاجزی اور پرہیزگاری کا لباس ہے۔ سونے اور زری کے کپڑے چند دن بعد پرانے ہو جاتے ہیں، مگر نیکی کا لباس ہمیشہ نیا رہتا ہے۔ نہ یہ پھٹتا ہے، نہ میلا ہوتا ہے اور نہ کبھی اس کی چمک ختم ہوتی ہے۔” پھر بادشاہ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…

Read more

رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔ ایک آدمی ایک سنسان گلی سے گزر رہا تھا۔ گلی میں ایسی خاموشی تھی کہ اسے اپنے قدموں کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ اچانک ایک مکان کے اندر سے کسی کی بلند آواز سنائی دی: **”نہیں! پہلے بازو کاٹو… گلا بعد میں کاٹ لینا!”** آدمی کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: “یا اللہ! یہ تو کوئی خطرناک معاملہ لگتا ہے!” وہ مزید کچھ سننے کے لیے دیوار کے قریب ہوا تو اندر سے پھر آواز آئی: **”ذرا سیدھا پکڑو، ورنہ خراب ہو جائے گا!”** اب تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ وہ پوری طاقت سے وہاں سے بھاگا اور سیدھا قریبی پولیس چوکی پہنچ گیا۔ ہانپتے ہوئے پولیس والوں سے بولا: “جلدی چلیں! ایک گھر میں کوئی آدمی دوسرے کو کاٹ رہا ہے۔ پہلے بازو کاٹنے کا…

Read more

جنگل کے ایک کنارے پر مکار چوہا “مُنو” رہتا تھا۔ عقل میں تیز، زبان میں میٹھا اور کام کے معاملے میں ایسا سست کہ اگر کبھی محنت اس کے دروازے پر آ جاتی تو وہ کھڑکی سے جھانک کر دیکھتا اور پردہ گرا دیتا۔ کئی مہینوں سے روزگار کی تلاش میں تھا، مگر جہاں بھی جاتا، اس سے ایک ہی سوال ہوتا: “کیا کام آتا ہے؟” منو اس سوال کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔ آخر ایک دن وہ تھک ہار کر جنگل کی ایک ویران پگڈنڈی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک بوڑھا جانور درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس کے گرد جانوروں کا ہجوم تھا۔ کوئی دودھ لیے کھڑا تھا، کوئی شہد، کوئی پھل اور کوئی لفافہ۔ بوڑھا کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور کبھی اتنی گہری سانس لیتا کہ سامنے بیٹھا جانور بھی…

Read more

کئی برس پہلے کی بات ہے، جام صاحب کے پیر صاحب اوچ شریف کے میلے میں شرکت کے لیے سندھ سے آئے ہوئے تھے۔ میلہ ختم ہوا تو جام صاحب نے عرض کیا، “حضور! اتنی دور سے آئے ہیں، ہمارے غریب خانے کو بھی شرفِ میزبانی بخش دیجیے۔”پیر صاحب نے شفقت فرمائی اور جام صاحب کے گھر تشریف لے گئے ایک دو پہر کیلئے۔لیکن جام صاحب کے جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو پیر صاحب کی نظریں چاروں اطراف گھومنے لگیں۔ کبھی صحن کو دیکھتے، کبھی کمروں کو، کبھی سامان کو۔ پھر حیرت سے بولے، “جام صاحب! ماشاءاللہ! یہ اتنا بڑا گھر؟” جام صاحب نے فوراً ہاتھ باندھ لیے، “حضور! یہ سب آپ ہی کی کرم نوازی ہے۔ آپ کی دعاؤں کا صدقہ ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں، جو کچھ ہے آپ کی برکت ہے۔”پیر صاحب کا ارادہ تو چند لمحوں کا تھا مگر یہ سب کچھ دیکھ…

Read more

چولستان کا ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی، جو درخت کے ساتھ کھڑی کوئی ایک ایکڑ کی دوری پر اسے تکے جا رہی تھی، یہ دیکھ کر چرواہے کا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے چولستان میں بارش کی پیش گوئی سن لی ہو۔چرواہے نے بھی موقع غنیمت جانا اور عاشقانہ سگنل دینے شروع کر دیے۔ کبھی بکری کی رسی گھما کر اسٹائل مارتا، کبھی ریت پر دل بناتا، اور کبھی بالوں کو سنوارتا۔ لیکن دوسری طرف محترمہ ساکت کھڑی مسلسل اُسے دیکھے جا رہی تھیں، بغیر پلک جھپکائے، بغیر کوئی حرکت کیے۔ اب بندے کو لگا کہ یہ سچا عشق ہے۔ بس اب عشق کا پہلا امتحان دے کر عاشقوں کی فہرست میں شامل ہو جانا ہے۔ کچھ وقت کے بعد سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن ہمارا عاشق محبت کے میدان میں ڈٹا رہا۔ دل میں سوچ رہا تھا، سنا…

Read more

مولانا رومی نے ایک طوطے کی حکایت لکھی کہ ایک سوداگر نے سونے کے پنجرے میں بولنے والا طوطا رکھا ہوا تھا۔ سوداگر سفر پر جانے لگا تو اپنے طوطے سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہے تیرے لئے کیا لاؤں؟ طوطے نے کہا بس اگر کوئی طوطوں کا جھنڈ دیکھو تو میری طرف سے اتنا پیغام دینا کہ آزاد فضاؤں میں رہنے والو تمہیں سلام۔  کبھی اس قیدی کو بھی دیکھنے آجاؤ۔ سوداگر سفر پر نکلا اور ایک جگہ اسے درختوں پر طوطے نظر آئے تو اس نے باآواز وہ پیغام دیدیا۔ سن کر ایک بوڑھا طوطا نیچے گرا اور مرگیا۔ اسکے بعد دوسرے طوطے بھی درخت سے گر کر زمین پر مرگئے۔ سوداگر بے حد حیران ہوا اور واپسی پر اس نے اپنے طوطے کو آکر یہ سارا ماجرا سنایا تو اسکا پالتو طوطا بھی وہیں گرکر مرگیا۔ سوداگر  نے اسے پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا…

Read more

فرانس کی سرد رات تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور گلیوں میں ہوا اس شدت سے چل رہی تھی کہ راہ چلتے انسان اپنے کپڑوں کو جسم کے ساتھ لپیٹنے پر مجبور تھے۔ شہر کی روشن گلیوں سے کچھ دور، ایک تھکا ہارا شخص خاموشی سے چلتا جا رہا تھا۔ اس کا نام ژاں والژاں تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، آنکھوں میں برسوں کی محرومی، اور قدموں میں ایسی بےبسی جیسے وہ صرف سڑک پر نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کے بوجھ تلے چل رہا ہو۔ وہ انیس برس جیل میں گزار کر نکلا تھا۔ اس کا جرم کیا تھا؟ ایک روٹی چرانا۔ لیکن انیس برسوں نے اسے صرف قید نہیں کیا تھا؛ انہوں نے اس کے دل کے اندر بھی ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی تھی جس کے دوسری طرف انسانوں کے لیے محبت، اعتماد اور امید تقریباً دفن ہو چکے تھے۔ رہائی کے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جسم اتنا بھاری کہ چلتا تو زمین جیسے ذرا سوچ کر قدم اٹھاتی، سینگ ایسے کہ دور سے دیکھنے والا بھی راستہ بدل لیتا، اور خود پسندی ایسی کہ اسے یقین تھا کہ جنگل میں اس سے زیادہ باوقار، بااثر اور عظیم جانور شاید کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ دوسرے جانور اس کے ساتھ چلنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں، اس سے بات کرنا عزت سمجھتے ہیں اور اگر کبھی وہ کسی کو دیکھ کر سر ہلا دے تو وہ جانور اسے پورا دن اپنے لیے اعزاز سمجھ کر گزارتا ہے۔ مختصر یہ کہ بھینسے کو اپنی عظمت کا اتنا یقین تھا کہ اگر ایک دن جنگل کے سب جانور اسے نظرانداز کر دیتے تو وہ شاید یہ نتیجہ نکالتا کہ “آج پورا جنگل میری عظمت سے مرعوب ہو کر خاموش ہے۔حقیقت یہ…

Read more

ایک خوبصورت وادی میں ایک ننھی تتلی رہتی تھی جس کے پروں میں دنیا کے تمام خوبصورت رنگ سمائے ہوئے تھے۔ وہ دن بھر پھولوں کا رس پیتی اور ہوائیں گنگناتیں تو ان کے ساتھ ناچتی۔ لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی—وہ ہر وقت اس بات پر غمگین رہتی کہ رات ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا ہے اور اس کا خوبصورت روپ کسی کو نظر نہیں آتا۔ایک شام، جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈھل رہا تھا، تتلی ایک بڑے لال گلاب کی پتی پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔ پاس ہی ایک بوڑھا جگنو، جو رات کے لیے اپنا چراغ روشن کر رہا تھا، اس کے پاس آیا اور بولا:“پیاری تتلی! اتنی حسیں شام میں تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیسے؟”تتلی نے سرد آہ بھر کر کہا:“دیکھو نا جگنو! دن کے وقت تو سب میرے رنگوں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی رات آتی ہے، میری ساری خوبصورتی…

Read more

ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے سب سے عقلمند وزیر سے ایک سوال پوچھا:“مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے میٹھی چیز کیا ہے اور سب سے کڑوی چیز کیا ہے؟”وزیر نے مسکرا کر جواب دیا: “عالم پناہ! ان دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی ہے — انسان کی زبان۔”بادشاہ حیران ہوا اور بولا: “ایک ہی چیز میٹھی اور کڑوی کیسے ہو سکتی ہے؟”وزیر نے وضاحت کی: * جب زبان سے میٹھے بول نکلتے ہیں، نرمی اور عزت سے بات کی جاتی ہے، تو یہ دنیا کا سب سے گہرا زخم بھی بھر دیتی ہے اور بیگانوں کو بھی اپنا بنا لیتی ہے۔ * لیکن جب یہی زبان کڑوے الفاظ بولتی ہے، غصے اور نفرت کا اظہار کرتی ہے، تو یہ بنے بنائے رشتوں کو توڑ دیتی ہے اور دل پر ایسا زخم لگاتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔سبق:ہماری بول چال ہی ہماری شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ کمان…

Read more

ایک وادی میں ایک بوڑھا شاہین رہتا تھا، جس کی نظریں کبھی چیل کی طرح تیز اور پرواز ایسی تھی کہ آسمان کو چھو لیتی۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے پر بھاری ہو گئے، ناخن کمزور پڑ گئے اور شکار کرنا مشکل ہو گیا۔ اب وہ اکثر ایک اونچی چٹان پر بیٹھا اپنی پرانی عظمت کے دن یاد کرتا۔اسی پہاڑ کے نیچے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ جب اس نے بوڑھے شاہین کو کمزور اور لاچار دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس بوڑھے شاہین کو باتوں میں الجھا کر اس کا کام تمام کیا جائے اور آسانی سے ایک نوالہ حاصل کر لیا جائے۔لومڑی مسکراتی ہوئی چٹان کے قریب آئی اور بولیں:“اے شاہین کے راجہ! تم تو کبھی آسمانوں کے بادشاہ ہوا کرتے تھے، لیکن آج اس چٹان پر یوں الگ تھلگ اور اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اب…

Read more

200/1804
NZ's Corner