Category Archives: Urdu Stories

کہتے ہیں سقراط بچپن میں صبح جلدی اٹھنے کے عادی نہیں تھے۔ان کی والدہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے۔ایک دن وہ سقراط کو اپنے استاد کے پاس لے گئیں اور کہا:“استاد جی! اسے سمجھائیں کہ صبح جلدی اٹھنا کتنا ضروری ہے۔”استاد مسکرائے اور سقراط سے بولے:“بیٹا سقراط! میں تمہیں ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں، پھر بتانا کہ اس سے تم نے کیا سیکھا۔”سقراط نے سر ہلا کر کہا:“جی استاد جی، سنائیے۔”استاد نے کہا:“دو پرندے تھے۔ایک پرندہ صبح سویرے جاگ جاتا تھا، کیڑے پکڑتا تھا اور اپنے بچوں کو کھلاتا تھا۔دوسرا پرندہ دیر سے اٹھتا تھا، اس لیے اسے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔”پھر استاد نے پوچھا:“بتاؤ سقراط! اس کہانی سے کیا سبق ملا؟”سقراط نے فوراً مسکرا کر جواب دیا:“استاد جی! سبق تو یہ ملا کہ جو کیڑے جلدی جاگتے ہیں، وہ پرندوں…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نیک آدمی رہتا تھا، جو اللہ تعالی کی بہت عبادت کرتا اور کفر و شرک کو ناپسند کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں ایک درخت تھا جس کی پوجا کچھ لوگ کرتے تھے۔ جب یہ آدمی اس بات سے آگاہ ہوا تو وہ بہت غصے میں آیا اور درخت کو کاٹنے نکل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک انسان کی شکل میں شیطان سے ہوئی۔ شیطان نے کہا:“ارے میاں! کہاں جا رہے ہو؟” آدمی نے بتایا کہ وہ درخت کاٹنے جا رہا ہے کیونکہ لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے اسے بہکانے کی کوشش کی:“بھائی! تم تو اس کی پوجا نہیں کرتے، تمہارا کیا نقصان؟ اسے مت کاٹو۔” لیکن آدمی نے کہا:“میں ضرور کاٹوں گا!” لڑائی کے دوران آدمی نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔ شیطان بولا:“تم مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔” شیطان نے کہا کہ درخت کاٹنے…

Read more

ایک مرتبہ تین آدمیوں میں سترہ اونٹوں کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا وہ انصاف پر مبنی فیصلہ کروانے کے لئے حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے پاس 17 اونٹ ہیں جس میں سے ایک کا حصہ کل اونٹوں کا آدھا ( 1 / 2 ) ہے جبکہ دوسرے کا حصہ تہائی ( 1 / 3 ) اور تیسرے کا کل اونٹوں کا نواں حصہ ( 1 / 9 ) بنتا ہے، اگر اونٹوں کو ذبح کر کے تقسیم کیا گیا تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اس لئے آپؓ کوئی ایسی تدبیر بتا دیں کہ اونٹ ذبح کیے بغیر ہمارے درمیان تقسیم ہوجائیں اور ہمارا آپس کا جھگڑا ختم ہو جائے۔ “ حضرت علی ؓ نے ان تینوں کی بات سننے کے بعد بیت المال سے ایک اونٹ منگوایا اور ان 17 اونٹوں میں شامل کر دیا، اب اونٹوں…

Read more

آج ہی کے دن (23 رمضان) فارس کے آخری کسریٰ یزدجرد ثالث پندرہ سال تک مسلسل فرار اور شکستوں کے بعد قتل کر دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، فوالذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله»یعنی:“جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔”(روایت: مسلم) یزدجرد بن شہریار، جسے یزدجرد ثالث کہا جاتا ہے، ساسانی سلطنت میں فارس کا آخری بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت 632ء سے 651ء تک قائم رہی۔ اسی دوران اسلام کی فوجیں فارس میں داخل ہوئیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان شدید معرکے ہوئے، یہاں تک کہ مسلمانوں نے…

Read more

بہت پرانے زمانے میں ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز (Androcles) تھا۔ وہ ایک ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اسے ہر وقت سخت کام کرواتا اور ذرا سی غلطی پر بھی سزا دیتا تھا۔ آخرکار ایک دن اینڈروکلیز اس ظلم سے تنگ آ کر جنگل کی طرف بھاگ گیا تاکہ کہیں آزادی کی زندگی گزار سکے۔ وہ کئی دن تک جنگل میں بھٹکتا رہا۔ ایک دن جب وہ درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا تو اچانک اس نے درد بھری دھاڑ سنی۔ وہ گھبرا گیا، مگر آواز میں ایسی تکلیف تھی کہ وہ احتیاط سے اس سمت بڑھا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا۔ شیر زخمی تھا اور اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا۔ شیر درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے تو ڈر گیا، مگر پھر اس کے دل میں رحم آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا۔ شیر…

Read more

وہ سپاہی جس نے سلطان کو انکار کیا (عزت اور غلامی کی جنگ) باب اول: شیر کا بچہ سن ۵ ہجری کا زمانہ تھا۔ مدینہ منورہ کی گلیاں ایک عجیب سکون میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ لیکن اس سکون کے پیچھے ایک طوفان چھپا تھا۔ قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے حجرے میں بیٹھے سوچ میں ڈوبے تھے۔ ان کا چہرہ پریشانی سے دمک رہا تھا۔ “ابو عمرو! آج پھر فارس کے تاجر آئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسریٰ کا پیغام ہے۔” ان کے بھائی نے آ کر خبر دی۔ سعد بن معاذ نے آنکھیں اٹھائیں۔ وہ جانتے تھے کہ فارس کی سلطنت دنیا کی عظیم ترین طاقتوں میں سے ایک تھی۔ اس کی فوجی قوت، اس کی دولت، اس کا جاہ و جلال… سب کچھ اس قابل تھا کہ کوئی بھی انسان اس کے سامنے جھک جائے۔ لیکن سعد بن معاذ کچھ اور ہی مٹی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان اپنی بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کے پاس نہ زمین تھی نہ دولت، مگر لڑکی بہت عقلمند اور سمجھدار تھی۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کی ذہانت کی تعریف کرتے تھے۔ایک دن کسان کو راستے میں سونے کا ایک ٹکڑا ملا۔ وہ اسے لے کر خوشی خوشی گھر آیا اور اپنی بیٹی کو دکھایا۔ لڑکی نے فوراً کہا:“ابا! اگر آپ یہ سونا بادشاہ کے پاس لے جائیں گے تو وہ ضرور پوچھے گا کہ کیا آپ کو اس کے ساتھ کوئی اور چیز بھی ملی تھی۔ اگر آپ نے انکار کیا تو وہ شاید آپ کو جھوٹا سمجھ لے۔ بہتر ہے کہ آپ سونا بادشاہ کو دے دیں اور سچ سچ بات بتا دیں۔” کسان نے بیٹی کی بات مان لی اور سونا لے کر دربار پہنچ گیا۔ بادشاہ نے سونے کا ٹکڑا دیکھا اور پوچھا:“کیا تمہیں اس کے ساتھ کوئی اور…

Read more

تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہی میں سے ایک واقعہ تیمور لنگ کا ظہور تھا، جو ابھرتی ہوئی سلطنت عثمانیہ کے لیے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوا۔اس زمانے میں عثمانی سلطنت کا ستارہ تیزی سے بلند ہو رہا تھا اور اس کی قیادت عظیم مجاہد سلطان بایزید اول کے ہاتھ میں تھی، جنہیں ان کی برق رفتار جنگی مہمات کی وجہ سے “یلدرم” (بجلی) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے یورپ کی متحدہ عیسائی افواج کو جنگ نیکوپولس ۱۳۹۶ء میں شکست دے کر اسلامی قوت کا لوہا منوا لیا تھا۔لیکن اسی دوران مشرق میں ایک نیا فاتح ابھرا، جسے تاریخ تیمور لنگ کے نام سے جانتی ہے۔ تیمور لنگ نے ایک بہت بڑی فوجی طاقت کے ذریعے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس کی حکومت ماوراءالنہر، خراسان، ایران، شام، ہندوستان کے بعض حصوں اور روس و اناطولیہ کے…

Read more

ایک مرتبہ پاکستان کے ایک میاں صاحب انڈیا میں اپنے ایک نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ ایک دِن کھانے کے دوران میاں صاحب کو دہی کی کمی محسوس ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے فرمائش کی، کہ دہی مِل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے- نواب صاحب نے اپنے مُلازم کو آواز دی،اور بولے فلاں دُکان سے دہی لے کر آؤ فوراُُ،، مُلازِم گیا تو نواب صاحب نے بتانا شروع کیا،کہ ملازِم اِس وقت گھر سے نِکل چُکا،اِس وقت گلی کا موڑ مڑ رہا، اس وقت دُکان سے دہی لے رہا،، اب واپِس آ رہا،چند لمحوں بعد انہوں نے مُلازِم کو آواز دی اور پوچھا، دہی لے آئے ؟ملازم نے جواب دِیا،جی حضور،،، میاں صاحب اِس واقعے سے بہت مُتاثِر ہوئے – پھِر کُچھ عرصہ بعد نواب صاحب اپنے پاکستانی میاں دوست کی دعوت پر پاکِستان آئے،میاں صاحب کو وُہ کھانے والا واقعہ بہت خوب لگا…

Read more

*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار* حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک باغ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس باغ میں ایک حبشی غلام کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کے کھانے کے لیے روٹیاں آئیں۔ اتنے میں ایک کتا بھی باغ میں آ گیا اور اس غلام کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ غلام نے کام کرتے کرتے اپنی ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی۔ کتے نے فوراً اسے کھا لیا، لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑا رہا۔ غلام نے دوسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی۔ اس کے بعد غلام نے تیسری روٹی بھی اسی کتے کو دے دی۔ اس دن اس کے پاس کل تین ہی روٹیاں تھیں اور اس نے…

Read more

میلانیا  بتانے لگی  کچھ سال پہلے  ہماری ایک وزیرنےایک ٹی وی ٹاک شو میں  پیغمبر اسلام پر یہ اعتراض لگادیا  تھا کہ انہوں نے ایک چھ سال کی بچی عائشہ  سے نکاح کرلیا تھا اور جب وہ بچی  نو سال کی ہوئی تو رخصتی ہوئی ۔پھر وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ،”محمود! کیا یہ سچ ہے؟ یہ تو سننے میں ہی  بڑا عجیب لگتا ہے۔” میں نے جواب دیا ۔ میلانیا  کچھ دن پہلے میں اپنی بارہ سالہ  بیٹی کو سمجھا رہا تھا کہ شکسپئیر انگریزی ادب میں ایک اتھارٹی ہے اسے پڑھا کرو ۔میری ترغیب پر  اس نے  شکسپئیر کا شہرہ آفاق ڈرامہ  ”رومیو جیولٹ ”پڑھ لیا تو کہنے لگی کہ پاپا آپ اس رائٹر  پر تو کیس ہونا چاہئے ۔ میں نے حیران ہو کر  پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگی اس کہانی میں رومیو ایک تیرہ سالہ بچی” جیولیٹ”  کو ورغلا رہا ہے…

Read more

کہتے ہیں کہ لکھنؤ میں ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ جب بات کرنی ھو تو تشبیہات, استعارات, محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو.. ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رھے تھے. انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی. ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ھوا: “حضور والا…! یہ بندہ ناچیز، حقیر، فقیر، پر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ھے۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔ چند ثانیے قبل میری چشمِ نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا کہ ایک شرارتی آتشیں پتنگا آپ کی چلم…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بڑا طاقتور بادشاہ تھا۔ اس کی سلطنت وسیع تھی، خزانے بھرے ہوئے تھے اور دربار ہمیشہ امیروں اور امیروں کے مشیروں سے آباد رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ ایک دن بادشاہ شکار کے لیے نکلا۔ شکار کے دوران وہ اپنے لشکر سے کچھ دور نکل گیا۔ گھنے درختوں کے بیچ اسے ایک سادہ سا جھونپڑا نظر آیا۔ جھونپڑی کے باہر ایک درویش زمین پر بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، چہرہ پرسکون اور آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ بادشاہ نے گھوڑے سے اتر کر درویش کو دیکھا۔ درویش نے نہ جھک کر سلام کیا اور نہ ہی کسی خوف کا اظہار کیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ بادشاہ کو یہ بات ناگوار گزری۔ اس نے کہا: “کیا تم جانتے نہیں کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں؟” درویش نے سکون…

Read more

دو مراثیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے کہا کہ وہ سارنگی سیکھنا چاہتا ہے۔پوچھا گیا: کتنے سال لگیں گے؟وہ بولا: کسی استاد سے سیکھوں تو 20–25 سال۔پوچھا گیا: عمر کتنی ہے؟کہا: 40 سال۔کہا گیا: اچھا، پھر 65 سال کی عمر میں پھانسی ہوگی۔مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “جو رب کو منظور”۔اب دوسرے مراثی کی باری آئی۔اس سے کہا گیا: تم بھی سارنگی سیکھنا چاہتے ہو؟وہ بولا: ہاں سرکار… مگر میں نے اسی سے سیکھنی ہے۔ 🤪😄

قبطی کا قتل اور موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت. حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے، مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بیزار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو قبطی کہلاتے تھے آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کر رہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع ہے اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں “منف” ہو گیا، اور بعض کا قول ہے کہ یہ شہر فسطاط تھا، اور بعض مفسرین نے کہا: یہ شہر حامین تھا جو مصر سے دو کوس…

Read more

‏چوہدری کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “چوہدری صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” چوہدری صاحب نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” چوہدری صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر آ…

Read more

حضرت خضرؑ — تاریخ کی ایک پراسرار اور حیرت انگیز شخصیتحضرت خضر علیہ السلام کی شخصیت تاریخِ انسانی کے سب سے پراسرار اور علمی ابواب میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ ان کی زندگی، زمانے اور ان سے منسوب روایات کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن کریم کے بیانات کے ساتھ ساتھ قدیم تاریخی ماخذ اور اسرائیلی روایات کا بھی سہارا لینا پڑتا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا اصل نام اکثر روایات میں “بلیان” اور کنیت “ابوالعباس” بیان کی جاتی ہے۔ ان کا لقب “خضر” (یعنی سبز) اس لیے پڑا کہ کہا جاتا ہے وہ جس خشک زمین یا سفید گھاس پر بیٹھتے تھے وہ ان کی برکت سے لہلہانے لگتی اور سبز ہو جاتی تھی۔ ان کے نسب کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض انہیں حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا قرار دیتے ہیں، کچھ کے نزدیک وہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل…

Read more

ایک ہوائی جہاز کے خوفناک حادثے میں بدقسمتی سے کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔ جائے حادثہ پر جب ماہرین کی ٹیم پہنچی تو ہر چیز اس قدر تباہ ہو چکی تھی کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ 😔 جہاز کا ملبہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک ماہر کی نظر قریب کے درخت پر پڑی، جہاں ایک بندر سکون سے بیٹھا ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے گلے میں بھی ایئر لائن کا ٹیگ لٹک رہا تھا۔ 🐒 تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ بندر بھی اسی بدقسمت جہاز کا “مسافر” تھا۔ فوراً اسے پکڑ لیا گیا اور تفتیش کے لیے ایک اشاروں کی زبان کے ماہر کو بلایا گیا تاکہ بندر سے کچھ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ 🤓 تفتیشی بورڈ نے ماہر کے ذریعے بندر سے پہلا سوال کیا:“حادثہ کتنے بجے ہوا…

Read more

لہجوں کی پہچان 💥 ایک درویش جنگل میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا۔ایک شکاری آیا اور غصے میں بولا،“کیا یہاں سے کوئی ہرن گزرا ہے؟” درویش نے کہا:“جو آنکھ دیکھتی ہے وہ نہیں بولتی، اور جو زبان بولتی ہے وہ نہیں دیکھتی۔” شکاری اس گہرے مطلب کو نہ سمجھ سکا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بادشاہ آیا اور نرمی سے وہی سوال دہرایا۔درویش نے کہا:“عالی جاہ، آپ کا ہرن اس طرف گیا ہے۔” بادشاہ کے جانے کے بعد شاگرد نے پوچھا:“استاد، آپ نے شکاری کو نہیں بتایا، بادشاہ کو کیوں بتایا؟” درویش مسکرا کر بولا:“لہجے بتاتے ہیں کہ کس کو راستہ دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔” 💡 آج کے دور میں خاموشی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اس لیے، لہجے کا انتخاب سامنے والے کے رویے کو دیکھ کر کرنا ہی عقل مندی ہے۔ منقول اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو…

Read more

ایک مولوی صاحب تھے۔ بڑے نیک اور عبادت گزار انسان۔ ان کے گھر میں دو طوطے بھی تھے، اور کمال کی بات یہ تھی کہ دونوں طوطے بھی بڑے نیک مزاج تھے۔ ایک طوطا تو زیادہ تر وقت سجدے کی حالت میں رہتا تھا، جیسے عبادت کر رہا ہو۔اور دوسرا طوطا ہر وقت بیٹھا تسبیح پڑھتا رہتا تھا:“سبحان اللہ… سبحان اللہ…” محلے والے بھی اکثر حیران ہوتے تھے کہ مولوی صاحب کے طوطے بھی کتنے نیک ہیں۔ ایک دن مولوی صاحب کا ہمسایہ ان کے پاس آیا اور بولا: “مولوی صاحب! میرے پاس ایک طوطی ہے، مگر وہ مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ شور مچاتی رہتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔ کوئی حل بتائیں۔” مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا: “ایسا کریں، آپ اپنی طوطی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میرے پاس دو نیک طوطے ہیں۔ ان کے ساتھ رہے گی تو شاید سدھر جائے، اور اگر قسمت ہوئی تو بچے…

Read more

340/800
NZ's Corner