Category Archives: Urdu Stories

”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔ کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر جہاں بھی کہیں جاتا بس یہی صدا لگاتا۔”تین باتیں سن لو اور ہر بات کا معاوضہ سو روپے دے دو“ کوئی بھی اُس کی اس صدا پر کان نہ دھرتا تھا۔تنگ آکر فقیر دریا کی طرف نکل گیا۔وہ کنارے کنارے چلتا جاتا اور بڑبڑاتے ہوئے لوگوں کو کوستا جاتا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ وقت کا بادشاہ بھی سیر کیلئے وہاں آیا ہوا تھا۔اُس نے فقیر کو کوستے ہوئے سنا تو اُسے بلا کر وجہ پوچھی۔فقیر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا! ”میں تھکا ہارا (چندرا) بدنصیب ہوں۔“ جس نے قیمتی سودا سستے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے بھی میری نہ سنی۔بادشاہ بولا! ”فقیر!اب کہو میں تمہاری شرط منظور کرتا ہوں۔“ فقیر خوشی خوشی تیار ہو گیا۔ اس کے بعد فقیر نے تین باتیں سنائیں۔(1)”رات دا جگن بھلا“(یعنی رات کو جاگنا مفید ہے)پہلی بات بتا کر فقیر نے…

Read more

ایک دفعہ احمد کہیں جا رہا تھا۔اس نے راستے میں ایک بھکاری کو دیکھا، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور گرمی کی تیزی سے رنگت کچھ سیاہ ہو گئی تھی۔اس کے سامنے ایک برتن پڑا ہوا تھا، جس میں تھوڑے سے پیسے تھے۔احمد جب اس کے قریب سے گزرا تو بھکاری نے صدا لگائی:”اللہ کے نام پہ کچھ دے دو بیٹا!“احمد رُکا اور اس سے کہنے لگا:”آپ بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟ اسلام میں بھیک مانگنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔“بھکاری کہنے لگا:”بیٹا! تو پھر میں کیا کروں؟ آج کل مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بازار سے کچھ بھی نہیں خرید سکتا۔گھر میں بیوی بچے اکثر بھوکے سو جاتے ہیں۔“احمد نے کہا:”بابا! میں آپ کی مدد کروں گا۔آپ میرے ساتھ گھر چلیں۔ “احمد، بابا کو اپنے گھر لے آیا اور امی سے کہا:”امی جان! یہ ایک مجبور بھکاری ہے۔میں نے سوچا کہ اس کو بھیک والی لعنت…

Read more

کسی گائوں میں ایک فقیر اور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ ان کی سات بیٹیاں تھیں۔ غربت کے مارے یہ میاں بیوی اپنا اور بچیوں کا گزر بسر بھیک مانگ کر کیا کرتے تھے۔ ایک دن فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا کھیر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، یہ بات سن کر اسکی بیوی نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ کھیر ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ہے۔فقیر اسکا جواب دیتے ہوئے بولا کہ ہم دودھ ،چاول اور چینی بھیک میں مانگ لیں گے پھر تم مجھے کھیر بنا کر کھلانا ،بیوی بولی کہ میاں! بھیک میں تو یہ سب اتنا نہیں مل سکے گا کہ ہماری سات بیٹیاں بھی کھاسکیں۔ فقیر گویا ہوا کہ اری پریشان کیوں ہوتی ہے؟ ہم کھیر تب بنائیں گے جب ساری لڑکیاں سو جائیں گی۔ اس طرح انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور ہم جی بھر کر…

Read more

جنگل میں ایک شیر اپنے غار کے باہر شکار کئے ہوئے گوشت کا ایک ٹکڑا لئے کھانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک باز نے جھپٹا مارا اور گوشت پنجوں میں دبا کر اُڑ گیا۔باز کی اس حرکت پر شیر آگ بگولا ہو گیا۔اس نے عہد کر لیا کہ وہ جنگل کے سارے پرندوں کو کھا جائے گا۔ایک دن شیر نے جانوروں کو بلا کر کہا ”سنو! مَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ اِس جنگل کے تمام پرندوں کا شکار کر لو، مَیں اس جنگل میں ایک بھی پرندہ زندہ دیکھنا نہیں چاہتا، مَیں خود شکار کروں گا اور تم بھی اس مہم پر نکل جاوٴ۔“ شیر کے ساتھی تو پہلے ہی ان پرندوں سے پریشان تھے کیونکہ وہ عموماً ان کا مارا ہوا شکار لے اُڑتے تھے، اب وہ رات کو جب پرندے اپنے گھونسلوں میں سو رہے ہوتے تو ان کو کھا جاتے۔ اُلّو ایسا پرندہ ہے جو…

Read more

Un gato vivía en un bosque alejado del poblado, cerca del cual también vivía un zorro. Se encontraban a menudo en sus caminos y charlaban durante horas. El zorro estaba muy orgulloso de su astucia y solía contarle al gato historias sobre sus habilidades, la mayoría inventadas. Un día, bajo un sol radiante, se encontraron bajo un árbol frondoso. Los dos siguieron hablando durante un buen rato. El zorro dijo: «Oh, gato, si el mundo sufre cien calamidades o alguien me ataca, no me importa. Tengo miles de trucos y consejos. Escaparé de todos esos problemas, pero Dios no lo quiera, ¿qué harás tú si te enfrentas a algún desastre?». El gato respondió: «Oh, querido, solo recuerdo un truco. Si caigo en él, no podré salvar mi vida y moriré». Al oír esto, el zorro sintió mucha lástima por la gata y le dijo: «Siento mucho tu situación. Me gustaría…

Read more

ایک شہر میں ایک موچی رہا کرتا تھا۔مکان کے اوپر والے حصے میں اس کی رہائش تھی جبکہ نچلے حصہ میں اس نے اپنی دوکان قائم کر رکھی تھی۔ اسی دوکان کے ایک کونے میں اس نے نئے جوتے بنانے کے اوزار رکھے ہوئے تھے۔یہ اوزار ایک چھوٹی سی میز پر بڑے سلیقے سے رکھے ہوتے تھے۔موچی دن رات خوب محنت کرتا لیکن اس کے باوجود اسے اتنی آمدنی نہ ہوتی کہ وہ خوشحال زندگی گزار سکے۔یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب موچی کی تمام جمع پونجی بھی ختم ہونے کو تھی۔اب موچی بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا اس مرتبہ بل ادا کرنے کے بعد تو اس کے پاس نئے جوتے بنانے کیلئے بھی رقم نہیں بچے گی۔یہ خیال آتے ہی موچی کا دل کام سے اچاٹ ہو گیا۔وہ جو جوتے بنا رہا تھا اس کا چمڑا وہیں پڑا چھوڑ کر اُٹھا اور اپنے رہائش والے…

Read more

ایک دن بہار کے شروع میں ایک شخص ندی کے پانی میں اور کھیت میں سونا تلاش کر رہا تھا۔ گھنے جنگل کے قریب اس نے شیر کی گرج سنی۔ اس نے بہت احتیاط سے اردگرد دیکھا ۔گرج کی آواز دوبارہ آئی ۔سمت کا تعین کرتے ہوئے جہاں سے آواز آئی تھی اس نے بیس قدم کے فاصلے پر ایک بڑے شیر کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا۔آدمی شکاری نہ تھا اور نہ ہی اس کا ارادہ درندے کو مارنے کا تھا اگر وہ اس پر حملہ نہ کرے، اس نے جنگل میں کافی سال گزارے تھے اور وہ جانتا تھا کہ شیر خونخواردرندہ ہوتاہے وہ اس خطر ناک صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔شیر اس کی طرف بڑھا تب اس نے دھیمی آواز میں کراہنا شروع کر دیا۔ آدمی نے دیکھا شیر کا پچھلا پنجہ ایک پھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ آدمی نے پھندے میں پھنسے…

Read more

سمندر کنارے جہازوں کی رہنمائی کیلئے ایک روشنی کا مینار کھڑا تھا جس کے اوپر ایک گھونسلہ بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک سمندری بگلا اور ایک کھٹ بڑھئی رہتے تھے۔وہ دونوں بہت گہرے دوست تھے اور ہمیشہ سے اکٹھے رہ رہے تھے۔لیکن ننھا کھٹ بڑھئی پریشان تھا کیونکہ اُس کا دوست ایک بری اور خطرناک عادت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ ہر رات جیسے ہی سوتا بگلا اپنے گھونسلے سے اُڑتا اور سمندر کے اوپر چلا جاتا۔جب کبھی وہ ایسا کرتا تھا اُس کی زندگی خطرے میں ہوتی تھی کیونکہ کئی مرتبہ اُسے شارک مچھلیاں ہڑپ کرنے لگیں تھیں۔کیونکہ وہ رات کو جب اُڑتا تھا تو وہ دراصل سویا ہوتا تھا۔کھٹ بڑھئی خوفزدہ تھا کہ کہیں وہ سوتے میں اُڑتا ہوا اُتنی دور نہ نکل جائے کہ پھر واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔ ننھے کھٹ بڑھئی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کرے۔وہ بگلے…

Read more

ایک بلی آبادی سے دور جنگل میں رہتی تھی،جہاں قریب میں ہی ایک لومڑی کا بھی بھٹ تھا۔آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ہو جاتی تھی، پھر گھنٹوں آپس میں باتیں ہوتیں۔ لومڑی کو اپنی چالاکی پر بہت غرور تھا،وہ بلی کو زیادہ تر اپنی چالاکیوں کے قصے سنایا کرتی تھی،جن میں سے زیادہ تر من گھڑت ہوتے تھے۔ایک دن جب سورج انتہائی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی،ایک گھنے پیڑ کے نیچے دونوں کی ملاقات ہوئی۔خاصی دیر تک دونوں باتیں کرتی رہیں۔لومڑی نے کہا،”اے بی بلی،اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آجائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی پروا نہیں۔مجھے ہزاروں گُر اور ترکیبیں آتی ہیں،میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی،لیکن خدانخواستہ اگر تو کسی آفت سے دوچار ہو جائے تو کیا کرے گی بلی بولی،”اے بوا،مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب…

Read more

موسم برسات اپنی خوبصورتیوں اور ذائقے دار پھلوں کے ساتھ ختم ہو چکا تھا۔درختوں کے پتے تیزی سے گر رہے تھے اور سردیوں کی آمد تھی۔ایک امرود کے درخت پر ایک ننھی سی چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا۔چڑیا کا نام ہیبل تھا،اس گھونسلے میں اس کے بچے رہتے تھے۔مگر جب وہ بڑے ہوئے تو ایک دن ہیبل کو بتائے بغیر ہی ایسے اڑ کر گئے کہ واپس ہی نہ آئے۔ننھی ہیبل پہلے ہی ان کی وجہ سے اداس رہتی تھی۔ پھر جب سردیاں آئیں تو باقی پرندے بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں دبک گئے۔اب اس امرود کے پیڑ سے امرود بھی تقریباً ختم ہو چکے تھے، بس ایک آدھ امرود باقی رہ گیا تھا امرود کے تنے میں چند بڑی بڑی چیونٹیاں رہتی تھیں۔ہیبل سارا دن شاخ پر بیٹھی ان چیونٹیوں کو دیکھتی رہتی۔ سردیوں میں جب کبھی چیونٹیوں کا راشن ختم ہوتا تو ہیبل سے امرود مانگنے آجاتیں۔…

Read more

ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔(جاری ہے) کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔ اس نے چڑیا کو…

Read more

سردی اپنے عروج پر تھی ۔سورج ڈوبنے کے بعد سبھی انسان ،چرند پرند اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے اور سورج طلوع ہونے تک اپنے بستروں میں دبکے رہتے تھے ۔ہر طرف خاموشی اور سکون دیکھ کر بر گد کا بوڑھا درخت جلدی اونگھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے گہری نیند سو گیا لیکن اس گہرے سناٹے میں اچانک ہی ٹپ ٹپ ،ٹپ کی آواز کے ساتھ اس کے اندر نمی اترنے لگی ۔ سرد ترین رات میں بھیگنے کے احساس نے اس کی نیند توڑ دی ۔یہ کون بد تمیز ہے جو اتنی سردی میں رات کے وقت مجھ پر پانی ڈال رہا ہے ۔وہ غصے اور سردی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔یہ ٹوٹو طوطا تھا۔ جو اس کی ساخوں میں منہ چھپائے خاموشی سے آنسو بہار ہا تھا ۔معاف کرنا برگد چاچا! میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی ۔اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ بھائی…

Read more

! ایک جنگل کے بڑے حصے پر بھیڑیوں کی حکومت قائم تھی اور دوسرے چھوٹے سے حصے پر بھیڑوں کی حکمرانی تھی۔اکثر دونوں میں کسی نہ کسی بات پر لڑائی ہو جاتی۔بھیڑیے خونخوار اور طاقتور تھے، اس لئے بھیڑوں نے اپنی حفاظت کے لئے کتے پال رکھے تھے۔جب بھیڑیے ان پر حملہ کرتے تو یہ کتے ان کا مقابلہ کرتے اور بھیڑیوں کو بھگا دیتے۔کتوں کی وجہ سے بھیڑیں محفوظ تھیں۔جب بھیڑیوں اور بھیڑوں کو آپس میں لڑتے لڑتے ایک مدت گزر گئی تو جنگل کے چند دوسرے بڑے جانوروں نے بیچ میں پڑ کر دونوں میں صلح کرا دی۔طے پایا کہ دونوں طرف سے ایسی ضمانت دی جائے کہ امن قائم رہے۔بھیڑیوں نے تجویز پیش کی کہ وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز بچے ضمانت کے طور پر بھیڑوں کے سپرد کریں گے اور بھیڑیں اپنے کتے ہمارے حوالے کر دیں۔ یہ بات بھیڑوں کو پسند آئی اور معاہدہ…

Read more

ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔ کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔اس نے چڑیا کو مار کر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بہت ہی غریب دھوبی رہتا تھا۔ کپڑوں کی دھلائی کے ساتھ ساتھ اس کو آسمان کو قریب سے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اور اس کی بیوی روز دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھونے جاتے تھے۔ ایک روز جب اس کی بیوی کپڑے سکھا رہی تھی، تو اچانک اُس کی نظر آسمان پر پڑی۔ وہ کیا دیکھتی ہے کہ آسمان سے ایک ہاتھی اڑتا ہوا زمین پر اتر رہا ہے، اور جیسے ہی وہ زمین پر اترا، غائب ہوگیا۔ دو تین روز تک وہ یوں ہی ہاتھی کو زمین پر اترتے دیکھتی رہی۔ ایک رات اس نے یہ سارا ماجرا اپنے شوہر (دھوبی) کو بتایا۔ دھوبی پہلے تو بہت حیران ہوا، مگر پھر فیصلہ کیا کہ کل وہ خود اس ہاتھی پر نظر رکھیں گے کہ آخر یہ ہاتھی زمین پر کیوں اترتا ہے اور پھر غائب کیوں ہو جاتا…

Read more

احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔وہ شرارتی، ہنس مکھ اور سب کا دوست تھا، لیکن اس کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔اس کے پاس اسکول جانے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا جوتے کا تھا، اور وہ بھی کئی سال پرانا۔ایک دن صبح اسکول جاتے ہوئے وہ کیچڑ والے راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک جوتے کا اگلا حصہ پھٹ گیا۔احمد نے جوتے کو دیکھ کر آہ بھری۔”ارے یہ کیا ہوا! اب سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“ اس نے جلدی سے جوتے کو ہاتھ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اور زیادہ عجیب لگنے لگا۔بہرحال، وہ دل میں تھوڑی شرمندگی لئے اسکول پہنچ گیا۔جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا، اس کے دوست اکٹھے ہو گئے۔ایک دوست بولا:”واہ احمد! یہ تو کمال کا نیا ڈیزائن ہے۔ کہاں سے لیا؟“احمد نے حیرانی سے کہا:”یہ؟ اوہ، یہ میں نے خود بنایا ہے!“سب بچے ہنسنے لگے،…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی بْرا جانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ اس کی شکل ہو بہو بادشاہ سے ملتی تھی۔فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریب جیسی تھی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا آ رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔ بادشاہ نے غریب کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ میں ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کرتا۔ غریب کسان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ ایک تالاب…

Read more

ایک صاحب کا اصول تھا: “پڑوسی کا وائی فائی استعمال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ھے!” 😎 ایک رات انہوں نے یوٹیوب سے “ہیکنگ” سیکھی اور پڑوسی کا پاسورڈ چرانے بیٹھ گئے۔ ایک لنک کھلا: “صرف ایک کلک میں وائی فائی پاسورڈ حاصل کریں!” 😲 ان صاحب نے فوراً کلک کر دیا۔ 😈 اگلےھی لمحے… ان کے لیپ ٹاپ سے سب کچھ غائب! پھر محلے کے واٹس ایپ گروپ میں ایک ایک کر کے ویڈیوز آنے لگیں: واش بیسن کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے  صاحب۔ 🕺 “کدو کی سبزی” پر روتے ہوئے صاحب۔ 😭 اور بیگم کے لیے لکھی گئی شاعری: > “تیری آنکھیں وائی فائی جیسی ھیں، دل خود بخود کنیکٹ ھو جاتا ھے!” 😂 صبح دروازے پر پڑوسی آیا اور بولا: “بھائی! پاسورڈ مانگ لیتے…” “اب پورا محلہ آپ کے ساتھ کنیکٹ ھو چکا ھے!” 🤣🤣 سبق:فری وائی فائی کے چکر میں کبھی کبھی اپنی عزت کا…

Read more

ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے: “آفے دائے… آفے دائے…!” 😥 سرائیکی دوست نے سوچا: “ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹 وہ خاموش بیٹھا رہا۔ صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔ سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا: “بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺 بلوچ نے پوچھا: “کیا پڑھ رھے تھے؟” سرائیکی بولا: “بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇 یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا: “اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨 سرائیکی گھبرا کر بولا: “اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣 سبق:کبھی کبھی ایک لفظ…

Read more

200/1550
NZ's Corner