Category Archives: Urdu Stories

ایک مرتبہ ایک فقیر کسی میدان سے گزر رہا تھا۔اسے دو سوداگر نظر آئے۔اس نے سوداگروں سے پوچھا:”بھائیو!کیا تمہارا اونٹ کھو گیا ہے؟“سوداگر خوش ہوئے اور بولے،”تم نے دیکھا ہے کیا؟“فقیر نے کہا،”کانا تو نہیں تھا اور دائیں پیر سے لنگڑا تو نہیں تھا؟“ان سوداگروں کو یقین ہو گیا کہ اس نے اونٹ دیکھا ہے،لہٰذا اسی سے معلوم کیا جائے۔وہ کہنے لگے،”بھائی یہ حقیقت ہے کہ وہ کانا اور لنگڑا تھا،مگر وہ گیا کہاں؟“فقیر نے اسی لہجے میں کہا،”آگے والا دانت ٹوٹا ہوا تو نہیں تھا؟“سوداگر جلدی سے بولے،”یہی جناب یہی،اللہ کے واسطے پتا بتا دو۔کہاں دیکھا تھا؟“فقیر نے ایک مرتبہ پھر اسی انداز میں کہا،”ایک طرف شہد کے ڈبے اور دوسری طرف گندم کی بوری لدی ہوئی تھی۔“اب دونوں کو پکا یقین ہو گیا۔کہنے لگے،”فقیر بابا!اب جلدی سے ہمیں چل کر بتائیے کہ اونٹ کہاں ہے“؟“فقیر نے کہا،بھائی!اگر سچ پوچھو تو نہ میں نے تمہارے اونٹ کو دیکھا ہے…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے ہندوستان پر اس وقت کے راجہ مہاراجے حکومت کیا کرتے تھے ۔ ایک ہندو راجے نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، وہ ایک ظالم بادشاہ تھا،بات بات پر وزیروں کو قتل کروادیا کرتا تھا۔ اُس کا ایک وزیر ایک عقلمند اور رحمدل شخص تھا ، وہ رعایا سے نیک سکول کرتا تھا اور اُن کی مدد بھی کرتا تھا۔وہ ایک مرتبہ دریا کی دوسری طرف جانے کیلئے دریا پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کے ایک ملاح نئی کشتی لئے اُس کے استقبال کیلئے موجود ہے۔ جب وہ دوسری طرف پہنچا تو وزیر نے دیکھا کہ بادشاہ کے ہر کارے کشتی پر قبضہ کرنے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ وزیر نے ملاح کی کشتی ان سے بچا لی تو وہ وزیر کا شکریہ کرتے ہوئے واپس لوٹ گیا۔کچھ عرصے بعد کسی نے اس مسئلہ پر وزیر کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے۔…

Read more

 عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان غنی کے مال وزر اور عطیات وسخاوت کی وجہ سے اسلام کے پھیلاؤ میں بڑی سہولت پیدا ہوئی۔حاتم کا تعلق”طے“نامی ایک قبیلے سے تھا۔اِسی کی نسبت سے اُسے حاتم طائی کہا جاتا ہے۔وہ یمن کا حکمران تھا۔یمن کا علاقہ عرب سے جڑا ہوا تھا۔عرب پر اُن دنوں نوفل نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ وہ حاتم کی سخاوت اور علاقے میں مقبولیت سے بہت پریشان تھا۔ اُس کی سخاوت سے محض یمن کے…

Read more

کسی باغ کے ایک گھنے درخت پر ایک فاختہ نے اپنا گھونسلہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور اُن کو دانہ دنکا بھی چگاتی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اُن بچوں کے بال وپر بھی نکلنے لگے تھے۔ ایک روز فاختہ کو اُسکے بچوں نے بڑی پریشانی کے عالم میں یہ بتایا؛ ” ماں ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا گھونسلہ برباد ہونے والا ہے ، آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا۔میرے بازو میں تکلیف ہے اسلئے یہ کام تنہا نہیں کرسکتا، مجھے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوگی“ یہ سُن کو فاختہ نے بچوں کو…

Read more

Read more

ایک دن گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوچا: > “آج شہر جا کے بڑے لوگوں والا کھانا کھایا جائے!” 😎سو سیدھے ایک مہنگے سے فائیو اسٹار ہوٹل جا پہنچے۔ 🏨 ویٹر نے مینیو کارڈ سامنے رکھا۔چوہدری صاحب نے مینیو کھولا۔ پہلا صفحہ انگریزی میں…دوسرا صفحہ انگریزی میں…تیسرا بھی انگریزی میں! 😵 اب چوہدری صاحب اپنی کم علمی ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے رعب سے انگلی ایک جگہ رکھی اور بولے:> “اوئے پُتر! بس ایہہ لے آؤ!” 😏 چند منٹ بعد ویٹر ایک پیالہ لے آیا، جس میں گرم پانی اور ایک لیموں کا ٹکڑا تیر رہا تھا۔ 🍋 چوہدری صاحب نے دل میں سوچا:> “واہ بھئی واہ! شہر والوں کے سوپ بھی کتنے نفیس ہوتے ھیں!” 😂 انہوں نے لیموں نچوڑا…چمچ اٹھایا…اور پورا “سوپ” مزے لے لے کر پی گئے۔ 😋 ویٹر کچھ دیر بعد آیا اور ادب سے پوچھا:> “سر! کیسا لگا؟” چوہدری صاحب نے مونچھوں…

Read more

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ  غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں  اس  کی غلّے کی  دکان تھی۔ اس  دکان میں  گندم، چاول،  گڑ، شکر، مکئی   اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری،  خوش اخلاقی اور غلے کے  مناسب داموں  کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں  دو نو عمر  لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی  تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اور عوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ اور ایک آنکھ سے محروم تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم ۔ اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی معزور تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک نہایت ہی ہوشیار مصور نے کہا:بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟تصویر میں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی…

Read more

Peces de colores habitaban el hermoso lago rodeado de arbustos. También había muchas ranas. Era la época de lluvias. Se veían ranitas saltando por todas partes. Tras perder la cola, les crecían extremidades y se transformaban de peces en ranas. Todas eran verdes o marrones. Pero todos jugaban y comían juntos. Entre ellas, una rana no era ni completamente verde ni marrón, sino una combinación de muchos colores, como los de un tambor. Se llamaba Tinku. Nadie se había dado cuenta, y Tinku no sabía que era diferente a las demás. Un día, salió el sol con fuerza. Era el primer sol en la vida de Tinku. Los días de lluvia llegaban a su fin. «¡Oh, guau! ¡Tinku, mira qué hermosa es!». Los colores de la rana brillaban intensamente bajo el sol. Todos se reunieron alrededor de la rana y comenzaron a elogiarla. La rana, un poco tímida al principio,…

Read more

ایک ہرئ بھری اور خوبصورت  چراگاہ میں بہت سے جانور رہتے تھے وہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ۔ ایک دن سب جانور اکھٹے ہوے اور وہ اپنے چراگاہ کے لیے بہت فکر مند تھے کیونکہ گرمی اور بہار کے موسم میں ہر طرف خوب ہری بھری گھاس ہوتی لیکن سردی  اور بارش کے موسم میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا جس کی وجہ جانوروں کھانے کے لیے کچھ بھی نا ملتا ۔ وہ بہت پریشان رہتے ۔ خرگوش ہمیشہ اپنے لیے ہر قسم کی سبزیاں اگاتا اور اپنے گھر میں جمع کر لیتا تاکہ بارش کے موسم میں وہ آرام سے وقت گزار سکے ۔ خرگوش نے سب جانوروں سے کہا کہ ہمیں اپنے لیے مظبوط گھر بنانے تا کہ ہم سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں ۔ سب جانوروں نے خرگوش کی بات مان لی اور بکری نے ہنس کر…

Read more

ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے ایسی لات ماری کہ وہ دنیا سے رخصت ھو گئی۔ 🫏 چند ماہ بعد اس نے دوسری شادی کر لی۔ ابھی نئی دلہن کو آئے چند ھی دن ہوئے تھے کہ گدھے نے اسے بھی اپنی “محبت بھری” دولتی کا نشانہ بنا دیا۔ 😳 اب بیچارہ دوبارہ تعزیتیں وصول کر رہا تھا۔ لوگ آتے، فاتحہ پڑھتے اور سوال کرتے۔ ایک شخص نے غور کیا کہ: – جب عورتیں کچھ پوچھتی ہیں تو وہ سر ہلا کر “ہاں” کہتا ھے۔ 😊– اور جب مرد کچھ پوچھتے ھیں تو وہ فوراً “نہیں” میں جواب دیتا ھے۔ 😐 آخر اس سے پوچھ ہی لیا گیا: “بھائی! یہ کیا راز ھے؟” وہ بولا: “عورتیں پوچھتی ھیں:‘اب پھر شادی کرو گے؟’تو میں کہتا ھوں: ‘ہاں!’ 😌 اور مرد پوچھتے ھیں:‘یار! گدھا بیچو گے؟’ تو میں صاف کہہ دیتا ھوں:‘نہیں بھائی! گدھا فروخت نہیں…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اور اُن کا بیٹا سلیمان تھا۔سلیمان جانوروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ لیتا تھا۔وہ مچھلی، بھیڑوں اور کیڑوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ گیا۔بادشاہ پوری دنیا کا سفر کرتا تھا اور اپنے بیٹے سلیمان کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ سلیمان ان سے حکمت سیکھے۔لوگ ہر وقت بادشاہ کے پاس اپنے مسائل کے لئے آتے تھے۔اگر انھیں کسی قسم کی پریشانی ہوتی تو وہ بادشاہ کے پاس آتے۔اور بادشاہ ہمیشہ بہت غور سے سنتا تھا۔اور اسی طرح سلیمان بھی سنتا تھا۔ایک دن جب سلیمان کی عمر گیارہ سال تھی، کچھ آدمی ایک مسئلہ لے کر آئے۔ایک چرواہا اور ایک کسان اور بھیڑوں کا ایک ریوڑ آ گیا۔(جاری ہے) سلیمان کو بھیڑ بہت پسند تھی۔ان کے پاس اُون کے خوبصورت کوٹ تھے۔ بھیڑیں بیں بیں کرتی رہیں اور وہ انھیں سمجھ گیا۔پہلا آدمی غصے…

Read more

اٹلی میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔ اس کی رعایا اُسے بہت ناپسند کرتی تھی مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس کی بہت تعریف کرتے تھے ۔ اُس بادشاہ کا ایک خوشامدی وزیر تھا ۔ وہ دن رات بادشاہ کی نیکی ، سچائی اور انصاف کی جھوٹی تعریفیں کرتا ۔ بادشاہ کا حکم تھا مجھے رعایا کے لوگوں کا حال سچ سچ بتایا کرو کہ کون کس حالت میں ہے اور میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ۔اس طرح میں ان کی رائے اور سب کے حالات صحیح طور پر معلوم کر سکوں گا ۔ اس کے جواب میں دوسرے وزیر توخاموش رہتے ، مگر تعریف کرنے والا وزیر فوراََ کہتا ، حضور کی نیکی اور انصاف کے چرچے سارے ملک بلکہ دنیا بھر میں ہوتے ہیں ۔بھلا وہ کون بے وقوف آدمی ہوگا جو حضور کے انتظام سے خوش نہ ہو ہمارے ملک کی رعایا…

Read more

ایک تھی لومڑی اور ایک تھا خرگوش۔ دونوں ہمسائے تھے۔ لومڑی بے حد چالاک اور مکار تھی جب کہ خرگوش سیدھا سادا سا۔ لومڑی رات دن مصروف پھرتی رہتی اور خرگوش ہر وقت گھوڑے بیچ کر سوتا رہتا۔ خرگوش کی تھوڑی سی زمین تھی لیکن اس پر محنت نہ کرنے کی وجہ سے بنجر پڑی تھی۔ ایک دن لومڑی خرگوش کے پاس آئی، اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کھیتی باڑی کا ذکر چھیڑا۔ پوچھا: “خرگوش میاں! تم روز بروز کاہل ہوتے جا رہے ہو۔ تمہاری زمین ابھی تک بنجر پڑی ہے اور کاشت کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن کیا کروں؟ مجھ سے زیادہ کام بھی تو نہیں ہوتا۔ خرگوش نے جواب دیا: “سچ پوچھو تو مجھے تمہاری بڑی فکر رہتی ہے۔ ڈرتی ہوں کہ خوراک پیدا نہیں کرو گے تو اگلی سردیوں میں بھوکے مرو گے۔” خرگوش یہ سن کر بڑا…

Read more

ایک دن پیر صاحب ایک مرید کے گھر تشریف لے گئے۔ سامنے گرم گرم بکرے کا گوشت، تازہ روٹیاں اور لسی حاضر تھی۔ 🍖😋 پیر صاحب مزے سے کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور مرید آ گیا۔ ہاتھ جوڑ کر بولا: > “پیر صاحب! کبھی ھماری دال روٹی بھی نوش فرما لیں، ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں!” 🥹🙏 پیر صاحب نے سوچا:> “چلو، ایک اور مرید کا دل رکھ لیتے ھیں۔” 😌🥀 چنانچہ فوراً اس کے ساتھ روانہ ھو گئے۔ گھر پہنچے تو مرید نے بڑے فخر سے دال اور روٹی پیش کر دی۔ 🍲🍞 پیر صاحب نے پہلا نوالہ لیا… پھر دوسرا… اور پھر اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے بدلنے لگے جیسے موبائل میں اچانک “Low Battery 1%” آ جائے! 😬 دال میں نہ نمک… نہ مرچ… نہ گھی… اور نہ ھی کوئی ایسی چیز جسے کھانے سے تعلق ھو! 😂 پیر صاحب نے پانی…

Read more

ایک امیر باپ کے تین بیٹے تھے۔ مرنے سے پہلے اس نے تینوں کو بلایا اور ہر ایک کو ایک ایک لکڑی کا گٹھا دیا جس میں دس دس لکڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس نے کہا: “اس پورے گٹھے کو توڑ کر دکھاؤ۔” تینوں نے پوری طاقت لگائی مگر بندھا ہوا گٹھا نہ ٹوٹ سکا۔ پھر باپ نے ہر گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی الگ الگ دی اور کہا: “اب انہیں توڑو۔” ہر ایک لکڑی آسانی سے، بغیر کسی زور کے، ٹوٹ گئی۔باپ نے کمزور آواز میں کہا: “بیٹا، یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ جب تک تم تینوں اکٹھے، ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہو گے، کوئی طاقت تمہیں توڑ نہیں سکے گی۔ مگر اگر تم آپس میں جدا ہو گئے، ہر کوئی اپنی راہ الگ چل پڑا، تو دنیا کی معمولی سی مشکل بھی تمہیں ایک ایک کر کے توڑ دے گی۔” کچھ عرصے…

Read more

ایک کمہار روزانہ اپنے بنائے ہوئے گھڑے بھٹے میں پکاتا۔ ایک دن دو گھڑے، جو ساتھ ساتھ پکائے گئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایک گھڑا شکایت کرنے لگا: “دیکھو، ہمیں کتنی تیز آگ میں جھونکا گیا، کتنی تکلیف سہنی پڑی، یہ کتنا ظلم ہے۔” دوسرا گھڑا خاموشی سے سنتا رہا۔ کچھ عرصے بعد دونوں گھڑے بازار میں فروخت ہونے کے لیے رکھے گئے۔ ایک گاہک نے دونوں کو ٹھونک ٹھونک کر آواز پرکھی۔ جو گھڑا آگ کی تپش پوری طرح جھیل کر مضبوط ہوا تھا، اس میں سے صاف اور بلند آواز نکلی، جبکہ جو گھڑا آدھا پکا رہ گیا تھا، اس میں دراڑ پڑ گئی اور وہ ٹوٹ کر رہ گیا۔مضبوط گھڑا برسوں تک ٹھنڈے پانی اور اناج کو محفوظ رکھنے کے کام آیا، لوگوں کے گھروں کی رونق بنا رہا، جبکہ کمزور گھڑا جلد ہی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ کمہار نے، جو یہ…

Read more

ایک مسافر پہاڑی علاقے میں سفر کرتے ہوئے رات کو ایک ویران مسافر خانے میں ٹھہرا جسے مقامی لوگ “منحوس” کہہ کر گزرتے تھے۔ رات گئے ایک بوڑھا شخص، سفید لباس میں ملبوس، اس کے کمرے میں داخل ہوا اور بغیر کچھ کہے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مسافر ڈر گیا، مگر بوڑھے کی آنکھوں میں کوئی بدی نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اداسی تھی۔بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “ڈرو مت، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں یہاں صدیوں سے پھنسا ہوں کیونکہ اپنی زندگی میں، میں نے ایک مسافر کو دھوکہ دے کر اس کا سارا مال لوٹ لیا تھا اور اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دیا تھا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ تب سے میری روح اسی گناہ کی وجہ سے یہاں بھٹک رہی ہے۔” مسافر نے ہمت کر کے پوچھا کہ کیا وہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ بوڑھے نے کہا: “میرے اہلِ…

Read more

سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ جنگل میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔نیلے پانی کی جھیل کے سامنے جنگل کے سارے جانور جمع تھے۔سب ہی تیز تیز بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔صبح سویرے ہی جنگل میں خلافِ معمول ہنگامہ مچ گیا تھا۔بی چڑیا نیلے پانی کی جھیل کے سامنے برگد کے درخت پر اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ ایک گھونسلے میں رہتی تھی۔برگد کا درخت بہت گھنا تھا اور اس میں کئی دوسرے پرندوں کے گھونسلے بھی تھے۔چڑیا معمول کے مطابق، صبح سویرے ہی اپنے ننھے منے بچوں کے لئے خوراک کی تلاش میں نکل جاتی تھی۔چڑیا کے جاتے ہی اس کے بچے بیدار ہو جاتے اور اُس وقت تک شور مچاتے رہتے، جب تک بی چڑیا جنگل سے کوئی دانا دُنکا، لا کر ان کے منہ میں نہ ڈال دیتی۔ بچوں کے جاگنے سے پہلے ہی خوراک کی تلاش میں نکل جایا کرتی…

Read more

چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔ ”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو…

Read more

Read more

سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔ اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا چوروں نے کہا کہ اچھا…

Read more

240/1550
NZ's Corner