Category Archives: Urdu Stories

عرب کے ایک وسیع صحرا میں، جہاں ریت کے ٹیلے سورج کی روشنی میں سونے کی طرح چمکتے تھے اور دور دور تک کھجوروں کے جھنڈ مسافروں کو امید دلاتے تھے، ایک بردبار اونٹ رہتا تھا۔وہ ان اونٹوں میں سے تھا جو کم بولتے ہیں، زیادہ چلتے ہیں، اور دوسروں کی حماقتوں پر صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ایک دن وہ ایک دریا پار کرنے نکلا۔یہ دریا صحرا کے درمیان ایک نیلی لکیر کی طرح بہتا تھا، اور مسافروں کے لیے نعمت بھی تھا اور امتحان بھی۔اونٹ سکون سے پانی میں اترا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔عظیم مہم جو چوہااسی دوران ایک ننھا سا چوہا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا۔اس نے دریا کو دیکھا، پھر اپنی مختصر ٹانگوں کو دیکھا، پھر اونٹ کو دیکھا۔اور فوراً ایک فیصلہ کر لیا۔بغیر اجازت لیے وہ اونٹ کی ٹانگ سے چڑھتا ہوا اس کی کوہان تک جا پہنچا۔اونٹ نے…

Read more

ایک زمانے میں ایک دریا تھا۔نہ بہت چوڑا، نہ بہت تنگ۔مگر اتنا ضرور تھا کہ جو تیرنا نہ جانتا ہو، اس کے لیے وہ فلسفے کی آخری منزل ثابت ہو سکتا تھا۔اسی دریا کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔وہ نرم دل، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے میں یقین رکھنے والا جانور تھا۔اس کا مسئلہ صرف ایک تھا:وہ ہر کسی کی بات پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔ایک صبح وہ کنول کے پتے پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک بچھو ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا۔بچھو کی فریاد“دوست مینڈک!”مینڈک نے چونک کر دیکھا۔“جی فرمائیے۔”بچھو نے دریا کی طرف اشارہ کیا۔“مجھے دوسری طرف جانا ہے۔”“تو جاؤ۔”“میں تیر نہیں سکتا۔”“تو پھر؟”“مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار کرا دو۔”مینڈک نے فوراً دو قدم پیچھے ہٹائے۔“معاف کرنا، مگر تم بچھو ہو۔”“تو؟”“تم مجھے ڈنگ مار دو گے۔”بچھو نے ایسا چہرہ بنایا جیسے اس کی شدید توہین ہو گئی ہو۔“ارے دوست! تھوڑا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سرسبز میدان کے کنارے ایک کسان رہتا تھا۔ ہر سال موسمِ سرما آتے ہی وہ اپنی زمین میں گاجریں بوتا۔ اس کی زمین ایسی زرخیز تھی کہ چند ہی ہفتوں میں ہرے پتوں کے نیچے نارنجی گاجریں زمین میں بھرنے لگتیں۔ مگر کسان کی فصل کا ایک اور بھی مداح تھا۔قریب کے جنگل میں خرگوشوں کی ایک بڑی آبادی رہتی تھی۔ جونہی گاجریں تیار ہوتیں، رات کے اندھیرے میں خرگوشوں کے جھنڈ آتے، خوب گاجریں کھاتے اور خوشی خوشی واپس لوٹ جاتے۔ کسان کئی بار انہیں دیکھتا، مگر نہ جال بچھاتا، نہ ڈنڈا اٹھاتا۔ وہ بس مسکرا کر کہتا: “اللہ کی زمین ہے، میرا بھی رزق ہے اور ان کا بھی۔” یوں کئی برس گزر گئے۔ہر سال کسان گاجریں اگاتا اور ہر سال خرگوش ان سے لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن جنگل کے نوجوان خرگوشوں میں سے ایک نے کسان کو ایک نیا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔ گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔ وہ اکثر خود سے کہتا:“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔” اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔ گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں…

Read more

جنگل کے بیچوں بیچ ایک مشہور استاد رہتا تھا۔ وہ ایک بوڑھا کوئل تھا جس کی آواز اتنی سریلی تھی کہ دور دور سے جانور اس کے پاس گانا سیکھنے آتے تھے۔ ہرن آتے، خرگوش آتے، بندر آتے، طوطے آتے، حتیٰ کہ کچھ ریچھ بھی اپنی بھاری آوازوں کو بہتر بنانے کی امید میں اس کی کلاس میں بیٹھ جاتے۔کوئل استاد صبح سے شام تک سب کو ایک ہی بات سمجھاتا رہتا: “سر لگاؤ! سر کے بغیر گانا نہیں بنتا”مگر جانور تھے کہ سر میں گانا تو دور کی بات، سیدھی بات بھی نہیں کر پاتے تھے۔ایک دن مسلسل سمجھاتے سمجھاتے استاد کو غصہ آ گیا۔ اس نے زور سے کہا: “آج کے بعد کوئی بھی جانور بغیر سر کے بات نہیں کرے گا! جو بات کرے گا، سر میں کرے گا”۔ سب جانوروں نے فوراً سر ہلا دیا۔ اب جنگل میں عجیب صورتحال پیدا ہو گئی۔ خرگوش اگر کہتا:“پانی…

Read more

زمانۂ قدیم میں یونان کے ایک شہر پر ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جو ہر بیماری کا علاج نایاب چیزوں میں تلاش کرتا تھا۔اگر اسے زکام ہو جاتا تو وہ عام جڑی بوٹیوں پر یقین نہ کرتا، بلکہ کسی دور دراز پہاڑ کی برف یا سمندر کے پار اگنے والے پھول کا نسخہ مانگتا۔اس کا خیال تھا کہ جتنا عجیب علاج ہوگا، اتنا ہی مؤثر ہوگا۔ایک دن اس کی آنکھوں میں شدید درد شروع ہو گیا۔آنکھیں سرخ رہتیں، روشنی چبھتی اور سر بھاری رہتا۔محل کے حکیم، طبیب اور ڈاکٹر سب جمع ہوئے، مگر بادشاہ کی بیماری کم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔آخرکار ایک بوڑھا طبیب دربار میں حاضر ہوا۔اس نے بادشاہ کی آنکھوں کا معائنہ کیا، نبض دیکھی، چند لمحے داڑھی سہلائی اور نہایت سنجیدگی سے بولا:“جہاں پناہ! علاج ممکن ہے، مگر تھوڑا مشکل ہے۔”بادشاہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔“فوراً بتاؤ!”طبیب نے آہستہ سے کہا:“ہر صبح ایک…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب جنگل بھی سلطنتیں ہوا کرتے تھے، درخت درباریوں کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے تھے اور جانور اپنے اپنے عہدوں اور مرتبوں پر فخر کیا کرتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ ایک طاقتور شیر تھا۔ اس کی دھاڑ سے پہاڑ کانپتے اور اس کی ایک نگاہ سے درندے بھی راستہ بدل لیتے تھے۔مگر ایک دن قدرت کا ایسا حکم ہوا کہ شیر بیمار پڑ گیا۔وہ اپنی غار میں پڑا کراہتا رہتا، نہ شکار پر جا سکتا تھا اور نہ دربار لگا سکتا تھا۔جنگل کے حکیم، نجومی، جڑی بوٹیوں والے اور خود ساختہ ڈاکٹر سب جمع ہوئے۔بڑی بحث کے بعد ایک بوڑھے حکیم نے اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے کہا:“عالی جاہ! آپ کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز میں ہے۔”شیر نے کمزور آواز میں پوچھا:“کیا؟”حکیم نے رازدارانہ انداز میں کہا:“گدھے کا تازہ گوشت!”یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔اس نے فوراً اپنی…

Read more

ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں، جہاں قد آور درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور شاخوں پر بیٹھے پرندے صبح و شام نغمے چھیڑتے تھے، ایک بندر اپنی پھرتی اور چستی کے باعث بہت مشہور تھا۔وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر ایسے اچھلتا جیسے ہوا میں کوئی پتنگ ناچ رہی ہو۔اسے اپنی رفتار پر بڑا ناز تھا۔جنگل میں جب بھی کسی دوڑ، چھلانگ یا کرتب کا ذکر ہوتا، بندر فوراً اپنی دم لہرا کر کہتا:“میرا مقابلہ؟ ابھی تک پیدا نہیں ہوا!”اسی جنگل میں ایک کچھوا بھی رہتا تھا۔وہ آہستہ چلتا تھا، کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تو اکثر دوسروں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ایک دن جنگل کے جانور ایک تالاب کے کنارے جمع تھے کہ کچھوا اپنی مخصوص دھیمی چال سے آگے بڑھا اور بندر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔“جناب بندر!”بندر نے مسکراتے ہوئے پوچھا:“فرمائیے، حضورِ رفتار!”کچھوا بولا:“میں تمہیں دوڑ کا چیلنج دیتا ہوں۔”یہ سن…

Read more

ایک شادی شدہ جوڑا اپنی بہترین اور سکھی ازدواجی زندگی کے لیے مشھور تھا. ان دونوں میاں بیوی کے درمیان انکی 25 سالہ ازدواجی زندگی میں کسی جھوٹی سی بات پر بھی تکرار نہیں ہوئی تھی. لوگ ان کی اس محبت سے بھر پور ازدواجی زندگی کا راز جاننے کے لیے بے چین تھے…. ایک مرتبہ اس خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز دریافت کرنے پر شوہر نے بتایا:ہماری شادی کے فورًا بعد ہم ہنی مون منانے ایک پُرفضا پہاڑی علاقہ میں گئے. وہاں ہم لوگوں نے گھڑ سواری کا پروگرام بنایا۔ میرا گھوڑا بالکل ٹھیک تھا لیکن میری بیوی کا گھوڑا تھوڑا نخرے والا تھا۔ اس نے دوڑتے دوڑتے اچانک میری بیوی کو گرا دیا۔میری بیوی اٹھی اور گھوڑے کی پیٹھ پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا، “یہ پہلی بار ہے۔”اور دوبارہ اس پر سوار ہو گئی۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد گھوڑے نے پھر اسے گرا دیا۔بیوی…

Read more

ایک شخص سخت پریشان حالت میں ایک حاجت مند کے پاس آیا اور بولا:“بھائی! مجھے تھوڑا سا شہد چاہیے، میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے، اس کا علاج شہد سے ممکن ہے۔” اس شخص نے افسوس سے جواب دیا:“میرے پاس اس وقت شہد موجود نہیں، لیکن آپ ایک کام کریں۔ شہر سے باہر شام کے ایک بڑے تجارتی قافلے کا گزر ہونے والا ہے۔ اس قافلے کا امیر بہت نیک اور سخی انسان ہے، مجھے یقین ہے وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔” حاجت مند نے شکریہ ادا کیا اور امید لے کر قافلے کی طرف چل پڑا۔ کچھ وقت بعد قافلہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک نہایت باوقار اور روشن چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ان کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی:“میری بیٹی بیمار ہے، علاج کے لیے مجھے…

Read more

کسی جنگل میں ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا۔کوے بہت ہنسی خوشی رہتے تھے اسی درخت کے نیچے ایک درخت کے تنے میں خرگوش بھی رہتا تھا۔جب بھی بارش اور سردی ہوتی تو خرگوش اس درخت میں چھپ جاتا اور شکاری جانوروں سے بھی محفوظ رہتا۔کوے اور خرگوش آپس میں بہت اچھے دوست تھے دونوں مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ایک دن خرگوش جنگل میں کھانے کی تلاش میں نکلا تو ایک سانپ اس کے درخت کے تنے میں آ کر رہنے لگا خرگوش جب واپس اپنے گھر لوٹا اس نے دیکھا کہ درخت کے تنے میں سانپ ہے تو وہ بہت پریشان ہوا کہ اب کیسے اس سانپ سے چھٹکارا حاصل کرے سانپ کو بہت بھوک لگی تھی سانپ نے دیکھا درخت پر کوؤں کا گھونسلا ہے۔وہ اس درخت پر چڑھا اور گھونسلے سے کوؤں کے انڈے کھا گیا اور درخت سے نیچے آ کر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز تھا۔ وہ ایک نہایت ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اس سے دن رات سخت مشقت کرواتا اور معمولی سی غلطی پر بھی سخت سزا دیتا۔ آخر ایک دن ظلم سے تنگ آ کر اینڈروکلیز وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ جنگلوں میں بھٹکتا رہا…کبھی بھوک سے لڑتا…کبھی خوف سے… مگر کم از کم اب وہ آزاد تھا۔ ایک دن وہ ایک درخت کے نیچے تھکا ہارا بیٹھا تھا کہ اچانک اسے درد سے بھری ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ وہ گھبرا گیا۔ مگر اُس آواز میں ایسا درد تھا کہ وہ ہمت کر کے آہستہ آہستہ اُس طرف بڑھنے لگا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا… بہت بڑا…خوفناک…لیکن شدید تکلیف میں مبتلا۔ اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے خوفزدہ ہوا، مگر پھر اس…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ  ایک گاؤں میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔وہ اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے، ایک بار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکہ ڈالنے جا رہا تھا۔راستے میں ہم ایک جگہ کچھ دیر آرام کرنے بیٹھے تو وہاں ہم نے دیکھا کہ کھجور کے تین درخت ہیں۔جن میں سے دو پر تو خوب پھل لگے ہے جبکہ تیسرا بالکل خشک ہے۔ ایک چڑیا بار بار آتی ہے اور پھل دار درختوں پر سے تر و تازہ کھجور اپنی چونچ میں لے کر خشک درخت پر چلی جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا، میں نے دس مرتبہ چڑیا کو کھجور لے جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے جاننے کا تجسس ہوا کہ آخر اس خشک درخت پر ایسا کیا ہے جو یہ چڑیا بار بار پھل اُتار کر وہاں پہنچاتی ہے۔یہی سوچ کر میں نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ اس درخت پر چڑھ…

Read more

ایک جاگیردار کے پاس ایک غریب فیملی بطور ملازم مقیم تھی وہ لوگ ساڑھے چار لاکھ روپے کے مقروض تھے ان کا قرض تقریبا ادا ہونے والا تھا جاگیردار کی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ مزید مقروض ہو جائے کیونکہ وہ لوگ محنتی تھے اور شریف بھی تھے ان میں کسی قسم کی کوئی برائی یا عیب نہیں تھا لہذا وہ وڈیرا چاہتا تھا کہ یہ لوگ یہاں ہی رہیں پہلے پہلے اس نے اس بات کے لیے ان کو طرح طرح کے لالچ دئیے مگر ان لوگوں نے کہا کہ ہم اپنا قرض ادا کرنے کے بعد اپنے وطن (آبائی علاقے) واپس جانا چاہتے ہیں اس کے بعد اس جاگیردار نے ان پر تھوڑی بہت سختی بھی کی یہاں تک کہ عید ا گئی عید تک تقریبا وہ لوگ اپنا قرض اتار چکے تھے انہوں نے جاگیردار سے کہا کہ ہمارا حساب کتاب کر دو جاگیردار…

Read more

ایک یونیورسٹی میںریسرچ ہو رہی تھی کہ“مرد کو دوسری شادی کی خواہش کب تک رہتی ہے؟” پروفیسر صاحب نے کہا،“60 سال سے نیچے والوں سے پوچھنا وقت کا ضیاع ہے۔ ایسا کریں 60 سال سے اوپر والے مردوں سے پوچھیں۔”چناچہ طالبعلم ایک 60 سالا بزرگ نظام دین سے سوال کیا تو بزرگ نے کہا، “کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟” طلبا جان گئے کہ بابا جی تیار بیٹھے ہیں۔پھر طلبا نے ایک 70 سالہ بزرگ چراغ دین سے پوچھا اس نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ ایسے ہی ایک 80 سالا بزرگ سے پوچھا تو بھی ایسا ہی جواب ملا۔اس کے بعد ایک 90 سالا بزرگ امام دین سے سوال کیا تو بزرگ بولے،“آہستہ بات کرو، تمہاری چاچی کے کان بہت باریک ہیں، سن لے گی۔”یعنی جواب ہاں میں تھا۔اب طلبا علاقے کے سب سے بڈھے کھوسٹ نیک محمد عرف نصر عثمانی کے پاس گئے، جس کے ہاتھ اور سر…

Read more

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﮈﺍﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺟﺮﺍﺋﻢ ﮐﯿﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﻠﯽ ﺑﮭﮕﺖ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺰﺍ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﮞ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ” ﻣﺎﮞ ایک ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ، “ﺟﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ، ﺑﮭﯿﻨﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔” ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﯿﻞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ؟؟ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺭﮨﺎ…

Read more

آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی۔اس نے دیکھا کہ شوہر بستر پر نہیں ہے۔ وہ تشویش کے مارے اٹھی، سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی، تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔ بیوی نے جب شوہر کو آنسو پونچھ کر کافی کا گھونٹ لیتے دیکھا تو پریشانی سے بولی:”کیا ہوا ڈئیر؟ رات کے اس پہر یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟“ شوہر نے سر اٹھایا، آہ بھری اور دھیرے سے بولا:”تمہیں یاد ہے بیس سال پہلے، جب تم اٹھارہ سال کی تھی اور ہم چوری چوری ملنے گئے تھے؟“ بیوی مسکرا کر بولی:”ہاں ڈئیر، وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں؟“ شوہر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:”اور تمہیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا؟ شاٹ گن تان کر کہا تھا… یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو، یا میں تمہیں بیس سال کے لیے…

Read more

ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس کے پاس دولت، شہرت اور آسائش کی ہر چیز موجود تھی۔ شہر کے لوگ اس کی کامیابی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی: سکون۔وہ راتوں کو جاگتا رہتا، بے چینی سے کروٹیں بدلتا اور ہمیشہ کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت کم نہ ہو جائے، کاروبار نقصان میں نہ چلا جائے یا لوگ اس سے آگے نہ نکل جائیں۔ایک دن سفر کے دوران اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے ایک کچے گھر کے سامنے پہنچا جہاں ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔تاجر نے پانی مانگا۔ بوڑھے نے خوش دلی سے پانی پلایا اور کھانے کی دعوت بھی دی۔کھانے کے بعد تاجر نے پوچھا، “آپ کے پاس نہ بڑی زمین ہے، نہ دولت، نہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک چڑیا گھر تھا۔ ایک دن نہ جانے کیسے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ گیا اور ایک شیر وہاں سے نکل بھاگا۔ جونہی یہ خبر گاؤں میں پہنچی کہ “شیر آ گیا! شیر آ گیا!” تو پورے گاؤں میں قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ لگا دی۔ کوئی چھت پر چڑھ گیا، کوئی چارپائی کے نیچے گھس گیا، کوئی دروازے بند کرنے لگا اور کچھ ایسے بھی تھے جو خوف کے مارے یہ بھول گئے کہ آخر دوڑ کس طرف رہے ہیں۔ اسی بستی میں ایک چرسی رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اداکاری کرنا تھا۔ نہ اسے دنیا کی خبر تھی اور نہ زمانے کی۔ اس کی کل کائنات ایک بڑا سا آئینہ تھا جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ باقی جو کچھ اس کے پاس ہوتا، وقت کے ساتھ بیچ…

Read more

320/1291
NZ's Corner