ایک غریب عورت ایک نیک عالمِ دین کے پاس آئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
“حضرت! میرا بچہ ہر رات بھوک سے روتا ہے۔ میرے لیے دعا کر دیں، اب یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔”
عالمِ دین نے خاموشی سے ایک کاغذ پر چند الفاظ لکھے، اسے تہہ کیا اور عورت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
“اسے سنبھال کر رکھنا، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا۔”
اگلی صبح جب دروازہ کھلا تو وہاں روپوں سے بھرا ایک تھیلا پڑا تھا۔ آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون رکھ گیا تھا۔
عورت اور اس کے شوہر نے اس رقم کو امانت سمجھ کر ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لی۔ وہ دن رات محنت کرتے، ایمانداری سے کاروبار کرتے اور ہر قدم پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔
رفتہ رفتہ کاروبار بڑھنے لگا۔ ایک دکان دو بنی، دو سے چار، اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ نے انہیں آسودگی عطا کر دی۔
کئی سال بعد ایک دن عورت پرانا صندوق صاف کر رہی تھی۔ اچانک اسے وہی تہہ کیا ہوا کاغذ ملا۔ دل میں تجسس پیدا ہوا، اس نے فوراً اسے کھول لیا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“جب اللہ تمہیں خوشحال کر دے تو اپنی دولت صرف اپنے لیے جمع نہ کرنا، بلکہ ایسے گھروں تک بھی پہنچانا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آواز بھوک کی وجہ سے آتی ہو۔”
یہ الفاظ پڑھتے ہی عورت کی آنکھیں بھر آئیں۔ اسے احساس ہوا کہ اصل تعویز کوئی جادو نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نصیحت تھی جو معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
اسی دن اس نے فیصلہ کیا کہ جس طرح کبھی کسی نامعلوم شخص نے اس کے گھر کا اندھیرا دور کیا تھا، اب وہ بھی خاموشی سے ایسے گھروں تک رزق پہنچائے گی جہاں بچے بھوک سے سوتے ہیں۔
*سبق:*
اللہ کی دی ہوئی نعمتیں صرف ہماری نہیں ہوتیں۔ جب ہمارے رزق میں دوسروں کا حصہ شامل ہو جاتا ہے، تبھی اس میں حقیقی برکت پیدا ہوتی ہے۔
