شیخ چلی اور اس کا گدھا
انوکھے سفر کی پراسرار داستان
پرانے زمانے کی بات ہے، ایک خوبصورت اور پرسکون گاؤں میں شیخ چلی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ شیخ چلی اپنی سادگی، معصومیت اور سب سے بڑھ کر اپنے خیالی پلاؤ پکانے کی عادت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ وہ اکثر دن کے اجالے میں ایسے خواب دیکھتا جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ کبھی وہ خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ تصور کرتا تو کبھی دنیا کا سب سے بڑا تاجر۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے پاس پہننے کو ایک پھٹا ہوا کُرتا، سر پر ایک پرانی پگڑی اور ایک وفادار گدھا تھا، جسے وہ پیار سے “مفتوں” کہتا تھا۔مفتوں کوئی عام گدھا نہیں تھا۔ وہ شیخ چلی کی ہر بات نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ اکثر اس کی حماقتوں پر اپنی لمبی لمبی زبان ہلا کر یا زور سے ہینگ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتا…
دریا
قدیم چین کے ایک پُرسکون خطے میں ایک دریا بہتا تھا۔ اس کا پانی شفاف آئینے کی مانند تھا، اور اس کی لہریں یوں گنگناتی تھیں جیسے قدرت کوئی خاموش نغمہ سنا رہی ہو۔ دریا کے کنارے ایک بزرگ فلسفی اکثر بیٹھا رہتا۔ وہ بہتے پانی کو دیکھتا اور اس کی روانی میں زندگی کے راز تلاش کرتا۔ایک صبح سورج کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں کہ ایک نوجوان وہاں آ پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں خود اعتمادی اور لہجے میں غرور تھا۔اس نے فلسفی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“استاد! لوگ کہتے ہیں کہ دریا کو روکا نہیں جا سکتا، مگر میں اسے تھام سکتا ہوں۔”فلسفی نے مسکرا کر کہا:“اگر ایسا ہے تو ضرور کوشش کرو۔”نوجوان آگے بڑھا۔ اس نے دونوں ہاتھ دریا کے پانی میں ڈال دیے اور پوری طاقت سے بہتے پانی کو روکنے کی کوشش کی۔مگر پانی ہنستا ہوا اس کی انگلیوں کے درمیان سے…
عقلمند مچھیرا
روس کے برف پوش جنگلات کے کنارے ایک نیلگوں دریا بہتا تھا۔ سرد ہوا درختوں کے درمیان سیٹیاں بجاتی پھرتی، اور پانی کی لہریں چاندی کی طرح چمکتی تھیں۔اسی دریا کے کنارے ایک غریب مگر حاضر دماغ مچھیرا بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بانس کی سادہ سی چھڑی تھی اور نگاہ پانی کی سطح پر جمی ہوئی تھی۔ وہ صبر سے مچھلی کے جال میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔اچانک جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔درختوں کے درمیان سے ایک دیوہیکل بھالو نمودار ہوا۔ اس کی گھنی کھال، بھاری پنجے اور گرج دار آواز کسی بھی شخص کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔بھالو مچھیرا کے قریب آیا اور غرایا:“اے انسان! مجھے فوراً مچھلی دو، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا!”مچھیرا اگرچہ دبلا پتلا تھا، مگر عقل کا خزانہ رکھتا تھا۔ اس نے گھبرانے کے بجائے مسکرا کر کہا:“بھالو بھائی! مفت کی مچھلی مانگنے سے بہتر ہے…
زبردستی کا ولی 😂
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…
دیانت داری کی اصل قیمت …ایک سبق آموز کہانی
دکان بند ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ قصاب دن بھر کی تھکن سمیٹ رہا تھا کہ اچانک ایک عورت جلدی جلدی دکان میں داخل ہوئی۔ “کیا آپ کے پاس کوئی مرغی باقی ہے؟” قصاب نے فریزر کھولا اور آخری بچی ہوئی مرغی نکال کر ترازو پر رکھی۔ “جی ہاں، یہی آخری ہے۔” ترازو نے تقریباً ڈیڑھ کلو وزن دکھایا۔ عورت نے مرغی کو غور سے دیکھا، پھر بولی: “کیا اس سے بڑی کوئی مرغی بھی ہے؟” قصاب ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ فروخت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔ اس نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، چند لمحے انتظار کیا، پھر نکال کر ترازو پر رکھ دی۔ اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر دبا دیا۔ وزن دو کلو ظاہر ہوا۔ عورت کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ “بہت خوب! پھر مجھے دونوں مرغیاں دے دیجیے۔” یہ سنتے…
امانت
ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔ اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل…
بلاعنوان
جنوبی امریکہ کے سرسبز ملک کولمبیا کے اوپر ایک بادل رہتا تھا، اور اس بادل کے دل میں ایک ایسی بارش بسی ہوئی تھی جس کے سینے میں برسوں سے ایک خاموش اداسی پل رہی تھی۔دن بھر وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی رہتی، پہاڑوں کے سروں کو چھوتی، دریاؤں کے اوپر سے گزرتی اور جنگلوں پر سایہ کرتی، مگر اس کے دل کا بوجھ کم نہ ہوتا۔ایک رات جب چاند بادلوں کے پیچھے چھپ چھپ کر جھانک رہا تھا، بارش نے آہ بھری اور نیچے سوئی ہوئی زمین سے کہا:“اے زمین! میرے دل میں ایک درد ہے۔ میں رونا چاہتی ہوں، بہت رونا چاہتی ہوں۔”زمین نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:“پھر رو کیوں نہیں لیتی؟”بارش کی آواز کانپ گئی۔“میری مشکل یہی تو ہے۔ میں آنسو نہیں بہا سکتی، کیونکہ میں خود پانی ہوں۔ جب بھی رونے کی کوشش کرتی ہوں، میرے آنسو بارش بن کر برسنے لگتے ہیں۔ لوگ…
حلب کا سنار اور ریت کی گھڑی
بہت زمانہ پہلے حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نامی ایک سنار رہتا تھا۔ وہ اپنے فن میں بے مثال تھا۔ اس کے تیار کردہ زیورات دور دور تک پسند کیے جاتے تھے، لیکن ایک خامی اس کی شخصیت پر حاوی تھی: لالچ۔ اس کا یقین تھا کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت نہیں بلکہ سونا ہے، اسی لیے وہ اپنی پوری زندگی دولت جمع کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ اس کے پڑوس میں ایک بزرگ اور دانا شخص رہتا تھا جسے لوگ احترام سے “الحکیم” کہتے تھے۔ وہ اکثر یوسف سے کہا کرتا: “یوسف! سونا تو مٹی کی مانند ہے، اصل خزانہ وقت ہے۔ ایک بار جو لمحہ گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔” مگر یوسف ہمیشہ یہ نصیحت ہنسی میں اڑا دیتا۔ ایک شام، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے غروب ہو رہا تھا، ایک پراسرار اجنبی اس کی دکان پر آیا۔…
اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔
ایک دن، ایک آدمی بحری جہاز کے ایک خوفناک حادثے میں بچ گیا اور بہتا ہوا ایک چھوٹے سے سنسان جزیرے پر پہنچ گیا۔ وہ اکیلا ہی زندہ بچا تھا۔ دن بہ دن، وہ خدا سے اپنی نجات کی دعائیں مانگتا رہا۔ ہر صبح، وہ ساحل پر کھڑا ہوتا اور افق پر نظریں جمائے رکھتا، اس امید میں کہ شاید کوئی کشتی اس کی طرف آ جائے۔کئی تھکا دینے والے دنوں کے بعد، اس نے لکڑی کے وہ ٹکڑے جمع کیے جو جہاز کے ملبے سے بہہ کر آئے تھے اور اپنے لیے ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا لیا۔ یہ کوئی بہت بڑا سہارا تو نہیں تھا، لیکن اس نے اسے سونے کی جگہ اور دھوپ اور ہوا سے تھوڑی حفاظت فراہم کر دی۔پھر ایک دوپہر، جزیرے پر خوراک تلاش کرنے کے بعد جب وہ ساحل پر واپس آیا، تو وہ حیرت اور صدمے سے وہیں جم گیا۔اس کا جھونپڑا…
مٹی کی خوشبو
ایک ادھورے خواب کی سچی داستانانسان کی زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی قیمت وہ اپنی پوری عمر چکا کر بھی ادا نہیں کر پاتا۔ میرا نام حیدر ہے۔ میری عمر پینتالیس سال ہے۔ آج جب میں اپنے اس عالی شان فارم ہاؤس کے لان میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا ہوں اور سامنے کھڑی قیمتی گاڑیوں کو دیکھتا ہوں، تو لوگ مجھے ایک کامیاب بزنس مین سمجھتے ہیں۔ مگر سچ پوچھیں تو اس کامیابی کی بنیادیں میرے اپنے بوڑھے باپ کے آنسوؤں اور اس مٹی کی بے وفائی پر رکھی ہیں جسے میں کبھی اپنی جان کہتا تھا۔یہ کہانی آج سے بیس سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب میں ایک تروتازہ، خوابوں سے بھرا چوبیس سال کا نوجوان تھاہمارا تعلق پنجاب کے ایک چھوٹے سے سرسبز گاؤں سے تھا۔ میرے بابا ایک جفاکش کسان تھے۔ ان کے پاس کوئی بہت بڑی جاگیر تو نہیں تھی،…
Negativo Negativo Más
¡La pareja desafortunada y el pobre Maulvi Sahib! 😂 Una historia divertida Un hombre, conocido por su mala suerte, se casó.Al día siguiente, su esposa falleció. Todos se entristecieron y lo comentaron. Unos días después, le encontraron otra chica para que se casara de nuevo. Era joven y la relación se concertó en otro lugar. La boda se celebró,pero al día siguiente, su segunda esposa también murió. La gente se sorprendió, pero lo consideró una coincidencia. Poco después, le encontraron otra chica; por suerte, esta vez también la relación se concertó en un buen lugar. La boda se celebró,pero ¿qué pasó? Al día siguiente, esta esposa también murió. Ahora la gente estaba convencida de que debía de ser una persona con muy mala suerte y comenzaron los rumores. Investigaron a fondo, pero el misterio no se resolvió.Sin embargo, el hombre empezó a guardar silencio. Cuando comenzaron a buscarle una cuarta…
بکری دو گاؤں کھا گئی
ایک دن مغل بادشاہ شاہ جہاں شکار کے لیے نکلے تو ایک زخمی ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے قافلے سے بچھڑ گئے۔ ہرن تو ہاتھ نہ آیا، مگر دوپہر ڈھل چکی تھی اور بادشاہ اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل آئے تھے۔ بادشاہ کو سخت پیاس لگی تھی۔ اتنے میں ان کی نظر بڑ کے ایک درخت پر پڑی، جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ایک گڈریا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔بادشاہ، جو شکار کے لباس میں تھے، نے گڈریے سے پانی مانگا۔ گڈریے نے معذرت کی کہ پانی ختم ہو چکا ہے، لیکن اس نے بڑی پھرتی سے ایک برتن کو بکری کے دودھ سے دھویا اور دوسری بکری کا تازہ دودھ دوہ کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔شاہ جہاں کو گڈریے کا یہ انداز اور خدمت کا جذبہ بہت پسند آیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی ہمت افزائی کی جائے۔ انہوں نے…
سب سے بڑا سچ
ایک بادشاہ تھا جس کی طاقت کا ڈنکا پورے ملک میں بجتا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، خزانے بھرے ہوئے تھے اور اس کے حکم کے آگے کوئی زبان نہیں کھول سکتا تھا۔ لیکن طاقت کے نشے میں وہ ظلم و جبر کا عادی ہو چکا تھا۔ لوگ اس سے محبت نہیں کرتے تھے، بلکہ اس سے خوف کھاتے تھے۔ ایک دن اس کے وزیر نے عرض کیا: “بادشاہ سلامت! آپ کے پاس سب کچھ ہے، مگر ایک چیز کی کمی ہے۔” بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: “وہ کیا؟” وزیر نے جواب دیا: “سچ۔” بادشاہ ہنس پڑا اور بولا: “میں بادشاہ ہوں، جو میں کہتا ہوں وہی سچ ہوتا ہے!” وزیر نے ادب سے کہا: “حضور! حکم اور سچ ایک چیز نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا اور آپ کے بعد بھی رہے گا۔” یہ بات بادشاہ کو ناگوار گزری۔ اس نے اعلان کروا دیا:…
روشنی
ایک پُرسکون صبح تھی۔ خانقاہ کے صحن میں ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ ایک نوجوان شاگرد، جس کی آنکھوں میں جستجو کی چمک اور دل میں بے قراری کا طوفان تھا، استادِ دانا کے حضور حاضر ہوا۔ادب سے سر جھکا کر بولا:“استادِ محترم! مجھے روشنی چاہیے۔ میں حقیقت کی ایک کرن کا طالب ہوں۔”استاد نے مسکرا کر کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے چائے کی کیتلی اٹھائی اور شاگرد کے سامنے رکھے کپ میں چائے انڈیلنے لگے۔کپ بھرتا گیا… لبریز ہوا… مگر استاد کا ہاتھ نہ رکا۔چائے کناروں سے چھلکنے لگی، میز پر پھیل گئی، پھر زمین کو بھی تر کرنے لگی۔شاگرد بے اختیار چیخ اٹھا:“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں ایک قطرہ بھی نہیں سما سکتا!”استاد نے کیتلی ایک طرف رکھی، شاگرد کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیرے سے بولے:“بیٹے! تمہارا ذہن بھی اسی کپ کی مانند ہے۔ اپنے خیالات، یقینوں، گمانوں اور…
جعلی پیر
ایک گاؤں میں ایک شخص آیا جو خود کو بڑا پیر اور صاحبِ کرامت بتاتا تھا۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اسے پوشیدہ باتوں کا علم ہے اور وہ ہر مشکل کا حل جانتا ہے۔ سادہ لوح گاؤں والے اس کی باتوں پر یقین کرنے لگے اور اسے تحفے اور نذرانے دینے لگے۔ گاؤں میں مریم نام کی ایک سمجھدار عورت رہتی تھی۔ اسے شک تھا کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے، مگر وہ بغیر ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتی تھی۔ ایک دن وہ ایک بند مٹکا لے کر پیر کے پاس پہنچی اور بولی: “اگر آپ واقعی سب کچھ جانتے ہیں تو بتائیے، اس مٹکے میں کیا ہے؟” پیر پریشان ہو گیا، لیکن اپنی جھوٹی شہرت بچانے کے لیے فوراً بولا: “اس میں سونے کا کڑا ہے!” مریم نے مسکرا کر مٹکا کھولا۔ اندر صرف چند کنکر پڑے تھے۔ مجمع خاموش ہو گیا۔…
بادشاہ اور قمیض
ایک ملک کا بادشاہ سخت بیمار ہو گیا۔ نہ بخار اترتا تھا، نہ نیند آتی تھی، نہ کھانے میں دل لگتا تھا۔ ملک کے نامور طبیب، حکیم اور معالج اس کا علاج کرنے آئے، مگر کوئی بھی اسے شفا نہ دے سکا۔ آخرکار ایک بزرگ حکیم دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے بادشاہ کا بغور معائنہ کیا، اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی بیماری کی دوا کسی دواخانے میں نہیں ملے گی۔ آپ کو ایک ایسے شخص کی قمیض پہننی ہوگی جو دل سے مطمئن ہو، اپنے رب سے راضی ہو، لوگوں سے راضی ہو اور اپنی قسمت پر خوش ہو۔” بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ پورے ملک میں ایسے شخص کی تلاش کی جائے۔ وزیر اور سپاہی نکل کھڑے ہوئے۔ وہ امیروں کے دروازوں پر گئے، علماء کے پاس گئے، تاجروں، درویشوں اور معزز لوگوں سے ملے۔ ہر شخص بظاہر خوش دکھائی…
صبح کا بھولا
آج سے کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے کہ ملک شام کے ایک شہر میں ایک نہایت پرہیزگار بزرگ تھے۔ ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا اور وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ لوگ ان کو اللہ کا ولی سمجھتے تھے اور ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بد قسمتی سے شیطان نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا۔ وہ اللہ کو بھلا بیٹھے اور ہر وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی کوئی عزت نہ رہی اور وہ ان کو ایک ذلیل دھوکےباز سمجھنے لگے۔ اللّٰہ تعالی نے بھی ان کے دل کا سکون اور چین چھین لیا ان کے کسی کام میں برکت نہ رہی اور وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو گئے…
باتوں کا بوجھ
پہاڑوں کے دامن میں بسی ایک خاموش خانقاہ سے دو ذین بھکشو سفر پر نکلے۔ صبح کی نرم دھوپ زمین پر سنہری چادر بچھا رہی تھی اور ہوا درختوں کی شاخوں میں کسی مدھر راگ کی طرح گنگنا رہی تھی۔ایک بزرگ بھکشو تھے، جن کے چہرے پر سکون کا نور جھلکتا تھا، اور ایک نوجوان بھکشو، جو عبادت و ریاضت میں تو کوشاں تھا مگر ابھی دل کی گہرائیوں سے ناواقف تھا۔چلتے چلتے وہ ایک تیز بہاؤ والی ندی کے کنارے پہنچے۔وہاں ایک نوجوان عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے سائے تھے۔ ندی کا پانی اتنا تیز تھا کہ وہ تنہا اسے پار کرنے کی ہمت نہ کر سکتی تھی۔اس نے جھجکتے ہوئے کہا:“مہربانی فرما کر میری مدد کیجیے، میں اس پار جانا چاہتی ہوں مگر پانی سے ڈرتی ہوں۔”بزرگ بھکشو نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ انہوں نے شفقت سے سر ہلایا، عورت کو اپنے…
اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو نمک کو کون درست کرے؟
عرب کے ایک بدوی نے اپنی ہی قوم کی ایک نیک، باحیا، خوش اخلاق اور دیندار لڑکی سے شادی کی۔ شادی کو ابھی ایک سال ہی گزرا تھا کہ اس کا اپنے ایک چچا زاد سے شدید جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ ایک شخص قتل ہو گیا اور قبائلی رسم و رواج کے مطابق بدوی کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک دوسرے قبیلے میں جا بسا۔ نئے قبیلے میں اس کا آنا جانا سردار کی مجلس میں رہنے لگا، جہاں قبیلے کے مسائل پر گفتگو اور مشورے ہوتے تھے۔ ایک دن قبیلے کا سردار کسی کام سے گزرتے ہوئے بدوی کے گھر کے قریب سے نکلا۔ اتفاقاً اس کی نظر بدوی کی بیوی پر پڑی۔ عورت کی خوبصورتی اور وقار نے اس کے دل میں ایک غلط خواہش پیدا کر دی۔ اس نے سوچا کہ کسی نہ کسی طرح شوہر کو گھر سے…
انصاف
ایک شخص نے دو شادیاں کیں اور زندگی بھر دونوں بیویوں کے درمیان ایسا انصاف کیا کہ لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ 🙂💁♂️ اتفاق دیکھیے کہ ایک دن دونوں بیویوں کا ایک ہی وقت میں انتقال ہو گیا۔ 😢 شوہر نے یہاں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑا… دو غسل والیاں بلائیں،دونوں کو ایک ہی وقت میں غسل دیا گیا۔ پھر مسئلہ آیا کہ گھر کا دروازہ ایک تھا! 🤔 فوراً مستری بلایا،دوسرا دروازہ بنوایا،اور دونوں جنازے ایک ہی وقت میں گھر سے نکلوائے گئے۔ 😅 دفن بھی ایک ہی وقت میں کیا گیا۔ کچھ دن بعد شوہر نے خواب میں ایک بیوی کو دیکھا… وہ ناراض کھڑی تھی! 😒 شوہر نے حیران ہو کر پوچھا:“میں نے تو زندگی بھر انصاف کیا، اب ناراضی کس بات کی؟” بیوی بولی: “انصاف؟! 😏 دوسری کو نئے دروازے سے نکالا…اور مجھے پرانے والے سے!” 🤣😂 بس پھر شوہر کی آنکھ کھل گئی… اور…