ایک ظالم بادشاہ اپنی سلطنت میں اس قدر سختی سے حکومت کرتا کہ عوام خوف کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے دربار میں آئی اور بولی: “بادشاہ سلامت، مجھے آپ سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کب مریں گے؟” بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے۔ کچھ دن بعد اسے دوبارہ دربار میں پیش کیا گیا اور وجہ پوچھی گئی کہ اس نے ایسی گستاخانہ بات کیوں کی۔
بوڑھی عورت نے کہا: “بادشاہ سلامت، میں یہ اس لیے پوچھ رہی تھی کیونکہ جب آپ مریں گے، تو شاید کوئی نرم دل حکمران آئے، اور میری زندگی کے باقی دن سکون سے گزریں۔ مگر جب سے میں نے یہ سوال پوچھا، آپ نے میری فکر کرتے ہوئے، اپنے رویے پر غور کرنا شروع کر دیا، اور مجھے پتا چلا کہ آپ کے دربار میں پہلے سے کچھ نرمی آ گئی ہے۔ شاید میرے اس سوال نے آپ کو یاد دلا دیا کہ ہر بادشاہت فانی ہے، اور اقتدار کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنا خوف پھیلایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد لوگ آپ کو کیسے یاد رکھیں گے۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس نے بوڑھی عورت کو رہا کرنے اور اپنے مظالم کم کرنے کا حکم دیا۔
اخلاقی سبق: موت کی یاد دہانی انسان کو انصاف اور نرمی کی طرف لوٹا سکتی ہے۔ حقیقی طاقت خوف پھیلانے میں نہیں بلکہ انصاف اور اپنی میراث کی فکر میں ہے۔
حوالہ/مصنف: روایتی مشرقی حکایت، حکمرانی اور انصاف کے موضوع پر مبنی حکایتی ادب میں رائج، مصنف نامعلوم۔
