ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اسکی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ھے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا……..چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔
_حکایت مولانا رومی
