Category Archives: Urdu Stories

ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اسکی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ھے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا……..چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔ _حکایت مولانا رومی

کسی گاوں میں تین بھائی رہتے تھے. ان کے گھر پر پھل کا ایک درخت تھا جسکا پھل بیچ کر یہ دو وقت کی روٹی حاصل کرتے تھے. ایک دن کوئی اللہ والا انکا مہمان بنا. اُس دن بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گیا اور دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ ان کو بھوک نہیں. مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا. چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاوں میں آیا تو دیکھا اس بوسیدہ گھر پر جہاں وہ مہمان…

Read more

یوسف بن تاشفین مغربِ اسلامی کے عظیم سپہ سالار اور مرابطین سلطنت کے مضبوط حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی سادگی، عدل اور جہاد کے ذریعے شمالی افریقہ اور اندلس کی تاریخ بدل دی۔انہوں نے اصلاحی و دینی تحریک عبداللہ بن یاسین کی قائم کردہ مرابطین تحریک میں شمولیت اختیار کی، جس کا آغاز تقریباً ۴۴۸ھ / ۱۰۵۶ء میں ہوا تھا اور جس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو مضبوط کرنا تھا۔ یوسف بن تاشفین نے قیادت سنبھالنے کے بعد آپس میں لڑنے والے امازیغ قبائل کو متحد کیا اور انہیں ایک مضبوط اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں مرابطین سلطنت تیزی سے پھیلی اور موریتانیہ، مراکش، الجزائر کے کچھ علاقے اور سینیگال کے حصے ان کی حکومت میں شامل ہو گئے، بعد میں اندلس بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گیا۔انہوں نے ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء میں شہر مراکش کی بنیاد رکھی اور اسے مرابطین سلطنت…

Read more

ایک امام صاحب روزگار کی غرض سے برطانیہ کے شہر لندن جا پہنچے۔ روزانہ گھر سے مسجد تک بس پر جانا اُن کا معمول بن گیا۔ چند ہفتوں میں ایک ہی روٹ اور ایک ہی ڈرائیور سے اکثر سامنا ہونے لگا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول بس میں سوار ہوئے، کرایہ ادا کیا اور باقی رقم لے کر نشست پر بیٹھ گئے۔ جیب میں رکھنے سے پہلے نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ اترتے وقت واپس کر دوں گا، یہ میرا حق نہیں۔ مگر فوراً ایک اور وسوسہ سر اُٹھانے لگا: “اتنی معمولی رقم… کون سا کسی کو فرق پڑے گا؟ کمپنی تو لاکھوں کماتی ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لو!” اسی کشمکش میں سفر کٹ گیا۔ جب اُن کا اسٹاپ آیا تو اترتے ہوئے ڈرائیور کے پاس جا کر بیس پنس واپس کرتے ہوئے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ اپنے محل سے نکل کر اکثر شہر اور دیہات کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی رعایا کے حالات کو خود دیکھے اور سمجھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں اور وزیر کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر دیہات کی طرف جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کمہار اپنے گدھوں کو ایک لمبی قطار میں لے جا رہا تھا۔ سب گدھے نہایت ترتیب سے، سیدھی لائن میں چل رہے تھے۔ نہ کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی کوئی ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔بادشاہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے اپنے گھوڑے کو روکا اور کمہار کو آواز دی۔“اے کمہار! ذرا ٹھہرو۔”کمہار فوراً رک گیا اور ادب سے جھک کر سلام کیا۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا“مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان…

Read more

نامارا کی وادی میں ایک شاندار محل تھا، جو سفید پتھروں سے بنا تھا اور صبح کی روشنی کی طرح چمکتا تھا۔ اس کے عین بیچ میں بادشاہ کا فخر موجود تھا: سنہری شیروں اور چاندی کے پرندوں سے تراشا ہوا ایک بلند و بالا فوارہ۔ پانی دن رات اس کے دہانے سے اچھلتا اور وسیع سنگِ مرمر کے حوضوں میں گرتا رہتا۔محل کے پاس سے گزرنے والے مسافر رکتے اور دنگ رہ جاتے۔ وہ سرگوشیوں میں کہتے، “دیکھو، یہ سلطنت کتنی خوشحال ہوگی، جن کے فوارے تک کبھی نہیں سوکھتے۔”لیکن اگر وہی مسافر محل کی دیواروں سے ذرا آگے نکل جاتے، تو نامارا کی کہانی بدل جاتی۔گاؤں والے سورج نکلنے سے پہلے اٹھتے، مٹی کے ٹوٹے پھوٹے گھڑے اپنے کندھوں پر اٹھاتے۔ مائیں، کسان اور بچے قریبی ندی تک پہنچنے کے لیے دھول بھرا طویل راستہ طے کرتے۔ اکثر وہ خالی گھڑے یا بمشکل آدھے بھرے ہوئے واپس لوٹتے۔ایک…

Read more

ایک دن بادشاہ اکبر کا موڈ کچھ بدلنے والا تھا، انہوں نے بیربل سے کہا:“بیربل! مجھے لگتا ہے کہ اس سلطنت میں بے شمار بیوقوف لوگ بھرے پڑے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم مجھے دنیا کے چھ سب سے بڑے بیوقوف ڈھونڈ کر لاؤ۔”بیربل نے بادشاہ کو سلام کیا اور کہا: “جو حکم جہاں پناہ!”کچھ دن گزرے تو بیربل واپس آیا اور بادشاہ کو بتایا کہ اس نے چھ بیوقوف ڈھونڈ لیے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا: “وہ کہاں ہیں؟”بیربل نے کہا: “حضور، پانچ تو باہر کھڑے ہیں، چھٹا یہ رہا!” اور اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔بادشاہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “کیا مطلب؟ تم بیوقوف کیسے ہوئے؟”بیربل مسکرا کر بولا: “حضور! جو شخص اپنا ضروری کام چھوڑ کر دنیا میں بیوقوف ڈھونڈنے کا کام کرے، اس سے بڑا بیوقوف اور کون ہو سکتا ہے؟”بادشاہ اکبر لاجواب ہو گئے اور بیربل کی اس حاضر دماغی پر بہت ہنسے۔

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔ بی بی، جلدی بتائیں کیا لینا ہے— کینڈی یا روٹی؟” کیشئر نے عجلت میں پوچھا۔بوڑھی خاتون سہم گئیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس قدر تکلیف دہ صورتحال میں پھنس جائیں گی… وہ بھی عین کاؤنٹر پر، جہاں لائن میں کھڑے سب لوگ انہیں ہی گھور رہے تھے۔ان کے بائیں ہاتھ میں روٹی کا ایک تازہ پیکٹ تھا اور دائیں ہاتھ میں رنگ برنگی گمی کینڈیز (ٹافیوں) کا ایک چھوٹا سا تھیلا۔ان کا چھ سالہ پوتا برابر میں کھڑا کبھی روٹی کو دیکھتا اور کبھی ٹافیوں کو… لیکن وہ خاموش رہا، کچھ کہنے سے ڈر رہا تھا۔“دادی اماں… اگر آپ کا دل نہیں ہے تو ہمیں کینڈی لینے کی ضرورت نہیں،” ننھے بچے نے سرگوشی کی، وہ خود کو بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔بوڑھی عورت کا دل ٹوٹ گیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ…

Read more

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ زندگی میں چار واقعات ایسے ملے جنہوں نے مجھے بہت حیران کیا۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون سے واقعات ہیں؟ فرمانے لگے: ایک مرتبہ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا۔میں نے اس نوجوان سے سوال کیا: بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی؟ جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی، اس نے فوراً چراغ پر پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا اور کہنے لگا:حضرت! جہاں چلی گئی، وہیں سے آئی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں اس نوجوان کی حاضر دماغی پر آج تک حیران ہوں۔ ایک مرتبہ دس بارہ سال کی ایک بچی آ رہی تھی۔ اس کی بات نے بھی مجھے حیران کر دیا۔ بارش ہوئی تھی۔ میں مسجد جا رہا تھا اور وہ بازار سے کوئی چیز لے کر آ رہی تھی۔ جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے کہا:بچی! ذرا…

Read more

تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو صرف جنگی کامیابیاں نہیں بلکہ انسانی ذہانت، عزم اور غیر معمولی قیادت کی مثال بن جاتے ہیں۔ 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کی دیواریں ایک نوجوان سلطان کی غیر معمولی سوچ کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قسطنطنیہ، جو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا، جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط شہر تھا۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ، دوسری طرف باسفورس کی آبنائے اور تیسری جانب گولڈن ہورن کی قدرتی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے گرد مضبوط فصیلیں تھیں جو کئی صدیوں تک دشمنوں کے حملوں کو ناکام بناتی رہی تھیں۔ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو بازنطینیوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خاص انتظام کیا۔ انہوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت…

Read more

پانچویں صدی عیسوی میں جب یورپ مختلف سلطنتوں اور قبائل میں تقسیم تھا، ایک ایسا نام ابھرا جس نے پورے براعظم میں خوف اور دہشت کی علامت بن کر تاریخ میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ نام تھا اٹیلا دی ہن (Attila the Hun)۔ اسے اکثر “خدا کا عذاب” کہا جاتا تھا کیونکہ جہاں اس کی فوجیں پہنچتی تھیں وہاں تباہی اور خوف کی کہانیاں جنم لیتی تھیں۔ اٹیلا تقریباً 406 عیسوی کے قریب پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ہن (Huns) نامی ایک خانہ بدوش جنگجو قوم سے تھا جو وسطی ایشیا کے میدانوں سے نکل کر یورپ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہن گھڑ سواری اور تیر اندازی میں بے مثال مہارت رکھتے تھے۔ وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر حملہ کرتے اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیتے۔ اٹیلا کے چچا روگا (Rugila) ہن قبائل کے حکمران تھے۔ ان کی وفات کے بعد 434…

Read more

سستی نے اس کی جان لے لی: ایک ایسا آدمی جو امیر بن سکتا تھا، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا تھابہت پرانی بات ہے، ایک آدمی اتنا سست تھا کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے سارا دن فارغ دیکھ کر تنگ آ چکی تھی اور اسے کوستی رہتی:“تم کب تک ایسے رہو گے؟ میں دن رات کام کرتی ہوں اور تم اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں۔ تم ہمیں تباہ کر دو گے!”لیکن وہ آدمی سکون سے جواب دیتا:“گھبراؤ مت، ایک دن ہم امیر ہو جائیں گے اور تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”بیوی نے پوچھا: “اگر تم صوفے سے اٹھتے بھی نہیں، تو ہم امیر کیسے ہوں گے؟”اس نے کہا: “میں نے سنا ہے کہ پہاڑ کے اس پار ایک دانا بزرگ رہتے ہیں، جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس جا کر پوچھوں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، دو دوست ایک سفر پر نکلے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ راستہ لمبا تھا اور انہیں ایک گھنے جنگل سے گزرنا تھا۔ جنگل خاموش تھا، درخت آسمان تک بلند تھے اور راستہ سنسان۔ دونوں دوست باتیں کرتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ اچانک جھاڑیوں میں زوردار سرسراہٹ ہوئی۔ چند لمحوں بعد ایک بڑا ریچھ جھاڑیوں سے نکل آیا۔ ریچھ کو دیکھتے ہی دونوں دوست خوف سے کانپ گئے۔ ان میں سے ایک دوست کو درخت پر چڑھنا آتا تھا۔ اس نے فوراً موقع دیکھا اور اپنے ساتھی کو چھوڑ کر درخت پر چڑھ گیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے دوست کی طرف نہ دیکھا۔ دوسرا دوست درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔ وہ اکیلا کھڑا رہ گیا۔ اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اچانک…

Read more

*ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک بکری تھی  ایک دن، گھوڑا بہت بیمار ہو گیا۔کسان نے ویٹنری(جانوروں کے) ڈاکٹر کو بلایا، جنہوں نے کہا، آپ کے گھوڑے کو ایک وائرل بیماری ہے اسے تین دن تک یہ دوائی دینا تیسرے دن میں واپس آؤں گا اگر وہ بہتر نہیں ہوتا. تو اسے مار دیا جائے گا تا کہ وائرس مزید گھوڑوں میں نہ پھیل جائے “قریب ہی بکری نے ان کی گفتگو کو سنا.اگلے دن، کسان نے گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری گھوڑے کے پاس گئی اور کہا:“دوست ہمت کرو اٹھو ورنہ وہ تمہیں مار دیں گے!”دوسرے دن، کسان نے ایک بار پھر گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری پھر آئی اور کہا: – “!، دوست چلو اٹھو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاو، چلو، میں آپ کو کھڑا ہونے میں مدد کروں”.چلو! ایک، دو، تین … لیکن غریب گھوڑا کھڑا نہ ہو…

Read more

پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!(شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ) اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید ایران اس راستے کو بند کر دے گا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک تک تیل نہیں پہنچ سکے گا۔ مگر اگر ہم اس معاملے کو صرف سیاسی یا معاشی زاویے سے دیکھیں تو شاید ہم اس کی اصل حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔…

Read more

بشیر بھائی کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “بشیر صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” بشیر بھائی نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” بشیر بھائی نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر…

Read more

ایک  شوہر کو اپنی بیوی کے بارے میں شک ہوا کہ اس کی سماعت کم ہونا شروع ہو گئی ہے..چنانچہ اس نے خاندانی طبیب سے مشورہ کیا..طبیب نے اسے بتایا کہ بیوی کی سماعت کی جانچ کا ایک آسان طریقہ ہے..وہ یہ کہ اس سے پچاس فٹ کے فاصلے پر معتدل آواز میں بات کرے..پھر چالیس فٹ کے فاصلے پر آ کر وہی بات دہرائے..پھر بیس فٹ، اور پھر دس فٹ کے فاصلے تک قریب جائے..اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہو کر بات کرے، اس طرح بیوی کی قوتِ سماعت کا اندازہ ہو جائے گا..شوہر گھر لوٹا تو بیوی کچن میں دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی..وہ کچن سے پچاس فٹ دور کھڑا ہوا اور کہنے لگا: “میری جان! کھانے میں کیا بنا رہی ہو؟”..بیوی نے کوئی جواب نہ دیا!وہ چالیس فٹ کے فاصلے تک قریب آیا اور پوچھا: “میری جان! کھانے…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک چھوٹا تالاب تھا۔ اس تالاب میں کئی مینڈک رہتے تھے، اور اکثر تالاب کے کنارے چھوٹے کیچڑ میں چھپ کر آرام کرتے تھے۔ ایک دن ایک سانپ وہاں آیا۔ سانپ بھوکا تھا اور تالاب کے مینڈکوں کو شکار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے ایک مینڈک کی طرف آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے کہا: “مینڈک بھائی! ڈرو نہیں، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ تمھیں باہر لے چلوں گا تاکہ تمہیں زیادہ اچھا اور محفوظ مقام ملے۔” مینڈک نے سانپ کی باتوں پر شک کیا، لیکن اس نے سوچا کہ شاید سانپ سچا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرخت جلد کے ساتھ کنارے کی طرف آیا۔ جیسے ہی مینڈک سانپ کے قریب پہنچا، سانپ نے اچانک اسے پکڑ لیا اور کھانے کی تیاری کرنے لگا۔ لیکن مینڈک ہوشیار تھا۔ اس نے اپنی کرخت جلد کا فائدہ اٹھایا، اچانک جھٹکا دیا اور سانپ کی…

Read more

ایک بوڑھا دانا اپنے پوتے کے ساتھ جنگل کے کنارے بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج کی آخری روشنی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ بوڑھے کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں تجربے کی گہری روشنی تھی۔ پوتا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے دادا سے کہا: “دادا جان! میرے دل میں عجیب سی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ کبھی میں اچھا بننا چاہتا ہوں، مگر کبھی مجھے غصہ، حسد اور نفرت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟” بوڑھا دانا مسکرایا اور کہنے لگا: “بیٹا، یہ لڑائی صرف تمہارے دل میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کے اندر ہوتی ہے۔” پوتا حیران ہو کر دادا کی طرف دیکھنے لگا۔ دادا نے بات جاری رکھی: “ہر انسان کے دل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔” پوتے نے پوچھا:“دو بھیڑیے؟ کیسے؟” بوڑھے نے کہا: “پہلا بھیڑیا برائی کی…

Read more

خان بھائی پہلی بار عرب ملک میں کیا۔ ائیر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور منزل کی طرف روانہ ہوا۔ نیا ملک، نئی زبان اور اردگرد ہر طرف عربی بولنے والے لوگ… خان بھائی کے لیے یہ سب کچھ بالکل نیا اور دلچسپ تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے اونچی عمارتیں، روشن سڑکیں اور مصروف بازار دیکھ کر دل ہی دل میں حیران بھی ہو رہے تھے اور خوش بھی۔ راستے میں عربی ٹیکسی ڈرائیور نے ایک دو باتیں کیں۔ خان بھائی کو عربی تو آتی نہیں تھی، مگر عزت بچانے کے لیے انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب میں سورۂ فاتحہ سنادی۔ ڈرائیور بھی خاموشی سے سنتا رہا اور گاڑی چلاتا رہا۔ آخر کار جب منزل کے پاس پہنچے تو خان بھائی سوچنے لگے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو روکنے کی ” عربی ” کیا ہو سکتی ہے۔ دل میں کئی لفظ آئے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ زبان…

Read more

300/800
NZ's Corner