بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ، تابعی عالم عثمان بن عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں:“میں اپنے والد کے ساتھ خلیفہ ہشام بن عبد الملک سے ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ جب ہم دمشق کے قریب پہنچے تو ہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ایک سیاہ گدھے پر سوار تھا۔ اس کے جسم پر موٹا اور کھردرا قمیص تھا، ایک پرانی سی چادر تھی، سر پر سادہ سی ٹوپی چپکی ہوئی تھی اور رکابیں لکڑی کی تھیں۔میں اسے دیکھ کر ہنس پڑا اور اپنے والد سے پوچھا:‘یہ کون ہے؟’میرے والد نے فوراً مجھے خاموش کرایا اور کہا:‘چپ رہو! یہ حجاز کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔’جب وہ ہمارے قریب آئے تو میرے والد اپنی خچر سے اتر گئے اور عطاء بن ابی رباح بھی اپنے گدھے سے اترے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی، پھر اپنی سواریوں پر سوار…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory
سومنات کا مندر
سومنات مندر کا مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع تھا۔ موجودہ دور کے انتظامی لحاظ سے یہ ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں آتا ہے، جو گِر سومناتھ ضلع میں ہے ۔ یہ شہر سمندر کے کنارے واقع ہے ۔جبکہ سلطان محمود غزنوی کا دارالحکومت غزنی شہرتھا، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے ۔ غزنی سے سومنات کے مندر کا تقریبا 1100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ دوری آج کے جدید نقشوں کے مطابق ہے، جبکہ اس وقت یہ سفر ہزاروں فوجیوں اور سامان کے ساتھ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ محمود غزنوی نے 18 اکتوبر 1025ء کو غزنی سے اس مہم کا آغاز کیا تھا ۔سومنات مندر کا عجوبہ وہاں نصب شیو لنگ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ لنگ زمین سے فضا میں معلق تھا، یعنی اسے نیچے سے کوئی سہارا نہیں تھا اور نہ ہی اوپر سے لٹکایا گیا تھا ۔ جب محمود غزنوی نے مندر میں…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
باپ کی آخری وصیت
شہر کے امیر ترین تاجروں میں حاجی سلیم کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بڑی بڑی دکانیں، کئی مکان اور وسیع زمینیں تھیں۔ مگر بڑھاپے میں وہ اکثر ایک ہی بات سوچ کر پریشان رہتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی دولت کا صحیح وارث کون ہوگا۔ اس کے تین بیٹے تھے: بڑا بیٹا کامران، دوسرا بیٹا عمران اور سب سے چھوٹا بیٹا فہد۔ایک دن حاجی سلیم شدید بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ اب اس کی زندگی زیادہ دن کی مہمان نہیں۔ یہ خبر سن کر تینوں بیٹے اس کے بستر کے پاس جمع ہو گئے۔ حاجی سلیم نے کمزور آواز میں کہا:“بیٹو! میں نے ساری زندگی محنت کر کے یہ دولت کمائی ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ایسے بیٹے کو ملے جو انسانوں کی قدر جانتا ہو۔”تینوں بیٹے حیران ہو کر باپ کی طرف دیکھنے لگے۔حاجی سلیم نے مزید کہا: “میری…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
اسود عنسی کذاب۔۔۔🙂!
اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اسود عنسی شعبدہ بازی اور کہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چونکہ اس زمانے میں یہ دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کی معتقد بن گئی۔ اسود عنسی کو ذوالحمار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سربسجود ہوجاتا، اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا بیٹھ جاتا اور اور کھڑے ہونے کو کہتا کھڑا ہوجاتا، نجران کے لوگوں کوجب اس کے دعویٰ نبوت کا علم ہوا تو انہوں نے اسے امتحان کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس نے وہاں بھی اپنی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار ملا نصیر الدین اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے۔ راستے میں ایک کسان ملا جو بڑی بڑی پیازیں بیچ رہا تھا۔ ملا کو پیازیں پسند آئیں، اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور ایک کلو پیاز خرید لی۔ملا کا دوست جو ذرا مغرور تھا، ہنس کر بولا، “ملا جی! آپ اتنے بڑے عالم ہو کر بھی کسانوں کی طرح پیاز کے تھیلے اٹھا کر چل رہے ہو؟ کیا آپ کو اپنے وزن (وقار) کا خیال نہیں؟”ملا نصیر الدین مسکرائے اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:“بھائی! تم درست کہہ رہے ہو۔ انسان کو اپنا وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ چلو، ذرا پاس ہی والے ترازو پر اپنا وزن کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ میرے وقار میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔”وہ دونوں ایک بڑی دکان کے پاس گئے جہاں ترازو رکھا تھا۔ ملا پہلے ترازو پر چڑھا، اس کا وزن کیا گیا۔ پھر اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
🐪 عقل — وہ رسی جو ہمیں سنبھالتی ہے
عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف “V” کی شکل اختیار کر لیتی۔اونٹ اس حالت میں کھڑے ہوتے تو تین ٹانگیں زمین پر ہوتیں اور چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی۔ اس حالت میں وہ کھا پی سکتے، لیٹ سکتے، مگر بھاگ نہیں سکتے تھے۔ بدو اس رسی کو جس سے اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی زبان میں “عقل” کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کی بے قابو حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔ جب ہم کسی سے کہتے ہیں “عقل کرو” تو اصل میں مطلب یہ ہوتا ہے: رک جاؤ، ٹھنڈا ہو جاؤ، جذبات پر قابو پاؤ، اپنی حالت کا جائزہ لو، اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
شیخ چلی اور “شیر کا شکار”
ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، “اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔”شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی “بہادری” یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔😄!
پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اُسے روزانہ صرف ایک کلو گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اُسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے۔ اتنے سے ہی کام چلاؤ۔ جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کی منتقلی کا منصوبہ فائل ہو گیا تو اُس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔ اب صاف ستھرا چڑیا گھر، اے سی ، اور پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔ دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اُسے ایک انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے سلا ہوا ایک تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے اُسے کھولا تو اس میں چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آگیا ہو۔ اس نے کیلے کھائے ، پانی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
“ہر پیالے سے مت پئیں۔۔۔!
“ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔ یہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے گہرے معانی ہیں:ہر پیالے سے مت پئیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں آپ کو ہر موقع، ہر پیشکش، یا ہر قسم کے تجربات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ جس طرح تصویر میں سانپ کا زہر شامل کیا جا رہا ہے، اسی طرح کچھ چیزیں بظاہر پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن وہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔دانشمندی سے انتخاب کریں: یہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے قریبی تعلقات، مواقع، یا فیصلوں کا انتخاب کرتے وقت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں۔ ہر چیز جو سامنے پیش کی جائے، وہ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔خلاصہ: یہ تصویر اور عبارت دراصل احتیاط اور بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے لیے وہی چیز چنیں جو آپ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdustory urdu blog
پاسِ عہد۔۔۔🙂!
عرب کے مشہور شاعر اِمرُؤُ القیس دورِ جاہلیت کی نمایاں شخصیت تھا۔ روایت ہے کہ جب اسے قیصرِ روم کے دربار میں بلایا گیا تو روانگی سے پہلے اس نے اپنی زرہ، اسلحہ اور قیمتی سامان اپنے قابلِ اعتماد دوست سَمؤال کے پاس امانت رکھوا دیا۔ کچھ عرصے بعد امرؤ القیس اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسی دوران قبیلہ کندہ کا بادشاہ—جو اس کا سخت مخالف تھا—نے سَمؤال کو پیغام بھیجا کہ امانت میں رکھا ہوا سارا مال اس کے حوالے کر دیا جائے۔ سَمؤال نے دوٹوک جواب دیا:“یہ امانت میں صرف امرؤ القیس کی بیٹی یا اس کے جائز وارثوں کے سپرد کروں گا۔ بادشاہ اس کا حق دار نہیں، اس لیے میں اسے نہیں دے سکتا۔” بادشاہ نے دوبارہ دباؤ ڈالا، مگر سَمؤال اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا:“میں امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔” یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اور لشکر کے ساتھ سَمؤال…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
🦄** ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے*مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہآمدنی نہ تھا، گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا *اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا*اس جاگیردار نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کردیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ھو،* مولوی صاحب نے اس زمین پر گندم کاشت کرلی۔ جب فصل ہری بھری ھوگئی تو مولوی بہت خوش ہوا* اسلیئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ھی بیٹھا رہتا اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا * لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا*مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
عقل مندی کا انتخاب
ایک دوپہر، تین بھوکے لال بیگ کھانے کی تلاش میں ایک رحم دل کسان کے پاس پہنچے۔ ان کی حالت دیکھ کر کسان نے انہیں پیار سے روٹی اور پنیر کھلایا اور کچھ کھانا ان کے گھر والوں کے لیے بھی دے دیا۔جاتے ہوئے کسان نے کہا: “میرے دوستو! تم روزانہ خوراک کی تلاش میں بھٹکتے ہو، میں تمہیں ایک مستقل کام اور محفوظ مستقبل دینا چاہتا ہوں۔”لال بیگوں نے پوچھا: “کون سا کام اور کتنی تنخواہ ملے گی؟”کسان نے کام اور تنخواہ کی فہرست بتائی:مرغیوں کو دانے کا وقت بتانا: تنخواہ 3,000 ڈالر ماہانہ۔لہسن چھیلنا اور کاٹنا: تنخواہ 5,000 ڈالر ماہانہ۔فصلوں سے چھپکلیوں کو بھگانا: تنخواہ 4,000 ڈالر ماہانہ۔بکریوں کو گانے اور رقص سے بہلانا: تنخواہ 250 ڈالر ماہانہ۔پہلے لال بیگ نے فوراً کہا: “میں لہسن والا کام کروں گا، کیونکہ اس میں سب سے زیادہ پیسے ہیں۔”دوسرے نے کہا: “میں چھپکلیوں کو بھگاؤں گا، یہ بکریوں کے سامنے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
میں شہر کے مصروف بازار میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ صبح سے رات تک لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ مزدور، دکاندار، مسافر اور طالب علم سب میرے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے تھے۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا، مگر اس مصروفیت کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو روز میری نظروں کے سامنے آتا اور دل میں عجیب سی کسک چھوڑ جاتا۔وہ ایک کم عمر لڑکی تھی۔ شاید بارہ یا تیرہ سال کی۔ میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ وہ روز شام کے وقت میرے ہوٹل کے باہر آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتی۔ جب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے تو ویٹر بچا ہوا کھانا ایک پلیٹ میں جمع کر کے اسے دے دیتا۔ وہ چپ چاپ کھانا لے لیتی اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ کر کھانے لگتی۔شروع میں میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ بازار میں…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
تین روٹیاں۔۔۔🙂!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے تو شاگرد سے پوچھا:“کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟” شاگرد نے کہا: “میرے پاس دو درہم ہیں۔” حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:“اب یہ تین درہم ہوگئے ہیں، قریب ایک بستی ہے وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔” شاگرد بستی گیا اور تین درہم کی روٹیاں خرید لایا، لیکن راستے میں اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر تین روٹیاں ہیں تو آدھی حضرت عیسیٰؑ کو ملیں گی اور آدھی مجھے۔ اس نے لالچ میں آ کر ایک روٹی وہیں کھا لی اور دو روٹیاں لے کر واپس آیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایک روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:“تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟” شاگرد نے جواب دیا:“دو روٹیاں۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے۔” پھر دونوں آگے روانہ ہوئے۔…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا۔ جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا۔چنانچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا ۔ یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھا یا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤپیچ سکھا دبے تھے جو اسے آتے تھے۔ احتیاط کے طور پر بس ایک داؤنہ سکھایا تھا۔ زمانہ اسی طرح گزرتا رہا۔ نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استا د کایہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
صبح سویرے، لکڑی کی ایک بڑی کشتی ایک چوڑی ندی کو پار کرنے کے لیے روانہ ہوئی۔ اس میں تاجر، کسان، بچے اور بزرگ سوار تھے—سب اس امید کے ساتھ کہ یہ سفر انہیں پار ایک خوشحال سرزمین تک لے جائے گا۔لیکن ایک مسئلہ تھا۔کشتی کا رخ متعین کرنے کے لیے ایک کپتان کے بجائے، کئی آدمی اسٹیئرنگ وہیل کے گرد کھڑے تھے، اور ہر ایک نے شان دار کپتان والی ٹوپی پہن رکھی تھی۔“مجھے راستہ معلوم ہے!” پہلے کپتان نے چلّاتے ہوئے وہیل کو تیزی سے بائیں طرف کھینچا۔“تم غلط کہہ رہے ہو!” دوسرے نے بحث کرتے ہوئے اسے دائیں طرف گھسیٹا۔ایک تیسرے کپتان نے وہیل کو پکڑا اور اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ “نہیں، نہیں! ندی اس طرف مڑتی ہے!”جلد ہی، مزید کپتان بھی شامل ہو گئے۔ ہر ایک دوسرے سے اونچی آواز میں چلّا رہا تھا۔ ہر کوئی وہیل کو اپنی مرضی کی سمت میں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
کھانے کے آداب۔۔۔🙂!
بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟ کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔ بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔ شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔ بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔ جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔ “70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
سوتے ہوئے پہریدار
اڈو نامی گاؤں کے لوگوں نے پہاڑی پر ایک بہت بڑا غلہ خانہ (گودام) بنایا۔ یہ ان کی محنت کی علامت تھا—ہر کسان نے اپنی فصل کا ایک حصہ اس میں شامل کیا تھا۔ وہاں باجرا، چاول اور مکئی ذخیرہ کی گئی تھی تاکہ طویل خشک سالی کے دوران کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔دیہاتی جانتے تھے کہ یہ غلہ خانہ بہت قیمتی ہے، اس لیے انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے پہریدار مقرر کیے۔ ان آدمیوں نے چمکدار وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں لمبی لاٹھیاں تھیں۔ ہر شام دیہاتی انہیں فخر سے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے دیکھتے، اور وہ سب سے وعدہ کرتے کہ وہ اس اناج کی حفاظت کریں گے جو سب کا مشترکہ مال ہے۔شروع میں پہریدار رات بھر اونچی آواز میں نعرے لگاتے۔وہ پکارتے، “ڈرو مت! کوئی چور اناج کے ایک دانے کو بھی ہاتھ نہیں لگائے گا!”دیہاتی سکون کی نیند سوتے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سرسبز جنگل میں چار عجیب مگر سچے دوست رہتے تھے: ایک کوا، ایک چوہا، ایک ہرن اور ایک کچھوا۔اگرچہ ان کی شکلیں اور عادتیں مختلف تھیں، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت اور اعتماد سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اکثر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے جمع ہوتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ ان کی دوستی پورے جنگل میں مثال بن چکی تھی۔ ایک دن صبح کے وقت ہرن گھاس کی تلاش میں جنگل کے ایک دوسرے حصے میں چلا گیا۔ بدقسمتی سے وہاں ایک شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہرن تیزی سے دوڑتے ہوئے اس جال میں پھنس گیا۔ وہ جتنا زیادہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، جال اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جاتا۔ آخرکار وہ تھک کر زمین پر گر گیا۔ ادھر درخت کے نیچے باقی تین دوست اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کوا کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdupoetry urdu blog urdustory