Category Archives: Urdu Stories

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔(جاری ہے) وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب…

Read more

ایک چھوٹی سی پہاڑی میں چوہوں کے کئی بل تھے، اس پر پودے بھی لگے ہوئے تھے۔پودوں کے درمیان میں چوہوں کے بل دکھائی نہیں دیتے تھے۔ان بلوں میں ایک بل ایک چوہیا کا بھی تھا۔وہ اکیلی رہتی تھی۔وہ کافی عقلمند تھی، اکثر چوہے اپنے مسائل لے کر اس کے پاس آتے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق حل بتاتی۔اس کے مشورے اکثر چوہوں کی مشکل کو دور کر دیتے تھے۔اسی لئے سب چوہے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات کے موسم میں بارشیں خوب برسیں، جس کے باعث کئی کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانور گھبرا کر ان بلوں کی طرف آ گئے۔چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے تو چوہوں کی غذا بن گئے، جبکہ بڑے کیڑوں کو انہوں نے وہاں سے مار بھگایا۔انہی میں ایک چھوٹا کچھوا بھی شامل تھا جو جسامت میں چوہوں سے تھوڑا سا بڑا تھا۔(جاری ہے) وہ ہر کسی کے…

Read more

علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن…

Read more

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔بادشاہ حیران تھا۔“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”بادشاہ خاموش ہو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل پر ایک شیر کی حکمرانی تھی۔ جنگل کے تمام جانور پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ شیر جب دھاڑتا تو اس کی ہیبت ناک گونج پورے جنگل پر چھا جاتی اور سب کو فوراً معلوم ہو جاتا کہ بادشاہ سلامت دربار بلا رہے ہیں۔ تمام جانور اسی وقت اکٹھے ہو کر شیر کے حضور پیش ہوتے اور وہ ہر کسی کو اس کے حصے کا کام سونپ دیتا۔اسی جنگل میں ایک مکار گیدڑ بھی رہتا تھا جسے شیر کا یہ جاہ و جلال ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ وہ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میں رہتا کہ کس طرح اس شیر سے جان چھڑائی جائے۔ آخرکار اس کے شیطانی ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ جنگل کے مضافات میں شکاریوں کا ایک ڈیرہ تھا جو جال اور بندوقوں سے لیس تھے۔ گیدڑ نے ان کے پاس جا کر پیشکش کی،…

Read more

بیگم نے اچانک شوہر سے موبائل📱مانگ لیا۔ شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا اور دل ھی دل میں درود شریف پڑھنے لگا۔ 😅 کال لاگ میں ایک نمبر نظر آیا: “اختر” بیگم نے پوچھا: “یہ اختر کون ھے؟” 🤔 شوہر بولا: “ماموں اختر ھیں!” 😶 بیگم کو شک ھوا، فوراً نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: “ہیلو…” (عورت کی آواز) بس پھر کیا تھا… پانچ منٹ بعد شوہر ہسپتال میں پٹیاں بندھوائے بیٹھا تھا۔ 🤕 وہاں اس نے دیکھا کہ سامنے والے بیڈ پر ماموں اختر بھی لیٹے ھیں! 😳 شوہر نے حیران ھو کر پوچھا: “ماموں جان! آپ یہاں؟” ماموں اختر آہ بھرتے ھوئے بولے: “بیٹا! تمہاری کال آئی تھی، میری بیگم نے عورت کی آواز سن لی…” 🤕🤣🤣

گاؤں میں رحیم نامی کمہار کی بہت شہرت تھی۔گاؤں کے ارد گرد دوسری آبادیوں کے لوگ رحیم کے بنائے گھڑے،تسلے،کونڈے،پیالے اور ہانڈیاں استعمال کرتے۔رحیم کے ہاتھ سے بنے برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔چکنے گھڑے میں رکھا پانی شدید گرمی میں بھی کئی دن تک ٹھنڈا اور ذائقے دار رہتا۔اسی طرح ہانڈیاں بھی سال ہا سال چلتیں اور ان میں پکنے والے سالن بھی ذائقے میں لاجواب ہوتے۔مٹی کی ہانڈی میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ کسی دوسرے برتن میں پکنے والے کھانے سے یکسر مختلف ہوتا۔رفتہ رفتہ رحیم کے برتنوں کی دھوم اور مانگ بڑھتی گئی۔گاؤں میں بیدو نامی ایک اور کمہار بھی رہتا تھا۔سرخ پہاڑیوں کے اس پار رہنے والا بیدو کمہار رحیم سے بغض رکھتا تھا اور کھلے عام اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے برتن دیدہ زیب تو ہوتے،مگر انتہائی ناپائیدار،جن کے کنارے جلد جھڑ…

Read more

ایک کنجوس آدمی کو ایک جادوئی چراغ ملا۔ رگڑتے ھی جن حاضر ھو گیا۔ 😳 جن: “تین خواہشیں مانگو، مگر شرط یہ ھے کہ تمہیں جو ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” کنجوس نے سوچا: “چلو ٹھیک ھے!” پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” اچانک خبر آئی کہ پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے۔ 😳 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” لیکن پڑوسی کے گھر ایک نہیں، دو گاڑیاں پہنچ گئیں! 🚗🚗 اب کنجوس غصے سے لال ھو گیا۔ 😡 تیسری خواہش پر بولا: “اے جن! میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن حیران ھو گیا: “تم پاگل ھو گئے ھو؟” کنجوس بولا: “مجھے منظور ھے… بس پڑوسی اندھا ھو جانا چاہیے!” 😂🤣 > “ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک آنکھ قربان کر دیں گے، بس پڑوسی کی دونوں چلی جائیں!” 😂😆

ایران کے ایک بادشاہ کو حکیموں اور دانشمندوں کی صحبت کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بار ایک دور دراز ملک کے مشہور حکیم کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ وہ طب پر ایک ایسی کتاب مرتب کرے جس میں تمام بیماریوں کے علاج کے طریقے نہایت سادہ زبان میں درج ہوں، تاکہ عام آدمی، یہاں تک کہ بچے بھی اسے پڑھ کر اپنا علاج خود کر سکیں۔ حکیم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ایک نہایت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی۔ بادشاہ اس کتاب سے بے حد متاثر ہوا اور حکیم کو لاکھوں روپے انعام سے نوازا۔کچھ عرصے بعد حکیم کا انتقال ہو گیا تو اس کا بیٹا بادشاہی حکیم مقرر ہوا۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح ذہین اور خدمت گزار تھا، اس لیے بادشاہ اس سے بہت خوش رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ وہی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

ایک گاوں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام میک تھا ۔ اس کا باپ کھیتی باڑئ کرتا تھا جو کہ بہت محنت اور مشقت کا کام تھا میک سکول پڑھنے جاتا ۔ اور سکول سے واپس أکر اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ اور کھیل کود میں وقت گزارتا ۔ اس کے باپ  نے سوچا کہ سکول سے پڑھنے کے بعد میک کو کسی کام میں مصروف رکھا جاے ۔ اور کھیل کود کے ساتھ کچھ سیکھنے کو بھی مل جاے ۔ میک کے باپ میک کو مرغی خرید کر دئ ۔ اور اسے اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہا  میک نے مرغی کے لیے ایک خوبصورت ڈربہ بنایا ۔ میک سکول سے گھر أنے کے بعد مرغی کو دانہ کھلاتا اور اسے پانی پلاتا۔ وقت گزرتا گیا ۔  میک کو جو پیسے ان میں کچھ خرچ کرتا اور باقی پیسوں سے مرغی کے لیے دانہ خریدتا…

Read more

کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے قریب ایک بوڑھا چوکیدار رہتا تھا جو راتوں کو کان کے دروازے پر پہرہ دیتا۔ کہا جاتا کہ کان کی گہرائیوں میں ایک پراسرار مخلوق بستی ہے جو لالچی کان کنوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ ایک نوجوان کان کن، جو زیادہ نمک نکال کر جلد امیر ہونا چاہتا تھا، رات کو چھپ کر بند کان میں گھس گیا۔ گہرائی میں جاتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور راستے آپس میں گڈمڈ ہونے لگے، جیسے کوئی جان بوجھ کر اسے بھٹکا رہا ہو۔نوجوان کا سانس پھولنے لگا اور خوف سے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اسے اپنی نانی کی نصیحت یاد آئی کہ ایسی حالت میں سورۃ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کی۔ آہستہ آہستہ اسے دور سے دروازے کی جانب سے ہلکی روشنی نظر آنے لگی، اور وہی راستہ جو کچھ دیر پہلے تک گم تھا، اب صاف…

Read more

پرانے بازار میں، ہر جمعرات کی شام، ایک عجیب سوداگر نمودار ہوتا جو نایاب اور خوبصورت اشیاء نہایت کم قیمت پر بیچتا۔ لوگ للچا کر اس سے سودا کرتے، مگر جو بھی اس سے کوئی چیز خریدتا، اگلے دن اس کے گھر میں کوئی نہ کوئی نقصان یا جھگڑا ضرور ہو جاتا۔ ایک بزرگ نے یہ بات محسوس کی اور غور کرنا شروع کیا۔ایک جمعرات، ایک بزرگ نے جان بوجھ کر اس سوداگر کے پاس گئے اور اس سے سودا کرنے سے پہلے بلند آواز سے “بسم اللہ” پڑھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کلمہ کہا، سوداگر کا چہرہ بگڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ بزرگ نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ انہوں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوداگر اپنے اسٹال سمیت دھویں کی طرح غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ صرف خالی زمین رہ…

Read more

Read more

ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔اس نے کہا۔”فکر نہ کرو،میں اس کا بندوبست کر دوں گی۔یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لئے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لئے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔اس نے لومڑی سے کہا۔”باہر کیوں کھڑی ہو،اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔”نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔میں یہاں…

Read more

ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر کی طرح سامنے کھلی رکھی ہے۔کہیں پر دریا میدانوں میں چکر لگاتے ہوئے بہہ رہے ہیں۔کہیں پرجھیلیں اور اُن کے آس پاس درختوں کے کنج پھولوں سے لدے ہوئے بہار کی پوشاک میں رونق افروز ہیں۔عقاب نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”اے اللہ میں تیرا کہاں تک شکر ادا کروں۔تو نے مجھے اڑنے کی ایسی طاقت دی ہے کہ دنیا میں کوئی بلندی نہیں ہے، جہاں میں پہنچ نہ سکوں، میں فطرت کے منظروں کا لطف ایسی جگہ بیٹھ کر اٹھا سکتا ہوں جہاں کسی اور کی پہنچ نہیں۔“ایک مکڑی درخت کی ایک…

Read more

220/1550
NZ's Corner