پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائے
دیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے
طہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
(شاعر مشرق علامہ محمد اقبال )
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید ایران اس راستے کو بند کر دے گا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک تک تیل نہیں پہنچ سکے گا۔ مگر اگر ہم اس معاملے کو صرف سیاسی یا معاشی زاویے سے دیکھیں تو شاید ہم اس کی اصل حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔ سمندر، دریا، پہاڑ اور راستے سب اپنے اندر ایک پیغام رکھتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ صرف پانی کی ایک پٹی نہیں بلکہ دراصل مسلم دنیا کے درمیان جغرافیائی ربط کی ایک علامت ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں خلیجی ممالک، ایران اور پاکستان کے مفادات آپس میں جڑتے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والا ہر جہاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری معیشتیں، ہماری ضرورتیں اور ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اگر ایک ملک کمزور ہوگا تو اس کے اثرات دوسرے ممالک تک بھی پہنچیں گے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس کو تیل دے گا یا روک دے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ممالک اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ ان کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے؟ اگر امت مسلمہ باہمی اعتماد اور بھائی چارے کے ساتھ آگے بڑھے تو نہ کوئی راستہ بند ہونے کا خوف رہے گا اور نہ ہی معاشی دباؤ کا۔
آبنائے ہرمز دراصل ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ نے وسائل بھی مشترکہ رکھے ہیں اور راستے بھی مشترکہ رکھے ہیں تاکہ امت ایک دوسرے کی محتاج بھی رہے اور ایک دوسرے کی مددگار بھی بنے۔ اگر ہم اس حکمت کو سمجھ لیں تو شاید یہ تنگ سی آبنائے ایک وسیع پیغام بن جائے — اتحادِ امت کا پیغام۔
کیونکہ جب مسلمان آپس میں جڑ جاتے ہیں تو سمندر بھی راستہ بن جاتے ہیں، اور جب دل جدا ہو جائیں تو کھلے راستے بھی بند محسوس ہونے لگتے ہیں۔
