Category Archives: Urdu Stories

ایک شدید طوفان کے دوران ایک کوا آسمان سے نیچے آ گرا۔ زمین پر گرنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ بے بس ہو کر وہیں رہ گیا۔ درد کی شدت سے وہ حرکت بھی نہ کر سکا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کمزور آواز میں مدد کے لیے پکارنے لگا: “میں اڑ نہیں سکتا… پلیز میری مدد کرو…” قریب ہی ایک شاخ پر بیٹھا نیل کنٹھ پرندہ اسے دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولا: “یہی ہونا چاہیے تھا تمہارے ساتھ! ہمیشہ سب سے اونچا اڑتے تھے، جیسے آسمان تمہاری ملکیت ہو۔ اب اپنی حالت دیکھ لو۔” دوسرے پرندے بھی وہاں موجود تھے مگر سب بے حس اور لاتعلق رہے۔ کوا درد اور بھوک سے نڈھال، بالکل اکیلا پڑا رہا اور اس کی امید بھی کمزور پڑنے لگی۔ اچانک جھاڑیوں سے ایک نرم اور دھیمی آواز آئی: “میں چھوٹی ضرور ہوں……

Read more

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر محل واپس آیا اور تخت پر بیٹھ گیا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب کھڑا تھا۔ بادشاہ کو سخت نیند آ رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی آنکھیں بند ہوتیں، ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی۔ نیند اور بے خیالی میں بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا، لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا۔ جب دو تین بار ایسا ہوا تو بادشاہ نے غلام سے پوچھا:  “تمہیں پتا ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت چھپی ہے؟” غلام نے بادشاہ کا سوال سنا تو ایسا جواب دیا جو سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ غلام بولا:  “بادشاہ سلامت! اللہ نے مکھی کو…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ شہر کے کنارے ایک وسیع و عریض دریا بہتا تھا، جس کا پانی سورج کی کرنوں میں چاندی کی طرح چمکتا اور رات کی خاموشی میں رازدارانہ سرگوشیاں کرتا محسوس ہوتا تھا۔ایک صبح سویرے لوگوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔دریا کے کنارے ایک شخص خاموشی سے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے دہی کا ایک مٹکا رکھا تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چمچ۔ وہ بڑے انہماک سے چمچ بھرتا اور دہی دریا میں انڈیل دیتا، پھر دوسرا چمچ بھر لیتا۔قریب جا کر دیکھا تو وہ ملا نصرالدین تھے۔لوگ حیران ہوئے۔ کسی نے ہنس کر پوچھا:“ملا صاحب! یہ کون سی نئی حکمت ایجاد کر رہے ہیں؟”ملا نے سکون سے جواب دیا:“دریا میں دہی ڈال رہا ہوں۔”لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی۔“لیکن کیوں؟”ملا نے نہایت سنجیدگی سے کہا:“اس لیے کہ دریا کا پانی بہت پتلا ہے، میں اسے گاڑھا کر رہا ہوں۔”یہ سن کر مجمعے میں…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے اور خوبصورت جنگل میں ایک عجیب مصیبت آ پڑی۔ پورے جنگل کے جانوروں اور پرندوں کی نیند جیسے روٹھ گئی تھی۔ رات بھر ہر طرف بے چینی رہتی۔ کوئی کروٹیں بدلتا، کوئی درختوں کے نیچے ٹہلتا، کوئی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا مگر نیند کسی کے پاس آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ آخر تنگ آ کر تمام جانور جنگل کے بادشاہ شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ شیر خود بھی کئی راتوں سے جاگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے تھے اور غصہ بھی پہلے سے زیادہ ہونے لگا تھا۔ دربار میں موجود چالاک لومڑی نے آگے بڑھ کر کہا: “جہاں پناہ! ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ مجھے ایک دن کی مہلت دیجیے، میں اس مشکل کا علاج ڈھونڈ لوں گی۔” اگلے…

Read more

ایک بنجر گاؤں تھا۔ کئی مہینوں سے بارش نہیں ہوئی تھی، کھیت جل چکے تھے، جانور پیاس سے بے حال تھے، اور لوگ ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے تھے۔ آخر گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ گاؤں کے باہر ایک بڑا کنواں کھودا جائے، تاکہ زندگی پھر سے لوٹ آئے۔ٹھیکیدار نے دو مزدور رکھے: رحیم اور کریم۔ دونوں کی مزدوری ایک جیسی تھی، کام بھی ایک جیسا تھا، مگر سوچ الگ تھی۔رحیم صبح اندھیرے سے پہلے آ جاتا۔ گرمی ہو یا سردی، وہ پوری توجہ سے بیلچہ چلاتا رہتا۔ اس کے کپڑے پسینے سے تر ہوتے، ہاتھ چھل جاتے، مگر وہ رکنے کا نام نہ لیتا۔ اس کا کہنا تھا،“رزق حلال ہے، کام پورا کرنا میرا فرض ہے۔”دوسری طرف کریم شروع میں تو جوش سے کام کرتا، مگر جلد ہی تھک جاتا۔ وہ کبھی سائے میں بیٹھ جاتا، کبھی پانی پیتے پیتے وقت ضائع کرتا، اور کبھی لوگوں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کا بادشاہ، جس کے ایک اشارے پر تلواریں نیام سے باہر آ جاتیں اور ایک تیوری چڑھانے پر دربار میں سناٹا چھا جاتا، ایک رات عجیب خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔خواب یہ تھا کہ اس کے منہ کے تمام دانت ایک ایک کرکے جھڑ گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ اس نے فوراً حکم دیا:“دربار سجایا جائے! خواب کے ماہرین حاضر کیے جائیں!”چنانچہ ملک بھر کے نجومی، حکیم اور خواب شناس دربار میں جمع ہو گئے۔سب سے پہلے ایک بزرگ معبرِ خواب آگے بڑھا۔ اس نے خواب سنا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر نہایت سادگی سے عرض کیا:“بادشاہ سلامت! اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے تمام عزیز و اقارب آپ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔”یہ سننا تھا کہ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔“بدزبان!…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک پرانا گدھا تھا جو برسوں سے اس کا وفادار ساتھی تھا۔ گدھا سادہ دل تھا، لیکن تھوڑا سا حسد کرنے کی عادت بھی رکھتا تھا۔ ایک دن کسان بازار سے ایک بڑی سی بھینس خرید کر لے آیا۔ گدھے نے زندگی میں پہلی بار بھینس دیکھی۔ اس نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا:“ارے واہ! یہ کون سی مخلوق آ گئی؟ اتنا بڑا جسم، ایسی موٹی تازی صحت، اور لگتا ہے جیسے کھانے پینے کی رانی ہو” رات ہوئی تو گدھا آرام کرنے لگا، مگر اس کی نظر بار بار بھینس پر جا رہی تھی۔ بھینس خاموشی سے جگالی کر رہی تھی۔گدھے نے حیران ہو کر کہا: “بہن بھینس! تم تو ابھی تک کھائے جا رہی ہو۔ آخر ایسا کیا کھاتی ہو جس سے تمہاری صحت اتنی…

Read more

کہتے ہیں کسی دور دراز افریقی سلطنت میں ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ دربار میں اگر کوئی مداری، شعبدہ باز یا جادوگر آ جاتا تو بادشاہ سب کام چھوڑ کر اس کا کرتب دیکھنے بیٹھ جاتا۔ایک دن ایک پراسرار جادوگر دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی لمبی چغہ پوشی، نوکیلی ٹوپی اور چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر لوگ ویسے ہی مرعوب ہو گئے۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بڑے اعتماد سے بولا:“بادشاہ سلامت! میں ایسا جادو جانتا ہوں کہ پانی کو جام میں بدل سکتا ہوں۔”دربار میں سرگوشیوں کا طوفان اٹھ گیا۔بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:“واقعی؟ اگر ایسا ہے تو فوراً ہمیں دکھاؤ!”جادوگر مسکرایا۔ اس نے ایک شفاف گلاس میں پانی بھرا، آنکھیں بند کیں، چند پراسرار منتر پڑھے، ہاتھ ہوا میں گھمایا، اور پھر نہایت سنجیدگی سے بولا:“حضور! اب یہ پانی نہیں، خالص جام ہے۔ نوش فرمائیے!”بادشاہ نے گلاس…

Read more

امریکہ کے گھنے جنگلات کے درمیان واقع ایک سنسان پہاڑی سلسلہ صدیوں سے خوف اور پراسراریت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے “بھوکے پہاڑ” کہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جو شخص ان پہاڑوں کے اندر داخل ہو جائے وہ یا تو کبھی واپس نہیں آتا یا پھر ایسا واپس لوٹتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں زندگی بھر کا خوف قید ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ان ہی پہاڑوں کے بارے میں ہے جہاں انسانوں سے دور ایک ایسا قبیلہ آباد تھا جو دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے اپنی بقا کے لیے آدم خوری پر انحصار کرتا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق ان کے آباؤ اجداد کئی نسلیں پہلے جنگل میں گم ہو گئے تھے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے انسانوں کی تہذیب سے اپنا تعلق کھو دیا۔ مسلسل تنہائی، شدید سردی، بھوک اور بقا کی جدوجہد نے انہیں ایک ایسی مخلوق میں تبدیل…

Read more

کائنات ابھی اپنے لڑکپن میں تھی اور زمین اپنی پہلی صبح کے ماتھے پر ابھرنے والے نور سے وضو کر رہی تھی۔ افق پر پھیلی ہوئی سرخی کسی گہرے، ان چھوئے راز کی طرح پرسرار تھی اور ہواؤں میں ایک عجیب سی خاموشی رقصاں تھی، جیسے وہ کسی ایسے طوفان کی آمد کا پتہ دے رہی ہوں جس نے انسانی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب شہر، سلطنتیں، قوانین اور روایات ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ کائنات کا واحد دارالخلافہ وہ کچی، بے نام زمین تھی جہاں سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا سلام اللہ علیہا کی پہلی نسل اپنے قدم جما رہی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، درختوں کے پتے، اور جانوروں کی آوازیں ہی کائنات کا کل سرمایہ تھیں۔ اس پرسکون، سحر انگیز اور پرجلال ماحول میں، جہاں خدا کی رحمتیں بارش کی طرح برستی تھیں، ایک ایسی چنگاری…

Read more

ایک سرسبز و شاداب تالاب تھا، جس کے کناروں پر نرم گھاس لہلہاتی تھی، کنول کے پھول پانی پر مسکراتے تھے اور شام ڈھلے مینڈکوں کی ٹر ٹر ایک عجیب سی محفل سجا دیتی تھی۔اسی تالاب میں ایک نوجوان مینڈک رہتا تھا۔وہ باقی مینڈکوں کی طرح عام زندگی گزارنے پر راضی نہ تھا۔ اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔وہ اکثر پانی میں اپنا عکس دیکھتا اور سوچتا:“میں عام مینڈکوں جیسا نہیں ہوں۔ میری قسمت میں کچھ بڑا لکھا ہے!”ایک شام جب تمام مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے، وہ اچانک ایک پتھر پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں اعلان کیا:“سنو! ایک دن میں تم سب کا بادشاہ بنوں گا!”چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔پھر پورا تالاب قہقہوں سے گونج اٹھا۔ایک بوڑھا مینڈک ہنستے ہوئے بولا:“بھئی، تم بادشاہ کیسے بنو گے؟”دوسرا بولا:“کیا تمہارے پاس تاج ہے؟”تیسرا طنزاً بولا:“یا تم نے…

Read more

دریا کے کنارے شام اتر رہی تھی۔آسمان پر سرخ اور سنہری رنگ بکھرے ہوئے تھے، پانی کی سطح پر ہلکی لہریں ناچ رہی تھیں، اور ایک پرانے جامن کے درخت کی بلند شاخ پر بندر حسبِ معمول بیٹھا پھل کھا رہا تھا۔لیکن آج فضا میں کچھ اور ہی تناؤ تھا۔دریا کے گہرے پانی سے دو چمکتی ہوئی آنکھیں ابھریں۔وہ مگرمچھ تھا۔وہی پرانا مگرمچھ، جس کی بیوی کبھی بندر کا دل کھانے کا خواب دیکھتی تھی، اور جو اپنی چالاکیوں میں کئی بار ناکام ہو چکا تھا۔اس نے پانی سے سر نکالا اور غصے بھرے لہجے میں کہا:“بندر! تم نے مجھے اور میری بیوی کو دھوکہ دیا تھا۔ آج حساب برابر ہوگا!”بندر نے ایک جامن منہ میں ڈالتے ہوئے بے پروائی سے جواب دیا:“حساب؟ تم پانی میں رہتے ہو، میں درخت پر۔ تمہارا حساب ہمیشہ ادھورا ہی رہے گا!”مگرمچھ کے نتھنے پھول گئے۔“تم سمجھتے ہو میں تمہیں پکڑ نہیں سکتا؟”“بالکل!”بندر نے…

Read more

ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا، کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پِتّے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پِتّے سے جس میں فلاں فلاں خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پِتّے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے۔ کسان بہت غریب…

Read more

شیخ چلی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا—عقل سے بالکل پیدل اور حماقت کے بادشاہ! ایک دن پڑوسیوں کے گھر سے ایک پیالے میں گرم گرم، خوشبودار سالن آیا۔ سالن کیا تھا، قسمت کا کھیل تھا! شیخ جی نے زندگی میں پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی۔ تیرتے ہوئے گول گول ٹکڑوں کو دیکھ کر انہوں نے حیرت سے ماں سے پوچھا: “اماں! یہ شوربے میں کون سے خلائی جہاز تیر رہے ہیں؟” ماں نے پیار سے سر پیٹ کر کہا: “بیٹا! اسے بڑیاں کہتے ہیں۔ شیخ چلی نے ایک ٹکڑا انگلی سے اٹھایا: “اور اماں یہ اکیلا؟ ماں نے زچ ہو کر مختصر جواب دیا: “بڑی! شیخ جی نے اس دن پیٹ کو نہیں، بلکہ نیت کو بھر کر کھایا۔ سالن کیا پسند آیا، گویا دل و جان ہی ہار بیٹھے۔ اب اگلا پورا ہفتہ گھر میں ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا: “اماں! مجھے تو…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک دن ایک فقیر آ گیا۔ اس نے بڑے اعتماد سے کہا:“اے بادشاہ! یہ تخت و تاج آخر ہے کیا؟ اس کی کوئی اصل قیمت ہی نہیں۔” بادشاہ یہ سن کر زور سے ہنسا اور درباریوں کو حکم دیا:“اس شخص کو باہر نکال دو، اسے کیا معلوم کہ تخت و تاج کی کیا لذت اور کیا قدر ہوتی ہے۔” وقت گزرتا گیا… پھر ایک دن بادشاہ شکار کے لیے جنگل کی طرف نکلا۔ اچانک اس کا گھوڑا بے قابو ہو گیا اور اسے بہت دور سنسان صحرا میں لے گیا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان۔ بادشاہ پیاس سے نڈھال ہو گیا، اس کی حالت آخری ہچکیوں تک پہنچ گئی۔ اسی لمحے ایک فقیر مشکیزہ لیے وہاں سے گزرا اور آواز لگانے لگا:“پانی لے لو… پانی لے لو…” بادشاہ نے کمزور آواز میں پکارا:“میرے پاس سب کچھ ہے، جو مانگو گے دوں گا… بس…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز تالاب کے کنارے، جہاں کنول کے پھول صبح کی دھوپ میں مسکراتے تھے اور ہوا سرکنڈوں سے سرگوشیاں کرتی پھرتی تھی، ایک مینڈک اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتا تھا۔اس کے کئی ننھے ننھے بچے تھے، جو پانی میں تیرتے، اچھلتے اور شام کو اپنے باپ کے گرد جمع ہو کر قصے سنتے تھے۔زندگی پُرسکون تھی۔پھر ایک دن تالاب کے کنارے ایک سانپ آ گیا۔عجیب دوستیسانپ خاموش مزاج تھا۔وہ نہ پھن پھیلاتا تھا، نہ کسی پر حملہ کرتا تھا۔ایک دن اس نے مینڈک سے کہا:“دوست بنو گے؟”مینڈک حیران ہوا۔“سانپ اور مینڈک؟”“کیوں نہیں؟”“لوگ کہتے ہیں تم ہمیں کھا جاتے ہو۔”سانپ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:“لوگ بہت کچھ کہتے ہیں۔”مینڈک کو بات اچھی لگی۔چند ہی دنوں میں دونوں میں دوستی ہو گئی۔وہ اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے، اور شام کے وقت تالاب کے کنارے لمبی گفتگو کرتے۔دوسروں کی تنبیہتالاب کے دوسرے مینڈک پریشان…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک بیڑی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…

Read more

کہتے ہیں ایک پرسکون تالاب کے کنارے ایک کچھوا رہتا تھا۔وہ نہ سب سے تیز تھا، نہ سب سے طاقتور، نہ سب سے خوبصورت۔مگر ایک خوبی یا یوں کہیے ایک خرابی ایسی تھی جس میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا:وہ بے حد بولتا تھا۔اتنا بولتا تھا کہ اگر صبح سورج نکلنے پر بات شروع کرتا تو شام کو چاند نکلنے تک سانس لیے بغیر قصے سناتا رہتا۔تالاب کے مینڈک اس سے تنگ تھے۔بطخیں اس سے بچ کر تیرتی تھیں۔اور مچھلیاں تو اسے دیکھتے ہی پانی کے اندر غوطہ لگا دیتی تھیں۔دوست کا مشورہایک دن اس کا ایک پرانا دوست اس کے پاس آیا۔اس نے محبت سے کہا:“کچھوا بھائی، ایک نصیحت کروں؟”“ضرور کرو، لیکن پہلے میری کل والی کہانی سن لو۔”“نہیں، پہلے میری بات سنو۔”“اچھا کہو۔”دوست نے گہری سانس لی۔“کبھی کبھی خاموشی بھی نعمت ہوتی ہے۔”کچھوا ہنس پڑا۔“خاموشی؟”“ہاں۔”“وہ کیوں؟”“کیونکہ زیادہ بولنے والا اکثر اپنی مصیبت خود بلا لیتا ہے۔”کچھوا گردن…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز گاؤں کے کنارے ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا، اور اس درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک مرغ رہتا تھا۔یہ کوئی عام مرغ نہ تھا۔صبح سویرے اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا، دوپہر کو فلسفہ بگھارتا اور شام کو خود کو جنگل کا سب سے بڑا گلوکار سمجھتا تھا۔درخت کے نیچے ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔چالاک، مکار، خوش زبان اور تعریفوں کے جال بننے میں ایسی ماہر کہ اگر چاہتی تو کانٹے دار جھاڑی کو بھی یقین دلا دیتی کہ وہ گلاب کا پھول ہے۔تعریفوں کا کاروبارہر صبح لومڑی درخت کے نیچے آتی اور نہایت ادب سے آواز دیتی:“مرغے بھائی!”مرغ اوپر سے گردن نکالتا۔“جی فرمایئے؟”لومڑی مسکراتی۔“آپ کی آواز تو ایسی ہے کہ بلبلیں بھی شرما جائیں۔”مرغ خوش ہو جاتا۔“واقعی؟”“بالکل! ذرا ایک نغمہ تو سنا دیجئے۔”مرغ بانگ دیتا۔اور جیسے ہی وہ اپنی موسیقی کے نشے میں مست ہوتا، لومڑی چھلانگ لگاتی۔مگر مرغ پھڑپھڑا کر دوسری…

Read more

افریقہ کے ایک گرم اور سنہری میدانوں والے ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی کنجوسی پورے خطے میں مشہور تھی۔لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے ہاتھ سے ایک اشرفی گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لیے اتنی دیر جھکے رہتا کہ سورج غروب ہو جائے۔وہ خزانے جمع کرنے کا ایسا شوقین تھا کہ سونے کے سکوں کو رات کو گن کر سوتا اور صبح اٹھ کر دوبارہ گن لیتا، کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی اشرفی کم نہ ہو گئی ہو۔مگر دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جو اکثر عقل مندوں کو بھی دھوکا دے دیتی ہے:آسان منافع۔جادوگر کی پیشکشایک دوپہر دربار میں ایک پراسرار جادوگر حاضر ہوا۔اس کے کپڑے گرد آلود تھے، مگر آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بولا:“جہاں پناہ! میں ایک سودا کرنا چاہتا ہوں۔”بادشاہ فوراً چونک گیا۔“سودا؟ کتنے کا؟”جادوگر مسکرایا۔“دس ہزار اشرفیوں کا۔”بادشاہ تقریباً تخت…

Read more

300/1291
NZ's Corner