بشیر بھائی کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔
پولیس والا (غصے میں): “بشیر صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!”
بشیر بھائی نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!”
پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔”
بشیر بھائی نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔”
پولیس والے کی آنکھیں باہر آ گئیں: “کیا؟ گاڑی بھی چوری کی ہے؟ ذرا ڈیش بورڈ کھول کر کاغذات دکھائیں۔”
بشیر بھائی گھبرا کر بولے: “اوہ نہیں افسر صاحب! ڈیش بورڈ مت کھلوائیے گا، وہاں میں نے وہ پستول رکھا ہے جس سے میں نے اس گاڑی کے اصلی مالک کو ‘فارغ’ کیا تھا، اور اس کی باڈی ابھی بھی پچھلی ڈگی (Trunk) میں پڑی ہے۔”
پولیس والے کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے فوراً وائرلیس پر اپنے بڑے افسر (ایس پی صاحب) کو بلایا: “سر! جلدی آئیں، یہاں ایک خطرناک قاتل اور ڈاکو پکڑا گیا ہے۔”
تھوڑی دیر میں ایس پی صاحب بھاری نفری کے ساتھ پہنچے۔ انہوں نے پستول تان کر بشیر بھائی سے کہا: “گاڑی سے باہر نکلو! ڈگی کھولو!”
ڈگی کھولی گئی تو وہ بالکل خالی تھی۔
ڈیش بورڈ دیکھا گیا تو وہاں صرف گاڑی کے اصلی کاغذات پڑے تھے۔
ایس پی نے پوچھا: “تمہارا لائسنس کہاں ہے؟”
بشیر بھائی نے جیب سے اپنا ویلڈ لائسنس نکال کر دکھا دیا۔
ایس پی صاحب حیرانی سے اپنے سپاہی کو دیکھنے لگے اور بشیر بھائی سے بولے: “مگر میرے سپاہی نے تو کہا تھا کہ گاڑی چوری کی ہے، آپ کے پاس پستول ہے اور ڈگی میں لاش ہے!”
بشیر بھائی نے بڑے پیار سے افسر کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے:
“جناب! ان پولیس والوں کا کوئی اعتبار نہ کیا کریں، تھوڑی دیر بعد یہ جھوٹا آپ کو یہ بھی کہے گا کہ میں 160 کی سپیڈ پر گاڑی چلا رہا تھا!” 😎
منقول
