Category Archives: Urdu Stories

بھیڑیاجو ندی پہ پانی پینے آیا تھا۔وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا بھی پانی پی رہا تھا۔ابھی اس بچے نے چند گھونٹ ہی پیے تھے کہ بھیڑیا اس کی طرف آیا اور بولا ”تم پانی گندا کیوں کر رہے ہو․․․․؟دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“بھیڑ کے بچے نے جسے میمنا بھی کہتے ہیں نے ڈرتے ہوئے کہا”جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آرہا ہے۔“بھیڑیا گرج کر بولا”تم نے پچھلے سال مجھے بُرا بھلا کیوں کہا تھا․․․؟“”جناب پچھلے سال تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔میری عمر تو ابھی صرف چھ مہینے ہے۔“”پھر وہ تمہارا بھائی یا باپ ہو گا۔“بھیڑیے نے کہا اور میمنے پر حملہ کرکے اسے کھا گیا۔لیکن بچو!یہ کہانی اُس میمنے کی نہیں اس کے چھوٹے بھائی کی ہے۔ وہ اکثر اپنی ماں سے اپنے بڑے بھائی کے بارے میں پوچھا کرتا تو اس کی ماں اسے یہ کہانی سناتی اور ساتھ ہی…

Read more

آج سے کئی سو سال پہلے چوہوں کا ایک خاندان چھوٹے سے بل میں رہائش پذیر تھا۔دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہیں نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کر سکتے تھے،سو سارا دن انہیں بھوکا رہنا پڑتا۔وجہ یہ تھی کہ بلی نہایت آسانی سے انہیں دیکھ لیتی اور شکار کر لیتی تھی،چوہے رات کو بھی نکلتے تو جب بھی چھپ چھپا کر نکلتے۔بلی کا خوف ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا۔وہ کتنی بھی احتیاط کیوں نہ برتے،بلی ایسے دبے پاؤں آتی کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی اور ان کا ایک ساتھی بلی کے لنچ یا ڈنر کی نذر ہو جاتا۔ایک لمبے عرصے تک وہ خوف کے عالم میں جیتے رہے،ہر روز ان کے ساتھی بلی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔آخر ایک رات بوڑھے چوہے نے اجلاس بلوایا،جس میں ہر چھوٹا بڑا چوہا شریک ہوا۔ بوڑھے چوہے نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے…

Read more

پیٹو میاں کا اصلی نام تو جنید تھا لیکن امی اُن کو پیار سے جوجی پکارتی تھیں، باقی گھر والے اسے پیٹو میاں کہتے تھے۔پیٹو بھی ایسے کہ کھانا کھا کر بھی شور مچاتے تھے۔”میں بھوکا ہوں۔“ امی اس کے آگے مختلف چیزیں رکھ دیتیں، مگر وہ ضد کر کے کہتے۔”میں تو چینی کا پراٹھا کھاوٴں گا۔“ کھا کھا کے پیٹو میاں تو پھول کر کپّا ہو چکے تھے۔اکثر ان کی جیب میں چوری کے بسکٹ ہوتے۔کبھی قُلفی کھوئے ملائی والی کھا رہے ہوتے۔قریب سے آم پاپڑ بیچنے والا گزر رہا ہوتا، تو اسے بھی آواز دے کر ٹھہرا لیتے اور پھر سب کچھ کھا پی کے بھی باورچی خانے میں جا کے کہتے ”امی، بڑی سخت بھوک لگ رہی ہے۔بس چینی کا ایک پراٹھا پکا دیجئے نا۔مزے کی بات تو یہ تھی کہ چینی کا پراٹھا بھی چینی کے ساتھ کھاتے۔پیٹو میاں کی عمر تیرہ سال تھی۔وہ آٹھویں جماعت…

Read more

کسی جگہ ایک کوے نے اپنا چھوٹا سا گھر بنا رکھا تھا۔جہاں پر وہ رات کو قیام کرتا اور دن کو اپنے کھانے پینے کا اہتمام کرتا تھا اور مختلف جگہوں سے دانہ دُنکا چن کر وہاں کھا کر سو جایا کرتا تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ کوا دن کے وقت اپنا پیٹ بھرنے کی خاطر ایک ایسی جگہ پر جا پہنچا جہاں بہت زیادہ پانی تھا اور پانی کے اردگرد تھوڑا سا گوشت موجود تھا۔کوے نے پہلے اپنی پیاس بجھانے کے لئے پانی میں چونچ ڈالی لیکن اس کے منہ پر ایک زور دار چانٹا پڑا۔یہ چانٹا ایک چیل نے اس کے منہ پر مارا تھا جو پہلے سے پانی کے حوض میں موجود تھی اور اپنی پیاس بجھا رہی تھی۔ جونہی چیل نے کوے کے منہ پر چانٹا مارا کوے کو دن میں تارے نظر آنے لگے اور وہ ہواس باختہ ہو کر پانی کے اندر گر گیا…

Read more

مسٹر حیرت اور مسٹر ناک دونوں پڑوسی تھے اور اکثر ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ان کی دوستی بہت پرانی تھی۔گاؤں والے ان کی دوستی کی مثال دیتے تھے،لیکن ایک بات بہت بُری تھی کہ دونوں دوست اکثر بے پرکی اُڑایا کرتے تھے اور جس بات پر اَڑ جاتے تھے۔اس سے پیچھے نہ ہٹتے۔ایک دفعہ مسٹر حیرت کہنے لگے:”میں نے اُڑتی ہوئی گائیں دیکھی ہیں،جو پرندوں کی طرح اُڑتی ہیں۔ “یہ سن کر مسٹر ناک نے جواب دیا:”اور میں نے ہتھوڑے اور کیلیں کھیتوں میں اُگتے دیکھی ہیں۔“یہ جواب سن کر مسٹر حیرت کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلارہ گیا۔ایک دن مسٹر حیرت اور مسٹر ناک لکڑیاں لینے جنگل میں جارہے تھے۔مسٹر ناک نے پوچھا:”میرے دوست!کیا تمھارے پاس نیا کلہاڑاہے؟“”ہاں !نیا ہے۔ “مسٹر حیرت نے کہا:”اور ایسا کلہاڑا تم نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ یہ صرف لکڑیاں ہی نہیں کاٹتا،بلکہ پتھروں کو بھی کاٹ دیتاہے۔“مجھے یقین نہیں آرہا۔“مسٹر ناک…

Read more

کسی جنگل میں دو بلیاں رہتی تھیں۔ایک بلی کالی اور دوسری اورنج تھی۔دونوں آپس میں اتفاق سے رہتی تھیں اور مل جل کر شکار کھیلتیں۔کھانے کو جو کچھ مل جاتا مل بانٹ کر کھا لیتیں۔کالی بلی کوئی شکار کرتی تو وہ اورنج بلی کو بلا لیتی اور اورنج بلی کو کوئی شکار ملتا تو وہ بھی اکیلے نہ کھاتی۔دونوں ہنسی خوشی رہتی تھیں۔ ایک دن کالی بلی گاؤں میں چلی گئی۔وہ ایک گھر میں داخل ہوئی اور وہاں سے اسے گھی کی روٹی مل گئی۔اس نے پہلے کبھی گھی والی روٹی نہیں کھائی تھی، اس لئے گھی کی خوشبو اسے بے حد پسند آئی۔گاؤں میں کتے بھی تھے اور وہ کتوں سے بہت ڈرتی تھی، اس لئے وہیں بیٹھ کر کھانے کی بجائے روٹی اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگی۔اس نے سوچا کہ یہ گھی کی روٹی تو بڑی مزیدار ہے، اس لئے یہ میں اکیلے ہی کھاؤں گی۔ کالی…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت انصاف پسند، نیک اور رعایا کا خیال رکھنے والا تھا۔ بادشاہ کا وزیر بہت دانا، عقل مند تھا۔ وہ بادشاہ کو اچھے اچھے مشورے دیتا جو رعایا کے لئے بہت فائدہ مند ہوتے ۔وزیر بہت ضعیف ہو چکا تھا وہ بادشاہ کے والد کا بھی وزیر رہا تھا ۔اس نے ایک دن بادشاہ سلامت سے کہا کہ اب میری صحت اجازت نہیں دیتی آپ کوئی نوجوان ،ذہین وزیر رکھ لیں ۔مگر بادشاہ اس کے لئے تیار نہ تھا ۔بادشاہ نے کہا”وزیر محترم آپ کی موجودگی میں کسی وزیر اعظم کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ آپ جیسا عقل مند اور ذہین وزیر نہیں ملے گا۔”بادشاہ سلامت میں اپنی زندگی میں ایک اچھا، ذہین وزیر دیکر جانا چاہتا ہوں ۔ آپ رعایا میں اعلان کر دیں ۔میں ان کا امتحان لونگا اور کامیاب ہونے والے کو…

Read more

چراغ دین ایک کسان تھا۔سیدھا سادہ اور محنتی۔دن رات کام کرتا۔کھیتوں میں بیج بوتا، پانی دیتا، سبزیاں اُگاتا۔ان کو بیچ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا۔آرام اور سکون سے زندگی گزر رہی تھی۔ایک دن چراغ دین اپنے کھیت پر تھا کہ ایک ہٹا کٹا، موٹا تازہ اور خوف ناک ریچھ آ دھمکا۔اس کو دیکھ کر چراغ دین پیچھے ہٹا اور بھاگنا چاہتا تھا کہ ریچھ نے اس کو پکڑ لیا اور کہا کہ مجھ سے کوئی بچ کر نہیں جا سکتا۔میں جس پر حملہ کرتا ہوں، اس کو کھائے بغیر نہیں چھوڑتا۔بے چارہ چراغ دین سہم گیا۔پریشانی کی وجہ سے اس کی عقل جواب دینے لگی، لیکن پھر اس نے اپنے آپ پر قابو پایا۔ہوش حواس درست کیے اور ریچھ سے بڑی لجاجت سے کہا:”بھالو بھائی! آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ طاقتور ہیں، میں کمزور۔آپ کا کیا مقابلہ کروں گا۔آپ کا جو دل چاہے کیجیے، لیکن اگر…

Read more

ایک ویران کنویں کے نزدیک سے گزرتے وقت خرگوش نے بوڑھی لومڑی کی آوازیں سنیں:”ارے بچاؤ! کوئی مجھے باہر نکالو!“کنواں عرصے سے ویران پڑا تھا۔اس میں تھوڑا سا پانی باقی ر ہ گیا تھا۔برسوں کی دھول اور سوکھے پتوں سے کنواں تقریباً آدھا بھر گیا تھا۔کنویں کی منڈیرپر کھجور کاایک تنا گرا ہوا تھا جس پر ایک چرخی پر رسی لپٹی ہوئی تھی ۔ رسی کا ایک سراتنے سے بندھا رہتا تھا۔دوسرے سے بالٹی بندھی تھی جوعموماً کنویں کے اندر ہی پڑی رہتی تھی ۔اس میں کئی سوراخ تھے۔کنویں میں سے پھر آواز آئی:”ارے کوئی ہے جو اس بوڑھی دکھیا کو باہر نکالے․․․․․؟“خرگوش نے جھانک کر پوچھا”مگر تم یہاں آئے کیسے․․․․․؟“لومڑی بولی ”ارے بیٹا ! رات کے وقت ادھر سے گزررہی تھی ۔ اس عمر میں نہ تو بینائی کام کرتی ہے اور نہ عقل۔پیر پھسلا اور میں یہاں آپڑی ۔خرگوش میرے لال ،مجھے باہر نکالو۔“خوبصورت ننھا مناخرگوش محض خرگوش…

Read more

چوہدری فتح خان کا گاؤں میں اپنا ہی دبدبہ تھا۔ زمینوں کے مالک تھے، لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اتنے ہی دور تھے جتنا ایک معصوم طالب علم ریاضی سے۔ ایک دن ان کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے نے انہیں محبت میں آخری ماڈل کا چمکتا ہوا آئی فون تحفے میں بھیج دیا۔چوہدری صاحب نے گاؤں کے چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر فخریہ انداز میں فون میز پر رکھا اور اپنے سب سے وفادار ملازم “کرامتے” سے بولے:“کرامتے! اس فون کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایک غائبانہ بی بی بیٹھتی ہے، جس کا نام ‘سیری’ (Siri) ہے۔ تم اس سے دنیا کا کوئی بھی سوال پوچھو، وہ فوراً بول کر جواب دیتی ہے!”کرامتے نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر فون کو دیکھا اور بولا:“چوہدری جی! یہ تو پھر بڑی کمال کی مخلوق ہوئی، لیکن کیا یہ ہمارے گاؤں کے مسئلوں کا علاج بھی بتا سکتی…

Read more

ایک دن مرزا صاحب نے بیگم کی روز روز کی ڈانٹ سے بچنے اور گھر میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بازار گئے اور ایک چمکتا ہوا سمارٹ روبوٹک ویکیم کلینر خرید لائے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ اب گھر میں صفائی کے لیے کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی، کیونکہ یہ ننھی سی گول مشین مصنوعی ذہانت سے لیس ہے!بیگم نے مشکوک نظروں سے اس کالے رنگ کے ڈش نما روبوٹ کو دیکھا اور بولیں:“مرزا! یہ جھاڑو ہے یا ہمارے گھر کے سکون کا صفایا کرنے والی کوئی نئی مصیبت؟”مرزا صاحب نے فخریہ گردن اکڑا کر کہا:“بیگم! یہ جدید سائنس کا شاہکار ہے۔ تم بس بٹن دبتے دیکھو، یہ روبوٹ اس گھر کا سب سے عقل مند رکن ثابت ہوگا!”مرزا صاحب نے بڑی شان سے موبائل ایپ کھولی اور سٹارٹ کا بٹن دبا دیا۔ روبوٹ نے ایک ہلکی سی…

Read more

شرفو بہت شریف،سیدھا سادہ،لیکن بے وقوف نوکر تھا۔ایک دن بیگم صاحبہ نے اس سے کہا:”شرفو!میں ذرا باہر جا رہی ہوں۔میری ایک سہیلی آنے والی ہے،تم اسے ڈرائنگ روم میں یا میرے کمرے میں بیٹھانا اور دیکھو وہ سیدھی سادھی سی خاتون ہیں تم انھیں پریشان مت کرنا۔کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔“”ٹھیک ہے بی بی جی!آپ فکر نہ کریں۔“بیگم صاحبہ کے جانے کے تھوڑی دیر بعد کال بیل بجی۔شرفو نے دروازہ کھولا تو سامنے اسے ایک سیدھی سادھی سی عورت دکھائی دی۔شرفو نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔”السلام علیکم!میں بیگم صاحبہ سے ملنے آئی ہوں۔دراصل وہ․․․․“عورت نے جیسی ہی کہنا شروع کیا،شرفو ایک دم سے بولا:”ارے رے رے،آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیگم صاحبہ نے آپ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ آپ اندر آئیے،تشریف لائیے،آرام سے بیٹھ جائیں۔شرفو خاتون کو اصرار کرکے اندر لے گیا۔دراصل میں ان سے یہ کہنے آئی تھی کہ․․․․“خاتون مزید…

Read more

جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے…بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا…ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے…شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے…گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اورشیروں کی حمایت حاصل ہونے وجہ سے اس…

Read more

ایک زمانہ تھا جب ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک نہایت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اس سے محبت کرتی تھی، مگر اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے تھے، بچوں کی آنکھوں سے بھوک جھانکتی تھی اور بوڑھوں کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے خزانہ کھلوایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل قحط اور سابقہ امداد کی وجہ سے خزانے میں اتنی دولت باقی نہیں کہ ہر آنے والے کو دل کھول کر دیا جا سکے۔یہی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر امداد کا اعلان کر دیا تو واقعی ضرورت مندوں کے ساتھ وہ لوگ بھی آ جائیں گے جنہیں صرف مفت کا مال سمیٹنے کی عادت تھی، اور اگر اعلان نہ کیا تو اصل مستحق بھوک سے مر جائیں…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے شادی کی۔ 🥳🤗 شادی کے بعد حلوائی حساب لینے آیا تو پیر صاحب نے پوچھا: “پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی بولا:“حضور! آپ ھمارے خاندانی پیر ھیں، دعا ھی دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دی اور حلوائی خوشی خوشی چلا گیا۔ 😇😳 کچھ دیر بعد ایک میراثی آیا۔ 🤡 پیر صاحب نے اس سے بھی پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” 😊 میراثی بولا:“حضور! پچاس روپے بھی دے دیں اور پچاس کی دعا بھی کر دیں۔” پیر صاحب مُسکرائے اور دعا شروع کر دی 🤲 دُعا کرتے گئے…کرتے گئے…کرتے گئے… پورا ایک گھنٹہ گزر گیا! 😳 آخر دُعا ختم ھوئی تو پیر صاحب بولے: “بھائی! پتا ھی نہیں چلا دُعا اتنی لمبی ھو گئی کہ پانچ سو کی بن گئی۔ چلو اب 50 روپے تُم رکھو اور 450 مُجھے واپس کرو” 😁🤣🤣

ایک عورت کا چھوٹا بچہ گم ھو گیا۔ 😥🥀 پورا دن ڈھونڈتی رھی مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ رات کے تقریباً ایک بجے اسے یاد آیا کہ محلے میں ایک بڑے عامل صاحب بھی رہتے ھیں۔ 😌 بس پھر کیا تھا… وہ سیدھی عامل صاحب کے گھر پہنچ گئی اور دروازہ دھڑا دھڑ بجانا شروع کر دیا۔ 🚪😳 عامل صاحب ابھی ابھی تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے پریشان حال عورت کھڑی تھی۔ عورت روتے ھوئے بولی: “عامل صاحب! میرا بچہ صبح سے گم ھے، کوئی وظیفہ یا تعویذ دے دیں!” 😭😢 عامل صاحب نے جمائی لیتے ھوئے کہا: “بہن! رات کا ایک بج رہا ہے، صبح آ جانا…” 😴 عورت فوراً بولی: “میرا بچہ گم ھے اور آپ کو نیند کی پڑی ھے؟!” 😡 عامل صاحب نے دل میں کہا: “آج تو سونے نہیں دے گی!” 🤕 انہوں نے جلدی سے اخبار اٹھایا، ایک کونا پھاڑا،…

Read more

روسی سلطنت اور قفقاز کے پہاڑی قبائل کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کے زمانے میں، ایک بہادر مگر نہایت سادہ مزاج روسی فوجی افسر ژلن اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ فوجی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے محفوظ کیمپ تک پہنچ جائیں گے، مگر قسمت نے ان کے لیے ایک اور ہی امتحان لکھ رکھا تھا۔ راستے میں اچانک پہاڑوں کی اوٹ سے مسلح قبائلی جنگجو نمودار ہوئے۔ شدید مزاحمت کے باوجود دونوں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں دور دراز پہاڑی گاؤں میں قید کر دیا گیا۔ قبائلی سردار نے اعلان کیا کہ دونوں کی رہائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب ان کے اہلِ خانہ بھاری تاوان ادا کریں گے۔ ژلن جانتا تھا کہ اس کی بوڑھی ماں اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایک غلط پتہ لکھوا…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انسان بستیاں نہیں بسایا کرتے تھے۔ وہ قبیلوں کی صورت میں جنگلوں کے کناروں پر رہتے، اکٹھے شکار پر نکلتے اور ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، کندھوں پر تیر و کمان، اور دلوں میں ایسا اتحاد کہ بڑے سے بڑا درندہ بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر پاتا۔ادھر جنگل میں ہر روز کوئی نہ کوئی جانور شکار ہو جاتا۔ کبھی ہرن، کبھی نیل گائے، کبھی جنگلی بیل، کبھی خرگوش۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا کہ جنگل کی خاموشی خود چیخنے لگی۔ جانوروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی۔ بادشاہ شیر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔تمام جانور جمع ہو گئے۔ہاتھی نے کہا، “ہمیں بھی انسانوں پر حملہ کر دینا چاہیے”ریچھ بولا، “نہیں، بہتر ہے جنگل چھوڑ دیں۔”بھیڑیا غصے سے بولا، “رات کے اندھیرے میں ان پر ٹوٹ پڑتے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بُہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔ 😕😴 اس کے اسکول میں استاد اور استانی سب اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن بشیر کی ماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی کے بارے میں بات کرنا چاہیں۔ 😶🫣 استانی جی تو پہلے سے ھی بھری بیٹھی تھیں۔ بشیر کی بے وقوفی اور نا لائقی کی داستانیں بغیر کسی لگی لپٹی کے ماں کو سنا دیں اور کہا کہ یہ لڑکا اتنا نالائق ھے کہ اگر اس کا باپ زندہ ھوتا اور بینک کا مالک بھی ھوتا، تب بھی اسے نوکری پر نہیں رکھوا پاتا۔ 😡🙍 بیوہ ماں پر سکتہ طاری ھو گیا۔ وہ بغیر کچھ کہے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول سے چلی گئیں۔ نہ صرف اسکول بلکہ پورا…

Read more

260/1804
NZ's Corner